Skip to content
امریکہ میں احتجاج کی نئی تاریخ اور جمہوریت کا کڑا امتحان!
ازقلم:(حافظ)افتخاراحمدقادری
کہتے ہیں کہ قوموں کی زندگی میں کچھ لمحات ایسے آتے ہیں کہ جب خاموشی جرم بن جاتی ہے اور بولنا فرض۔ یہ وہ گھڑیاں ہوتی ہیں جب عام انسان جو عموماً اپنی روزمرہ کی جد وجہد میں مصروف رہتا ہے اچانک تاریخ کے اسٹیج پر آ کھڑا ہوتا ہے اور اپنے وجود کا اعلان کرتا ہے۔ حالیہ دنوں امریکہ میں ہونے والے وسیع اور غیر معمولی احتجاجی مظاہرے بھی اسی حقیقت کا زندہ ثبوت ہیں جہاں لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں افراد نے اپنے اختلاف کو الفاظ تک محدود رکھنے کے بجائے عملی صورت میں دنیا کے سامنے پیش کیا۔ یہ منظر نہ صرف امریکہ بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک اہم اشارہ ہے کہ عوامی طاقت جب بیدار ہوتی ہے تو وہ بڑے سے بڑے نظام کو بھی لرزا سکتی ہے۔ یہ احتجاج اپنی نوعیت وسعت اور شدت کے اعتبار سے غیر معمولی قرار دیے جا رہے ہیں۔ پچاسوں ریاستوں میں بیک وقت عوام کا سڑکوں پر نکل آنا، تین ہزار سے زائد مقامات پر مظاہروں کا انعقاد اور تقریباً اسی لاکھ افراد کی شرکت۔ یہ سب اعداد و شمار نہیں بلکہ ایک گہرے اجتماعی اضطراب کی عکاسی کرتے ہیں۔ نیویارک، واشنگٹن، لاس اینجلس، بوسٹن اور ہیوسٹن جیسے بڑے اور با اثر شہروں میں جب عوامی سیلاب امڈ آئے تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ معاملہ سیاسی اختلاف کا نہیں بلکہ عوامی اعتماد کے بحران کا ہے۔ ان مظاہروں کی بنیاد میں کئی عوامل کار فرما ہیں مگر سب سے نمایاں عنصر حکومتی پالیسیوں کے خلاف بڑھتی ہوئی بے چینی ہے۔ ایران کے ساتھ کشیدگی اور ممکنہ جنگی صورتحال نے امریکی عوام کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ایک ایسا ملک جو پہلے ہی مختلف عالمی تنازعات میں الجھا ہوا ہے وہاں مزید جنگی ماحول پیدا کرنا عوام کے لیے ناقابل قبول ہوتا جا رہا ہے۔ عوام اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ جنگیں صرف محاذ پر نہیں لڑی جاتیں بلکہ ان کا بوجھ معیشت سماج اور عام شہری کی زندگی پر بھی پڑتا ہے۔ اسی طرح مہنگائی کا بڑھتا ہوا طوفان بھی عوامی غصے کا ایک اہم سبب ہے۔ ایک عام امریکی شہری جو کبھی دنیا کی سب سے مضبوط معیشت کا حصہ ہونے پر فخر کرتا تھا آج اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدو جہد کر رہا ہے۔ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ، روزگار کے مواقع میں کمی اور متوسط طبقے کا سکڑتا ہوا دائرہ یہ سب ایسے عوامل ہیں جو کسی بھی معاشرے میں بے چینی کو جنم دیتے ہیں۔ امریکہ بھی اس اصول سے مستثنیٰ نہیں۔ امیگریشن کے حوالے سے سخت گیر پالیسیاں بھی ان مظاہروں کا ایک بڑا محرک بن کر سامنے آئی ہیں۔ امریکہ کو ہمیشہ سے ایک ایسے ملک کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے جہاں دنیا بھر سے لوگ بہتر زندگی کی تلاش میں آتے ہیں مگر جب یہی ملک دروازے بند کرنے لگے، جب تارکینِ وطن کے ساتھ سختی برتی جائے اور جب انسانی ہمدردی کے بجائے سیاسی مفادات کو ترجیح دی جائے تو ردعمل فطری ہوتا ہے۔ یہی ردعمل اب سڑکوں پر نظر آ رہا ہے۔ یہ مظاہرے اس لحاظ سے بھی اہم ہیں کہ انہوں نے امریکی معاشرے کی مختلف پرتوں کو ایک جگہ جمع کر دیا ہے۔ عام طور پر نسلی و سماجی اور نظریاتی بنیادوں پر تقسیم نظر آنے والا معاشرہ اس بار ایک مشترکہ مقصد کے تحت متحد دکھائی دیا۔ یہ اتحاد وقتی ہوسکتا ہے مگر اس کا پیغام بہت واضح ہے کہ جب مسائل حد سے بڑھ جائیں تو اختلافات پسِ پشت چلے جاتے ہیں اور مشترکہ جد وجہد جنم لیتی ہے۔ جمہوریت کے دعویدار امریکہ کے لیے یہ ایک کڑا امتحان ہے۔ آزادئی اظہار اور احتجاج کا حق یقیناً جمہوریت کا حسن ہے مگر جب یہی احتجاج اس قدر وسیع ہو جائے تو یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ آخر وہ کون سی خامیاں ہیں جنہوں نے عوام کو اس حد تک پہنچا دیا۔ کیا یہ محض سیاسی قیادت کی ناکامی ہے یا پورے نظام میں کوئی بنیادی خلل موجود ہے؟ یہ سوالات اب صرف امریکہ تک محدود نہیں رہے بلکہ پوری دنیا میں زیرِ بحث ہیں۔ یہ کہنا بھی غلط نہ ہوگا کہ یہ مظاہرے ایک طرح سے عالمی سیاست پر بھی اثر انداز ہو رہے ہیں۔ امریکہ کی پالیسیوں کا اثر دنیا کے ہر کونے میں محسوس کیا جاتا ہے اس لیے جب خود امریکی عوام ان پالیسیوں کے خلاف کھڑے ہو جائیں تو یہ ایک عالمی پیغام بن جاتا ہے۔ یہ پیغام اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ طاقت کے ایوانوں کے اندر بھی بے چینی موجود ہے اور فیصلوں پر سوال اٹھائے جا سکتے ہیں۔ حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج اب یہ ہے کہ وہ اس صورتحال کو کیسے سنبھالتی ہے۔ طاقت کا استعمال، گرفتاریوں کا سلسلہ یا وقتی اقدامات شاید احتجاج کی شدت کو کم کر دیں مگر اصل مسئلہ حل نہیں کریں گے۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ عوام کی آواز کو سنا جائے، ان کے خدشات کو سمجھا جائے اور ایسی پالیسیاں ترتیب دی جائیں جو واقعی عوامی فلاح کا باعث بنیں۔ جمہوریت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اختلاف کو دبایا نہ جائے بلکہ اسے اصلاح کا ذریعہ بنایا جائے۔ یہ صحیح ہے کہ ایسے مظاہرے ہمیشہ کسی نہ کسی بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ بنتے ہیں۔ چاہے وہ تبدیلی فوری ہو یا وقت لے مگر عوامی دباؤ بالآخر اپنا اثر ضرور دکھاتا ہے۔ امریکہ میں جاری یہ احتجاج بھی شاید آنے والے دنوں میں کسی بڑی سیاسی یا سماجی تبدیلی کا سبب بنیں مگر فی الحال انہوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ عوام اب محض تماشائی نہیں رہے بلکہ اپنے حقوق کے لیے میدان میں اترنے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ یہ احتجاج صرف امریکہ کا داخلی معاملہ نہیں بلکہ ایک عالمی سبق ہے۔ یہ سبق اس بات کا ہے کہ کوئی بھی نظام خواہ کتنا ہی مضبوط کیوں نہ ہو اگر وہ اپنے عوام کے جذبات اور مسائل کو نظر انداز کرے گا تو اسے ایسے ہی طوفانوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جمہوریت صرف ایک نظام کا نام نہیں بلکہ ایک مسلسل عمل ہے جس میں عوام اور حکمران دونوں کو اپنی ذمہ داریاں نبھانی ہوتی ہیں۔ اگر اس توازن کو برقرار نہ رکھا جائے تو پھر سڑکیں بولنے لگتی ہیں اور جب سڑکیں بولتی ہیں تو تاریخ بدل جاتی ہے اور کوئی بھی احتجاج اچانک جنم نہیں لیتا بلکہ یہ برسوں کے جمع شدہ احساسِ محرومی، نظر انداز کیے گئے مسائل اور حکمرانوں کی بے اعتنائی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ امریکہ میں ہونے والا یہ وسیع احتجاج بھی کسی ایک فیصلے یا ایک دن کے غصے کا اظہار نہیں بلکہ ایک طویل عرصے سے پنپنے والی بے چینی کا نقطہ عروج ہے۔ جب عوام کو یہ محسوس ہونے لگے کہ ان کی آواز ایوانوں تک نہیں پہنچ رہی، جب پالیسیوں میں ان کی فلاح کے بجائے طاقت اور مفادات کو ترجیح دی جا رہی ہو اور جب ان کے بنیادی خدشات کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہو تو پھر سڑکیں ہی ان کا واحد منبر بن جاتی ہیں۔ آج امریکی عوام اس لیے سب سے بڑا احتجاج کرنے پر مجبور ہوئے کہ ان کے سامنے ایک ایسا نظام کھڑا نظر آیا جو بظاہر جمہوری ہونے کے باوجود ان کی روزمرہ زندگی کے مسائل سے کٹا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی نے انہیں ایک غیر یقینی مستقبل کے خوف میں مبتلا کر دیا، مہنگائی نے ان کی معاشی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا اور امیگریشن پالیسیوں نے اس ملک کی اس شناخت کو مجروح کیا جس پر وہ ہمیشہ فخر کرتے آئے تھے۔ یہ سب عوامل مل کر ایک ایسی کیفیت پیدا کرتے ہیں جہاں خاموش رہنا ممکن نہیں رہتا بلکہ بولنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔
جدید جمہوریتوں میں اکثر اوقات عوامی مسائل کو ثانوی حیثیت دے دی جاتی ہے اور سیاسی بیانیے کو اس انداز میں ترتیب دیا جاتا ہے کہ اصل مسائل پس منظر میں چلے جائیں۔ مگر جب یہ فاصلہ حد سے بڑھ جاتا ہے تو پھر عوام اپنے وجود کا احساس دلانے کے لیے میدان میں اتر آتے ہیں۔ امریکہ میں ہونے والا یہ احتجاج اسی فاصلے کا نتیجہ ہے جہاں عوام اور اقتدار کے درمیان اعتماد کی ڈور کمزور پڑتی چلی گئی اور بالآخر ٹوٹنے کے قریب جا پہنچی۔ اس احتجاج نے یہ واضح کر دیا ہے کہ عوام اب انتخابی عمل کا حصہ بن کر مطمئن نہیں رہنا چاہتے بلکہ وہ پالیسی سازی میں اپنی عملی موجودگی چاہتے ہیں۔ وہ یہ چاہتے ہیں کہ ان کی زندگیوں پر اثر انداز ہونے والے فیصلے ان کی خواہشات اور ضروریات کے مطابق ہوں نہ کہ محض سیاسی حکمتِ عملیوں کا نتیجہ۔ جب یہ خواہش پوری نہیں ہوتی تو پھر احتجاج ایک ناگزیر عمل بن جاتا ہے۔ یہ صورتحال دنیا کے دیگر ممالک کے لیے بھی ایک آئینہ ہے کہ اگر عوامی مسائل کو بروقت حل نہ کیا جائے، اگر معاشی انصاف کو یقینی نہ بنایا جائے اور اگر ریاستی پالیسیوں میں انسانی پہلو کو نظر انداز کیا جائے تو نتائج ہمیشہ ایسے ہی نکلتے ہیں۔ طاقت اختیار اور وسائل کے باوجود کوئی بھی نظام اس وقت تک مستحکم نہیں ہو سکتا جب تک وہ عوامی اعتماد پر قائم نہ ہو۔ بالآخر یہ کہنا درست ہوگا کہ امریکہ میں ہونے والا یہ سب سے بڑا احتجاج دراصل ایک اجتماعی چیخ ہے، ایک ایسا اعلان ہے جو یہ بتا رہا ہے کہ عوام اپنی تقدیر کے فیصلوں میں نظر انداز ہونا قبول نہیں کریں گے۔ یہ احتجاج اس بات کا ثبوت ہے کہ جب مسائل حد سے بڑھ جائیں تو خاموشی ٹوٹ جاتی ہے اور جب خاموشی ٹوٹتی ہے تو وہ صرف آواز نہیں بنتی بلکہ ایک تحریک میں ڈھل جاتی ہے۔ یہی وہ حقیقت ہے جس نے آج امریکی عوام کو سڑکوں پر آنے پر مجبور کیا، اور یہی وہ پیغام ہے جو آنے والے وقتوں میں دنیا کی سیاست کے رخ کو متعین کر سکتا ہے۔
*کریم گنج،پورن پور،پیلی بھیت،مغربی اترپردیش
(مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)
iftikharahmadquadri@gmail.com
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...