Skip to content
مغربی بنگال کی فہرست رائے دہندگان کا تجزیہ
جمہوری عمل کی نزاکتیں اور پیچیدگیاں
مضمون نگار: محمد اعجاز الدین احمد عاجز ؔ
رابطہ:9700389755
مغربی بنگال کی سیاست کو اگر صرف انتخابی نتائج، نشستوں کی گنتی یا جماعتی صف بندیوں کے تناظر میں سمجھنے کی کوشش کی جائے تو یہ ایک سطحی تعبیر ہوگی۔ یہ خطہ اپنی کثیر پرت سماجی ساخت، تاریخی شعور کی پختگی اور سیاسی بیداری کی گہرائی کے باعث ایک منفرد مثال ہے، جہاں جمہوریت محض ایک طریقۂ کار نہیں بلکہ ایک زندہ تجربہ ہے۔ یہاں ہر انتخاب محض اقتدار کی منتقلی کا مرحلہ نہیں ہوتا بلکہ یہ سماجی توازن، تہذیبی شناخت، طبقاتی حرکیات اور نمائندگی کے پیچیدہ سوالات کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوتا ہے۔
اسی پس منظر میں جب فہرست رائے دہندگان کی نظرثانی جسے اسپیشل انٹینسیو ریویژن (ایس آئی آر )کا نام دیا گیا ہےکا عمل شروع ہوا تو ابتدا میں اسے ایک معمول کی انتظامی سرگرمی تصور کیا گیا۔ مگر جلد ہی یہ واضح ہو گیا کہ یہ عمل محض کاغذی خانہ پُری نہیں، بلکہ اس کے اثرات ریاست کے جمہوری ڈھانچے اور عوامی اعتماد پر گہرے پڑ سکتے ہیں۔ یوں ایک بظاہر تکنیکی مرحلہ بتدریج ایک وسیع تر جمہوری مباحثے میں تبدیل ہو گیا، جس میں نہ صرف ادارہ جاتی شفافیت بلکہ شہریوں کے بنیادی حقوق بھی زیرِ بحث آ گئے۔
فہرست رائے دہندگان کی تیاری اور ان کی نظرثانی کسی بھی جمہوری نظام کا بنیادی ستون ہوتی ہے۔ یہی فہرستیں اس بات کا تعین کرتی ہیں کہ کون شہری ریاست کے اجتماعی فیصلوں میں براہِ راست شریک ہوگا۔ چنانچہ اس عمل میں معمولی سی لغزش بھی نہ صرف فرد کے حقِ رائے دہی کو متاثر کرتی ہے بلکہ مجموعی طور پر جمہوری نظام کو متاثر کر سکتی ہے۔مغربی بنگال میں جاری اس نظرثانی کے عمل نے اسی حساسیت کو نمایاں کیا ہے۔ ایک طرف انتخابی ادارے اسے شفافیت اور درستگی کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہیں، تو دوسری جانب مختلف حلقوں میں یہ احساس بھی ہے کہ اس کے اطلاق میں یکسانیت اور توازن برقرار نہیں رہ سکا۔ جب لاکھوں افراد کے نام یا تو خارج ہو جائیں یا زیرِ غور قرار پائیں، تو یہ معاملہ محض اعداد و شمار کا نہیں رہتا بلکہ انسانی تقدیروں اور جمہوری شناخت کا سوال بن جاتا ہے۔
مغربی بنگال کی سماجی بناوٹ میں تنوع ایک نمایاں وصف ہے، جہاں مختلف طبقات، برادریاں اور ثقافتی گروہ ایک پیچیدہ مگر مربوط معاشرتی تانے بانے کی تشکیل کرتے ہیں۔ اس تناظر میں اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی قابلِ ذکر آبادی انتخابی سیاست نتائج میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ عمومی تاثر یہ ہے کہ اس طبقے کا ایک حصہ ایک خاص سیاسی رجحان رکھتا ہے، جس کے باعث انتخابی مسابقت صرف انتخابی مہم تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس کے اثرات انتخابی فہرستوں کی تشکیل اور نظرثانی تک بھی پھیل جاتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ فہرست رائے دہندگان کا عمل محض انتظامی ضرورت نہیں رہتا بلکہ ایک حساس سیاسی اور سماجی مرحلہ بن جاتا ہے، جہاں ہر فیصلہ دور رس اثرات کا حامل ہو سکتا ہے۔
