Skip to content
مکافاتِ عمل کا عالمی ظہور
جب ظلم اپنے انجام سے ٹکراتا ہے.
✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
─═✧═✧═✧═✧═─
انسانی تاریخ کے طویل سفر میں بعض اصول ایسے ہیں جو زمان و مکان کی حدود سے ماورا ہو کر ہمیشہ یکساں صداقت کے ساتھ جلوہ گر رہتے ہیں۔ ان ہی ابدی اصولوں میں سے ایک اصول "مکافاتِ عمل” ہے، جو نہ صرف ایک اخلاقی و فلسفیانہ حقیقت ہے بلکہ دینی تعلیمات کی روشنی میں ایک ناقابلِ تغیر الٰہی قانون کی حیثیت رکھتا ہے۔ قرآنِ حکیم نے اسے مختلف مقامات پر "سُنَّتُ اللّٰہ” کے عنوان سے بیان کیا ہے، ایسا قانون جو نہ کبھی تبدیل ہوتا ہے اور نہ ہی کسی مصلحت کے تحت معطل کیا جا سکتا ہے۔
اسلامی نقطۂ نظر سے کائنات کا نظام محض مادی اسباب و علل کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک مربوط اخلاقی ترتیب کا مظہر ہے، جہاں ہر عمل اپنے نتیجے کا پیش خیمہ بنتا ہے۔ ظلم، ناانصافی اور استحصال وقتی طور پر اگرچہ طاقت اور غلبے کا تاثر دیتے ہیں، لیکن حقیقت میں وہ اپنے اندر ہی زوال کے اسباب سموئے ہوتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ قرآن بار بار اقوامِ سابقہ کے واقعات کو بطورِ عبرت پیش کرتا ہے، تاکہ انسان یہ سمجھ سکے کہ اقتدار کا دوام عدل و توازن سے مشروط ہے، نہ کہ محض قوت و تسلّط سے۔ اُمّتِ مسلمہ، جو ایک اخلاقی و تہذیبی مشن کی حامل ہے، اس کے لیے لازم ہے کہ وہ تاریخ کے ان اصولوں کو محض نظری بحث تک محدود نہ رکھے بلکہ اپنی اجتماعی زندگی میں ان کو رہنما بنائے۔ جب کوئی قوم اپنے بنیادی اخلاقی اصولوں سے انحراف کرتی ہے، تو وہ بیرونی دباؤ سے پہلے اندرونی کمزوری کا شکار ہو جاتی ہے۔ اسی طرح جب ظلم عالمی سطح پر ایک نظام کی صورت اختیار کر لیتا ہے، تو اس کا ردِّعمل بھی ایک ہمہ گیر شکل میں سامنے آتا ہے، جسے ہم "عالمی مکافاتِ عمل” کے نام سے تعبیر کر سکتے ہیں۔
موجودہ عالمی حالات اسی حقیقت کی ایک زندہ تصویر پیش کر رہے ہیں، جہاں طاقت، مفادات اور جغرافیائی سیاست کے پیچیدہ جال میں انسانیت کی بنیادی قدریں پسِ پشت ڈالی جا رہی ہیں۔ ایسے میں یہ ناگزیر ہو جاتا ہے کہ ہم دینی بصیرت اور تاریخی شعور کی روشنی میں ان واقعات کا تجزیہ کریں، تاکہ نہ صرف ان کے اسباب کو سمجھ سکیں بلکہ ان کے ممکنہ نتائج کا ادراک بھی حاصل کر سکیں۔ زیرِ نظر مضمون اسی تناظر میں ایک سنجیدہ فکری کاوش ہے، جس میں مکافاتِ عمل کے اس اٹل اصول کو تاریخی، فکری اور عصری مثالوں کی روشنی میں واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے، تاکہ یہ حقیقت مزید نمایاں ہو سکے کہ جب ظلم اپنی حدوں کو پار کر جاتا ہے تو وہ لازماً اپنے انجام سے ٹکراتا ہے اور یہی ٹکراؤ تاریخ کے دھارے کو ایک نئے رخ پر ڈال دیتا ہے۔
