Skip to content
ایران کے خلاف جنگ کے ایک مہینے بعد
ازقلم:شیخ سلیم
(ویلفیئر پارٹی آف انڈیا)
26 فروری کو وزیر اعظم اسرائیل کا دورہ کرتے ہیں، اسرائیلی پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہیں، اسرائیل سے دوستی کا وعدہ کرتے ہیں، دنیا کو ایک پیغام دیا جاتا ہے۔ 28 فروری 2026 کو ایران کے خلاف نیتن یاہو اور ٹرمپ نے جنگ کا آغاز کیا۔ ایران اور امریکہ کے بیچ عمان مصالحت کرانے کی کوشش کر رہا تھا، بات چیت صحیح چل رہی تھی، ایران امریکا کی کافی شرائط مان چکا تھا، ایک دیرپا امن منصوبے پر دستخط ہونے والے تھے کہ بیچ میں نیتن یاہو نے امریکی صدر کو ایران پر حملے کے لیے تیار کیا۔ حملہ شدید ہوائی حملہ تھا اور تقریباً پوری ایرانی قیادت کو آیت اللہ خامنہ ای سمیت سبھی کو شہید کر دیا گیا۔ تقریباً اسی وقت ایران نے اسرائیل پر اور خلیج فارس کے ممالک میں امریکہ کے اڈوں پر لگاتار حملے کیے۔ کویت، بحرین، سعودی عرب، قطر اور امارات، تقریباً سبھی جگہوں پر امریکی مفادات کو نقصان پہنچایا گیا، امریکی اڈوں پر حملہ کیا گیا۔ خلیج کے ممالک نے اپنی حفاظت کی ذمہ داری امریکا کو دی ہوئی تھی، امریکا بجائے عرب ممالک کی حفاظت کرتا، اس نے سارا دھیان صرف اور صرف اسرائیل کی حفاظت پر دیا، عربوں کو لگ رہا ہے امریکہ نے عربوں کو دھوکہ دیا۔ ایران نے 13 سے زیادہ امریکی اڈوں اور ریڈار سسٹم کو تباہ کر دیا۔ ایران نے امریکی بحری بیڑے پر حملہ کیا، 1945 کے بعد پہلی بار امریکی بحری جہاز میدان جنگ سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوئے، ایک بحری بیڑا 13 سے 20 بلین ڈالر کی قیمت کا ہوتا ہے۔ پہلی بار نیٹو نے امریکی صدر کی جنگ لڑنے سے انکار کیا، اسپین نے امریکی جنگ کے خلاف کھل کر بات کی، فرانس نے شروع شروع میں جنگ میں کودنے کی کوشش کی مگر جب فرانسیسی صدر کو حالات کی سنگینی کا اندازہ ہوا تو فوری طور پر پیچھے ہٹ گئے، برطانیہ اور جرمنی بھی جنگ کے خلاف نظر آئے، امریکی صدر ٹرمپ نے نیٹو کو بزدل قرار دیا۔
ایران نے جنگ کے پہلے دن آبنائے ہرمز بند کر کے اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا، آج ایک مہینے بعد بھی ہزاروں بحری جہاز آبنائے ہرمز میں کھڑے ہیں اور ایران کی اجازت کے بغیر ہل نہیں سکتے، کئی جہازوں کو ایران تباہ کر چکا ہے، یعنی اگر جنگ بندی کے نتیجے میں آبنائے ہرمز کھل جاتا ہے تو کیا حاصل ہوا جن سے پہلے بھی یہ کھلا ہوا تھا۔ ایران نے جہازوں کو جانے کے لیے دو شرطیں لگائی ہیں، ایک یہ کہ ادائیگی ڈالر کی بجائے چینی یوآن میں کرنی ہوگی جس سے امریکی ڈالر پر مار پڑے گی اور ڈالر کی قدر اور مانگ کم ہو جائے گی، 1974 میں امریکا اور سعودی عرب میں معاہدے کے تحت تیل کی قیمت کی ادائیگی ڈالر میں ہونی طے پائی تھی جس سے دنیا بھر میں ڈالر کی مصنوعی مانگ پیدا ہوئی اور غریب ممالک کی کرنسی لگاتار کمزور ہوتی گئی، یہ امریکا کا سب سے بڑا معاشی ہتھیار تھا، اب اس کی دادا گیری یوآن سے کم ہو جائے گی، ایسا معاشی ماہرین کا ماننا ہے۔ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قلت پیدا ہوئی اور امریکا نے فوراً ایران اور روس سے تیل پر عائد پابندی ختم کر دی، دونوں ممالک کا فائدہ ہوا۔ جنگ سے پتہ چلا امریکا اور اسرائیل کی طاقت ایئر فورس ہے اور انہیں فضائی برتری حاصل ہے، ایرانی بحری جہازوں کو امریکا نے تباہ کر دیا مگر خلیج فارس میں اور آبنائے ہرمز سے کوئی جہاز ایران کی اجازت کے بغیر جا نہیں سکتا، زمینی فوج کا شروع میں کوئی کام نہیں۔ ایران نے مہنگے ہوائی جہاز کی بجائے سستے ڈرون اور میزائل استعمال کیے، 20000 ڈالر کے ڈرون کو مارنے کے لیے 3 ملین کا دفاعی میزائل مارنا پڑ رہا ہے جو زیادہ دیر تک ممکن نہیں۔
