Skip to content
یہ جو زندگی کی کتاب ہے …
ازقلم:=سیما شکور، حیدر آباد
یہ جو زندگی کی کتاب ہے، اس کتاب میں آہیں ہیں،سسکیاں ہیں ، بے بسی، بے وقعتی کا درد ہے،دوستوں کی بے وفائیاں اور دھوکے ہیں ، خود غرضیاں ، مطلب پرستی کے زخم دینے والے خار ہیں، دکھوں کا بہتا ہوا دریا ہے اور یہ تنہا سفر وہ بھی کس قدر کٹھن ہے سفر… ہاں! اکیلے ہی چلتے جانا ہے، جو گزر رہی ہے دل ویراں پر، اُسے کہنا بھی دشوار ہے اور ویسے بھی کہیں تو کس کو کہیں کہ کوئی سمجھنے والا جو نہیں، سمجھ بھی جائے اگر کوئی تو دکھ بانٹنے والا نہیں تو پھر … بہتر ہے خاموشی ایک گہری خاموشی۔ یہ جو گھائو ہیں، دل پر لگے وہ تو سلتے رہیں گے اور کبھی اُدھڑتے رہیں گے ، تا عمر سلسلہ یونہی یہ چلتا ہی رہے گا… یہ تو ہیں دل کی باتیں انہیں دل کے نہاں خانوں میں ہی رکھ لینا ہے یہ جو جل رہی ہے آگ دھیرے دھیرے جو جلتے جلتے بھڑک بھی جاتی ہے اس آگ کو دیکھے گا کون۔ کوئی بھی نہیں ہے ایسا جو دیکھ پائے فنا ہوتی ہوئی ہستی کو فنا ہونے دو… کچھ نہ کہو بس خاموش رہو کہ کچھ بھرم رہ جانے دو۔
زندگی کے پتھریلے راستے پر اس طرح چلو کہ زخمی بھی ہوجائیںقدم تو کسی کو پتہ نہ چلے آبلے بھی پڑ جائیں تو آہ نہ نکلے اسی طرح کاٹ لو یہ زندگی کا سفر کہ لامتناہی سلسلہ ہے پتھریلے راستوں کا جہاں کوئی گلاب نہیں ، کوئی خوشبو نہیں، خار ہی خار ہیں یہاں اور تم تنہا… ہاں! تمہارے لئے یہ دنیا نہیں ہے۔ اس اجنبی سی دنیا میں اجنبی ہیں مجھ جیسے کچھ لوگ۔ اس عارضی ٹھکانے میں بس وقت ہی تو گزارنا ہے اور پھر خاموشی سے چلے جانا ہے ساری باتیں، سارے دکھ اپنے ساتھ ہی لے کر جانا ہے۔
موم سا دل ہی سہی لیکن… چٹان بن کر جیئے جانا ہے اس طرح جینا ہے کہ زندگی خود حیران رہ جائے کہ یوں بھی جیتاہے کوئی مر مر کر ۔ خیال رکھنا کہ کوئی بھی گرم آنسو کا قطرہ تمہارے عارض کو بھگونے نہ پائے۔ ہاں! ایسا ہوتا ہے کہ بارش کے چند قطرے طوفان آنے کا سبب بن جایا کرتے ہیں۔ سمندروں سے کہہ دو کہ روح میں اتر جائیں۔ کیونکہ تمہیں صرف مسکرانا ہے، شکست دے دینا ہے ، دکھوں کو کہ دکھ کے شعلے ذرا سی دیر میں سب کچھ بھسم کردیا کرتے ہیں۔ تم کوئی ندی نہیں کہ معمولی سا ہوا کا جھونکا تمہارے اندر ہلچل پیدا کردے تم تو آہن ہو تمہیں کوئی شکست سے دو چار نہیں کرسکتا۔ تم ہمت کی زندہ مثال بنو، تم وہ چراغ بنو جسے آندھیاں بھی نہیں بجھا سکتیں تم حوصلہ رکھو کہ حوصلے جینا سکھاتے ہیں۔ حوصلوں کو جواں رکھو اور مشکل حالات کو شکست دو۔ اپنے آپ کو اس طرح پُر سکون رکھو کہ کوئی بھی تمہارے دل کی ویرانیوں کو نہ جان پائے دریا کی طرح پرسکون اور خاموش رہو۔ آنکھوں میں سمندر رکھو لیکن…خیال رکھنا کہ سمندر کا ایک قطرہ بھی تمہارے عارض کو بھگونے نہ پائے کیونکہ بھیگتے عارض بہت کچھ کہہ دیا کرتے ہیں۔
اگر کوئی تمہارے دل کو ٹھیس پہنچائے اور تمہیں ذہنی اذیت سے دو چار ہونا پڑے تو غم نہ کرو اسے زندگی کا ایک سبق سمجھ کر بھول جائو مت کریدو زخموں کو… کہ زخم ناسور بن جایا کرتے ہیں۔ ہم اکیلے ہی اس جہاں میں آئے ہیں اور ہمیں اکیلے ہی یہاںسے چلے جانا ہے دکھ بھی ہمارے اپنے ہیں ہمیں ہی سہنا ہے اس لیے کبھی دکھوں کی نمائش نہ کرو کہ پھر تم کبھی نہ سنبھل پائو گے، ویرانیاں کچھ اور بڑھ جائیں گی تم دکھ کے سمندر میں ڈوب جائو گے پھر کبھی نہ اُبھر پائوگے اس لیے اپنی شخصیت کو ٹوٹنے پھوٹنے مت دو۔ عارضی سہاروں کی تلاش مت کرو، سہارے … سہارے ہی ہوا کر تے ہیں تم خود اپناا سہارا بنو۔ سہارے تلاش کرنے والے لوگ کبھی حقیقی اور پائیدارخوشی نہیں پاسکتے… کبھی حقیقی اور پائیدار خوشی نہیں پاسکتے۔
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...