Skip to content
جمعہ نامہ :مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ارشادِ ربانی ہے:’’یقیناً اللہ کے نزدیک زمین پر چلنے والی مخلوق میں سب سے بدتر وہ لوگ ہیں جنہوں نے حق کو ماننے سے انکار کر دیا پھر کسی طرح وہ اسے قبول کرنے پر تیار نہیں (خصوصاً) ان میں سے وہ لوگ جن کے ساتھ آپ نے معاہدہ کیا پھر وہ ہر موقع پر اس کو توڑتے ہیں اور ذرا خدا کا خوف نہیں کرتے‘‘۔ تکذیب حق بجائے خود ایک بہت بڑی برائی ہے لیکن اگر اس میں ہٹ دھرمی اور وعدہ خلافی کا اضافہ ہوجائے تو کریلا نیم چڑھا ہوجاتا ہے۔ یہی بدعہدی انسان کو بدترین مخلوق میں بنا دیتی ہے ۔ وہ قول و قرار کرکے پھرجاتاہے ۔ اپنی قسمیں وعدے بے دریغ توڑتاہے ۔ ایران کے ساتھ امریکہ کی حالیہ وعدہ خلافی اس آیت کی تفسیر بیان کرتی ہے۔ ٹرمپ نے 2025 کی حلف برداری کے بعدمارچ 2025 کو آیت اللہ سید علی خامنہ ای سے خط کے ذریعہ رابطہ کیا اور 60 دن کے اندر نئے معاہدے کی تجویز پیش کی۔ اپریل سے جون تک مسقط، روم اور عمان میں مذاکرات کی پانچ نشستیں ہوئیں مگر پھر جون کے اندر ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ ہوگیا۔ 12؍ دنوں کی جنگ میں پسپائی کے باوجود اسرائیل و امریکہ نے سبق نہیں سیکھا ۔
گزشتہ سال کی دھوکہ دہی کے بعد پھر سے 6 فروری 2026 کو عمان میں مذاکرات کا آغازہوااور ویانا میں ایران خاصا پرامیدہوگیا مگر جینیواسے قبل 28 فروری( 2026) کو امریکہ اور اسرائیل نے آیت اللہ خامنہ ای کو شہید کرکے جنگ چھیڑ دی ۔ امن مذاکرات کو سبوتاژ کرکے جنگ شروع کردینے والوں سے متعلق یہ قرآنی حکم ہے کہ:’’ اگر یہ لوگ تمہیں لڑائی میں مل جائیں تو ان کی ایسی خبر لو کہ ان کے بعد جو دُوسرے لوگ ایسی روش اختیار کرنے والے ہوں ان کے حواس باختہ ہو جائیں‘‘۔ ایران یہی کررہا ہے۔ امریکی صدرکے ذریعہ بار بار بلا واسطہ جنگ بندی کی پیشکش کے باوجودوہ مان نہیں رہا ہے۔ اس نے مشرق وسطیٰ کے سارے امریکی فوجی اڈوں کو تباہ کرنے کے بعد آبنائے ہر مز پر اپنا مکمل تسلط قائم کرکے اسرائیل نواز ہندوستان کی ناک دبا د دی اور اسے تیل کے لیے گہار لگانے پر مجبور کردیا ۔ کتاب حق میں اس کی حکمت یہ بتائی گئی ہے کہ: ’’توقع ہے کہ بد عہدوں کے اِس انجام سے وہ سبق لیں گے‘‘۔ جن لوگوں کو اللہ کا خوف یا گناہ کا کھٹکا نہ ہو انہیں جنگ سے باز رکھنے کے لیے عبرتناک سزا سے خوف زدہ کرنا ضروری ہے۔
امریکہ کی مذکورہ بالا بدعہدی کے جواب میں اہل ایمان کی یہ رہنمائی کی گئی ہے کہ :’’ اور اگر کبھی تمہیں کسی قوم سے خیانت کا اندیشہ ہو تو اس کے معاہدے کو علانیہ اس کے آگے پھینک دو، یقیناً اللہ خائنوں کو پسند نہیں کرتا‘‘۔ سیرت نبویﷺ میں اس آیت پر عملدرآمد کی مثال موجود ہے۔ صلح حدیبیہ میں یہ دفعہ بھی تھی کہ ہر قبیلہ محمد ﷺ یا قریش کےساتھ عہدوپیمان کرنے کے لیے آزاد ہوگا اور جو جس فریق کے ساتھ شامل ہوگا اس کا ایک حصہ سمجھاجائے گا۔ لہٰذا ایسا کوئی قبیلہ اگر کسی حملے کا شکار ہوگا تو یہ خود ااس فریق پر زیادتی تصور کی جائے گی۔ اس دفعہ کے تحت بنو خُزاعہ نے رسول اللہ ﷺ کے عہد وپیما ن کیا اور بنو بکر قریش کا حلیف بن گیا۔ دورِ جاہلیت کی دشمنی کے سبب بنو بکر کی ایک جماعت نے شعبان ۸ ھ میں بنو خزاعہ پر رات کی تاریکی میں گھات لگا کر حملہ کردیا۔ قریش اسے روکنے کے بجائے بنو بکر کے حامی بن گئے۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے اسرائیل کو روکنے کے بجائے امریکہ اس کی جارحیت میں شریک ہوگیا ۔ بنو بکر نے حرم میں الہ کی گہار لگائی توبنو خزاعہ کے سردار نوفل نے بھی نیتن یاہو کی مانند کہہ دیا:’’ بنو بکر !آج کوئی الٰہ نہیں۔ اپنا بدلہ چکا لو۔ میری عمر کی قسم ! تم لوگ حرم میں چوری کرتے ہو تو کیا حرم میں اپنا بدلہ نہیں لے سکتے‘‘۔ عَمرو بن سالم خزاعی نے رسول اللہﷺ سےقریش کے عہدشکنی کی شکایت کی اور بتایا کہ رات میں حملہ کرکے انہیں رکوع وسجود کی حالت میں قتل کیا گیا۔
امریکہ و روس سے زیادہ عقلمند تو قریش مکہ تھے کیونکہ انہیں اپنی پیمان شکنی کے سنگین انجام کا اندازہ ہوگیا اور انہوں نے اپنے سپہ سالار ابو سفیان کو نمائندہ بناکر تجدیدِ صلح کے لیے مدینہ روانہ کیا۔ ابو سفیان نے رسول اللہ ﷺ کے پاس آکر گفتگو کی مگر آپ ؐنے کوئی جواب نہیں دیا۔ اس کے بعد ابو بکر ؓ اورعمرؓ سے بھی بات نہیں بنی تو علیؓ سے گہار لگائی ۔ انہوں نے کہا : اللہ کی قسم ! میں تمہارے لیے کوئی کار آمد چیز نہیں جانتا۔ البتہ تم بنوکنانہ کے سردار ہو ، لہٰذا کھڑے ہوکر لوگوں کے درمیان امان کا اعلان کرو اورلوٹ جاؤ۔ اس کے بعد ابو سفیان نے مسجد میں کھڑے ہوکر اعلان کیا کہ لوگو! میں امان کا اعلان کررہا ہوں اوراپنے اونٹ پر سوار ہو کر مکہ چلا گیا۔ آج کل خود ٹرمپ بھی اسی طرح اپنی رسوائی کا سامان کرتا رہتا ہے۔ ابوسفیان نےقریش کے پاس پہنچ کر اپنی روداد سنائی تو لوگوں نے کہا : تیری تباہی ہو۔ اس شخص (علیؓ) نے تیرے ساتھ محض کھلواڑ کیا۔ ابو سفیان نے کہا : اللہ کی قسم! اس کے علاوہ کوئی صورت نہ بن سکی۔ ٹرمپ کے حالیہ بیان پر ایران کا یہی ردعمل ہے کہ اس کی جانب سے صلح کی پیشکش ’اپریل فول‘ سے بھی بھونڈا مذاق ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ کفارِ قریش کی اس بدعہدی نے اُس فتح مکہ کا راستہ صاف کردیا جس کی بشارت صلح حدیبیہ کے بعد اس طرح دی گئی تھی کہ : ’’ یقینا ہم نے آپ ﷺ کو ایک روشن فتح عطا فرمائی ہے۰۰۰ ( تاکہ ) اللہ آپ کی ایسی مدد کرے جو سب پر غالب آجائے ۔ ‘‘ کفار مکہ کی ایک بدعہدی سے غلبۂ اسلام کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگیا ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ حالیہ جنگ کی کامیابی بھی دین اسلام کی سربلندی کا پیش خیمہ ثابت ہو کیونکہ مشرق وسطیٰ کے امریکی نجاست سے پاک ہوجانے کے بعد آج کا مسلمان علامہ اقبال کے اس خواب کی تعبیر کھلی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے ؎
عام حُریّت کا جو دیکھا تھا خواب اسلام نے
اے مسلماں آج تُو اُس خواب کی تعبیر دیکھ
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...