Skip to content
🏏 کرکٹ کو کھیل ہی رہنے دو جنون نہ بناؤ
کھیل کود کے اسلامی حدود اور حقوق واجبہ سے دوری اور اسکے لئے ضروری اقدامات
از قلم: مفتی محمد عبدالحمید شاکر قاسمی
جامعہ عربیہ توپران ضلع میدک تلنگانہ
انسانی زندگی محض کھیل تماشہ نہیں بلکہ ایک عظیم امانت اور ذمہ داری ہے جس کا ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہے۔ جب انسان اس حقیقت کو بھول جاتا ہے تو اس کی زندگی کا رخ بدل جاتا ہے اور وہ معمولی چیزوں کو اپنی ترجیحات کا مرکز بنا لیتا ہے۔ قرآن مجید نے نہایت بلیغ انداز میں اس حقیقت کو بیان فرمایا: أَفَحَسِبْتُمْ أَنَّمَا خَلَقْنَاكُمْ عَبَثًا (المؤمنون: 115) یعنی کیا تم نے یہ سمجھ لیا ہے کہ ہم نے تمہیں بے مقصد پیدا کیا ہے؟ اسی طرح فرمایا: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الذاریات: 56) کہ انسان کی تخلیق کا مقصد صرف عبادت ہے۔ لیکن افسوس کہ آج کا انسان خصوصاً نوجوان طبقہ ایسے مشاغل میں مبتلا ہو چکا ہے جو نہ صرف اس کے وقت کو ضائع کرتے ہیں بلکہ اس کے دین و دنیا دونوں کے لیے نقصان دہ ہیں، اور انہی میں ایک بڑا فتنہ کرکٹ کا جنون ہے۔
دنیا کی حقیقت کو سمجھنا ہر انسان کے لیے ضروری ہے کیونکہ جب تک حقیقت واضح نہ ہو ترجیحات درست نہیں ہوتیں۔ قرآن مجید فرماتا ہے: وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا لَعِبٌ وَلَهْوٌ (الأنعام: 32) یعنی دنیا کی زندگی محض کھیل اور تماشا ہے۔ یہاں "لہو” اس چیز کو کہا گیا ہے جو انسان کو اصل مقصد سے غافل کر دے۔ مفسرین نے لکھا کہ ہر وہ مشغلہ جو اللہ کی یاد سے دور کرے وہ لہو ہے۔ آج کرکٹ اسی تعریف میں داخل ہوتا دکھائی دیتا ہے کیونکہ یہ انسان کو نماز، ذکر اور ذمہ داریوں سے غافل کر دیتا ہے اور آہستہ آہستہ اس کے دل پر قبضہ کر لیتا ہے۔
یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہیے کہ اسلام فطرت کے خلاف نہیں بلکہ اعتدال کا دین ہے، اس نے کھیل کود کو مکمل طور پر منع نہیں کیا بلکہ اس کے لیے حدود مقرر کی ہیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں آتا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان کے ساتھ دوڑ لگائی (ابو داود: 2578) جس سے معلوم ہوتا ہے کہ جسمانی سرگرمی جائز ہے، مگر فقہاء نے یہ قاعدہ بیان کیا کہ اگر یہی کھیل اللہ کی اطاعت سے غافل کر دے تو وہ مذموم ہو جاتا ہے۔ اس لیے اصل مسئلہ کھیل نہیں بلکہ اس کا حد سے بڑھ جانا ہے۔
ابتداء میں کرکٹ ایک کھیل تھا لیکن اب یہ ایک کلچر، ایک ذہنیت اور ایک جنون بن چکا ہے۔ جب کوئی چیز انسان کے دل و دماغ پر اس قدر غالب آ جائے کہ وہ اس کے بغیر بے چین ہو جائے تو وہ محض مشغلہ نہیں رہتی بلکہ ایک نفسیاتی غلامی بن جاتی ہے۔ آج کرکٹ کا حال یہی ہے کہ انسان اپنے اوقات، اپنی ترجیحات اور اپنی ذمہ داریوں کو اس کے تابع کر دیتا ہے۔
