Skip to content
مودی اور جنگ: کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ایران اور اسرائیل کی جنگ نے وزیر اعظم نریندر مودی کے لیے ایک بہت بڑا دھرم سنکٹ کھڑا کردیا ۔ وہ پریشان ہوں گے کہ اگر صدر ڈونلڈ ٹرمپ میدانِ جنگ میں کود پڑنے کا فرمان جاری فرما دیں تو وہ کیا کیا جائے ؟ عقل خبردار کرتی ہے کہ ایسی غلطی مت کرنا ورنہ لینے کے دینے پڑ جائیں گےمگر ’دل ہے کہ مانتا نہیں، یہ بیقراری کیوں ہورہی ہے ؟ کوئی پہچانتا نہیں ‘۔ ایک طرف فادر لینڈ (پدرِ وطن) میں بھائی پریشان اور مدر لینڈ (مادرِ وطن ) میں عوام بد حال ہے ۔ وہاں پر آئے دن ایرانی بمباری نے مار مار کر بھُرکس نکال دیا ہے اور یہاں لوگ نوٹ بندی + کورونا جیسی صورتحال دیکھ کرخالی سیلنڈر بجانے کی ہدایت کے منتظر ہیں۔ ایک طرف اسرائیل اور امریکہ کے لوگ میدان میں اتر کر اپنے حکمرانوں سے نجات حاصل کرنے کی دہائی دے رہے ہیں۔ دوسری جانب ہندوستان کے غریب اور کسان ایندھن و کھاد کے لیے سڑکوں کی خاک چھان رہے ہیں۔ ایسے میں بیچارے مودی جی جائیں تو کدھر جائیں ؟ ایران کی ناراضی ہرمز سے آنے والا تیل کو بندکردے گی اور اسرائیل کا درد ہے کہ دیکھا نہیں جاتا ۔ اسی ’رہا بھی نہ جائے اور سہا بھی نہ جائے‘ کی کیفیت کو غالب یوں بیان کرتاہے؎
ایماں مجھے روکے ہے جو کھینچے ہے مجھے کفر
کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے
ایران کی جنگ میں شریک ہونے کے لیے مودی جی کسی امریکی دباو کے محتاج نہیں ہیں بلکہ یہ ان کے’ من کی بات‘ ہے۔ انتہا پسند ہنود اور یہود یعنی ہندوتوا نواز وں اور صہیونیوں کا مزاج توسیع پسندانہ ہے۔ ایک’ گریٹر اسرائیل(عظیم اسرائیل )‘ کا خواب دیکھتا ہے تو دوسرا ’اکھنڈ بھارت (غیر منقسم ہندوستان ) ‘ کے سپنے سجاتا ہے۔ اقوام متحدہ میں نیتن یاہو ببانگِ دہل گریٹر اسرائیل کا نقشہ دکھا کر اپنے لوگوں کو بیوقوف بناتاہے اور آپریشن سیندور کے بعد گودی میڈیا پردۂ سیمیں پر پاکستان کو فتح کرکے ایک رات کی خوشی سے نہال کردیتا ہے ۔ اسرائیل نے اپنے خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کی خاطر نہ صرف پورے فلسطین پر غاصبانہ قبضہ کرلیا بلکہ گولان کی پہاڑیوں ، لبنان ، اردن اور شام کو بھی وقتاً فوقتاً نشانہ بناتا رہا۔ وطن عزیز میں بنگلہ دیش بنانے کے بعد یہ کیفیت تھی کہ اب نصف پاکستان تو کم ازکم ہمارے زیرِ اثر آ ہی چکا ہے۔ ویسے پاکستان کے حوالے سے ہمارے جیمس بانڈ کے کارناموں کو بڑھا چڑھا بیان کرنے کے لیے ایک چھوڑ دودو دُھرندر نامی فلمیں باکس آفس پر تہلکہ مچا کر کروڈوں کے وارے نیارے کرچکی ہیں ۔