بصیرہاٹ کا واقعہ ۔اعداد و شمار کے پیچھے چھپی کہانیاں:
شمالی چوبیس پرگنہ کے ایک علاقے میں پیش آنے والا واقعہ اس پورے معاملے کی ایک علامتی تصویر پیش کرتا ہے۔ ایک مخصوص بوتھ سے بڑی تعداد میں(تقریباً ۳۴۰) رائے دہندوں کے نام خارج کیے جانے کے بعد مقامی سطح پر بے چینی کی فضا قائم ہو گئی۔ اس بے چینی کی ایک بڑی وجہ یہ تھی کہ متاثرہ افراد کی اکثریت ایک ہی سماجی گروہ سے تعلق رکھتی تھی۔
دلچسپ اور قدرے تشویشناک پہلو یہ تھا کہ جب متعلقہ بوتھ لیول آفیسر محمد شفیعُ الاسلام کا اپنا نام بھی رائے دہندوں کی فہرست سے حذف پایا گیا۔ ان کے مطابق انہوں نے نہ صرف اپنی بلکہ دیگر رائے دہندوں کی دستاویزات کی تیاری میں رہنمائی کی تھی، اور الیکشن کمیشن کی ہدایات کے مطابق تمام تقاضے پورے کیے تھے، اس کے باوجود ناموں کا اخراج ایک معمہ بنا ہوا ہے۔ انہوں نے بلاک ڈیولپمنٹ آفیسر سے رابطہ کیا، مگر انہیں کوئی واضح راستہ نہیں ملا۔ مقامی انتظامیہ سے رجوع کے باوجود واضح جواب نہ ملنا اس ابہام کو مزید گہرا کرتا ہے۔یہ واقعہ اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ جب ایک ہی مقام پر بڑی تعداد میں نام خارج کیے جائیں اور اس کی وجوہات شفاف نہ ہوں، تو اس سے نہ صرف انتظامی عمل پر سوال اٹھتے ہیں بلکہ عوامی اعتماد بھی متزلزل ہوتا ہے۔
اس عمل کے دوران ایک اہم مسئلہ دستاویزی تقاضوں کے حوالے سے سامنے آیا ہے۔ جہاں الیکشن کمیشن کی ہدایات میں ایک دستاویز کو کافی قرار دیا گیا، وہیں کئی افراد نے متعدد دستاویزات پیش کرنے کے باوجود فہرست رائے دہندگان میںاپنے نام برقرار نہ رکھ سکے۔ اس صورت حال نے عوامی سطح پر ایک غیر یقینی کیفیت کو جنم دیا ۔جمہوریت کی بنیاد اعتماد پر استوار ہوتی ہے، اور جب شہریوں کو یہ محسوس ہو کہ اصول یکساں طور پر لاگو نہیں ہو رہے، تو یہ احساسِ محرومی اور بے یقینی کو بڑھاتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں ایک انتظامی مسئلہ ایک نفسیاتی اور سماجی بحران میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
نمایاں شخصیات کے تجربات: نظام کی پیچیدگیوں کی عکاسی:
انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کو لے کر بنگال کی عوام کے ذہنوںمیں جمہوری عمل کی شفافیت، انتظامی طریقۂ کار، اور شہری حقوق کے تحفظ سے متعلق کئی سنجیدہ سوالات ہیں۔ یہ معاملہ محض چند افراد کے ناموں کے اخراج تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس نے ایک وسیع تر انتظامی اور سماجی بحران کی صورت اختیار کر لی ہے، جہاں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں رائے دہندےز کی حیثیت مشکوک یا غیر واضح بنا دی گئی ہے۔ اس پس منظر میں مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد کی کہانیاں نہ صرف اس عمل کی پیچیدگی کو ظاہر کرتی ہیں بلکہ اس کے ممکنہ مضمرات کی بھی نشاندہی کرتی ہیں۔
