Skip to content
ضلع جگتیال میں فرقہ وارانہ کشیدگی ۔ جمعیۃ علماء کی نمائندگی پریولیس نے کاروائی کرتے ہوئے 4؍افراد کے خلاف مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا۔ریاستی جمعیۃ علماء نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ فرقہ پرست عناصر جوپرامن ماحول کو خراب کررہے ہیں ان کے خلاف سخت سے سخت کارووائی کریں۔
حیدرآباد (یکم ؍ اپریل 2026ء) تلنگانہ کے ضلع جگتیال کے ابراہیم پٹنم منڈل کے موضع ورشاکنڈہ میں آج صبح تقریباً 9 بجے اس وقت فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہوگیی جب بیل کے گوشت کی فروخت کے دوران محمد اقبال قریشی (60 سال)، ساکن مورتھاد ضلع نظام آباد اور ان کے بیٹے محمد انس قریشی (16 سال) پر حملہ کیا گیا، جو ہنومان مالا پہنے ہوئے تھے، باپ بیٹے کو روک کر لوہے کے کھمبے سے باندھا، مار پیٹ کی جس کی وجہ سے نس قریشی کا ہاتھ فریکچر ہو گیا۔اس واقعہ کی اطلاع مقامی جمعیۃ علماء کے ذمہ داران نے صدر محترم حضرت مولانا سید احسان صاحب صدر جمعیۃ علماء تلنگانہ کو دی آپ کی ہدایت پر محترم حافظ پیر خلیق احمد صابر صاحب خادم جمعیۃ علماء تلنگانہ نے ضلع جگتیال کے ایس پی اشوک کمار اور ڈی ایس پی مٹ پلی سے فون پر بات چیت کرکے فرقہ پرستوں کے خلاف سخت کاروائی کرنے کا مطالبہ کیا پولیس نے جمعیۃ علماء کی نمائندگی پریولیس نے کاروائی کرتے ہوئے 4؍افراد کے خلاف مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا ملزمین بیندلہ سری کانت عرف چنتو، گنگانولا منیش، دودھی ہرشا، پاتھاکالا ترون اور دیگر شامل ہے ۔ پولیس کے اعلی عہدیدان نے نے خاطیوں کے خلاف سخت کاروائی کی یقین دہانی کرائی ہے ۔ مقامی جمعیۃ علماء کے ذمہ داران نے دواحانہ پہونچ کر محمد قبال قریشی اور محمد انس قریشی کی عیادت کی اور ان کو جمعیۃ علماء کی جانب سے قانونی چارہ جوئی کا تیقن دیا۔
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...