ہر دور میں فتنوں کے پھیلنے کے اسباب ہوتے ہیں اور آج کے دور میں کرکٹ کے فروغ کا سب سے بڑا ذریعہ میڈیا ہے۔ میڈیا نے اسے اس انداز میں پیش کیا ہے کہ گویا یہ زندگی کا لازمی حصہ ہے۔ قرآن مجید فرماتا ہے: وَمِنَ النَّاسِ مَن يَشْتَرِي لَهْوَ الْحَدِيثِ (لقمان: 6) مفسرین نے "لہو الحدیث” کی تفسیر ہر اس چیز سے کی ہے جو انسان کو اللہ کے راستے سے ہٹا دے، اور آج کے میچز، کمنٹری اور تجزیے اسی کا مصداق ہیں۔
کرکٹ کے ساتھ جڑے اشتہارات ایک الگ فتنہ ہیں جو آہستہ آہستہ انسان کے دل کو متاثر کرتے ہیں۔ ان میں بے پردگی، موسیقی اور غیر اسلامی طرزِ زندگی کو خوبصورت بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ قرآن مجید فرماتا ہے: إِنَّ الَّذِينَ يُحِبُّونَ أَن تَشِيعَ الْفَاحِشَةُ فِي الَّذِينَ آمَنُوا (النور: 19) یعنی جو لوگ چاہتے ہیں کہ بے حیائی پھیلے ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ اس لیے صرف دیکھنا بھی خطرے سے خالی نہیں۔
انسان کی سب سے قیمتی چیز اس کا وقت ہے، اور یہی سب سے زیادہ ضائع ہو رہا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: لا تزول قدما عبد يوم القيامة حتى يسأل عن عمره فيما أفناه (ترمذی: 2416) یعنی قیامت کے دن انسان سے اس کی عمر کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ ایک میچ کے کئی گھنٹے اور پورے سلسلے کے کئی دن صرف ہو جاتے ہیں، جو کہ ایک عظیم خسارہ ہے۔ امام حسن بصریؒ فرماتے ہیں کہ انسان دنوں کا مجموعہ ہے، ہر دن کے گزرنے سے اس کا ایک حصہ ختم ہو جاتا ہے۔
تعلیم کا نقصان ایک ایسا المیہ ہے جو خاموشی سے پوری نسل کو متاثر کر رہا ہے۔ آج کا طالب علم کھلاڑیوں کے نام، رنز اور ریکارڈ تو یاد رکھتا ہے لیکن اپنے اسباق اور قرآن سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ یہ وہ نقصان ہے جو وقتی طور پر محسوس نہیں ہوتا مگر مستقبل کو تباہ کر دیتا ہے۔
والدین کے حقوق کو اسلام نے بہت بلند مقام دیا ہے، مگر افسوس کہ آج اس تعلق میں بھی کمزوری آ رہی ہے۔ قرآن کہتا ہے: وَلَا تَقُل لَّهُمَا أُفٍّ (الإسراء: 23) جب "اف” کہنا بھی منع ہے تو ان کی بات کو نظر انداز کرنا کس قدر بڑی نافرمانی ہے۔ کرکٹ کے دوران والدین کی آواز کو نظر انداز کرنا ایک عام بات بن چکی ہے۔
کھلاڑیوں کی اندھی تقلید ایک فکری انحطاط کی علامت ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: من تشبه بقوم فهو منهم (ابو داود: 4031) آج نوجوان کھلاڑیوں کے لباس، انداز اور طرزِ زندگی کو اپناتے ہیں، جس سے ان کی اپنی شناخت متاثر ہوتی ہے اور دلوں میں غلط محبت پیدا ہوتی ہے۔
کرکٹ کے دوران جذباتی ردعمل بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ چیخنا، گالیاں دینا، لڑنا اور تعصب اختیار کرنا عام ہو چکا ہے، حالانکہ نبی ﷺ نے فرمایا: سباب المسلم فسوق (بخاری: 48) یعنی مسلمان کو گالی دینا فسق ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ رویہ ایمان کے خلاف ہے۔
