Skip to content
جب بچپن جنازے اٹھانے لگے.
✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
─═✧═✧═✧═✧═─
جنگ زدہ غزّہ کی مٹی سے اٹھنے والی ایک مختصر سی ویڈیو نے درحقیقت ایک طویل اور اذیت ناک داستان کو دنیا کے سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ یہ محض چند لمحوں کا منظر نہیں، بلکہ ایک پوری نسل کے زخمی شعور کی جھلک ہے۔ ایک ایسا شعور جو ابھی مکمل طور پر پروان بھی نہیں چڑھا تھا کہ اس پر بارود، خوف اور جدائی کے گہرے نقوش ثبت ہو چکے ہیں۔ یہی پس منظر اس ویڈیو کو محض ایک واقعہ نہیں رہنے دیتا، بلکہ اسے ایک علامت بنا دیتا ہے۔ ایک ایسی علامت جو غزّہ کے بچّوں کی اندرونی دنیا کو بے نقاب کرتی ہے۔
ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک عارضی کیمپ میں موجود کم عمر بچّے اپنی گڑیا کے ساتھ کھیل رہے ہیں، مگر یہ کھیل معصوم بچپن کی روایتی شوخیوں سے یکسر مختلف ہے۔ یہاں ہنسی کی جگہ سنجیدگی نے لے لی ہے اور تخیل کی دنیا پر حقیقت کے سائے چھا گئے ہیں۔ بچّے اپنی گڑیا کو اسٹریچر پر رکھ کر جنازے کی نقل کرتے ہیں اور اس کے گرد جمع ہو کر ایک ایسا منظر ترتیب دیتے ہیں جو محض کھیل نہیں، بلکہ ان کے مشاہدے اور تجربے کا عکس معلوم ہوتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ بچّے کھیل نہیں رہے، بلکہ اپنے اردگرد بکھری ہوئی حقیقت کو دہرا رہے ہیں۔ وہی مناظر جو وہ روز دیکھتے ہیں، وہی درد جسے وہ لفظوں میں بیان نہیں کر سکتے۔ چنانچہ ان کا کھیل ایک خاموش زبان بن جاتا ہے، جو بغیر کسی شور کے ایک بڑے انسانی المیے کی کہانی سنا رہی ہے۔
بچپن فطرت کا وہ حسین اور نازک مرحلہ ہے جہاں خواب آہستہ آہستہ آنکھوں میں رنگ بھرتے ہیں، ہنسی فضا میں رس گھولتی ہے، اور کھیل زندگی کی سب سے بڑی اور سچی حقیقت بن جاتا ہے۔ یہی وہ عمر ہوتی ہے جب دنیا ایک محفوظ پناہ گاہ محسوس ہوتی ہے اور ہر شے امید اور تجسس سے لبریز دکھائی دیتی ہے۔ لیکن جب یہی بچپن جنگ کی لپیٹ میں آ جائے تو اس کی معصومیت رفتہ رفتہ تحلیل ہونے لگتی ہے۔ غزّہ کے ان بچّوں کی دنیا بھی کچھ ایسی ہی بدل چکی ہے، جہاں کھیل اب محض تفریح یا تخیل کی پرواز نہیں رہا، بلکہ ان کے اردگرد بکھری ہوئی تلخ اور سفّاک حقیقتوں کا آئینہ بن گیا ہے۔
چنانچہ وہ گڑیا، جو کبھی ماں، بہن یا کسی پیاری دوست کا روپ دھارتی تھی، اب ایک بے جان جسم کی علامت بن چکی ہے۔ وہ ننھے ہاتھ، جو کبھی محبت سے کھلونوں کو سنوارتے اور کہانیاں بُنتے تھے، اب اسٹریچر بنا کر جنازے اٹھانے کی نقل کر رہے ہیں۔ یہ تبدیلی محض کھیل کے انداز میں نہیں، بلکہ ان کے شعور کی گہرائی میں رونما ہونے والی ایک خاموش مگر ہولناک تبدیلی کی عکاس ہے۔ یوں یہ منظر محض ایک لمحاتی کیفیت نہیں رہتا، بلکہ ایک پورے داخلی کرب کی ترجمانی بن جاتا ہے۔ دل اس لیے چیر جاتا ہے کہ یہاں معصومیت اپنی اصل حالت میں جلوہ گر نہیں، بلکہ ایک زخمی اور مجروح صورت میں سامنے آتی ہے۔ ایسی صورت جس میں بچپن کی روشنی مدھم پڑ چکی ہے اور اس کی جگہ وقت سے پہلے در آئی سنجیدگی نے لے لی ہے۔
