Skip to content
صہیونی عسکری طاقت: حقیقت یا سراب؟
(اسرائیل کی بزدلی اور امریکی فوج کا کندھا)
ازقلم: ڈاکٹر محمد عظیم الدین
موجودہ عالمی منظر نامے اور مشرقِ وسطیٰ کی تیزی سے بدلتی ہوئی جغرافیائی و سیاسی صورتحال نے ایک بار پھر صہیونی ریاست کے اس کھوکھلے دعوے کا پردہ چاک کر دیا ہے، جسے وہ ایک ‘ناقابلِ تسخیر عسکری قوت’ کے طور پر دنیا کے سامنے پیش کرتی آئی ہے۔ فروری 2026 کے اواخر میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان شروع ہونے والی حالیہ جنگ نے اس حقیقت کو روزِ روشن کی طرح عیاں کر دیا ہے کہ اسرائیل کی فوجی طاقت محض ایک سراب ہے، جو صرف فضائی برتری اور ٹیکنالوجی کے بل بوتے پر قائم ہے۔
جب بات کھلے میدان میں دو بدو جنگ کی آتی ہے، تو اسرائیلی فوج کی بزدلی اور زمینی حقائق کا سامنا کرنے سے گریز کا وہ پہلو سامنے آتا ہے جو دہائیوں سے اس کی عسکری حکمت عملی کا حصہ رہا ہے۔ زیرِ بحث موضوع کہ "ایران سے جنگ پر اسرائیل کیوں گھبرایا؟” دراصل اسی تاریخی، نفسیاتی اور عسکری بزدلی کی عکاسی کرتا ہے، جس کے تحت اسرائیل کبھی بھی اپنی فوج کو زمینی معرکے کے لیے میدان میں اتارنے کا خطرہ مول نہیں لیتا، بلکہ اس کی قیمت امریکی فوجیوں کے خون سے چکانے کی سازش کرتا ہے۔
عسکری تجزیہ کاروں کے مطابق، 28 فروری 2026 کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے اچانک فضائی حملوں کا مقصد ایرانی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنانا اور فضائی بالادستی قائم کرنا تھا۔ ان حملوں میں اسرائیل نے ہمیشہ کی طرح اپنی روایتی بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے صرف فضا سے وار کرنے کی پالیسی اپنائی۔ صہیونی ریاست کی یہ دیرینہ حکمت عملی رہی ہے کہ وہ جدید ترین لڑاکا طیاروں کے ذریعے ہزاروں فٹ کی بلندی سے بمباری کر کے اہداف کو نشانہ بناتی ہے، لیکن جب کسی منظم اور مضبوط عسکری قوت کے خلاف زمینی جنگ کا مرحلہ آتا ہے، تو اس کے اعصاب جواب دے جاتے ہیں۔
اسرائیل کا یہ خوف بے جا نہیں؛ اسے بخوبی علم ہے کہ زمینی جنگ میں اس کی فوج کا جانی نقصان اس قدر ہوگا جسے اس کا نازک اور منقسم معاشرہ برداشت کرنے کی قطعی سکت نہیں رکھتا۔ شہری علاقوں یا پیچیدہ جغرافیائی حدود میں لڑی جانے والی جنگیں ہمیشہ حملہ آور کے لیے ایک بھیانک خواب ثابت ہوتی ہیں، اور اسی خوف کے پیشِ نظر اسرائیل نے ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی زمینی دراندازی سے صاف انکار کر دیا ہے۔
اس جنگ کا ایک اور انتہائی تشویشناک اور قابلِ غور پہلو یہ ہے کہ کس طرح اسرائیل نے اپنی بقا اور تحفظ کے لیے امریکی فوجیوں کو ایک بدترین دلدل میں دھکیل دیا ہے۔ موجودہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جنہوں نے ایک طرف اس جنگ کو جلد ختم کرنے یا بتدریج کم کرنے کا اشارہ دیا ہے، وہیں دوسری جانب ان کی انتظامیہ نے مزید 2500 میرینز مشرقِ وسطیٰ میں تعینات کر دیے ہیں اور کانگریس سے جنگی اخراجات کی مد میں 200 ارب ڈالر کی خطیر رقم کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ صورتحال امریکی فوجیوں کے لیے ایک خوفناک جال بن چکی ہے۔ اسرائیل کی یہ منافقت ہے کہ وہ خود تو زمینی حملے سے خائف ہے اور اپنی فوج کو محفوظ قلعوں اور فضائی دفاعی نظاموں کے پیچھے چھپا کر رکھتا ہے، لیکن وہ خطے کے تزویراتی اہداف، جیسے کہ ایران کے خارگ جزیرے کا محاصرہ کرنے کے لیے امریکی فوجیوں کو ہراول دستے کے طور پر لانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔ ٹرمپ کی اس متزلزل اور تضادات سے بھرپور پالیسی نے امریکی فوجیوں کو ایک ایسی جنگ میں بُری طرح پھنسا دیا ہے جس کا اصل فائدہ صرف اور صرف صہیونی ریاست کو ہے، جبکہ اس کی بھاری قیمت امریکی عوام اور فوج کو چکانی پڑ رہی ہے۔
اسرائیل کی اس نفسیاتی اور عسکری کیفیت کو سمجھنے کے لیے ہمیں قرآنی تعلیمات کی جانب رجوع کرنا پڑتا ہے، جہاں خالقِ کائنات نے یہودیوں اور صہیونی ذہنیت کی بزدلی اور منافقت کا صدیوں پہلے ایسا جامع اور ابدی تجزیہ بیان فرما دیا تھا جو آج کے اس جدید دور میں بھی حرف بہ حرف سچ ثابت ہو رہا ہے۔ قرآنِ مجید کی سورۃ الحشر (آیت نمبر 14) میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
> "یہ سب مل کر بھی تم سے کھلے میدان میں جنگ نہیں کر سکتے، مگر یہ کہ قلعہ بند بستیوں میں ہوں یا دیواروں کے پیچھے۔ ان کی باہمی لڑائی بڑی سخت ہے۔ تم انہیں اکٹھا سمجھتے ہو، لیکن ان کے دل بکھرے ہوئے ہیں۔ یہ اس لیے کہ وہ بے عقل لوگ ہیں۔”
آج اگر ہم اس آیتِ مبارکہ کی تفسیر جدید جنگی تناظر میں دیکھیں، تو محفوظ بستیوں اور دیواروں کے پیچھے کا سیدھا اشارہ اسرائیل کی ان جدید قلعہ بندیوں، کنکریٹ کی اونچی دیواروں، آئرن ڈوم جیسے فضائی دفاعی نظاموں، اور لڑاکا طیاروں کے ان محفوظ کمروں کی جانب ہے جہاں بیٹھ کر وہ جنگ لڑتے ہیں۔ وہ کبھی بھی میدانِ جنگ میں آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر لڑنے کا حوصلہ نہیں رکھتے کیونکہ ان کے دل موت کے خوف سے کانپتے ہیں۔
اسی طرح سورۃ المائدہ (آیت نمبر 24) میں ان کی تاریخی بزدلی کا ایک اور چشم کشا واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انہیں ارضِ مقدس میں داخل ہو کر جنگ کرنے کا حکم دیا تو انہوں نے انتہائی ڈھٹائی سے جواب دیا:
> "انہوں نے کہا، اے موسیٰ! جب تک وہ طاقتور لوگ وہاں موجود ہیں ہم ہرگز وہاں داخل نہیں ہوں گے، پس تم اور تمہارا رب جاؤ اور جنگ کرو، ہم تو یہیں بیٹھے ہیں۔”
یہودیوں کی یہی وہ تاریخی اور نفسیاتی ساخت ہے جو آج اسرائیل کے روپ میں دنیا کے سامنے کھڑی ہے۔ آج اسرائیل بالکل یہی رویہ اپنے سب سے بڑے سرپرست امریکہ کے ساتھ اپنائے ہوئے ہے۔ وہ امریکہ اور صدر ٹرمپ کو عملی طور پر یہی پیغام دے رہا ہے کہ "تم اپنی فوج لے کر جاؤ اور ایران سے زمینی جنگ کرو، ہم تو تل ابیب کے محفوظ بنکروں میں بیٹھے ہیں اور صرف فضائی حملے کریں گے۔” ان آیات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ صہیونیت کی بنیاد میں ہی موت کا خوف اور بزدلی رچی بسی ہے، اور ان کی طاقت محض ایک ظاہری دھوکہ ہے۔
