Skip to content
دلالی پاکستانی: نوچے کھمبا کھسیانی
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
وطن عزیز میں اپنا غم غلط کرنے کی سب سے آسان ترکیب پاکستان کی تاریک تصویر پیش کرکے دل بہلانا ہے ۔ ہم سایہ ملک کو گالیاں دی جائیں تو بھگوا دھاری بہت خوش ہوتے ہیں مگر اس کی تعریف ہوجائے توان لوگوں کو بڑی مرچی لگتی ہے۔ ایران اور اسرائیل و امریکہ کے درمیان جنگ کے بعدجو کل جماعتی نشست کا انعقاد کیا گیا اس میں ایسا ہی کچھ ہوا ۔ اجلاس کے دوران جب حزب اختلاف کے رہنماؤں نے سوال کیا کہ کیا امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کے طور پر پاکستان کا کردار بھارت کے لیے دھچکا ہے؟ اس کا نہایت مہذب جواب یہ ہوسکتا تھا کہ ’یہ کوئی نئی بات نہیں ہے، کیونکہ پاکستان 1981 سے یہ کردار ادا کر تارہا ہے‘۔ وزیر خارجہ اگر وہیں رک جاتے تو بات آئی گئی ہوجاتی مگر چیں بہ جبیں ایس جے شنکرنےمزید کہہ دیا کہ ” ہندوستان ایک دلال ملک نہیں بن سکتا‘‘ سوال یہ ہے کہ کیا جنگ کو روکنے کے لیے ثالثی کرنا دلالی ہے؟ اگر ایسا ہے تو وزیر اعظم نے دو دن قبل ایوان پارلیمان میں یہ کیوں کہا تھا کہ’’ ہندوستان کی کوشش تمام فریقوں کو جلد از جلد پرامن حل پر پہنچنے کی ترغیب دینا ہے‘‘ ۔کیا یہ دلالی کی ترغیب تھی؟
وزیر خارجہ جے شنکر کے ’دلالی‘ والے غیر ذمہ دارانہ بیان نے تو جیسےپنڈورا بکس کا ڈھکن کھول دیا ۔ اس پر دنیا بھر کے مبصرین اور سیاستدانوں کو موصوف پر اپنا نزلہ اتارنے کا نادر موقع عنایت کردیا ۔ صدرِ پاکستان کے ترجمان مرتضیٰ سولنکی کا اس پر سب سے تیکھا ردعمل سامنے آیا ۔ انہوں نے ہندوستانی وزیرِ خارجہ کے بھونڈے بیان پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ سفارتی ڈیمینشیا کے ساتھ ساتھ کسی ایسی بیماری یا وائرس کا بھی شکار ہیں کہ جو خود (مریض )کوختم کر سکتا ہے ‘۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ سنگھ پریواراپنی صد سالہ محنت و مشقت کے باوجود مودی سرکار کو وزارت خارجہ اور خزانہ جیسے اہم قلمدانوں کے لیے کوئی مناسب فرد نہیں فراہم کرسکا اس لیے اسے یہ وزارتیں جے این یو سے نکلے ہوئے لوگوں کو سونپنی پڑی ۔ وہ لوگ قدرے پڑھے لکھے اور مہذب تھے لیکن زعفرانی سنتروں کی صحبت نے انہیں بھی سڑا دیا ہے ۔ جے شنکر کو طویل سفارتی تجربہ ہے اس کے باوجود ان کے گھٹیا بیان پر سولنکی کو کہنا پڑا ’ یوں محسوس ہوتا ہے کہ انھوں نے سفارت کاری کے سکول میں سیکھی ہوئی ہر چیز بھلا دی ہے۔‘
سولنکی نے مزید کہا کہ ’حقیقت یہ ہے کہ وہ مودی کے دلال ہیں اور مودی نتن یاہو کے دلال ہیں۔‘اس فقرے کو اگر وزیر اعظم نریندر مودی کے سارے عرب ملکوں کو فون کرکے جنگ کے لیے اکسانے سے جوڑ کر دیکھا جائے تو امریکہ و اسرائیل کی دلالی کا عنصرصاف نظر آجاتاہے؟ عوام و خواص کی نظروں سے اوجھل اس پلو کو جے شنکر نے اجاگر کردیا ۔ پاکستان کے سابق وزیرِ خارجہ جلیل عباس جیلانی نے ایکس پر اپنے ایک بیان میں جے شنکر سمیت مودی سرکار کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا جو ہر مسئلہ سے انتخابی فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتی ہے۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت پہلگام دہشت گردی کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی کا کشمیر کے بجائے بہار جانا تھا۔ جیلانی کے مطابق ’سفارت کاری کو محض انگشت نمائی تک محدود کرنا شاید گھریلو سیاست کے لیے فائدہ مند ہو، لیکن امن کے لیے بےسود ہے۔‘ ویسے وزیر اعظم نریندر مودی کے دونوں ایوانوں میں خطابات امن عالم کا قیام پیش نظر نہیں بلکہ جنگ سے متوقع داخلی مشکلات سے ملک کے عوام کو آگاہ یا خبردار کرنے پر توجہ دے کر اپنے کارناموں کے تذکرے کی مشق تھی۔ جے شنکر کے جے شنکرکےسابق پاکستانی ہم منصب نے کہا کہ ’اس طرح کے غیر سنجیدہ بیانات ایک بیمار ذہنیت کی عکاسی کرتے ہیں اور ہندوستانی وزیرِ خارجہ کو زیب نہیں دیتا کہ وہ ایسے ملک کے خلاف اس طرح کی زبان استعمال کریں جو خطے میں امن کے لیے کوشاں ہے۔‘
وزیر خارجہ کے بیان پر اپنے غم و غصے کا اظہار تو کانگریس کے ترجمان جے رام رمیش نے بھی کیا۔ انہوں نے ایکس پر لکھا ’ وزیرِ خارجہ نے کہا کہ انڈیا کوئی دلال ملک نہیں ہے۔ ہماری سفارت کاری، روابط، اور بیانیے کی تباہ کن ناکامیوں نے ایک ٹوٹے ہوئے ملک کو ’بروکر‘ بنا دیا ہے۔‘ اس ناکامی کا سہرا وزیر خارجہ کے سرباندھتے ہوئے موصوف کا موقف ہے ’ہمارے سفارتی ریکارڈ کے لیے ان کا یہ واحد حصہ ہے جو وزیر خارجہ کی کوئی ایک جملہ مٹا نہیں سکتی۔‘ جے رام رمیش آگے بڑھ کر اس جملے بازی کایہ سبب بتاتے ہیں کہ جے شنکر ’علاقائی سفارتکاری میں اپنی ناکامی اور شرمندگی کو چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘ سابق گورنر سندھ محمد زبیر کے بیان میں جے رام رمیش کے تبصرے کی بازگشت اس طرح سنائی دیتی ہے کہ ’میں نے کبھی کسی وزیرِ خارجہ کو اس قدر گری ہوئی بات کرتے نہیں دیکھا۔ یہ اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ انڈیا کو کسی بھی کردار سے محروم رہ جانے پر کتنی مایوسی ہے۔‘
ہندوستانی وزیر خارجہ کے بیان کو ہرکوئی ان کی مایوسی اور جھنجھلاہٹ سے منسوب کررہا ہے۔ پاکستان کےوزیرِ دفاع خواجہ آصف کی تنقید کچھ اس طرح ہے کہ ’جے شنکر خود کو ایک ’ہائی فائی دلال‘ سمجھتے ہیں، اور یہ بیان اُن کی ذاتی جھنجھلاہٹ کی عکاسی کرتا ہے۔‘ اسی طرح پاکستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی کہتے ہیں کہ ’ایسے غیر سفارتی بیانات گہری مایوسی اور جھنجھلاہٹ کی غمازی کرتے ہیں۔ پاکستان اس قسم کی بیان بازی اور بھڑکیں مارنے پر یقین نہیں رکھتا۔ ہمارا طرزِ عمل لفاظی پر نہیں بلکہ تحمل، شائستگی اور وقار پر مبنی ہے ۔‘ یہ تو ایک اصولی دعویٰ ہے مگر اس کی عملی مثال ہندوستان کے ایک صارف پرویش جین نے ایکس پر پیش کر دی ۔ ان کے مطابق ’میں حیران ہوں۔ فرض کریں کہ جنگ میں شامل تمام ممالک ’نئی دہلی‘ کو مذاکرات کے لیے منتخب کر لیں تو کیا ہم خود کو ’دلال ملک‘ کہیں گے؟ یا یہ کہیں گے کہ معذرت، ہم اپنے ملک کو مذاکرات کا حصہ نہیں بننے دے سکتے؟ یقیناً نئی دہلی میں ایسا کبھی نہیں ہوگا۔‘ لیکن سچ تو یہ جے شنکر جیسے امریکہ نواز وزیر خارجہ نے اپنی جانبداری سے ثالثی کا موقع گنوا دیا ہے۔