گریٹر اسرائیل کی بابت کہاجاتا ہے کہ اس میں مدینہ منورہ سمیت دریائے نیل سے فرات تک کا پورا علاقہ یعنی عراق بھی شامل ہے اور اکھنڈ بھارت میانمار سے شروع کر افغانستان تک جاتا ہے۔ مہابھارت کی گندھاری اسی قندھار سے آئی تھی جہاں مولانا مسعود اظہر کو چھوڑنے کے لیے بی جے پی کے وزیر خارجہ جسونت سنگھ گئے تھے ۔ افغانی طالبان سے قربت اسی انسیت کا نتیجہ ہوسکتی ہے۔ اس سے ظاہر ہے اسرائیل وہندوستانی حکومتوں کے نظریاتی ڈی این اے میں توسیع پسندی رچی بسی ہے اور اگر یہ دونوں اپنے مقصد میں کامیاب ہوجائیں تو ان کو ہم سایہ بنانے میں صرف ایران ہی رکاوٹ بنے گا۔ ویسے اگر مشرق کی جانب سے ہندوستان اور مغرب سے اسرائیل اپنے پیر پھیلائے تو ایران کو آپس میں آدھا آدھا بانٹ کر یہ دونوں دوست پڑوسی ملک بن جائیں گے ۔ سرحدوں کو دیوار منہدم ہوجائے گی اور ایک ایسا عظیم اتحاد معرضِ وجود میں آجائے گاجو امریکہ کے تعاون سے بے نیاز ہوگا۔ چین اس کے سامنے تھر تھر کانپ رہا ہوگا ۔ بھارت ’وشوگرو‘ اور اسرائیل سُپر پاور بن جائیں گے ۔ بھائی خواب دیکھنا ہے تو بڑے سپنے دیکھو ، اس پر کوئی حدبندی یا ٹیکس وغیرہ نہیں ہے ۔ خوابوں کی افیون سے بڑا کوئی اور نشہ نہیں ہے اس لیے یہ شیخ چلی حکمران پوری قوم کو مونگیری لال کے حسین سپنے بیچ رہے ہیں اور اس کی طلب میں ڈالر کی قیمت سے بھی زیادہ تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔
گودی میڈیا ان خوابوں کوبڑی خوبصورتی سے عوام کے سامنے پروستا ہے مثلاً کبھی کہا جاتا ہے مودی جی کی وجہ سے ہمارا ملک محفوظ و مامون ہے ورنہ چہار جانب جاری جنگ کے شعلے ہم پر بھی برس رہے ہوتے حالانکہ پورا جنوبی ایشیابشمول پاکستان ایران کی سرحد پر ہونے کے باوجود جنگ سے باہر ہے ۔ یہاں تک کہہ دیا جاتا ہے کہ مودی جی کے آگے ایران نے گھٹنے ٹیک دئیے اور انہوں نے اپنے جہازوں کے لیے آبنائے ہر مز کھلوا لی جبکہ حقیقت یہ ہےجن ایرانی رہنماوں کو جھکانے میں مودی کا آقا ٹرمپ ناکام ہوگیا ان کے سامنے موصوف کی کیا بساط ؟گودی میڈیا میں یہ دعویٰ بھی کیا جاتا ہے کہ کارگل کی جنگ میں اسرائیل نے ہندوستان کا ساتھ دیا تھا۔ اس منطق کو سن کر ہنسی آتی ہے کہ اس وقت ایک سو بیس کروڈ کی آبادی والے ہندوستان کو اٹھارہ کروڈ کے پاکستان کو شکست دینے کے لیے اسرائیل کے سترّ لاکھ یہودیوں کی ضرورت پڑی ۔ اسرائیل کی تین لاکھ فوج حماس کے بیس ہزار مجاہدین کا صفایہ نہیں کرسکی تو ہندوستان جیسے عظیم ملک کے کس کام آئیں گے؟ لیکن گودی میڈیا اس سوال پر غور کرنے کی زحمت نہیں کرتا کیونکہ مودی بھگتوں کے عقل پر قفل لگا ہوا ہے۔ اس لیے گودی میڈیا دن رات بی جے پی آئی ٹی سیل کا بیانیہ آنکھ موند کر دوہراتا رہتا ہے۔
قومی و اجتماعی عزائم کے علاوہ کچھ انفرادی تقاضے بھی انسان کو مجبور کردیتے ہیں ۔ فی الحال امریکہ ، اسرائیل اور ہندوستان کے اقتدار پر فائز حکمرانوں کی باہمی تعلقات پر ایک نگاہ اس راز کو فاش کردیتی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کا ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم میں شامل ہوکر ’اب کی بار ٹرمپ سرکار‘ کا نعرہ لگانا عالمی تاریخ کا ایک منفرد واقعہ بلکہ سانحہ ہے۔ اس کے بعد ہندوستان میں اپنے شہر احمد آباد بلا کرکورونا کی آہٹ سے بے نیاز ’ نمستے ٹرمپ ‘ کی تقریبات کا اہتمام مودی جی کے علاوہ کون کرسکتا ہے؟ اسی لیے کہا جاتا ہے مودی ہے تو ممکن ہے۔ نیتن یاہو کے ساتھ بھی مودی جی کے اجزائے ترکیبی خوب میل کھاتے ہیں۔ عالمی یوم رفاقت پر نیتن یاہو اپنے ہم منصب کو پیغام دیتے ہوئے فلم شعلے کا یہ نغمہ نتھی کردیتے ہیں ’یہ دوستی ہم نہیں چھوڑیں گے ۔ توڑیں گے دم مگر تیرا ساتھ نہ چھوڑیں گے ‘ ایسا تو اٹلی کی میلونی بھی نہیں کرتی لیکن جب یاہو کا دم ٹوٹ رہا ہے مودی ساتھ کیسے چھوڑ سکتے ہیں؟