دنیا کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ ظلم، جبر اور استحصال کا ہر نظام بالآخر اپنے ہی بوجھ تلے دب کر رہ جاتا ہے۔ یہ کوئی محض اخلاقی وعظ نہیں بلکہ ایک ایسا فطری اور اٹل قانون ہے جسے قرآنِ حکیم نے "سُنَّتُ اللّٰہ” اور مفکرین نے "قانونِ مکافاتِ عمل” کے نام سے تعبیر کیا ہے۔ جب طاقت کے نشے میں چُور اقوام دوسروں کے حقوق پامال کرتی ہیں، تو بظاہر وقتی کامیابی کے باوجود ان کے اندر زوال کے بیج خود بخود بوئے جا چکے ہوتے ہیں۔ تاریخ کا مطالعہ اس حقیقت کو نہایت وضاحت کے ساتھ آشکار کرتا ہے کہ مکافاتِ عمل کسی ایک دور یا خطے تک محدود نہیں بلکہ ایک مسلسل جاری رہنے والا عالمی اصول ہے۔
قدیم زمانے میں "رومی سلطنت” اپنی عسکری قوت، سیاسی تنظیم اور تہذیبی برتری کے باوجود جب ظلم، عیش پرستی اور داخلی انتشار کا شکار ہوئی تو وہ اپنے ہی بوجھ تلے بکھر گئی۔ یہی سلسلہ جدید دور میں ایک نئے انداز سے "سوویت یونین” کے انہدام کی صورت میں ظاہر ہوا، جہاں ایک عظیم طاقت نظریاتی جبر، معاشی کمزوری اور داخلی تضادات کے باعث اچانک ٹوٹ کر رہ گئی۔ اسی طرح "ویتنام جنگ” میں امریکہ کی عسکری برتری بھی اس وقت بے معنی ثابت ہوئی جب اسے ایک ایسی عوامی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا جو اپنے حق اور آزادی کے لیے پرعزم تھی۔ ان تینوں واقعات، باوجود زمانی اور جغرافیائی فاصلے کے، درحقیقت ایک ہی حقیقت کی مختلف تعبیرات ہیں کہ جب طاقت انصاف، توازن اور اخلاقی اصولوں سے انحراف کرتی ہے تو اس کا انجام بالآخر زوال اور پسپائی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
عصرِ حاضر کے مفکرین نے بھی اس حقیقت کی مختلف زاویوں سے توثیق کی ہے کہ طاقت کا دوام محض عسکری برتری سے نہیں بلکہ اخلاقی و داخلی توازن سے مشروط ہوتا ہے۔ آرنلڈ ٹوائن نے تہذیبوں کے عروج و زوال کا تجزیہ کرتے ہوئے یہ واضح کیا کہ کوئی بھی تہذیب بیرونی حملوں سے کم اور اپنی داخلی کمزوریوں، اخلاقی انحطاط اور قیادت کے بحران کے باعث زیادہ زوال پذیر ہوتی ہے۔ اسی تسلسل کو آگے بڑھاتے ہوئے پال کینیڈی نے اپنی شہرۂ آفاق تصنیف The Rise and Fall of the Great Powers میں یہ استدلال پیش کیا کہ جب ریاستیں اپنی معاشی استعداد سے بڑھ کر عسکری توسیع اختیار کرتی ہیں تو وہ ‘اسٹریٹیجک اوورریچ’ کا شکار ہو کر بالآخر کمزور پڑ جاتی ہیں۔ مزید برآں نوآم چومسکی نے جدید جنگی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے یہ نکتہ اٹھایا کہ طاقتور ممالک اپنی مداخلتوں کو اخلاقی جواز دینے کی کوشش ضرور کرتے ہیں، مگر زمینی حقائق اکثر ان دعووں کی نفی کرتے ہیں، اور یہی تضاد بالآخر داخلی و خارجی سطح پر بحران کو جنم دیتا ہے۔ اس طرح یہ تینوں فکری زاویے درحقیقت ایک ہی حقیقت کی ترجمانی کرتے ہیں کہ جب طاقت انصاف، توازن اور اخلاقی اصولوں سے انحراف کرتی ہے تو اس کا انجام استحکام نہیں بلکہ تدریجی زوال کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