صحت کے حوالے سے بھی یہ جنون نقصان دہ ہے۔ رات بھر جاگنا، مسلسل اسکرین دیکھنا اور ذہنی دباؤ صحت کو متاثر کرتا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا: إن لنفسك عليك حقاً (بخاری: 5199) یعنی تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے۔
جب کوئی چیز انسان کے دل پر حاوی ہو جائے تو وہ اس کا غلام بن جاتا ہے۔ قرآن مجید فرماتا ہے: أَرَأَيْتَ مَنِ اتَّخَذَ إِلَٰهَهُ هَوَاهُ (الجاثیہ: 23) یعنی جس نے اپنی خواہش کو اپنا معبود بنا لیا۔ کرکٹ کا جنون اسی کیفیت کو ظاہر کرتا ہے جہاں انسان اپنی خواہشات کا تابع ہو جاتا ہے۔
اسلام انسان کو بامقصد زندگی سکھاتا ہے اور فضولیات سے دور رہنے کی تلقین کرتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: من حسن إسلام المرء تركه ما لا يعنيه (ترمذی: 2317) یعنی انسان کے اچھے اسلام میں سے ہے کہ وہ غیر ضروری چیزوں کو چھوڑ دے۔
سلف صالحین نے وقت کی قدر کو بہت اہمیت دی ہے۔ حضرت عمرؓ فرماتے ہیں کہ وہ ایسے شخص کو ناپسند کرتے ہیں جو فارغ ہو، امام شافعیؒ فرماتے ہیں کہ وقت تلوار ہے، اور ابن القیمؒ فرماتے ہیں کہ وقت کا ضیاع موت سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ یہ اقوال ہمیں جھنجھوڑتے ہیں کہ ہم اپنی زندگی کو کس میں لگا رہے ہیں۔
یہاں پر ایک اور امر کو واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ کھیل دیکھنا اپنی اصل میں ایک مباح اور فطری امر ہے، اور جب کوئی ٹیم اپنے وطن یا صوبے کی نمائندگی کرتے ہوئے میدان میں اترتی ہے تو ایک فطری خوشی اور وابستگی کا پیدا ہونا بھی قابلِ فہم ہے۔ انسان اپنے علاقے، قوم یا ملک کے نمائندوں کی کامیابی پر خوش ہوتا ہے، اور یہ خوشی ایک حد تک جائز اور انسانی جذبہ ہے۔ اگر کوئی کھلاڑی اپنی محنت، نظم اور صلاحیت کے ذریعے ملک یا صوبے کا نام روشن کر رہا ہے تو اس کی قدر اپنی جگہ ہے، اور اس کی کامیابی پر دل کا خوش ہونا بھی ایک فطری کیفیت ہے جس میں شرعاً کوئی قباحت نہیں۔
لیکن مسئلہ وہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں یہ فطری خوشی ایک غیر متوازن وابستگی اور حد سے بڑھے ہوئے انہماک میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ جب انسان کھیل کو دیکھنے والا نہیں رہتا بلکہ اس میں ڈوب جاتا ہے، جب اس کا دل و دماغ اسی میں اس قدر مشغول ہو جائے کہ وہ اپنے اصل مقاصد، ذمہ داریوں اور فرائض کو بھول بیٹھے، تو یہی جائز چیز ناپسندیدہ بلکہ بعض اوقات گناہ کا سبب بن جاتی ہے۔ یہ کیفیت دراصل ایک طرح کی غفلت اور بے فکری ہے جس میں انسان اپنی حقیقت سے دور ہو جاتا ہے۔