ایران نے اسرائیل کی اس کمزوری کو بخوبی بھانپ لیا ہے اور اسی لیے اس کی موجودہ عسکری حکمت عملی غیر متناسب برداشت پر مبنی ہے۔ عسکری ماہرین کے مطابق، ایران کا مقصد اسرائیل اور امریکہ کے ابتدائی شدید فضائی حملوں کو برداشت کرنا، اپنی اہم تنصیبات کو زیرِ زمین محفوظ رکھنا اور پھر اپنے میزائلوں، ڈرونز اور خطے میں موجود حلیف دستوں کے ذریعے جوابی کارروائی کرنا ہے۔ ایران یہ جانتا ہے کہ اسرائیل کبھی بھی زمینی فوج ایران میں داخل کرنے کی جرات نہیں کرے گا کیونکہ زمینی جنگ اسرائیل کے لیے ایک طویل، تھکا دینے والی اور ناقابلِ تلافی جانی نقصان والی دلدل ثابت ہوگی۔ لہٰذا، ایران نے اپنی جنگی حکمت عملی کو طویل مدتی تنازعے اور میدانِ جنگ کو وسعت دینے پر مرکوز کیا ہے تاکہ صہیونی ریاست کے اعصاب کو توڑا جا سکے۔
فوجی سائنس کا یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ کوئی بھی جنگ صرف فضائی بمباری سے نہیں جیتی جا سکتی۔ جب تک پیدل فوج زمین پر قبضہ نہیں کرتی اور دشمن کے علاقوں کو اپنے کنٹرول میں نہیں لیتی، تب تک مکمل فتح کا دعویٰ محض ایک وہم ہوتا ہے۔ غزہ سے لے کر خطے کے دیگر تنازعات تک اور اب ایران کے ساتھ موجودہ جنگ میں بھی اسرائیل کی یہی خامی اس کی سب سے بڑی ناکامی بنی ہوئی ہے۔ اسرائیل کا یہ طرزِ عمل نہ صرف اس کی بزدلی کی عکاسی کرتا ہے بلکہ اس کی منافقت کا بھی منہ بولتا ثبوت ہے۔ وہ دنیا کے سامنے خود کو مشرقِ وسطیٰ کی سب سے بڑی طاقت کے طور پر پیش کرتا ہے، لیکن حقیقت میں وہ امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسوں اور امریکی فوجیوں کی جانوں پر انحصار کرتا ہے۔ ٹرمپ کی جانب سے فوجیوں کی تعداد میں اضافہ اور کانگریس سے مزید فنڈز کی درخواست واضح کرتی ہے کہ امریکہ کس طرح اسرائیل کی جنگیں لڑنے پر مجبور ہے۔
اس تناظر میں جب ہم خلیج فارس کی جغرافیائی سیاسی صورتحال کا گہرا جائزہ لیتے ہیں تو یہ بات مزید نکھر کر سامنے آتی ہے کہ امریکی میرینز کو ایسی جگہ تعینات کیا گیا ہے جہاں وہ براہِ راست نشانہ بن سکتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ فیصلہ، جسے صہیونی لابی کی مبینہ تائید حاصل ہے، دراصل ایک سوچی سمجھی سازش کا حصہ محسوس ہوتا ہے تاکہ اگر تنازعے میں شدت آئے تو امریکہ کو باقاعدہ طور پر ایک وسیع تر زمینی جنگ میں اتارا جا سکے۔ اسرائیل کی حکمت عملی یہ ہے کہ وہ فضا سے بمباری کر کے اشتعال انگیزی کو اس حد تک بڑھا دے کہ امریکی فوج، جو پہلے ہی مشرق وسطیٰ میں پھنس چکی ہے، اسرائیل کی بقا کی جنگ لڑنے پر مجبور ہو جائے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ اسرائیل کی عسکری طاقت کا سارا غرور اس کی فضائیہ اور جدید ٹیکنالوجی تک محدود ہے۔ زمینی جنگ سے اس کا صریح انکار اس بات کی ناقابلِ تردید دلیل ہے کہ صہیونیت میں حق و باطل کے معرکے میں سینہ سپر ہونے کا کوئی مادہ موجود نہیں ہے۔ وہ بزدل ہیں، موت سے ڈرنے والے ہیں اور دوسروں کو آگے کر کے خود پیچھے ہٹنے والے ہیں۔ قرآنِ مجید کے ابدی سچائی پر مبنی فیصلے اور دورِ حاضر کے زمینی حقائق ایک ہی بات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ بزدل اسرائیل کی حقیقت دنیا پر آشکار ہو چکی ہے، اور اس کا یہ فضائی رعب و دبدبہ محض ایک عارضی طلسم ہے؛ کیونکہ جو قومیں زمین پر اتر کر لڑنے کا حوصلہ نہیں رکھتیں، وہ کبھی بھی تاریخ کے صفحات پر دیرپا فتوحات درج نہیں کر سکتیں۔
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...