Skip to content
’’دشت کا ویراں سفر‘‘
ازقلم:سیماشکور(حیدرآباد)
زندگی دشت کا ویراں سفر بن کر رہ گئی ہے، قدم قدم پر بے اعتنائیوں کے خار زخمی کررہے ہیں۔ لوگوں کے بے رحم رویے زندگی کا سکھ چین چھین کر دشت تنہائی کے سپرد کردیتے ہیں۔ صحرا سے اس جیون میں اخلاص کی بوندیں کبھی برستی ہی نہیں۔ ویران دشت سایہ سفر بھی عجیب سفر ہے۔ بے کیف سا یہ جیون اس طرح گزرے اور چہروں کے نقاب آہستہ آہستہ اس طرح اُتر جائیں تو زندگی کی تلخ حقیقتیں آشکار ہوہی جایا کرتی ہیں۔ صحرائے ناامیدی کے گھنے جنگل میں کوئی ننھاسا جگنو اُترتا ہے ، پھر لمحے ہی گزرتے ہیں کہ اس بات کا احساس ہو جاتا ہے کہ جسے جگنو سمجھا وہ تو سراب کے سوا کچھ بھی نہ تھا۔ کچھ بھی نہ تھا۔ یہ دور جس سے ہم گزر رہے ہیں، بے حسی اور خودغرضی کا ایک لامتناہی سلسلہ ہے جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا ہے۔ پے در پے لگی چوٹوں نے زندگی کو زندگی سے بہت دور کردیا ہے۔ منافق لوگ ہر لمحہ اپنا چہرہ بدلتے ہیں۔ کبھی معصومیت کا لبادہ اوڑھ لیتے ہیں تو کبھی مظلومیت کی تصویر بن جاتے ہیں اور __ ہم جیسے نادان لوگ سمجھ نہیں پاتے اور جب سمجھتے ہیں تو ڈھیر سارا وقت گزر چکا ہوتا ہے۔ بے رحم وقت کے بھونرے خوشیوں کے پھولوں سے ساری چاشنی نچوڑ کر کڑواہٹوں کی نذر کردیتے ہیں۔
گرگٹ کی طرح رنگ بدلتے لوگوں کو سمجھنا، جوئے شیرلانے کے برابر ہے۔ زندگی اس طرح ہوگئی ہے جیسے کوئی گلاب کھلے اور تیز بارش اُسے نیست و نابود کردے۔ اُسے پتی پتی کرکے اُس کا وجود مٹا دے۔ زندگی اس طرح لگنے لگی ہے جیسے مدھر دھن بجتی ہو اور ستار کا ایک تار ٹوٹ جائے اور ماحول پر اداس سا سکوت چھا جائے۔ زندگی کا یہ سفر دشت کا ویران سفر بن کر رہ گیا ہے۔ جہاں صرف سناٹیں ہیں، ویرانیت ہے، بوجھل لمحوں کی کسک ہے، ایک کرب ہے جو ختم ہی نہیں ہوتا جو کبھی ختم ہی نہیں ہوتا۔ پہاڑوں پر جب سفید برفیلا آنچل پھلستا ہے ، زمین جب زرد چادر اوڑھ لیتی ہے، اُس وقت دکھ اور بھی شبنمی سے ہوجاتے ہیں۔
جانے پہچانے سے اجنبی لوگ اس قدر اجنبی سے ہوجاتے ہیں کہ لگتا ہے کبھی ساتھ چلے ہی نہ تھے۔ کبھی دکھ سکھ ، کہے ہی نہ تھے ایسا کیوں ہوتا ہے کہ جانے پہچانے سے اجنبی لوگ بالکل بیگانے ہوجاتے ہیں۔ لوگ اس قدر اچانک اور تیزی سے بدلتے ہیں جس طرح بارش کے ہوتے ہی دھنک کے رنگ نیلے افق کو حسین بنا دیتے ہیں اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے دھنک کے سارے رنگ غائب ہوجاتے ہیں۔ ذرا دیر کے لئے ہی شفق کے رنگ بکھرتے ہیں اور پھر وہی خاموش سا نیلا آسمان سوچ میں ڈو ب جاتا ہے۔ انسانوں کے رویے بھی اس طرح پل میں بدلتے ہیں۔ بے رحم رویے زندگی میں بیکلی اور اداسی بھر دیتے ہیں ، نجانے لوگ اتنی جلدی کس طرح بدل جاتے ہیں۔ نارسائیوں کے دکھ انسان کو اندر سے بری طرح توڑ کر رکھ دیتے ہیں۔ انسان ہنستا ہے تو اس کی ہنسی میں بادلوں کی نمی کا احساس ہوتا ہے۔ دل کے راستے بھیگ جاتے ہیں، جل تھل ہوجاتے ہیں ۔ ایک بے نام سی اداسی ہر طرف چھا جاتی ہے۔ جس طرح شمع کی لو سے تھرتھراتا ہوا دھواں نامعلوم منزل کی طرف رواں دواں ہوجاتا ہے۔ اسی طرح زندگی کے سارے رنگ پھیکے پھیکے سے لگتے ہیں، انسان جیتا تو ہے لیکن کس کے لئے اور کیوں جی رہا ہے۔ یہی پتہ نہیں چلتا۔ کچھ بھی پتہ نہیں چلتا جب اپنی ذات بھی خود اجنبی سی لگنے لگے تو زندگی کے معنی ہی بدل جاتے ہیں۔ سوزِغم بڑھ جائے تو دہکتے ہوئے آنسو آنکھوں کے سمندر کو بھی دھکا دیا کرتے ہیں۔ محفلوں میں بھی تنہائی رقص کرتی ہے، بھیڑ میں بھی انسان تنہا ہی ہوتا ہے۔ جگمگاتے ہوئے حسین راستے بھی ویران دکھائی دیتے ہیں، زندگی میں سب کچھ ہوتے ہوئے بھی کچھ کمی سی لگتی ہے جیسے کچھ کھو جائے۔ ہاں! اپنی ذات جو گم ہوجاتی ہے، اپنا آپ بھی اجنبی سا لگتا ہے۔ زندگی تو ہوتی ہے مگر وہ اپنی کہاں ہوتی ہے۔ ہم ساری زندگی دوسروں کی مرضی سے گزار دیتے ہیں۔ گردشِ دوراں انسان کے حواس کو شل کر کے رکھ دیتی ہے۔ ہر قدم اٹھانے کے بعد دوسرا قدم رکھتے وقت سوچنا پڑتا ہے کہ قدم درست سمت میں بھی رکھا ہے یا نہیں۔ انسان محتاط ہوکر جیتا ہے تاکہ زندگی مزید تلخ نہ ہوجائے۔ آنگن زیست میں اداسیوں کے زرد پھول نہ گر جائیں۔ اداس زرد پھولوں کی مہک دل کو اور بھی اداس نہ کردے ، اس لئے ذرا سوچ کر رکھنا پڑتا ہے ہر قدم کہ اب سہنے کی سکت باقی نہیں رہی۔ ساحلوں پہ بنائے گئے ریت کے گھروندے بھی تو ہلکی سی جنبش سے ڈھیر ہوکر بکھر جاتے ہیں۔ اسی طرح لگتی ہے زندگی بالکل ریت کے گھروندے کی طرح۔
میں نے زندگی کو زندگی سے جدا ہوتے دیکھا ہے۔ جب زندگی سے زندگی بچھڑ جاتی ہے تو …… آنکھیں بھی پتھر کی ہوجاتی ہیں۔ وہ آنکھیں پھر ہنستی بھی نہیں اور روتی بھی نہیں۔ اگر روئیں بھی تو کب کسی کو پتہ چلتا ہے۔ ہاں! کب کسی کو پتہ چلتا ہے۔ وہ آنکھیں ہی نہیں کسی کے پاس جو دیکھ سکیں نہ بہنے والے آنسوؤں کو، نہ نکلنے والی آہوں کو۔ کیونکہ اس کے لئے احساس چاہئے۔ احساس اگر ہوتا تو پھر کیا تھا اور کیا چاہئے تھا۔ احساس تو زندہ لوگوں میں ہوتا ہے۔ زندہ تو وہ لوگ ہوتے ہیں جو دکھوں کو محسوس کرتے ہیں۔ جو نگاہوں کی کتاب پر لکھے لفظوں کو باآسانی پڑھ لیتے ہیں۔ اَن کہے دکھوں کی کیاری میں کتنے زخموں کے زرد پھول کھلے ہیں۔ وہ سب کچھ جان جاتے ہیں۔ میں نے گزرتے ہوئے لمحوں کی سسکیوں کو سنا ہے، روتے ہوئے دیکھا ہے کاش کہ دیکھ پاتے وہ سب بھی جو آنکھیں تو رکھتے ہیں لیکن بینائی سے محروم ہیں۔ نظر کب سب کے پاس ہوتی ہے جو دیکھ پائے ، نہ دکھنے والے منظروں کو وہی نظر ہوتی ہے۔ ایسے ہی لوگ اہل بصیرت کہلاتے ہیں۔