نیتن یاہو کی دوستی کے جواب میں مودی جی اسرائیل جاکر فرماتے ہیں کہ ہم لوگ صرف اسٹرٹیجک پارٹنرس نہیں بلکہ بھائی ہیں۔ ان کو ۷؍ اکتوبر کی بغاوت میں دہشت گردی نظر آجاتی ہے لیکن غزہ کی نسل کشی دکھائی نہیں دیتی ۔ وہ اپنے خطاب میں دنیا بھر کی باتیں تو کرتے ہیں مگر ایک بار بھی لفظ’امن‘ زبان پر نہیں لاتے کیونکہ دونوں کی طبیعت جنگجویانہ ہے۔ ایسے میں ٹرمپ اور نیتن یاہو کو منجدھار میں تنہا چھوڑ دینا مودی جی پر نہایت ناگوار گزر رہا ہے۔ مذکورہ بالا جبلی کشش کے باوجود وزیر اعظم کو ’بے خطر آتشِ نمرود‘ میں کودنے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ مسلمانوں سے نفرت کے زیر اثر وہ اسرائیل کو جو بھی سمجھیں فریق ِ ثانی ان کو اپنا بھائی نہیں سمجھتا کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو وہ جنگ شروع کرنے سے ایک دن قبل اپنا ارادہ مودی جی کے گوش گزار کردیتا اور اس کے منفی اثرات کا اندازہ کرکے وزیر اعظم راستے میں تہران اتر کے ایران سے کہہ دیتے کہ اگر مستقبل میں کوئی جنگ شروع ہوجائے تو وہ جارح کے بجائے مجروح کا ساتھ کھڑے ہوں گے۔ ایران کے لیے یہ یقین دہانی کافی ہوجاتی اور آبنائے ہر مز جس طرح چین کے لیے بند نہیں ہوئی اسی طرح ہندوستان کی خاطر بھی کھلی ہی رہتی لیکن اسرائیل نے ان پر اعتماد نہیں کیا اور ہمیں مشکل میں ڈال دیا ۔
فی الحال ہندوستان کی در آمدات کے ساتھ برآمدات کا راستہ بھی بند ہے۔ ہمارا ہزاروں ٹن مال بندرگاہوں پر سڑ رہا ہے۔ تیل کے بھاو نے مہنگائی کی مار کو شدید تر کردیا ہے۔ حصص بازار دن بہ دن ڈوب رہا ہے اور ڈالر اوپر ہی اوپر رواں دواں ہے ۔ ویتنام سے افغانستان تک ہر جنگ امریکہ ہار تا رہا ہے۔ اس لیے اس کے ساتھ جانا خسارے کا سودہ ہے۔ ٹرمپ اور نیتن یاہو کا اقتدار تو دورامریکہ کی بالا دستی کو بھی خطرہ لاحق ہے۔ اسرائیل کے تو وجود پر ہی سوالیہ نشان لگ گیا ہے ایسے میں ان سے دور رہنے میں بھلائی ہے۔ 2007میں جب امریکہ نے ہندوستان کو ایران سے تیل لینے سے منع کیا تھا تو منموہن سنگھ کی چھاتی 56انچ کی نہیں تھی مگر اس میں شیر کا دل تھا ۔ اس لیے انہوں نے پابندی کو ٹھکرا دیا تھا۔ مودی بھی لال آنکھیں دِکھا کر منع کرسکتے ہیں۔ انہیں سری لنکا جیسے چھوٹے ہم سایہ ملک سے عبرت لینی چاہیے جس نے ابھی حال میں امریکہ کو اپنے ملک میں جنگی جہاز اتارنے کی اجازت نہیں دی ۔ کیا راون کی لنکا نے جو کردکھایا وہ رام راجیہ میں ممکن نہیں ہے؟
اس تلخ سوال کا جواب مودی جی کو دینا ہی ہوگا۔
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...