Skip to content
مردم شماری 2027: شناخت کی جنگ یا خاموش خود سپردگی
ازقلم: (حافظ)افتخاراحمدقادری
ملک کی سیاست جب نازک ترین موڑ پر کھڑی ہو، اقتدار کے ایوانوں میں فیصلے صرف فائلوں اور اعداد و شمار کی بنیاد پر صادر ہو رہے ہوں، قوموں کی حیثیت کا تعین ان کی عملی قوت کے بجائے اندراجی وجود سے کیا جا رہا ہو تو ایسے وقت میں مردم شماری جیسا عمل سرکاری کارروائی نہیں بلکہ ایک فیصلہ کن سیاسی معرکہ بن جاتا ہے۔ مردم شماری 2027 کا اعلان اسی پس منظر میں ایک ایسا مرحلہ ہے جسے اگر سنجیدگی و بصیرت اور اجتماعی شعور کے ساتھ نہ لیا گیا تو اس کے نتائج آنے والی نسلوں کے لیے ایک مستقل محرومی، بے وزنی اور سیاسی بے دخلی کی صورت اختیار کر سکتے ہیں۔ یہ امر کسی سے مخفی نہیں کہ موجودہ سیاسی فضا میں ہر پالیسی و منصوبہ اور ہر حکومتی اقدام درحقیقت طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے یا اسے تبدیل کرنے کا ذریعہ ہوتا ہے۔ ایسے میں مردم شماری وہ بنیاد ہے جس پر پورا سیاسی ڈھانچہ استوار ہوتا ہے۔ حلقہ بندیوں کی ترتیب ہو یا پارلیمانی نمائندگی کا تعین، ترقیاتی بجٹ کی تقسیم ہو یا تعلیمی اداروں کا قیام، ہر چیز اسی مردم شماری کے اعداد و شمار سے جڑی ہوئی ہے۔ گویا یہ ایسا خاموش آئینہ ہے جس میں ہر قوم کی اصل حیثیت جھلکتی ہے اور جس کی روشنی میں اس کے مستقبل کے فیصلے کیے جاتے ہیں۔ بدقسمتی سے معاشرے میں اس بنیادی حقیقت کا ادراک نہایت کمزور ہے۔ مسلمان جو اس ملک کی ایک بڑی اور با اثر آبادی ہیں اکثر اس مرحلے کو ایک معمولی سرکاری عمل سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں۔ یہ غفلت دراصل ایک سنگین سیاسی کوتاہی ہے کیونکہ جب آپ خود اپنے وجود کو صحیح طور پر درج نہیں کرواتے تو آپ دوسروں کو یہ موقع فراہم کرتے ہیں کہ وہ آپ کی حیثیت کو کم تر دکھائیں۔ مردم شماری میں کمی یا غلط اندراج دراصل اپنی ہی طاقت کو کمزور کرنے کے مترادف ہے اور اس کا خمیازہ صرف آج نہیں بلکہ آنے والی نسلیں بھی بھگتتی ہیں۔ یہاں یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ مردم شماری کے اعداد و شمار ایک وقتی دستاویز نہیں ہوتے بلکہ یہ آنے والے کئی برسوں کے لیے پالیسی سازی کی بنیاد بن جاتے ہیں۔ اگر کسی علاقے میں مسلمانوں کی تعداد کم ظاہر ہو جائے تو وہاں کے مسائل کو نظر انداز کرنا آسان ہو جاتا ہے، وہاں تعلیمی اداروں کی کمی کو جواز مل جاتا ہے، ترقیاتی کاموں کی رفتار سست ہو جاتی ہے اور رفتہ رفتہ وہ علاقہ پسماندگی کا شکار ہو جاتا ہے یوں ایک معمولی سی غفلت پورے معاشرے کو زوال کی طرف دھکیل دیتی ہے۔
اس صورتحال میں سب سے زیادہ تشویشناک پہلو اردو زبان کا ہے جو مسلمانوں کی تہذیبی شناخت کا سب سے نمایاں ستون ہے۔ اردو صرف اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک مکمل تہذیب، تاریخ اور ایک فکری روایت کی امین ہے۔ مگر افسوس کہ مردم شماری کے دوران یا تو اسے دانستہ نظر انداز کیا جاتا ہے یا خود مسلمان اپنی سہولت، لاعلمی یا بے حسی کے باعث اپنی مادری زبان کے خانے میں اردو کے بجائے کوئی اور زبان درج کروا دیتے ہیں۔ یہ طرز عمل دراصل اپنی ہی تہذیبی بنیادوں کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔ جب مردم شماری میں اردو بولنے والوں کی تعداد کم ظاہر کی جاتی ہے تو اس کے اثرات نہایت گہرے اور دور رس ہوتے ہیں۔ سرکاری سطح پر اردو کی اہمیت کم کر دی جاتی ہے، اردو اسکولوں کو غیر ضروری قرار دے کر بند کیا جاتا ہے، اساتذہ کی تقرریوں میں کمی آتی ہے اور زبان کی ترقی کے لیے مختص فنڈز میں کٹوتی کی جاتی ہے۔ یوں ایک زندہ اور متحرک زبان کو بتدریج حاشیے پر دھکیل دیا جاتا ہے اور اس کا وجود خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ یاد رکھیں کہ یہ صرف لسانی مسئلہ نہیں بلکہ ایک مکمل سیاسی و تہذیبی بحران ہے۔ کیونکہ جب کسی قوم کی زبان کمزور ہوتی ہے تو اس کی شناخت بھی کمزور ہو جاتی ہے اور جب شناخت کمزور ہو جائے تو اس کے حقوق کا دفاع کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ اس لیے یہ انتہائی ضروری ہے کہ مسلمان مردم شماری کے دوران اپنی مادری زبان کے خانے میں واضح طور پر "اردو” درج کروائیں اور اس معاملے میں کسی قسم کی لاپرواہی یا مصلحت کا شکار نہ ہوں۔ اس حساس مرحلے پر آئمہ مساجد کا کردار نہایت اہم ہو جاتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں آج بھی مساجد صرف عبادت گاہیں نہیں بلکہ سماجی و فکری رہنمائی کے مراکز ہیں۔ عوام الناس اپنے آئمہ کی بات کو نہ صرف سنتے ہیں بلکہ اسے سنجیدگی سے لیتے بھی ہیں۔ ایسے میں یہ ایک عظیم ذمہ داری ہے کہ آئمہ کرام اپنے خطبات میں مردم شماری کی اہمیت کو اجاگر کریں، لوگوں کو اس کے سیاسی و سماجی اثرات سے آگاہ کریں اور انہیں اس بات کی تلقین کریں کہ وہ اپنے اندراج کے وقت پوری احتیاط اور شعور کا مظاہرہ کریں۔ یہ کام صرف ایک نصیحت نہیں بلکہ ایک اجتماعی بیداری کی تحریک ہونا چاہیے۔ ہر مسجد، محلہ اور ہر بستی میں یہ پیغام پہنچنا چاہیے کہ مردم شماری میں صحیح اندراج دراصل اپنے حقوق کے تحفظ کی پہلی سیڑھی ہے۔ اگر ہم نے اس موقع کو ضائع کر دیا تو پھر شکایت کا کوئی جواز باقی نہیں رہے گا۔ اگر مسلمان اس مرحلے پر غفلت کا شکار ہوگئے تو اس کے نتائج نہایت بھیانک ہوں گے۔ ان کی سیاسی نمائندگی مزید کمزور ہو جائے گی، ان کے مسائل کو سنجیدگی سے نہیں لیا جائے گا، ان کے علاقوں کو ترقیاتی منصوبوں سے محروم رکھا جائے گا اور ان کی زبان و ثقافت کو بتدریج ختم کرنے کی راہ ہموار ہو جائے گی۔ یہ ایک ایسا زوال ہوگا جو خاموشی سے وقوع پذیر ہوگا مگر اس کے اثرات نہایت گہرے اور دیرپا ہوں گے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جو قومیں اپنی شناخت کے تحفظ میں غفلت برتتی ہیں وہ نہ صرف اپنے حقوق سے محروم ہو جاتی ہیں بلکہ اپنی پہچان بھی کھو دیتی ہیں۔ آج کا دور وہ نہیں ہے جہاں طاقت کا اظہار صرف میدان جنگ میں ہوتا ہو بلکہ آج کی جنگ اعداد و شمار، پالیسیوں اور بیوروکریٹک فیصلوں کے ذریعے لڑی جا رہی ہے اور اس جنگ میں وہی قوم کامیاب ہوتی ہے جو اپنے وجود کو منظم و مستحکم اور واضح انداز میں پیش کرتی ہے۔ لہٰذا! یہ وقت ہے کہ مسلمانانِ ہند خواب غفلت سے بیدار ہوں، اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور مردم شماری 2027 کو ایک سنجیدہ قومی فریضہ کے طور پر لیں۔ ہر فرد اس بات کو یقینی بنائے کہ اس کا اندراج درست ہو، اس کے خاندان کی مکمل معلومات درج ہوں اور اس کی مادری زبان کے خانے میں اردو واضح طور پر لکھوائی جائے کیونکہ یہ کوئی معمولی عمل نہیں بلکہ ایک ایسی سیاسی جد وجہد ہے جو خاموشی سے لڑی جا رہی ہے اور یاد رکھیے! اس جد وجہد میں جو قومیں خاموش رہتی ہیں تاریخ انہیں ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیتی ہے۔ اس لیے مردم شماری 2027 کو اگر ایک انتظامی عمل سمجھ لیا گیا تو یہ اس عہد کی سب سے بڑی فکری لغزش ہوگی کیونکہ دور حاضر کی سیاست میں طاقت کا سر چشمہ صرف اقتدار کے ایوان نہیں بلکہ وہ خاموش اعداد و شمار ہیں جو پالیسیوں کی روح اور فیصلوں کی بنیاد بنتے ہیں۔ آج کی دنیا میں وہی قوم معتبر سمجھی جاتی ہے جو اپنے وجود کو نہ صرف محسوس کروائے بلکہ اسے مستند اور ناقابلِ تردید انداز میں ثبت بھی کروائے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں مردم شماری رسمی کارروائی سے نکل کر فیصلہ کن سیاسی و تہذیبی معرکہ بن جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جدید جمہوری نظام کی بنیاد نمائندگی پر قائم ہے اور نمائندگی کا دار و مدار تعداد پر ہوتا ہے۔ تعداد اگر کم ظاہر ہو تو آواز بھی مدھم پڑ جاتی ہے اور جب آواز کمزور ہو جائے تو اس کے اثرات صرف ایوانوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ معاشرے کے ہر شعبے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتے ہیں۔ ترقیاتی منصوبے ہوں یا وسائل کی تقسیم، تعلیمی اداروں کا قیام ہو یا صحت کی سہولیات کی فراہمی، سب کچھ اسی پیمانے سے ناپا جاتا ہے جو مردم شماری کے ذریعے متعین ہوتا ہے۔ گویا یہ ایک ایسا خاموش میزان ہے جس میں قوموں کے وزن کا تعین کیا جاتا ہے اور جس کے نتائج برسوں تک ان کی تقدیر پر اثر انداز ہوتے رہتے ہیں۔ کیوں کہ سیاست اب نظریات کی جنگ نہیں رہی بلکہ مفادات کے توازن کا کھیل بن چکی ہے۔ ایسے میں ہر وہ طبقہ جو اپنے وجود کو کمزور انداز میں پیش کرتا ہے خود بخود اس کھیل میں پیچھے رہ جاتا ہے۔ مردم شماری کے مرحلے پر غفلت دراصل اسی کمزوری کی علامت ہے، ایک ایسی کمزوری جو بظاہر وقتی معلوم ہوتی ہے مگر اس کے اثرات نسلوں تک پھیل جاتے ہیں۔ جب کسی علاقے کی آبادی کم ظاہر کی جاتی ہے تو اس کے مسائل بھی کم اہمیت اختیار کر لیتے ہیں، اس کی ضروریات کو ثانوی سمجھا جاتا ہے اور اس کے حقوق ایک غیر مرئی پردے میں چھپ جاتے ہیں۔ یوں ایک معمولی سی بے احتیاطی ایک مستقل محرومی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
یہ بات مخفی نہیں کہ دورِ حاضر کی سیاست میں سب سے زیادہ خطرناک چیز خاموشی ہے کیونکہ خاموشی کو اکثر رضامندی سمجھ لیا جاتا ہے۔ اگر کوئی قوم اپنے وجود کے اندراج میں سنجیدہ نہیں تو اسے غیر سنجیدہ ہی تصور کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مردم شماری کا مرحلہ دراصل ایک اجتماعی اعلانِ وجود ہے، ایک ایسا لمحہ جس میں قومیں خود کو ریاست کے سامنے پوری وضاحت کے ساتھ پیش کرتی ہیں۔ اگر اس موقع پر ابہام، کوتاہی یا بے حسی کا مظاہرہ کیا گیا تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم نے خود ہی اپنے آپ کو پس منظر میں دھکیلنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ یہاں اردو زبان کا مسئلہ نہایت حساس اور بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ زبان کسی بھی قوم کی شناخت نہیں بلکہ اس کے فکری وجود کی بنیاد ہوتی ہے۔ جب ایک زبان کو کمزور کیا جاتا ہے تو دراصل اس قوم کے شعور کو کمزور کیا جاتا ہے۔ مردم شماری میں اردو کا درست اندراج نہ ہونا ایک عددی کمی نہیں بلکہ ایک تہذیبی خسارہ ہے، ایک ایسا خسارہ جس کے نتیجے میں آنے والی نسلیں اپنی ہی روایت سے بیگانہ ہو سکتی ہیں۔ یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ زبان کی بقا صرف ادبی محفلوں یا تعلیمی اداروں سے وابستہ نہیں بلکہ اس کے سرکاری اعتراف اور اعداد و شمار میں اس کی موجودگی سے بھی جڑی ہوتی ہے۔ اگر یہ موجودگی کمزور ہو جائے تو زبان کا وجود بھی رفتہ رفتہ کمزور پڑ جاتا ہے۔ اس لئے مردم شماری 2027 ایک ایسا امتحان ہے جس میں ہر فرد کا کردار پوری قوم کے مستقبل کا تعین کرے گا۔ یہ وہ موقع ہے جہاں ذاتی غفلت اجتماعی نقصان میں تبدیل ہو سکتی ہے اور انفرادی شعور قومی طاقت کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ آج کی دنیا میں وہی قومیں آگے بڑھتی ہیں جو اپنے وجود کے ہر پہلو کو منظم، واضح اور مضبوط انداز میں پیش کرتی ہیں۔ جو قومیں اس عمل کو نظر انداز کرتی ہیں وہ وقت کے دھارے میں آہستہ آہستہ اپنی اہمیت کھو دیتی ہیں۔ کیوں کہ تاریخ صرف بڑے واقعات سے نہیں بنتی بلکہ چھوٹے فیصلوں سے بھی اس کا دھارا متعین ہوتا ہے۔ مردم شماری کا یہ مرحلہ بظاہر ایک سادہ سا عمل ہے مگر اس کے اثرات نہایت گہرے اور دور رس ہیں۔ اگر آج اس میں کوتاہی کی گئی تو کل اس کی تلافی ممکن نہیں ہوگی کیونکہ پالیسیوں کی بنیاد ایک بار طے ہو جائے تو اسے بدلنا آسان نہیں ہوتا۔ اس لیے یہ لمحہ محض حال کا نہیں بلکہ مستقبل کا فیصلہ کن موڑ ہے۔ مردم شماری 2027 ایک ایسی خاموش جنگ ہے جس میں ہتھیاروں کی آواز نہیں آتی مگر اس کے نتائج پوری قوم کی تقدیر کو بدل دیتے ہیں۔ اس جنگ میں فتح اسی کا مقدر بنتی ہے جو بیدار و منظم، سنجیدہ اور شکست اس کا مقدر بنتی ہے جو غفلت، لاپرواہی اور بے حسی کا شکار ہو۔ اب فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے کہ ہم اس مرحلے کو ایک سنجیدہ قومی فریضہ سمجھ کر اپنی شناخت کو مضبوط کریں یا اسے ایک رسمی کارروائی جان کر اپنے وجود کو خود ہی کمزور کر دیں۔ یاد رکھنا چاہیے کہ قوموں کی تاریخ ان کے فیصلوں سے بنتی ہے اور بعض فیصلے ایسے ہوتے ہیں جو بظاہر معمولی دکھائی دیتے ہیں مگر ان کے اثرات صدیوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ مردم شماری 2027 بھی ایک ایسا ہی فیصلہ کن لمحہ ہے جو یا تو ہمیں مضبوطی کی طرف لے جا سکتا ہے یا خاموش زوال کی طرف دھکیل سکتا ہے اور اس کا انحصار صرف اس بات پر ہے کہ ہم اسے کس نظر سے دیکھتے ہیں اور کس سنجیدگی کے ساتھ اس میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔
کریم گنج،پورن پور،پیلی بھیت،مغربی اترپردیش
(مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)
iftikharahmadquadri@gmail.com
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...