سازِغم چھڑ جائے تو زندگی اداس سی غزل بن کر رہ جاتی ہے۔ کوئی بھیگی بھیگی نظم بن کر رہ جاتی ہے۔ شیشے ٹوٹ کر چکناچور ہوجائیں تو بکھر جاتے ہیں۔ لیکن ہم انسان اکثر بکھرنا بھی چاہیں تو بکھر نہیں پاتے۔ اپنے وجود کی ٹوٹی پھوٹی کرچیوں کو سنبھال کر دوسروں کے سامنے اپنے مضبوط ہونے کا ثبوت جو پیش کرنا ہوتا ہے۔ روح کے سمندر میں روز کئی طوفان آتے ہیں۔ لیکن روح کی کھڑکی سے کب کوئی کچھ دیکھ پاتا ہے۔ شام اپنی کالی، گھنیری زلفوں میں کچھ مضمحل سے، دل گرفتہ سے اداس پھول سجائے جب آتی ہے تو دل کی ویران گزرگاہوں میں گم گشتہ یادوں کے چراغ جلنے لگتے ہیں۔ شام کی سرمئی آنکھیں کچھ اور بھی اداس لگنے لگتی ہیں۔ شام اپنے ساتھ اتنی ساری اداسیاں لے کر کیوں آجاتی ہے ہمیشہ۔ نجانے کیوں؟ شام کا بھیگتا ، سرسراتا آنچل ساری فضا کو اداسیوں میں ڈبو دیتا ہے۔ اداسیاں دل میں ٹھہر جاتی ہیں، وہ پھر کہیں نہیں جاتی ہیں۔ یہ دل ہے میرا اداسیوں کے ڈیرے ہیں۔ کیوں نہ اداس ہو …… دل ۔ کہ سرد لہجوں سے جو لگے تھے زخم پھول سے نازک دل پر اُس کا درد باقی ہے ابھی۔ چٹانوں سے حوصلے میرے جو ڈھے گئے تھے بھربھری مٹی کی طرح اُن کڑوے رویوں کی تلخی باقی ہے ابھی۔ ٹکڑے ٹکڑے ہوتے ہوئے وجود کو جب سمیٹا تھا اُس کا کرب باقی ہے ابھی۔ زہر زندگی کو قطرہ قطرہ جو پیتے رہے جسم و جاں ۔ اُس کی دکھن باقی ہے ابھی۔ باقی رہ جاتی ہے بات ، مگر وقت گزر جاتا ہے گزرتے گزرتے بہت سارے راز افشاں کردیا کرتا ہے۔ وقت ہمیں بہت سارے سبق دے جاتا ہے، بہت کچھ سمجھا دیتا ہے ، بہت کچھ سکھا دیتا ہے۔
اپنوں سے بچھڑنے کا دکھ ہمارے لئے سوہان روح ثابت ہوتا ہے۔ جدائیاں ہمیں رات دن کچوکے لگاتی ہیں۔ کچھ بچھڑے ایسے ہوتے ہیں جو ایک بار بچھڑ گئے سو بچھڑ گئے کبھی مل نہیں پاتے۔ جدائیاں انھیں انگاروں پر جلاتی ہیں، وہ تڑپتے ہیں ، سسکتے ہیں، لیکن جدائیاں انسان کوکبھی اس پار نہیں لے جاتیں۔ جہاں جدائیاں قربتوں میں بدل جائیں۔ انسان اس قدر مجبور و بے کس ہستی ہے کہ اُس کے بس میںکچھ بھی نہیں۔ انسان نجانے کس زعم میں مبتلا ہے۔ کس غرور کا شکار ہے۔ چند روزہ زندگی کے لئے کیا کچھ نہیں کرتا۔ بھول جاتا ہے انسان کہ مرنا بھی ہے۔ موت جو اٹل ہے ۔ غرور و تکبر میں کہے گئے الفاظ دل کو زخمی کردیتے ہیں۔ اگر ہم لاکھ بھولنا بھی چاہیں تو نہیں بھول پاتے۔ میں نے سہا ہے غرور و تکبر میں حد سے گزر جانے والے لوگوں کو جن کی اکڑی ہوئی گردن اور تکبر بھرے لہجے نے مجھے اُن لوگوں سے کوسوں دور کردیا تھا۔ دل سے نکل جاتے ہیں ایسے متکبر لوگ، پھر کبھی دل میں اُن کے لئے کوئی عزت نہیں رہ جاتی۔ نفرت ہی نفرت بھر جایا کرتی ہے۔ جب کسی کے جذبات کا خون ہوجائے ، دل زخمی اور لہولہان ہوجائے تو انسان پھر کب ایسے لوگوں سے ملنا پسند کرتا ہے۔