بچپن کے اس بدلتے ہوئے منظرنامے کو اگر نفسیاتی زاویے سے دیکھا جائے تو ایک اور گہری حقیقت سامنے آتی ہے۔ ماہرینِ نفسیات کے مطابق بچّوں کے کھیل محض وقت گزاری کا ذریعہ نہیں ہوتے، بلکہ وہ ان کے باطنی احساسات، تجربات اور مشاہدات کا آئینہ دار ہوتے ہیں۔ بچّہ جس ماحول میں سانس لیتا ہے، اس کی جھلک اس کے کھیل میں غیر شعوری طور پر ظاہر ہونے لگتی ہے۔ اسی تناظر میں جب کوئی بچّہ اپنے کھیل میں موت، جنازہ یا خوف جیسے عناصر کو شامل کرنے لگے تو یہ محض اتفاق نہیں ہوتا، بلکہ اس بات کا واضح اشارہ ہوتا ہے کہ اس کا ذہن کسی گہرے صدمے سے گزر رہا ہے۔ ایسا صدمہ جسے وہ لفظوں میں بیان کرنے سے قاصر ہے، مگر اپنے عمل کے ذریعے ظاہر کر رہا ہے۔
غزّہ کے یہ بچّے بھی دراصل کسی خیالی دنیا کی تشکیل نہیں کر رہے، بلکہ وہی دہرا رہے ہیں جو ان کی آنکھوں کے سامنے روزانہ وقوع پذیر ہوتا ہے: لاشوں کے سائے، زخمی جسموں کی کراہیں، بکھرتے ہوئے خاندانوں کی آہیں، اور ملبے میں تبدیل ہوتے گھر۔ یہ سب مناظر ان کے شعور میں اس قدر پیوست ہو چکے ہیں کہ کھیل کی صورت میں از خود ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ یوں ان کا کھیل ایک علامتی اظہار بن جاتا ہے۔ ایک ایسی خاموش چیخ جو سنائی تو نہیں دیتی، مگر محسوس ضرور ہوتی ہے۔ یہ ایک بے زبان احتجاج ہے، جس میں الفاظ کی جگہ مناظر بولتے ہیں اور آواز کی جگہ درد اپنی پوری شدّت کے ساتھ جلوہ گر ہوتا ہے۔
درحقیقت یہ کیفیت اس بات کی غماز ہے کہ یہ بچے اپنے دکھ کو کسی نہ کسی صورت میں خارج کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چونکہ ان کے پاس نہ تو الفاظ کی پختگی ہے اور نہ ہی جذبات کو سمجھنے اور بیان کرنے کی تربیت، اس لیے ان کا لاشعور کھیل کو ایک وسیلہ بنا لیتا ہے۔ یہی کھیل ان کے لیے ایک طرح کا نفسیاتی سہارا بھی بن جاتا ہے۔ ایک ایسا سہارا جس کے ذریعے وہ اپنے اندر جمع ہونے والے خوف، بے بسی اور کرب کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
لیکن اس کے ساتھ ہی یہ حقیقت بھی نہایت تشویش ناک ہے کہ اگر یہ کیفیت طویل عرصے تک برقرار رہے تو یہ زخم مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔ یہی خاموش چیخیں وقت کے ساتھ شخصیت کا حصّہ بن جاتی ہیں، اور ایک ایسا ذہنی بوجھ تشکیل دیتی ہیں جو مستقبل میں ان کے رویّوں، تعلقات اور زندگی کے زاویۂ نظر کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس لیے یہ منظر محض ایک لمحاتی درد نہیں، بلکہ ایک مستقل نفسیاتی المیے کی ابتداء بھی ہو سکتا ہے۔ ایک ایسا المیہ جو ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ بچّوں کے دل و دماغ کو محفوظ رکھنے کے لیے محض ہمدردی نہیں، بلکہ سنجیدہ اور فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔
کھیل میں ظاہر ہونے والی یہ خاموش چیخ دراصل کسی ایک بچّے یا چند معصوم چہروں کی کہانی نہیں، بلکہ ایک وسیع تر المیے کی علامت ہے۔ جب پورا ماحول ہی خوف، بے یقینی اور تباہی کی لپیٹ میں آ جائے تو صدمہ انفرادی نہیں رہتا، بلکہ اجتماعی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ غزّہ کی سرزمین بھی اسی اجتماعی نفسیاتی بحران یعنی Collective Trauma کی ایک دردناک مثال بن چکی ہے، جہاں مسلسل جنگ، بمباری، نقل مکانی اور عدمِ تحفّظ نے پورے معاشرے کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔ اس فضا میں پروان چڑھنے والے بچّوں کی نفسیات سب سے زیادہ متاثر ہوتی ہے، کیونکہ ان کا ذہن ابھی تشکیل کے مرحلے میں ہوتا ہے اور ہر مشاہدہ ان کی شخصیت پر گہرا نقش چھوڑتا ہے۔ جب وہ بار بار خوفناک مناظر دیکھتے ہیں تو یہ اثرات محض وقتی نہیں رہتے، بلکہ ان کی داخلی دنیا کو بدل کر رکھ دیتے ہیں۔
چنانچہ ان میں بے خوابی ایک عام کیفیت بن جاتی ہے؛ راتیں سکون کے بجائے ڈراؤنے خوابوں کی آماجگاہ بن جاتی ہیں۔ خوف اور اضطراب ان کے وجود کا مستقل حصّہ بن جاتے ہیں، یہاں تک کہ معمولی آوازیں بھی انہیں چونکا دیتی ہیں۔ رفتہ رفتہ ہنسی کی جگہ سنجیدگی لے لیتی ہے اور کھیل، جو کبھی زندگی کی علامت تھا، اپنی فطری شادابی کھو بیٹھتا ہے۔ سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ زندگی کے بارے میں ان کا بنیادی تصور ہی مسخ ہونے لگتا ہے۔ جہاں انہیں محبت، تحفّظ اور امید کا سبق ملنا چاہیے تھا، وہاں انہیں موت، جدائی اور بے بسی کا سامنا ہے۔ اس طرح ان کا ذہن دنیا کو ایک غیر محفوظ اور خوفناک مقام کے طور پر قبول کرنے لگتا ہے۔
یوں یہ زخم محض جسمانی نہیں رہتے، بلکہ روح کی گہرائیوں میں اتر جاتے ہیں۔ ایسے زخم جو بظاہر نظر نہیں آتے، مگر اپنی شدّت میں کہیں زیادہ گہرے ہوتے ہیں۔ وقت کے ساتھ یہ اثرات صرف ایک فرد تک محدود نہیں رہتے، بلکہ نسل در نسل منتقل ہوتے ہیں، اور ایک پورے معاشرے کی اجتماعی نفسیات کو متاثر کرتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں یہ مسئلہ ایک انسانی المیے سے بڑھ کر ایک تہذیبی اور اخلاقی بحران کی شکل اختیار کر لیتا ہے، جو دنیا کو یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ اگر ایک نسل ہی اندر سے ٹوٹ جائے تو مستقبل کس بنیاد پر استوار ہوگا۔
اجتماعی صدمے کی یہ تصویر جب اپنے تمام تر کرب کے ساتھ سامنے آتی ہے تو وہ محض ایک انسانی المیہ نہیں رہتی، بلکہ ایک گہرا اخلاقی سوال بن کر ابھرتی ہے۔ ایسا سوال جو سرحدوں، زبانوں اور نظریات سے ماورا ہو کر پوری انسانیت کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔ یہ ویڈیو کسی ایک لمحے کی عکاسی نہیں، بلکہ ہمارے عہد کی اخلاقی حالت کا آئینہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے دیکھ کر دل میں ایک بے ساختہ سوال جنم لیتا ہے: کیا ہم واقعی ایک مہذب دنیا میں جی رہے ہیں؟ کیا ترقی، تہذیب اور انسانی حقوق کے بلند دعوے اس وقت بھی معنی رکھتے ہیں جب معصوم بچّوں کے کھیل میں جنازے شامل ہو جائیں؟ درحقیقت جب بچپن جیسی مقدّس اور معصوم فضا میں موت اور ماتم در آتے ہیں، تو یہ مسئلہ کسی ایک خطے یا قوم تک محدود نہیں رہتا، بلکہ پوری انسانیت کی اجتماعی ناکامی کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔
یہ منظر ہمیں ایک آئینے کے سامنے لا کھڑا کرتا ہے، جہاں ہمیں اپنے چہروں کے ساتھ ساتھ اپنے ضمیر کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ چنانچہ یہ لمحہ ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم رک کر سوچیں، اپنے رویّوں کا جائزہ لیں، اور اپنے اجتماعی ضمیر کا محاسبہ کریں۔ کیا واقعی ہم نے انسانی اقدار کو پسِ پشت ڈال دیا ہے؟ کیا رحم، انصاف اور ہمدردی جیسے اصول محض کتابی باتیں بن کر رہ گئے ہیں؟ یا پھر ہم نے لاشعوری طور پر ایک ایسی دنیا کو قبول کر لیا ہے جہاں سیاست، طاقت اور مفادات کے ترازو میں معصومیت کی قیمت بھی طے کی جانے لگی ہے؟ یہ سوالات آسان نہیں، مگر ان سے فرار ممکن بھی نہیں۔ کیونکہ جب تک ان کا سامنا نہیں کیا جائے گا، تب تک نہ صرف یہ المیے جاری رہیں گے بلکہ انسانیت کا اخلاقی وجود بھی رفتہ رفتہ کمزور پڑتا جائے گا۔
ان تلخ حقیقتوں اور کربناک مناظر کے باوجود، انسانی تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ تاریکی کبھی دائمی نہیں ہوتی۔ ہر اندھیری رات کے دامن میں کسی نہ کسی صبح کی کرن پوشیدہ ہوتی ہے۔ اسی لیے یہ ضروری ہے کہ ہم اس المیے کو محض نوحہ بننے نہ دیں، بلکہ اسے اصلاح اور تعمیر کا نقطۂ آغاز بنائیں۔ چنانچہ سب سے پہلی اور فوری ضرورت بچّوں کی نفسیاتی بحالی کی ہے۔ یہ بچے محض جسمانی نہیں، بلکہ گہرے ذہنی اور جذباتی زخموں کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ انہیں ایک ایسا محفوظ ماحول فراہم کرنا ناگزیر ہے جہاں خوف کی جگہ اعتماد لے، اور بے یقینی کی جگہ سکون پیدا ہو۔ ماہرین کی نگرانی میں مشاورت، محبت بھرا برتاؤ، اور احساسِ تحفّظ ان کی ٹوٹی ہوئی داخلی دنیا کو دوبارہ جوڑنے میں بنیادی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
اسی کے ساتھ تعلیم اور مثبت سرگرمیوں کو فروغ دینا بھی نہایت اہم ہے۔ تعلیم صرف علم کا حصول نہیں، بلکہ ذہن کی تشکیل اور شخصیت کی تعمیر کا ذریعہ ہوتی ہے۔ جب بچّوں کو تخلیقی سرگرمیوں جیسے کہانی نویسی، مصوری، کھیل اور اجتماعی مشقوں کی طرف مائل کیا جائے گا تو ان کا ذہن خوف اور صدمے کی گرفت سے نکل کر امید، تخلیق اور تعمیر کی سمت بڑھنے لگے گا۔ یہ مسئلہ محض ایک خطے تک محدود نہیں، اس لیے عالمی سطح پر بیداری پیدا کرنا بھی ناگزیر ہے۔ دنیا کے بااثر حلقوں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور باشعور افراد کو اس درد کو محسوس کرتے ہوئے اپنی آواز بلند کرنی چاہیے، تاکہ ایسے المیوں کا سدِّباب ہو سکے اور انسانی حقوق کا حقیقی تحفّظ ممکن بنایا جا سکے۔
