Skip to content
مسلم دنیا کی تین شان دار مزاحمتیں.
امت مسلمہ کی روحانی، اخلاقی، تہذیبی اور مزاحمتی ’’امکانات ‘‘ کا اظہار
تحریر: شاہنواز فاروقی…ترتیب: عبدالعزیز
مسلم دنیا بادشاہوں‘ جرنیلوں اور ان کے پیدا کردہ سیاست دانوں کی دنیا ہے‘ ان بادشاہوں‘ ان جرنیلوں اور ان سیاست دانوں کا نہ کوئی خدا ہے‘ نہ کوئی رسول ہے‘ نہ کوئی امت ہے‘ نہ کوئی تہذیب ہے‘ نہ کوئی تاریخ ہے‘ نہ کوئی قوم ہے۔ ان کا خدا اگر کوئی ہے تو امریکا یا ان حکمرانوں کا شخصی‘ گروہی اور طبقاتی مفاد۔ اس صورتِ حال کا نتیجہ یہ ہے کہ مسلم دنیا امریکا کی غلام چلی آرہی ہے۔ شاہ فیصل نے امریکا کی خدائی کو چیلنج کیا پھر ایران کے صاحب ِ انقلاب امام خمینی نے اپنی قوم کو ’’مرگ بر امریکا‘‘ یعنی امریکا مردہ باد کا نعرہ دیا۔ ان دو رہنمائوں کے سوا پوری مسلم دنیا میں امریکا کو چیلنج کرنے والا کوئی پید انہیں ہوا، لیکن مسلم دنیا کی حالیہ تاریخ میں تین مزاحمتیں ایسی ہوئی ہیں جن پر پوری امت مسلمہ فخر کر سکتی ہے۔
مسلمانوں کی پہلی شان دار اور قابل فخر مزاحمت نائن الیون کے بعد افغانستان کے سربراہ ملا عمر اور طالبان کی جانب سے سامنے آئی۔ نائن الیون ہوا تو امریکا غضب ناک ہو گیا۔ اس نے اسی غضب ناکی کے ساتھ پاکستان کے فوجی آمر جنرل پرویز مشرف کو رات گئے فون کیا اور کہا کہ اگر تم ہمارے ساتھ نہیں ہو تو پھر تم ہمارے خلاف ہو۔ امریکا نے یہ بھی کہا کہ اگر پاکستان نے امریکا ساتھ نہ دیا تو اسے پتھر کے دور میں واپس بھیج دیا جائے گا۔ یہ دھمکی ایسی تھی کہ جنرل پرویز مشرف کا بستر گیلا ہو گیا اور انہوں نے پورا پاکستان امریکا کے آگے ڈال دیا۔ اس کے برعکس ملا عمر امریکی دھمکی کے آگے سینہ سپر ہو گئے۔ امریکا نے کہا اسامہ بن لادن کو ہمارے حوالے کرو ورنہ ہم افغانستان کو تباہ کر دیں گے۔ ملا عمر نے کہا تمہارے پاس اسامہ کے خلاف کوئی ثبوت ہے تو پیش کرو ورنہ ہماری روایت یہ ہے کہ ہم اپنے مہمان کو کسی دشمن کے حوالے نہیں کرتے۔
امریکا نے جب یہ سنا تو اس نے ملا عمر پر جنرل پرویز سے دبائو ڈلوایا۔ اس دبائو نے کام نہ کیا تو جنرل پرویز نے پاکستان کے ممتاز علما کا ایک وفد کو ملا عمر کے پاس بھیجا مگر ملا عمر نے اپنے اصولوں پر سمجھوتے سے انکار کردیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ امریکا نے اپنے 47 اتحادیوں کے ساتھ افغانستان پر یلغار کردی۔ عام خیال تھا کہ اب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے افغانستان میں وہی کچھ ہوگا جو امریکا چاہے گا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ امریکا اور طالبان کی طاقت میں زمین آسمان کا فرق تھا۔ طالبان کی سیاسی طاقت ایک ہزار تھی تو امریکا کی سیاسی طاقت ایک لاکھ کے برابر تھی۔ طالبان کی عسکری طاقت اگر لاکھ تھی تو امریکا کی عسکری طاقت ایک کروڑ کے برابر تھی۔ طالبان کی معاشی طاقت اگر 500 تھی تو امریکا کی معاشی طاقت ایک ہزار کھرب کے برابر تھی۔ لیکن اس کے باوجود امریکا کو افغانستان میں شکست ہو گئی۔ امریکا بیس سال میں بھی طالبان کو ختم کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ امریکا بیس سال بعد بالآخر افغانستان سے نکلا تو ان طالبان کے ساتھ مذاکرات کرکے جنہیں وہ دہشت گرد کہتا تھا جنہیں وہ غیرمہذب گردانتا تھا‘ جنہیں وہ مذاکرات کے لائق ہی نہیں سمجھتا تھا۔ یہ ایک چیونٹی کی ڈائناسور پر فتح تھی۔ افغانستان کے اس معرکے پر غزوۂ بدر کا سایہ تھا۔
عام خیال تھا کہ افغانستان جیسی مزاحمت کی دوسری مثال اب شاید ہی کبھی دنیا دیکھ سکے گی لیکن غزہ میں حماس نے اسرائیل کی جو مزاحمت کی اس نے ملا عمر اور طالبان کی مزاحمت کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔ ملا عمر اور طالبان کی مزاحمت بے مثال تھی مگر افغانستان 6 لاکھ 52 ہزار مربع کلو میٹر پر محیط وسیع ملک ہے۔ پھر افغانستان پہاڑی علاقہ ہے‘ ایسا پہاری علاقہ جس میں گوریلا جنگ لڑنا آسان ہے۔ یہ بھی ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ طالبان امریکی فوجیوں پر حملہ کرتے تھے اور پاکستان میں آکر چھپ جاتے تھے۔ وہ زخمی ہوتے تھے تو پاکستان میں آکر اپنا علاج کرا لیتے تھے۔ طالبان تھکن اتارنے کے لیے بھی پاکستان کو استعمال کرتے تھے مگر غزہ کا تو رقبہ ہی صرف اور صرف 365 مربع کلو میٹر ہے۔ اس رقبے میں کہیں پہاڑ نہیں‘ کہیں غار نہیں‘ غزہ کے پڑوس میں کوئی پاکستانی بھی نہیں ہے جہاں حماس کے مجاہدین پناہ لے سکیں اس کے باوجود حماس کے مجاہدوں نے دو سال تک اسرائیل کی شیطانی طاقت کا مقابلہ کیا۔ عام خیال یہ تھا کہ حماس کے مجاہدین زیادہ سے زیادہ ایک ماہ میں اسرائیل کے آگے ہتھیار ڈال دیں گے مگر حماس کے مجاہدین دو سال تک اسرائیل کے سامنے ڈٹ کر کھڑے رہے۔ نہ انہوں نے ہتھیار ڈالے نہ انہوں نے اسرائیل سے معافی طلب کی، لیکن غزہ میں مزاحمت صرف مجاہدوں نے ہی نہیں کی‘ غزہ کے عام لوگ بھی اس مزاحمت کا حصہ تھے۔ اسرائیل نے دو سال میں 80 ہزار افراد کو شہید اور ایک لاکھ سے زیادہ لوگوں کو زخمی کر دیا۔ اسرائیل نے غزہ کے عام لوگوں کو حماس کے خلاف بغاوت پر اکسایا۔ اس نے اس خیال کو عام کرنے کی کوشش کی کہ ان کی ابتلا کا سبب اسرائیل نہیں حماس ہے مگر غزہ کے کسی مرد‘ کسی عورت اور کسی بچے نے بھی اسرائیل کی بات پر اعتبار نہیں کیا۔ بالآخر اسرائیل کو حماس سے مذاکرات کرنے پڑے۔ بلاشبہ ملا عمر کے افغانستان کی استقامت بے مثال تھی۔ افغانستان کے لوگوں کا صبر بھی لاجواب تھا مگر غزہ کے مجاہدوں اور عام لوگوں نے جو کیا اس کی بنیاد پر کہا جاسکتا کہ پورے عالم اسلام میں جیسا ایمان غزہ کے لوگوں کا ہے کسی کا نہیں۔ جیسی استقامت غزہ میں موجود ہے کہیں موجود نہیں‘ جیسا ’’صبر ِ جمیل‘‘ غزہ میں پایا جاتا ہے کہیں نہیں پایا جاتا۔ مکے اور مدینے میں بھی نہیں۔