1945 کے بعد شاید پہلی بار امریکی صدر کے ساتھ یورپ نہیں ہے، خلیجی ریاستوں کو بڑا جھٹکا لگا ہے، آئندہ انہیں اپنی حفاظت خود کرنی ہوگی، امریکی ہتھیار اور فوج کسی کام کے نہیں، وہ صرف تیل لوٹنے اور اسرائیل کی حفاظت کے لیے ہے۔ آج امریکی صدر نے قوم سے خطاب کیا ہے، اب وہ جنگ دو سے تین ہفتوں میں ختم کر دے گا، مگر یہ نہیں پتہ اسرائیل مانے گا یا نہیں، ایران کی طرف سے کیا ردعمل ہوگا پتہ نہیں۔ ایران عارضی جنگ بندی نہیں چاہتا کیونکہ امریکا اور اسرائیل جنگ بندی کرتے ہیں، ہتھیار جمع کرتے ہیں اور کچھ عرصے بعد پھر سے ایران پر حملہ شروع کر دیتے ہیں، ایران اب بین الاقوامی ضمانت چاہتا ہے، شاید روس اور چین سے، انہیں اپنے ساتھ ملا کر، کیونکہ چین اور روس نے اس جنگ میں صاف طور پر ایران کا ساتھ دیا ہے۔ اس جنگ کے خاتمے کے ساتھ ایک بات طے ہے، اب امریکا واحد سپر پاور نہیں رہا، وہ اب جنگ کے ذریعے بھی اپنی بات نہیں منوا سکتا۔ اب مشرق وسطی کا ہر ملک اپنی حفاظت کے لیے نئے طریقے اختیار کرے گا جس سے ایٹمی ہتھیاروں کی ایک دوڑ شروع ہو جائے گی، ایران بھی اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرے گا، جو لوگ اس جنگ کو فوجی نقطہ نظر سے دیکھ رہے ہیں وہ نئے ہتھیار اور جنگی ٹیکنالوجی خریدیں گے اور ہتھیاروں کی نئی دوڑ شروع ہو جائے گی، اور اب ممالک اس جنگ کے بعد بہت پریشان ہیں اور وہ شاید اپنی سبھی پالیسیاں بدل دیں، انہیں اپنی حفاظت کے لیے نئی حکمت عملی اپنانی ہوگی، انہیں اپنے ہی ملک میں ہتھیار بنانے ہوں گے تاکہ وہ ہتھیاروں کے لیے اور اپنے دفاع کے لیے امریکہ پر منحصر نہ رہیں۔
آج ہی صدر ٹرمپ نے تقریر کی ہے، ان کی تقریر سے کچھ اندازہ نہیں لگایا جا سکتا، وہ کہہ رہے ہیں جنگ دو ہفتے سے تین ہفتے میں بند ہو جائے گی، مگر شاید وہ اس کا الٹا بھی کر دیں اور ایران پر ایک بہت بڑا حملہ کر دیں۔ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کا منظم حملہ جاری ہے، 500 سے زیادہ اسکولوں، ہسپتالوں اور فیکٹریوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، آج کی خبر کے مطابق دوا بنانے والی فیکٹریوں کو منظم طریقے سے نشانہ بنایا جا رہا ہے، صدر ٹرمپ نے پہلے دھمکی دی تھی کہ ایران میں بجلی پیدا کرنے والے پاور پلانٹس کو حملہ کر کے تباہ کر دیا جائے گا، جواب میں ایران کیا کرےگا پتہ نہیں ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ اس جنگ میں آج کل کے بعد کیا ہوتا ہے، جنگ دھیمی ہوتی ہے یا امریکہ کے حملے کے نتیجے میں جنگ بڑھ جاتی ہے۔ جنگ دھیمی ہو یا جنگ بند ہو، اس جنگ کا بہت بڑا نقصان ہمارے ملک میں دیکھنے کو مل رہا ہے، سلنڈر کی کمی بہت ہو گئی ہے، بہت ساری صنعتیں بند ہو گئی ہیں، لوگ بڑے بڑے شہر دہلی، ممبئی، سورت چھوڑ کر سلنڈر نہ ملنے کی وجہ سے اپنے اپنے گاؤں لوٹ رہے ہیں، سرکار کا کہنا ہے سلنڈر کی کمی نہیں ہے مگر ریلوے اسٹیشنوں پر جو صورتحال ہے وہ کچھ اور ہی بتا رہی ہے، لوگ پریشان ہیں اور اپنے اپنے گاؤں جا رہے ہیں۔ دوسرا مسئلہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ خلیج کے ملکوں سے جو ہمارے کھیتوں کے لیے کھاد آتی ہے اس کا آنا کم ہو گیا ہے اور اس کا اثر خریف کی فصل پر پڑنے والا ہے، کسانوں کو اگر کھاد نہ ملے گی تو کھیتی کی پیداوار کم ہوگی، دوسرے کیمیکل بھی جو عرب ممالک سے آتے تھے وہ بھی رکے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے بہت ساری صنعتیں متاثر ہو رہی ہیں، پیٹرول ڈیزل تو ابھی پیٹرول پمپوں پر مل رہا ہے مگر اگر جنگ اور لمبی کھنچ جاتی ہے تو پتہ نہیں کیا ہوگا۔ اسٹاک مارکیٹ بری طرح سے متاثر ہے۔ جیسے ہی پانچ ریاستوں کے انتخابات ختم ہونگے پیٹرول ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ ماہرین بتا رہے ہیں کہ جنگ ختم ہو جانے کے بعد بھی دو چار مہینوں تک صورت حال مشکل رہنے والی ہے۔
شیخ سلیم
ویلفیئر پارٹی آف انڈیا
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...