Skip to content
مدھو کشور: بھیڑ کی کھال میں چھپابھیڑیا بے نقاب
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
مثل مشہور ہے کہ ’جب انسان کے برے دن آتے ہیں تو اونٹ پر بیٹھے ہوئے آدمی کو کتا کاٹ لیتا ہے‘۔ آج کل یہی حال وزیر اعظم نریندر مودی کا ہے۔ وہ مہابھارت کے ابھیمنیو کی مانند چاروں طرف سے چکر ویوہ میں پھنس گئے ہیں۔ ایک طرف ٹرمپ دکھ دیتا رہتا ہے اور دوسری جانب سے راہل گاندھی محاذ کھول دیتے ہیں۔ سنگھ پریوار کے اندر ڈاکٹر سبرامنیم سوامی کیا کم تھے کہ اب معروف ہندوتوا نواز مصنفہ پروفیسرمدھو کشور نے بھی اب ان کو نشانے پر لے رکھا ہے۔ انہوں نے کھلے عام الزام لگایا ہے کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی سے فاصلہ بناکر رکھتی ہیں ۔ تحقیق و تفتیش کے بعد مودی کی سوانح حیات لکھنے والی مصنفہ کے اس بیان کو ہلکے میں نہیں لیا جاسکتا کہ وہ ایسی مجالس میں شرکت سے گریز کرتی ہیں جن میں وزیر اعظم کی موجودگی کا امکان ہو ۔یہاں تک کہ وہ مودی کی تعریف و توصیف میں لکھی جانے والی کتاب بھی ان کی خدمت میں پیش کرنے کے لیے نہیں گئیں بلکہ بلا دستخط کسی کے ہاتھوں بھجوادی۔ یہ غیر معمولی احتیاط اس حقیقت کا غماز ہے کہ مودی جی کو خواتین ارکان سے خطرہ نہیں ہے بلکہ عورتوں کے لیے وزیر اعظم کی قربت خطرناک ہے۔
ڈاکٹرسبرامنیم سوامی کے مطابق جنسی معاملات میں مودی پرانے پاپی اور شاہ ان کے دلال ہیں ۔ ایک معاملہ بنگلور میں رہنے والی آرکیٹیک مانسی سونی کی صورت میں 2009 کے اندر سامنے آیا اور "اسنوپ گیٹ” اسکینڈل کے نام سے مشہور ہوا۔ نریندر مودی اس وقت گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے اور ان پر یہ الزام لگا تھا کہ گجرات پولیس نے، مودی کے قریبی ساتھی امیت شاہ (جو اس وقت گجرات کے وزیر مملکت برائے داخلہ تھے) کی ہدایات پر، مانسی سونی کی ایک طویل عرصے تک نگرانی کی یعنی نقل و حرکت، فون کالز اور روابط پر نظر رکھی گئی ۔مانسی سونی نے اپنی والدہ کی سرجری کےلیے احمد آباد کا سفر کیا تھا۔ اس وقت ان کے والد پران لال سونی نے نریندر مودی کو اپنے خاندان کے ساتھ "طویل عرصے سے خاندانی تعلقات” کے پیش نظر بیٹی کا "خیال رکھنے” کی درخواست کی تھی ۔ اس لیے ان کی درخواست پر حفاظتی اقدام کے طور پر کے ذریعہ نگرانی کی گئی ۔ اب ذرا تصور کریں ایک خاندانی رابطے کی خاتون کا خیال رکھنے کے لیے اسے ایک پروجکٹ آفر کیا جاتا ہے۔ اس کو وزیر اعلیٰ کے دفتر کا ہم سایہ بنادیا جاتا ہے اور ریاست کا وزیر مملکت برائے داخلہ اپنی پولس کو اس کی نگرانی پر تعینات کر دیتا ہے۔کیا یہ کہانی قابلِ یقین ہے؟ اور پھر وہ مانسی امریکہ جاکر غائب ہوجاتی ہے یعنی گمنامی کی زندگی گزارنے لگتی ہے۔ اپنے محسن نریندر مودی پر لگنے والے الزامات کی تردید کے لیے کبھی سامنے نہیں آتی کیونکہ ’جھوٹ کو پاوں نہیں ہوتے‘۔