اسی اصولِ مکافاتِ عمل کی روشنی میں اگر موجودہ عالمی حالات کا جائزہ لیا جائے تو حالیہ عالمی تناظر میں ایران کے خلاف بھڑکائی گئی جنگ بھی اسی سلسلۂ واقعات کی ایک اہم کڑی معلوم ہوتی ہے۔ یہ محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ اس کے پسِ پردہ کارفرما جیوپولیٹیکل مفادات، عالمی طاقتوں کی حکمتِ عملی اور اثر و رسوخ کی کشمکش کو بھی نمایاں کرتا ہے۔ بلاشبہ اس کشیدگی کو بعض طاقتور ممالک نے اپنے تزویراتی مقاصد کے تحت ہوا دی، جہاں براہِ راست تصادم سے گریز کرتے ہوئے پراکسی وار کے ذریعے اپنے اہداف حاصل کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم اب حالات ایک ایسے مرحلے میں داخل ہوتے دکھائی دیتے ہیں جہاں یہ حکمتِ عملی خود اپنے نتائج سے دوچار ہو رہی ہے، اور قدرتی مکافاتِ عمل پوری شدّت کے ساتھ ظاہر ہونے لگا ہے۔ یوں جو تنازع ابتداء میں محدود دائرے تک رکھا گیا تھا، وہ بتدریج غیر یقینی، انتشار اور وسیع تر عدم استحکام میں تبدیل ہوتا جا رہا ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ جب انسانی منصوبہ بندی فطری اور اخلاقی اصولوں سے ٹکراتی ہے تو اس کا انجام قابو سے باہر ہو جاتا ہے۔
عصرِ حاضر کی جیوپولیٹیکل حکمتِ عملی میں جنگ کا روایتی تصور نمایاں طور پر تبدیل ہو چکا ہے، جہاں براہِ راست تصادم کے بجائے "پراکسی وار” (Proxy War) ایک مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال ہو رہی ہے۔ اس طرزِ عمل میں بڑی عالمی طاقتیں اپنے مفادات کے تحفّظ اور توسیع کے لیے علاقائی قوتوں یا غیر ریاستی عناصر کو میدانِ جنگ میں آگے کرتی ہیں، تاکہ وہ خود براہِ راست نقصان سے محفوظ رہ سکیں۔ تاہم یہ حکمتِ عملی بظاہر فائدہ مند ہونے کے باوجود ایک پیچیدہ جال بن جاتی ہے، جہاں مقامی تنازعات عالمی کشمکش میں بدل جاتے ہیں اور حالات قابو سے باہر ہونے لگتے ہیں۔ یہی مقام وہ ہوتا ہے جہاں "اسٹریٹیجک اوورریچ” (Strategic Overreach) جنم لیتی ہے، یعنی جب کوئی طاقت اپنی معاشی، عسکری اور سیاسی استعداد سے بڑھ کر مداخلت کرنے لگتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایسی حد سے بڑھی ہوئی توسیع بالآخر خود اس طاقت کے لیے بوجھ بن جاتی ہے، اور وہ اپنی ہی پالیسیوں کے دباؤ تلے کمزور پڑنے لگتی ہے۔ یوں پراکسی وار اور اسٹریٹیجک اوورریچ درحقیقت ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں، جو وقتی برتری کے باوجود طویل المدت عدم استحکام اور زوال کا راستہ ہموار کرتی ہیں۔
سب سے پہلا مظہر یہ ہے کہ اس جنگ کے نتائج توقعات کے برخلاف سامنے آ رہے ہیں۔ جن قوتوں نے اس تنازع کو ایک محدود دائرے میں رکھنے کا منصوبہ بنایا تھا، وہ خود غیر یقینی، خوف اور داخلی انتشار کا شکار ہوتی جا رہی ہیں۔ غیر متوقع نتائج کی یہ لہر اس امر کی دلیل ہے کہ انسانی منصوبہ بندی جب فطری اصولوں سے ٹکراتی ہے تو اس کا انجام بے قابو ہو جاتا ہے۔
دوسرا اہم پہلو عوامی ردِعمل کا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل جیسے ممالک میں قیادت کے خلاف بڑھتے ہوئے احتجاج اس حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ عوام اب محض سرکاری بیانیے کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں۔ جنگوں کے حقیقی اخراجات چاہے وہ انسانی جانوں کی صورت میں ہوں یا معاشی بوجھ کی شکل میں جب عوام کے سامنے آتے ہیں تو ان کا صبر جواب دینے لگتا ہے۔ جمہوری معاشروں میں یہ بے چینی ایک بڑے سیاسی بحران کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔
تیسرا پہلو فوجی حلقوں میں پیدا ہونے والی بے چینی ہے۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جب کسی جنگ کی اخلاقی بنیاد کمزور ہو اور اس کے مقاصد مبہم ہوں، تو فوج کے اندر بھی سوالات جنم لیتے ہیں۔ اگر یہ کیفیت بغاوت یا نافرمانی کی صورت اختیار کر لے تو یہ کسی بھی ریاست کے لیے نہایت سنگین مرحلہ ہوتا ہے۔ موجودہ حالات میں ایسی ابتدائی علامات کا ظاہر ہونا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ طاقت کا ظاہری استحکام دراصل اندرونی کمزوری کو چھپا رہا ہے۔
چوتھا اور نہایت اہم پہلو معاشی زوال کا ہے۔ جنگیں صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتیں بلکہ وہ معیشتوں کو بھی تباہ کر دیتی ہیں۔ بڑھتے ہوئے دفاعی اخراجات، عالمی منڈیوں میں عدمِ استحکام، اور داخلی وسائل کی بے دریغ کھپت یہ سب مل کر معیشت کو کھوکھلا کر دیتے ہیں۔ جب معاشی بحران شدّت اختیار کرتا ہے تو اس کے اثرات معاشرتی اور سیاسی ڈھانچے کو بھی متاثر کرتے ہیں، اور یوں ایک مکمل زوال کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔
جدید دور کی جنگیں محض عسکری محاذ تک محدود نہیں رہتیں بلکہ ان کے اثرات پوری عالمی معیشت کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ کھربوں ڈالرز پر مشتمل جنگی اخراجات نہ صرف متعلقہ ممالک کے مالی وسائل کو کھوکھلا کرتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر سرمایہ کاری کے توازن کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ جب وسائل کا بڑا حصّہ دفاعی ضروریات پر صرف ہونے لگتا ہے تو سماجی و ترقیاتی شعبے نظر انداز ہو جاتے ہیں، جس کا براہِ راست نتیجہ مہنگائی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی توانائی کے ذرائع پر دباؤ اور رسد میں خلل عالمی سطح پر توانائی بحران کو جنم دیتا ہے، جس سے صنعت، تجارت اور روزمرّہ زندگی سب متاثر ہوتے ہیں۔ یہ تمام عوامل مل کر عالمی منڈیوں میں عدم استحکام پیدا کرتے ہیں، جہاں قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ، کرنسی کی بے یقینی اور تجارتی بے اعتمادی ایک مستقل بحران کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ یوں جنگ کا دائرہ میدانِ جنگ سے نکل کر پوری دنیا کی معاشی ساخت کو متاثر کرتا ہے، اور بالآخر یہی دباؤ ایک بڑے معاشی و سیاسی زوال کا پیش خیمہ بن جاتا ہے۔
