Skip to content
طلاق کے بڑھتے واقعات ایک سنگین مسئلہ
ازقلم:مفتی عبدالمنعم فاروقی
9849270160
اسلام نے جائز طریقے سے فطری جنسی تسکین حاصل کرنے کے لئے نکاح کا حکم دیا ہے، نکاح سے ہٹ کر کسی بھی طریقے سے جنسی تسکین حاصل کرنا نہ صرف گناہ ہے بلکہ بدترین قسم کا جرم ہے جس کی سزا نہایت سخت اور عبرتناک ہے،نکاح کی ایک خاص بات یہ ہے کہ یہ جنسی تسکین کا ایک جائز ،مہذب اور شائستہ طریقہ ہے اورہر سنجیدہ اور مہذب شخص اس بات کو اچھی طرح جانتا ہے کہ جائز طریقے سے جنسی تسکین حاصل کرنے ہی سے انسان کو سکون ،چین اور راحت حاصل ہوتی ہے ، اس کےبرخلاف جو شخص ناجائز طریقہ سے جنسی تسکین حاصل کرنا چاہتا ہے اسے وقتی لذت تو حاصل ہوتی ہے مگر وہ قلبی سکون اور جسمانی آسودگی سے محروم رہتا ہے،سچ یہ ہے کہ صرف جنسی خواہش پوری کرلینے کا نام سکون نہیں ہے بلکہ سکون کے لئے ازدواجی زندگی اور اس میں باہمی الفت ،محبت اور رحمت ضروری ہے اور یہ مقصد نکاح کے علاوہ کسی اور چیز سے حاصل نہیں ہوسکتا ہے،ازدواجی زندگی کو پُر مسرت بنانے کے لئے آپسی محبت والفت کے ساتھ عفو ودرگزر،اعتماد واتفاق اور ایثار وقربانی ضروری ہےاس کے بغیر ازدواجی زندگی کی خوشیاں ممکن ہی نہیں ہیں ، جو میاں بیوی صرف اور صرف اصول اور حقوق کی بات کرتے ہیں اور ایک دوسرے پر اعتماد نہیں کرتے تو ان کی زندگی تلخی وانتشار کی نذر ہوجاتی ہے جس کے بعد ان کی خوشگوار زندگی افراتفری کا شکار ہوجاتی ہے اگر بروقت اس پر توجہ نہ دی گئی اور رشتہ ازدواج کو عفو درگزر اور ایثار وقربانی کی ڈوری سے نہ باندھا گیا تو پھر اس رشتہ کو بکھر نے سے کوئی روک نہیں سکتااور آخر میں طلاق یا خلع کے ذریعہ ان کے رشتہ میں جدائی کی مہر لگ جاتی ہے ۔
اس وقت ہندوستان اور خاص کر ہندوستان کے میٹرو شہر اور اس میں بھی جدید تعلیم یافتہ جوڑے جو انفارمیشن ٹکنالوجی اور اس جیسی بڑی بڑی کمپنیوں میں ملازمت کر رہے ہیں ازدواجی زندگی کی تلخیوں کا شکار ہیں ، بڑی کمپنیوں میں ملازمت کرنے کی وجہ سے ان کی آمدنی دیگر مقامات پر ملازمت کرنے والوں کے مقابلہ میں بہت زیادہ ہوتی ہے اسی وجہ سے عموماًملازم بیویاں اپنی ضروریات کی تکمیل اور مرضیات کو پورا کرنے میں اپنے شوہر سے بے نیاز اور تقریبا آزاد ہوتی ہیں نیز خودمکتفی ہونے کی وجہ سے ان کی طرز زندگی بھی دوسروں کے مقابلہ میں کافی فرق نظر آتا ہے ، نامحرم مردوں سے اختلاط کی وجہ سے وہ جری اور نڈر بن جاتی ہیں جس کی بناپر حیاء کا زیور ان سے تقریباً اتر جاتا ہے اور اس پر مالی استحکام انہیں روک ٹوک سے بالکل آزاد کردیتا ہے چنانچہ وہ معاشی طاقت اور آزادی کے نشے میں چور ہوکر شوہر کی عظمت وقدر وقیمت کو پس پشت ڈال دیتی ہیں اور کسی بھی معاملہ میں خاندان کے معزز افراد تو درکنار اپنے شوہر کی تک مداخلت کو ہرگز برداشت نہیں کرتی ہیں، بسا اوقات شوہر کی ضروری روک ٹوک کی وجہ سے وہ جھجلا جاتی ہیں اور معمولی اور چھوٹی موٹی بات پر بحث ومباحثہ پر اتر آتی ہیں اور اسے اپنی آزادانہ زندگی میں رکاوٹ تصور کرتی ہیں ، انہیں وجوہات کی بناپر ان کی زندگی تناؤ سے بھر نے لگتی ہے ،میاں بیوی کے درمیان فاصلے اور دوریاں پیدا ہونے لگتی ہیں اور آگے چل وہ اکھٹے رہنے میں گھٹن محسوس کرنے لگتے ہیں اور بات بگڑتے بگڑتے نوبت علٰحد گی اور طلاق تک پہنچ جاتی ہے ، ۔
الکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے مطابق ملک کے مرکزی شہروں میں گزشتہ دس سالوں میں طلاق کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ درج کیا گیا ہے، طلاق کے واقعات میں تلنگانہ کسی سے پیچھے نہیں ہے، ملک بھر میںتلنگانہ طلاق کے معاملات میں ساتویں نمبر پر ہے،تلنگانہ کی راجدھانی حیدرآباد میں طلاق دینے اور میاں بیوی کے درمیان علٰحدگی کا رجہان تیزی سے بڑ ھ رہا ہے ،خاص کر بڑی بڑی کمپنیوں میں ملازمت کرنے والے جوڑے جن کی عمریں لگ بھگ تیس پینتیس سال کے درمیان ہے اور جن کی شادی کو بمشکل دوچار سال گزرے ہوں گے طلاق اور علحدگی کے لئے فیملی عدالتوں چکر لگارہے ہیں ،فیملی عدالتوں میں ہزاروں مقدمات زیر التواء ہیں جو معاشرہ میں بے چینی کی علامت بنے ہوئے ہیں ، افسوس اور بڑی دکھ کی بات یہ ہے کہ ان میں ایک خاصی تعداد مسلم جوڑوں کی بھی ہے،اگر بروقت اس پر توجہ نہ دی جائے اور اس کی وجوہات پر غور وفکر نہ کیا جائے اور اس کے تدارک کی کوششیں نہ کی جائے تو حالات سنگین اور خطرناک ہو سکتے ہیں اور آگے چل کر معاشرہ پر اس کے منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں ،ملازمت کرنے والے نوجوان جوڑوں کی تلخ زندگیوں کا جائزہ لینے پر جو چیزیں واضح ہوکر سامنے آرہی ہیں ان میں سے ایک عدم اطمینان اور عدم یقین ہے ،میاں بیوی دونوں ملازمت کرنے کی وجہ سے دونوں کا ایک دوسرے پر اعتماد اور بھروسہ کم ہورہا ہے اور اس کے برخلاف وہ اپنی ملازمت اور آمدنی پر زیادہ اعتماد کر رہے ہیں حالانکہ ازدواجی زندگی کی کامیابی کے لئے آپس میں اعتماد اور بھروسہ ضروری ہے ،جب تک میاں بیوی ایک دوسرے پر اعتماد نہیں کریں گے اور ایک دوسرے کو ایک دوسرے کے لئے ضروری نہیں سمجھیں گے ازدواجی زندگی کے سفر میں کامیاب نہیں ہوسکتے ہیں، تجربات اور مشاہدات اس بات پر گواہ ہیں کہ رشتہ ازدواج کو صرف آمدنی،آزادی اور مال کی کثرت سے پُر سکون نہیں بنایا جاسکتا ہے بلکہ اس کے لئے ایک دوسرے پر اعتماد اور اطمینان رکھنا ضروری ہوتا ہے ،اس لئے میاں بیوی اپنی آمدنی کو ضرورت تو سمجھیں مگر کامیابی کے لئے ضروری نہ سمجھیں ،مختصر آمدنی میں بھی پُر سکون ،خوشگوار اور کامیاب زندگی گزاری جا سکتی ہے اور معاشرہ اور خاندان بلکہ خود کے اطراف واکناف میں تلاش کرنے پر اس کی بہت سی مثالیں مل جائیں گی ،میاں بیوی میں تلخی کی دوسری وجہ ایک دوسرے کے حقوق اور ذمہ داریوں سے ناواقفیت ہے ، میاں بیوی اکھٹے زندگی تو گزارتے رہتے ہیں مگر ایک دوسرے کے حقوق اور ذمہ داریوں سے بالکل نابلد اور ناواقف ہوتے ہیں ،شوہر نہیں جانتا کہ اس کے ذمہ اس کی ذمہ داری کیا ہے اور بیوی نہیں جانتی کہ اس کے ذمہ کیا اور کس طرح کے کام ہیں ، اکثر اختلاف کی وجہ ذمہ داریوں سے ناواقفیت یا عدم ادائیگی ہوتی ہے،اکثر شوہر یہ سمجھتے ہیں کہ مالی فراہمی ہی اس کی ذمہ داری ہے اور بیوی یہ سمجھتی ہے کہ پکوان ہی اس کے ذمہ ہے حالانکہ مذکورہ ذمہ داری سے ہٹ کر دیگر ضروری ذمہ داریاں بھی ہیں جسے ادا کرنا ضروری ہے اسی کے ساتھ ساتھ کامیاب زندگی کے لئے سب سے اہم چیز جو دونوں