گجرات کے آئی اے ایس افسر پردیپ شرما نے تو سپریم کورٹ میں درخواست کرکے یہ الزام لگا دیا کہ گجرات حکومت کی جانب سے ان کے ساتھ ناروا سلوک کی وجہ مانسی سونی اور نریندرمودی کے درمیان مبینہ تعلق کے بارے میں ان کا علم تھا۔ کوئی آئی اے ایس افسر بلاوجہ تو ایسا سنگین الزام نہیں لگا سکتا مگر اس کو وزیر اعظم نریندر مودی کے اثر و رسوخ کے سبب رفع دفع کردیا گیا۔مودی کی سونی تو خیر غائب ہوگئی مگر آنندی اب بھی حیات ہیں اور اترپردیش میں گورنر کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔ ان کے شوہر ڈاکٹر مفت بھائی پٹیل نے مبینہ طور (2017میں ) اس وقت کے بی جے پی صدر ایل کے اڈوانی کو ایک شکایت بھرا خط لکھا تھا۔ اس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ نریندر مودی کے ان کی اہلیہ پر غیر معمولی اثر و رسوخ کی وجہ سے ان کا ازدواجی رابطہ ٹوٹ گیا ہے۔ اس لیے گہرے ذاتی کرب کا اظہار کرتے ہوئے وہ مدد کی اپیل کرتے ہیں۔ اپنی خاندانی زندگی کے بارے میں نہایت ذاتی اور جذباتی دعویٰ کرتےہیں کہ بیوی نے ان سے بات چیت بند کر دی تھی اور وہ خود کو بتدریج تنہا محسوس کرنے لگے ہیں اور وہ پریشان و بے بس ہو گئےہیں ۔مذکورہ خط کا لہجہ درد، ذہنی دباؤ اور سینئر قیادت سے سمجھ بوجھ کی اپیل کو ظاہر کرتا ہے۔
نریندر مودی اور آنندی بین پٹیل کی قربت کا پہلا ثبوت تو اس وقت سامنے آیا جب دہلی جاتے ہوئے وزیر اعلیٰ نےاپنا عہدہ موصوفہ کو سونپ دیا۔ آنندی بین سے امیت شاہ کے کشیدہ تعلقات کی وجہ سے آنندی بین کو ہٹا کر وجئے روپانی کو وزیر اعلیٰ بنایا گیا ۔ اس کے باوجود آنندی بین کو یوپی کا گورنر بنا دیا گیا اور وہ ہنوز اس عہدے پر عیش فرما رہی ہیں۔ماضی کی یہ داستانِ پارینہ اس لیے بیان کی گئی تاکہ ڈاکٹر سبرامنیم سوامی اور پروفیسر مدھو کشور کے جن الزامات کا آگے ذکر کیا جارہا ہے ان پر حیرت کا جھٹکا نہ لگے۔ بی جے پی کے سابق وزیر اور رکن پارلیمان ڈاکٹرسوامی نے اپنے ایک پوڈکاسٹ میں وزیر اعظم نریندر مودی پر خواتین سیاستدانوں سے مبینہ جنسی تعلقات کا الزام لگائے ہیں ۔ اپسٹین فائلس میں مودی اور پوری کا ذکر نہ آتا تو شاید انہیں دیوانے بڑ کہہ کر نظر انداز کردیا جاتا لیکن اب اس بیان پر سیاسی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آرہا ہے اور ناقدین شفاف تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس کے برعکس مودی بھگت ان الزامات کو بے بنیاد قرار دے رہے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ حکومت خاموش کیوں ہے؟
ایک ایسی مرکزی سرکار جو اپنے خلاف کوئی سچی تنقید بھی برداشت نہیں کرپاتی وہ اس جھوٹ کو( اگر ہے) تو کیوں ٹھنڈے پیٹوں سہے جارہی ہے۔ مخالفین کے گھروں اور دفتروں میں گھس کر حملہ کرنے والوں کے پیر میں مہندی لگ گئی ہے یا انہوں نے چوڑیاں پہن لی ہیں؟ جبکہ سبرامنیم سوامی کھلے عام وزیر اعظم نریندر مودی پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے دعویٰ کررہے ہیں کہ موصوف کے ساتھ ذاتی تعلقات کے بعد کچھ خواتین پارلیمنٹ تک پہنچیں حتیٰ کہ ایک وزیر بھی بن گئیں ۔ سبرامنیم سوامی نے گزشتہ برس کے آخر اور رواں برس کے آغاز میں بھی اپنے کچھ بیانات میں کہا تھا کہ نریندر مودی کے جو ذاتی معاملات سامنے آرہے ہیں ان کی وجہ سے انہیں عالمی سطح پر بلیک میلنگ کا شکار بنایا جاسکتا ہے۔سوامی نے ایک ایسے موقع پر یہ بیان دیا تھا جب نریندر مودی کو اِپسٹین فائلوں کے باعث سخت رسوائی کا سامنا ہے۔سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ سوامی جیسی سرکردہ شخصیت کی طرف سے اس طرح کے الزامات کا بار بار سامنا آنا بی جے پی کے اندر گہرے ٹوٹ پھوٹ کو ظاہر کرتا ہے ۔