شاہراہِ حیات پر چلتے چلتے اتنی ٹھوکریں کھائی ہیں کہ شمار بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اتنے بے حسی کے خاروں نے لہولہان کیا ہے جو بیان سے باہر ہے۔ وہ لفظ ہی نہیں جو بیان کر پائیں۔ زندگی نے یہ سکھا دیا ہے کہ مٹھاس بھرے لفظ صرف لفظ ہی ہوتے ہیں۔ لوگ منافقعت سے ملتے ہیں۔ لوگ ہر لمحہ روپ بدلتے ہیں، جب لوگ زیادہ میٹھے ہوجائیں تو ذرا فاصلہ رکھ لینا چاہئے کہ اب کسی پر بھی بھروسہ باقی نہیں رہا ہے۔ یہ دشت سا ویران سفر ہمیں اکیلے ہی کاٹنا ہوتا ہے۔ ہمیںاپنے حصے کے دکھ جھیلنا ہی ہوتے ہیں۔ ٹوٹے پھوٹے وجود کو مزید ٹوٹنے سے بچانے کے لئے لوگوں سے فاصلہ رکھنا بے حد ضروری ہے۔ یہی سیکھا ہے زندگی سے کہ یہی کڑوا سچ ہے کہ اپنے وہ اپنے نہیں ہوتے جو مٹھاس بھرا لہجہ رکھتے ہیں۔ بلکہ اپنے وہ اپنے ہوتے ہیں جو ہمارے درد ، ہماری ہر تکلیف کو بنا کہے ہی سمجھ جائیں، محسوس کرسکیں۔ ہمارے دل کی تہہ تک پہنچ سکیں، ہمارا ہر آنسو ان کی آنکھوں میں اُتر جائے، چاہے راستہ پھولوں بھرا ہو یا پتھریلا اور خاردار ، ہر وقت ہمارے اپنے ہمارے ساتھ ہوں۔ مگر __ کہاں ہیں ساتھ نبھانے والے، کہاں ہیں ساتھ ساتھ چلنے والے ، ساتھ ہیں کہہ دینا ہی ساتھ نبھانا نہیں ہوتا۔ بہت کم خوش نصیب ہوتے ہیں جن کے اپنے واقعی اپنے ہوتے ہیں ۔ زیادہ تر لوگوں کی زندگیاں اپنوں کی تلاش کرتے کرتے ہی ختم ہوجاتی ہیں۔ لیکن اپنے پھر بھی نہیں ملتے۔ جب زندگی کی تھکان بڑھنے لگے ، اندھیرے اور بھی گہرے ہونے لگیں تو صبر کرلینا کہ زندگی اسی کا نام ہے۔ اندھیروں کے ساتھ بھی سفر کرنا ہوتا ہے۔ امیدِ شجر سوکھنے لگے ، طاقِ دل پہ رکھے چراغ بجھنے لگیں تو ماتم نہ کرو۔ اپنے آنسوؤں کو اپنے اندر ہی اتار لو، اپنی آہوں سے دھواں نہ نکلنے دو۔ دکھوں کی آندھیاں تمھیں بے آسرا کردیں تو بھی اپنے قدم اکھڑنے نہ دو۔ ہمت سے، حوصلے سے جیو کہ یہی زندگی ہے۔ ہر کسی کی زندگی الگ الگ ہوتی ہے، کسی کی زندگی میں گلاب کھلتے ہیں تو کہیں ہر قدم پر خار ہی خار ملا کرتے ہیں۔ دشت سایہ ویران سفر گزر ہی جائے گا۔ آہستہ آہستہ ہمارا ہر لمحہ ہمیںموت کی طرف دھکیل رہا ہے۔ ہمارا نامۂ اعمال لکھا جارہا ہے۔ ہمیں صرف یہ سوچنا ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی نظر میں کیا ہیں۔ ہمیں صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے بارے میں سوچنا ہے۔ اس سفر آخرت کے بارے میں سوچنا ہے جو اٹل حقیقت ہے۔
٭٭٭
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...