ہی کے لئے ضروری ہے وہ ازدواجی زندگی کا توازن ہے اس کے بغیر ازدواجی زندگی کی کامیابی اور مسرت محال ہے ،تلخ ازدواجی زندگی کی ایک اہم وجہ خواہشات زندگی اور اسے پورا کرنے کی فکر ہے ،ضروریات کی تکمیل تو بہر حال ہو ہی جاتی ہے مگر عموماً خواہشات کی تکمیل کے لئے شوہر کے ساتھ ہاتھ بٹانے کے جذبہ سے بیوی نوکری کے لئے نکلتی ہے اور جب اس کے ہاتھوں میں اس کی آمدنی کے سکے چمکنے لگتے ہیں تو پھر وہ مقصد نوکری کو بھول جاتی ہے اور خواہشات کے راستے پر نکل جاتی ہے جس کے بعد ہی ازدواجی زندگی کی تلخیاں شروع ہوجاتی ہیں،ازدواجی زندگی میں تلخی کی ایک وجہ بیوی کی آمدنی پر شوہر کی نظر،بیوی کی کمائی پر جب شوہر کی نگاہ پڑتی ہے تو اس وقت شوہر یا تو سستی اور کاہلی میں مبتلا ہوجاتا ہے یا پھر بیوی کے روپیوں پر اپنا حق سمجھنے لگتا ہے اور کمانے والی بیوی ہوتی ہے تو وہ اسے اپنا حق سمجھتی ہے ،یہیں سے تلخیاں اور دوریاں جنم لیتی ہیں ،ازدواجی زندگی کی تلخی کی ایک اور وجہ غلط فہمی ، شک وشبہات اور باربار کی تنقید ہوتی ہے ، کسی بھی شخص کی ازدواجی زندگی اس وقت تک کامیاب نہیں سکتی ہے جب تک کہ وہ چھوٹی موٹی غلطیوں کو معاف کرنے کا اپنے اندر حوصلہ اور مزاج نہ رکھتا ہو ،یہ بات میاں بیوی دونوں کو یاد رکھنے کی ہے بلکہ ہمیشہ ذہن میں تازہ کرنے کی ہے کہ انسان میں نسیان پایا جاتا ہے ،بھول اور غلطی اس کی فطرت کا حصہ ہے اور عفو ودرگزر اس کی خاص خوبی ہے ،تلخیوں کی کڑواہٹ سے اگر میاں بیوی بچنا چاہتے ہیں تو انہیں چاہئے کہ پیار ومحبت اور عفو ودرگزر کی چاشنی اپنے اندر پیدا کریں ، میاں بیوی اپنی اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرتے ہوئے اسے احسن طریقہ پر انجام دینے کی کوشش کریں ، ذمہ داری کو صرف ذمہ داری نہ سمجھیں بلکہ اسے اپنی مختصر زندگی کی پائے داری اور کامیابی کا زینہ سمجھتے ہوئے اٹھانے کی کوشش کریں، اہل دانش کا کہنا ہے کہ تلخیاں دوریاں پیدا کرتی ہیں اور دوریاں بے چینیوں کا سبب بنتی ہیں اور بے چینی انسانی زندگی کو دیمک کی طرح کھاجاتی ہیں اور زندگی کو بے رنگ و بے ذئقہ بنادیتی ہیں ، طلاق اور علحدگی مرد وعورت دونوں کے لئے ذہنی وجسمانی کلفت کا سبب ہے اور اس کے مقابلہ ازدواجی کے رشتے خوشیوں اور مسرتوں کا سبب ہیں اس سے زندگی خوشگوار بنتی ہے ،خاندان بنتے ہیں اور نسلیں تیار ہوتی ہیں ،اس لئے خاص طور سے وہ میاں بیوی جو ملازمت سے جڑے ہوئے ہیں معمولی باتوں کے ذریعہ ازدواجی زندگی میں تلخی پیدا نہ کریں بلکہ جس طرح اینٹ سے اینٹ جوڑ کر مکان تعمیر کیا جاتا ہے اسی طرح ایک دوسرے کی سوچ وفکر کو جوڑ کر اور اس میں عفو ودرگزر ملا کر اپنی زندگی کی تعمیر وترقی میں لگے رہیں اور اختلافات ہونے پر اسے حل کریں نہ کہ انتشار کا ذریعہ بنائیں ،یاد رکھیں طلاق وعلٰحدگی سے نہ صرف زندگی کا سکون رخصت ہوتا ہے بلکہ نئی نسل پر اس کا گہرا اثر مرتب ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ شریعت اسلامی میں حلال چیزوں میں سب سے ناپسندیدہ چیز طلاق ہے اور سخت ضرورت کے بغیر اس کا استعمال گناہ کبیرہ ،جرم عظیم اور اللہ تعالیٰ کے قہر کا سبب ہے۔
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...