وزیر خارجہ جے شنکر یہ بھول گئے کہ وہ خود یوکرین اور روس کے درمیان جنگ رکوانے کی کوشش کرچکے ہیں تو کیا وہ بھی دلالی تھی؟ وزیر اعظم نریندر مودی کے بارے میں تو یہ جملہ ضرب المثل بن گیا تھا کہ ’پاپا نے جنگ رکوادی‘ تو کیا اب اسے تبدیل کرکے یہ کردیا جائے کہ ’پاپا نے دلالی کر دی‘؟ مودی جی کے بہترین دوست تو تقریباً سو بار ہندو پاک کی جنگ رکوانے کا دعویٰ کرچکے ہیں توکیا موصوف ٹرمپ سے بھی یہ کہنے کی جرأت کریں گے کہ ’آپ نے خوب دلالی کی۔ ہم اس دلالی کے لیے آپ کے ممنون ہیں؟ ‘ معروف صحافیہ سوہاسنی حیدر نے ٹرمپ کے حوالے سے ایکس پر لکھا کہ ’پاکستان کو ’دلال‘ ملک قرار دینے سے متعلق انڈین وزیرِ خارجہ جے شنکر کے الفاظ نے بہت سوں کو حیران کیا ہے، خصوصاً اس لیے کہ یہ بات بالواسطہ طور پر امریکہ پر بھی لاگو ہو سکتی ہے، جہاں گزشتہ سال صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ انھوں نےجو آٹھ تنازعات میں ثالثی کی، ان میں انڈیا پاکستان بھی شامل تھا، دہلی کویہ خاصہ ناگوار گُزرا تھا۔‘ مودی سرکار کو نہ تو امریکہ کی ثالثی راس آئی تھی اور نہ اور نہ پاکستان کی آرہی ہے۔ علی چشتی نامی پاکستانی صارف نے اس پر لکھا ہے کہ ’صرف اس لیے امن کی کوششوں کو ’دلالی‘ کہنا کہ آپ کو مذاکرات کی میز پر نہیں بلایا گیا، یہ سفارت کاری نہیں، عدمِ اعتماد کی علامت ہے۔ اس طرزِ عمل سے ہندوستان کی بے چینی ظاہر ہوتی ہے۔‘
55 برس قبل سرد جنگ کے زمانے میں جب امریکی صدر نکسن نے اپنے حریف اول سوویت یونین کے خلاف چین سے ہاتھ ملانے کا ارادہ کیا تو ان کی نظر انتخاب پاکستان پر پڑی ۔ وہ پہلا موقع تھا جب پاکستان نے عالمی سطح پر دنیا کی سب بڑی طاقتوں کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کیاتھا ۔ وزیر خارجہ جے شنکر خود 1981میں ایران جنگ کے دوران پاکستانی ثالثی کو ناکام کہہ کر اس کا اعتراف کرچکے ہیں ایسے پھر سے اگر ہم سایہ ملک وہی کرے تو کیا دقت ہے لیکن پریشانی وجہ دوسری ہے۔ وطن عزیز میں پاکستان کو دہشت گردی کا مرکز قرار دے کر ایک ناکام مملکت کے لقب سے یاد کرنا اور اسےاقتصادی طور پر دیوالیہ ہونے کاطعنہ دینا عام بات ہے۔ ایسے ملک کا اتنے بڑے عالمی بحران میں ایک ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا عوام و خواص کے گلے سے نہیں اتررہا ہے ۔ کسی اور ملک مثلاً اومان یا فرانس وغیرہ کو یہ اعزاز حاصل ہوجاتا تو اس سے ہمیں کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن پاکستان کے تئیں پائے جانے والے حقارت کے جذبات چینی کی وجہ بنے ہوےہیں ۔ اس میں شک نہیں کہ اگر وہ اپنی ثالثی سے جنگ رکوانے میں کامیاب ہوجائے تو عالمی سطح پر پاکستان کا قد بہت اونچا ہو جائے گا ۔ اس لیے جے شنکر کے دلال کہہ کر مذاق اڑانے سےدل کی بھڑاس تو نکلتی ہے مگر کوئی خاص فرق نہیں پڑتا ۔
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...