ہمدردی کو محض جذباتی اظہار تک محدود رکھنے کے بجائے اسے عملی اقدامات میں ڈھالنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ امدادی سرگرمیاں، تعلیمی منصوبے، نفسیاتی معاونت، اور امن کے لیے اجتماعی کوششیں، یہ سب وہ عملی راستے ہیں جن کے ذریعے ہم اس تاریکی میں امید کی شمع روشن کر سکتے ہیں۔ یوں جب احساس، شعور اور عمل یکجا ہو جائیں تو مایوسی کے گہرے سائے بھی چھٹنے لگتے ہیں، اور ایک ایسا راستہ روشن ہوتا ہے جو نہ صرف ان بچّوں کے مستقبل کو سنوار سکتا ہے بلکہ پوری انسانیت کو ایک بہتر سمت کی طرف لے جا سکتا ہے۔
ان تمام مناظر، کیفیات اور سوالات کے پس منظر میں اگر غور کیا جائے تو غزّہ کے ان بچوں کا یہ کھیل محض ایک وقتی منظر نہیں رہتا، بلکہ ایک گہرا اور بامعنی پیغام بن کر سامنے آتا ہے۔ ایسا پیغام جو الفاظ کا محتاج نہیں، مگر اپنے اثر میں انتہائی واضح اور فیصلہ کن ہے۔ درحقیقت یہ خاموش منظر ہمیں یہ باور کراتا ہے کہ جنگ کی تباہ کاری صرف عمارتوں، سڑکوں یا زمینوں تک محدود نہیں ہوتی، بلکہ اس کے اثرات انسانی ذہن، معصوم خوابوں اور آنے والے کل تک پھیل جاتے ہیں۔ یہ بچّوں کے تخیل کو بدل دیتی ہے، ان کی معصومیت کو مجروح کرتی ہے، اور مستقبل کی بنیادوں کو کمزور کر دیتی ہے۔
یوں یہ ویڈیو صرف آنکھوں کو نم نہیں کرتی، بلکہ ضمیر کو بیدار بھی کرتی ہے۔ یہ ہمیں جھنجھوڑ کر یہ احساس دلاتی ہے کہ محض افسوس اور ہمدردی کافی نہیں، بلکہ ایک بامقصد بیداری اور ذمّہ دارانہ کردار کی ضرورت ہے۔ اس لمحے میں ایک غیر محسوس تنبیہ پوشیدہ ہے۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم وقتی جذبات میں آنسو تو بہا دیں، مگر اپنی عملی زندگی میں کوئی تبدیلی نہ لائیں۔
چنانچہ یہ منظر ہمیں اپنے اندر جھانکنے کی دعوت دیتا ہے: ہم کہاں کھڑے ہیں؟ ہمارا کردار کیا ہے؟ اور ہم اس المیے کے مقابلے میں کیا کر رہے ہیں؟
کیونکہ حقیقت یہی ہے کہ اگر بچّوں کا بچپن غیر محفوظ ہو جائے، اگر ان کے خواب خوف کی نذر ہو جائیں، اور اگر ان کی ہنسی ماتم میں بدل جائے، تو پھر انسانیت کا مستقبل بھی غیر محفوظ ہو جاتا ہے۔ اس لیے یہ خاموش پیغام دراصل ایک پکار ہے۔ انسانیت کو بچانے کی، معصومیت کو سنبھالنے کی، اور ایک ایسے مستقبل کی تعمیر کی جس میں بچّے دوبارہ بے خوف ہو کر کھیل سکیں۔ اور شاید اسی میں اس منظر کا سب سے گہرا سبق پوشیدہ ہے: کہ دنیا کی سب سے بڑی ذمّہ داری سرحدوں کی حفاظت نہیں، بلکہ بچپن کی حفاظت ہے۔ کیونکہ جب بچپن سلامت رہتا ہے تو انسانیت زندہ رہتی ہے، اور جب بچپن ہی زخمی ہو جائے تو تہذیبیں بھی اپنے معنی کھو بیٹھتی ہیں۔
🗓 (02.04.2026)
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...