یہ تمام مظاہر اس حقیقت کی طرف واضح اشارہ کرتے ہیں کہ دنیا اس وقت ایک ایسے نازک مرحلے سے گزر رہی ہے جہاں محض طاقت کا توازن فیصلہ کن نہیں رہا، بلکہ اخلاقی توازن کی اہمیت کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جن قوموں نے انصاف، دیانت اور انسانی قدروں کو پسِ پشت ڈالا، وہ وقتی طور پر تو غالب آئیں، مگر بالآخر عدم استحکام، داخلی انتشار اور زوال کا شکار ہوئیں۔ اسی تناظر میں موجودہ عالمی حالات کو دیکھا جائے تو یہ بات مزید نمایاں ہو جاتی ہے کہ طاقت کا بے جا استعمال، دوسروں کے حقوق کی پامالی، اور مفادات کی اندھی دوڑ کسی بھی قوم کو پائیدار ترقی نہیں دے سکتی۔ حقیقی استحکام اسی وقت ممکن ہے جب طاقت کے ساتھ اخلاق، اور مفادات کے ساتھ انصاف کا امتزاج پیدا کیا جائے۔
چنانچہ جو قومیں اس بنیادی اصول کو نظر انداز کرتی ہیں، وہ وقتی برتری کے باوجود مستقل استحکام حاصل نہیں کر سکتیں، اور بالآخر قدرت کے اٹل قانون—مکافاتِ عمل—کا شکار ہو کر تاریخ کے صفحات میں عبرت کا نشان بن جاتی ہیں۔
اسلامی تعلیمات میں اصولِ مکافاتِ عمل کو نہایت وضاحت اور جامعیت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ ظلم کی رسی اگرچہ دراز ہوتی ہے، مگر اس کا انجام بالآخر ہلاکت ہی ہوتا ہے۔ قرآنِ حکیم اس حقیقت کو ایک ابدی قانون کے طور پر یوں واضح کرتا ہے: ‘وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ’ (آل عمران: 140)، یعنی ‘یہ دن ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں’۔ اس آیت میں اقتدار، عروج اور زوال کے اس فطری عمل کی طرف اشارہ ہے جو کسی ایک قوم یا طاقت کے لیے دائمی نہیں، بلکہ حالات مسلسل تغیر پذیر رہتے ہیں۔ مگر یہ تغیر محض ایک بے سمت گردش نہیں بلکہ ایک منظم اخلاقی نظام کے تابع ہے، جس کی طرف قرآن مزید تنبیہ کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے: ‘إِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِ’ (الفجر: 14)، یعنی ‘بے شک آپ کا رب گھات میں ہے’۔ گویا اللّٰہ تعالیٰ ظالموں کو مہلت تو دیتا ہے، مگر جب اس کی گرفت آتی ہے تو پھر ڈھیل نہیں دیتا۔ یوں یہ قرآنی بیانیہ اس حقیقت کو نہایت جلال اور قطعیت کے ساتھ آشکار کرتا ہے کہ تاریخ کا بہاؤ محض اتفاقات کا کھیل نہیں، بلکہ ایک ایسے اٹل اخلاقی قانون کے تحت جاری ہے جہاں ہر ظلم اپنے انجام سے اور ہر عمل اپنی جزا یا سزا سے لازماً ہم کنار ہوتا ہے۔
آج کے حالات ہمیں یہ واضح سبق دیتے ہیں کہ عالمی نظام کو محض طاقت کے بل پر نہیں بلکہ انصاف، باہمی تعاون اور مضبوط اخلاقی اصولوں پر استوار کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔ بصورتِ دیگر، مکافاتِ عمل کا یہ اٹل سلسلہ نہ صرف چند مخصوص ممالک بلکہ پوری انسانیت کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے۔ درحقیقت جو کچھ آج رونما ہو رہا ہے، وہ کسی اچانک حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک طویل تاریخی اور اخلاقی عمل کا منطقی انجام ہے، جس کے آثار مدت سے نمایاں تھے۔ اگر دنیا نے اس واضح تنبیہ سے سبق نہ سیکھا اور اپنے رویّوں میں بنیادی تبدیلی نہ لائی، تو تاریخ کو خود کو دہرانے میں دیر نہیں لگے گی، اور مکافاتِ عمل کا یہ چکر اسی طرح گردش کرتا رہے گا، یہاں تک کہ انسانیت ایک بار پھر اپنے اعمال کے نتائج سے دوچار ہو۔
🗓 (01.04.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...