مسلم دنیا کی تیسری شان دار اور قابل فخر مزاحمت ایران نے امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ طاقت کے خلاف دکھائی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا ’’تصورِ ایران‘‘ یہ تھا کہ وہ اپنے دو طیارہ بردار جہاز ایران کی سرحد کے قریب لائیں گے تو ایران خوف زدہ ہو کر امریکا کے آگے جھک جائے گا۔ چنانچہ جب ایسا نہ ہو سکا تو ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا۔ امریکا اور اسرائیل کا خیال تھا کہ ایران پر بم باری شروع ہوگئی تو ایران چیں بول جائے گا، مگر اب ایران پر بم باری ہوتے ہوئے 20 دن ہو گئے ہیں اور ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف ڈٹ کر کھڑا ہوا ہے۔ امریکا اور اسرائیل کا خیال تھا کہ وہ علی خامنہ ای کو شہید کر دیں گے تو ایران میں افراتفری شروع ہو جائے گی اور ایران کے سیکولر اور لبرل لوگ خود اٹھ کر انقلابیوں کی حکومت گرا دیںگے مگر ایسا نہیں ہو سکا۔ ایران پر گزشتہ بیس دن کے دوران 20 افراد بھی حکومت کے خلاف احتجاج کرتے نظر نہیں آئے۔ علی خامنہ ای شہید ہوئے تو ان کی جگہ ان کے فرزند مجتبیٰ خامنہ ای آگئے۔ خدانخواستہ وہ بھی نہیں رہیں گے تو کوئی اور ان کی جگہ آجائے گا اور ایران میں قیادت کا خلا پیدا نہیں ہوگا۔ امریکا کا خیال تھا کہ وہ کردوں کو ایران میں داخل کرکے کردستان کا تجربہ خلق کرلے گا مگر ابھی تک یہ بھی نہیں ہو سکا۔ امریکا ’’اسپیشل فورسز‘‘ کو ایران میں داخل کرنے کی دھمکی دے رہا تھا مگر اب تک وہ یہ بھی نہیں کر سکا ہے۔ ایران پندرہ دن سے ’’آبنائے ہرمز‘‘ بند کیے بیٹھا ہے مگر امریکا ابھی تک آبنائے ہرمز بھی نہیں کھلوا سکا ہے۔ اس نے اس سلسلے میں چین‘ برطانیہ اور فرانس سے مدد مانگی مگر کسی بھی ملک نے امریکا کی مدد کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ چین نے تو اس سلسلے میں امریکا کو جواب تک نہیں دیا۔ اب صورتِ حال یہ ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے دوست ’’وٹکوف صاحب‘‘ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کو فون پر فون کر رہے تھے مگر عباس عراقچی ان کا فون ’’اٹینڈ‘‘ ہی نہیں کر رہے تھے۔ اس سلسلے کی تازہ ترین اطلاع یہ ہے کہ عباس عراقچی اور وٹکوف میں رابطہ ہو گیا ہے۔ ایران کی اس شان دار مزاحمت نے پوری امت کا سر فخر سے بلند کر دیا ہے۔
امت مسلمہ کی یہ تین شان دار مزاحمتیں امت مسلمہ کے روحانی‘ اخلاقی‘ تہذیبی اور مزاحمتی ’’امکانات‘‘ کا اظہار ہیں۔ یہ مزاحمتیں بتاتی ہیں کہ اگر امت مسلمہ کو بہترین قیادت فراہم ہو جائے تو امت مسلمہ دنیا کی سب سے بڑی طاقت بن کر ابھر سکتی ہے۔ پھر اسے نہ امریکا شکست دے سکتا ہے نہ یورپ اس کا کچھ بگاڑ سکتا ہے مگر بدقسمتی سے امت مسلم پر ’’بونے بادشاہ‘‘ حکومت کر رہے ہیں‘ بونے جرنیل امت پر سواری گانٹھے ہوئے ہیں بونے سیاست دان امت کو امریکا کا غلام بنائے ہوئے ہیں۔ چنانچہ پوری امت ’’بالشتیوں‘‘ کی امت بن کر رہ گئی ہے۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...