مدھو کشور کا شمار وزیر اعظم نریندر مودی کی حامیوں اور نظریاتی محافظوں میں ہوتاہے۔انہوں نے مودی نامہ نامی کتاب کے ذریعہ نریندر مودی کو مہا مانو( عظیم شخصیت) بنانے کی بھرپور کوشش کی تھی ۔ ان کے بیان میں اس وزیر بننے والی خاتون کا اشارہ مل جاتا ہے جس کا سبرامنیم سوامی نے ذکر کیا تھا۔ مدھو کشور نے اپنے الزامات میں مبینہ طور پر سمرتی ایرانی کو نشانہ بنایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سمرتی ایرانی ایک مقرر یا ترجمان بننے کی قابلیت تورکھتی ہیں کیونکہ اس صورت میں ان کی ذمہ داریاں محدود یعنی پارٹی کے طے شدہ موقف کو پیش کرنا ہوتا تھا لیکن وہ وزیر تعلیم بننے کے لائق نہیں تھیں۔مدھو کشور کو توقع تھی کہ مودی سرکار کو اقتدار سنبھالتے ہی تعلیم کے میدان میں انقلابی تبدیلیاں کرے گی ۔ اس عظیم ہدف کو حاصل کرنے کے لیے کسی دسویں پاس خاتون پر اعتماد کرنا ناقابلِ یقین تھا ۔ دسمبر 2014میں ہی اسٹار نیوز کو دئیے گئے اپنے ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا تھا کہ ملک کے وزیر تعلیم کو مختلف صوبوں کے تجربہ کار وزرائے اعلیٰ کے ساتھ کام کرناپڑتا ہے ۔ اب ظاہر ہے اس کی صلاحیت اور تجربہ کا فقدان کے باوجود اگر ایک شکست خوردہ رکن پارلیمان کو یہ عہدہ دیاگیا تو اس کی وجہ وہی ہے جس کا ذکر سبرامنیم سوامی نے اپنے الزام میں لگایا تھا ۔
مدھو کشور بھی سوامی سے اتفاق کرتی ہیں کہ وزیر اعظم کے اندرونی کمزوریوں کے سبب ملکی اور غیر ملکی دشمن عناصر کے ہاتھوں بلیک میل ہونے کا امکان ہے اور انہوں ڈاکٹر سوامی پر لگائے جانے والے الزامات کی مذمت کرتے ہوئے ان کو بے لوث اور نڈر رہنما بتایا۔ ان کے الزامات کی ایک نوعیت تو ذاتی طور پر وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف ہے مگر پورے سنگھ پریوار اور یوگی کو بھی وہ نہیں بخشتیں ۔ ان کا الزام ہے کہ اس سرکار نے مسلمانوں اور تبدیلیٔ مذہب کروانے والے مافیا یعنی عیسائیوں کا ہی بھلا کیا ہے۔ پچھلے گیارہ سالوں میں ہندووں کی صرف تعذیب ہی ہوئی ہے۔ ان کے مطابق انگریزی سامراج اور ایک ہزار سالہ مسلم دور میں بھی ہندووں کا اتنا نقصان نہیں ہوا جتنا کہ اس سرکار نے گیارہ سال کے قلیل عرصے میں کردیا۔اس انکشاف کے باوجود اگر انتہا پسند ہندوتوا نواز وزیر اعظم نریندر مودی کو ہی اپنا نجات دہندہ سمجھ کر بار بار اقتدار سونپ دیتے ہوں تو ان پر میر تقی میر کا یہ شعر صادق آتا ہے؎
میر کیا سادے ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب اسی عطار کے لڑکے سے دوا لیتے ہیں
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...