آج عام طور پر یہ دیکھا جاتا ہے کہ لوگ میچ شروع ہونے سے کئی گھنٹے پہلے ہی اپنے تمام کام چھوڑ کر اس کے لیے فارغ ہو جاتے ہیں، کاروبار کو مؤخر کر دیتے ہیں، ملازمت میں کوتاہی برتتے ہیں، بعض اوقات ڈیوٹی کے اوقات میں بھی اسکور دیکھتے رہتے ہیں یا میچ کی مصروفیت میں اپنے فرائض سے غفلت برتتے ہیں۔ یہ طرزِ عمل نہ صرف شرعاً ناپسندیدہ ہے بلکہ دیانت اور امانت کے خلاف بھی ہے، کیونکہ ملازمت اور کاروبار دونوں ایک ذمہ داری ہیں جن میں خیانت کی اجازت نہیں۔
اسی طرح سفر کے دوران بھی کرکٹ کے اسکور میں اس قدر انہماک ہو جانا کہ انسان اپنی جان اور دوسروں کی جان کو خطرے میں ڈالے ہیں ڈرائیونگ کے دوران اسکور دیکھنا یا میچ میں ذہنی طور پر اس قدر کھو جانا کہ توجہ سڑک سے ہٹ جائے، یہ صرف ایک غفلت نہیں بلکہ ایک ممکنہ حادثے کا سبب ہے، اور شریعت میں اپنی جان کو خطرے میں ڈالنا جائز نہیں۔
سب سے زیادہ تشویشناک پہلو عبادات کے ساتھ اس وابستگی کا ٹکراؤ ہے۔ بعض لوگ کرکٹ کے لیے نماز کو جلدی جلدی ادا کرتے ہیں، خشوع و خضوع کو ختم کر دیتے ہیں، یا نماز کے دوران ہی اسکور دیکھنے کی فکر میں مبتلا رہتے ہیں۔ یہ رویہ اس بات کی علامت ہے کہ دل میں ترجیحات بدل چکی ہیں۔ نماز جو کہ بندے اور اللہ کے درمیان سب سے اہم تعلق ہے، اگر وہ بھی کھیل کے تابع ہو جائے تو یہ ایمان کے لیے خطرے کی علامت ہے۔ قرآن مجید میں فرمایا گیا: فَوَيْلٌ لِّلْمُصَلِّينَ الَّذِينَ هُمْ عَن صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ (الماعون: 4-5) یعنی ان نمازیوں کے لیے ہلاکت ہے جو اپنی نماز سے غافل ہیں
درحقیقت اعتدال ہی اصل مطلوب ہے۔ کھلاڑی اپنی ذمہ داری ادا کر رہے ہیں، وہ اپنی ڈیوٹی پر ہیں، ان کی محنت اپنی جگہ، ان کی کامیابی اپنی جگہ، مگر دیکھنے والے کے لیے بھی ایک حد ہونی چاہیے۔ اس حد سے تجاوز کرنا انسان کو اس مقام تک لے جاتا ہے جہاں وہ اپنی اصل ذمہ داریوں سے غافل ہو جاتا ہے۔
لہٰذا ضروری ہے کہ انسان اپنے آپ کو قابو میں رکھے، اپنے مشاغل کو اپنی ذمہ داریوں کے تابع رکھے، نہ کہ ذمہ داریوں کو مشاغل کے تابع کرے۔ کھیل کو کھیل کی حد تک رکھا جائے، اس سے لطف لیا جائے مگر اس میں اس حد تک نہ ڈوبا جائے کہ انسان اپنی عبادت، اپنے والدین، اپنے کام اور اپنے مقصدِ زندگی کو بھول جائے۔ یہی اعتدال شریعت کا تقاضا ہے اور یہی ایک مومن کی پہچان ہے۔
اصلاح کا راستہ یہی ہے کہ انسان شعور حاصل کرے، اپنے وقت کی حفاظت کرے، نماز کو مقدم رکھے، غیر ضروری مشاغل کو محدود کرے اور اپنی زندگی کو دین کے مطابق ڈھالے۔
خلاصہ یہ ہے کہ کرکٹ بذاتِ خود حرام نہیں لیکن جب یہ عبادت میں رکاوٹ بنے، وقت کو ضائع کرے، اخلاق کو بگاڑے اور انسان کو اپنی اصل ذمہ داریوں سے دور کر دے تو یہ ایک خطرناک فتنہ بن جاتا ہے۔ ایک مسلمان کی کامیابی اس میں نہیں کہ وہ کھیلوں کے نتائج یاد رکھے بلکہ اس میں ہے کہ وہ اپنے اعمال کو درست کرے اور اپنی آخرت کو سنوارے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں لایعنی مشاغل سے بچنے، وقت کی قدر کرنے اور اپنی زندگی کو دین کے مطابق گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...