یہ معاملہ اس وقت مزید توجہ کا مرکز بنا جب کلکتہ ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج اور وقف بورڈ کے چیئرمین شاہد اللہ منشی نے اپنے ذاتی تجربے کو سامنے رکھا۔ ان کے مطابق ۲۳ مارچ کو جاری ہونے والی زیرِ غوررائے دہندےوں کی فہرست میں ان کا نام شامل تھا، حالانکہ انہوں نے سماعت کے دوران پاسپورٹ سمیت تمام ضروری دستاویزات پیش کیے تھے۔مزید حیرت اس بات پر ہوئی کہ ان کا نام تو بعد میں بحال ہو گیا، مگر ان کی اہلیہ اور بڑے بیٹے کے نام اب بھی زیرِ غور ہیں۔ ان کے بقول یہ صورتحال نہ صرف غیر متوقع بلکہ ایک حد تک اذیت ناک بھی ہے کہ ایک ہی خاندان کے افراد کے ساتھ مختلف سلوک کیا جا رہا ہے۔ تمام مطلوبہ دستاویزات فراہم کرنے کے باوجود ان کا نام زیرِ غور فہرست میں شامل ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مسئلہ صرف عام شہریوں تک محدود نہیں۔ اگر نظام کی پیچیدگیاں ایسے افراد کو متاثر کر سکتی ہیں جو خود قانونی باریکیوں سے واقف ہیں، تو عام شہری کے لیے یہ عمل کس قدر دشوار ہوگا، اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔
ریشما شیرین اقبال کا معاملہ اس بحران کی ایک نمایاں مثال ہے۔ وہ ایک گزٹیڈ افسر ہیں جنہوں نے مرکزی حکومت کے تحت تقریباً تیس برس خدمات انجام دیں۔ مغربی بنگال کے اکاؤنٹنٹ جنرل کے دفتر میں اپنی ذمہ داریوں کے دوران وہ متعدد بار انتخابی عمل کا حصہ رہیںکبھی مائیکرو آبزرور کے طور پر، کبھی پریزائیڈنگ افسر کے طور پر، اور کبھی خواتین بوتھوں کی نگرانی کرتے ہوئے۔ ان کے پاس درست پاسپورٹ موجود ہے اور وہ کئی مرتبہ بیرونِ ملک سفر کر چکی ہیں۔ اس کے باوجود، جب ۲۸ مارچ ۲۰۲۶ء کو الیکشن کمیشن نے دوسری ضمنی فہرست جاری کی، تو ان کا نام اس میں شامل نہیں تھا۔دلچسپ امر یہ ہے کہ ۲۸ فروری کو جاری ہونے والی حتمی فہرست میں ان کا نام موجود تھا۔ اس کے بعد ۲۳مارچ کو پہلی ضمنی فہرست میں انہیں زیرِ سماعت قرار دیا گیا، جبکہ دوسری ضمنی فہرست میں ان کا نام مکمل طور پر حذف ہو گیا۔ ریشما کے مطابق انہیں بتایا گیا کہ ان کے والد کے نام میں تضاد ہے، حالانکہ ان کے والد، جو ایک سرکاری افسر تھے، کے تمام دستاویزات میں نام یکساں درج ہے۔ مزید برآں، ان کے پاس جائیداد کی رجسٹری، پاسپورٹ، اور دیگر ضروری دستاویزات بھی موجود ہیں۔ اس کے باوجود وہ اس وقت اس بنیادی سوال سے دوچار ہیں کہ وہ اپنی شکایت کہاں لے کر جائیں اور کس سے رجوع کریں۔
اسی نوعیت کا ایک اور معاملہ اجمیرا بیگم کا ہے، جو ۶۱سالہ رائے دہندے ہیں اور شیام پور حلقے سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کا نام بھی حالیہ فہرست سے حذف کر دیا گیا ہے، حالانکہ وہ اپنی زندگی میں بیس سے زائد مرتبہ ووٹ ڈال چکی ہیں۔ ان کے پاس بھی پاسپورٹ موجود ہے، اور ان کا خاندان تعلیمی و پیشہ ورانہ لحاظ سے مستحکم ہے۔ ان کے بیٹے، جو ایک معروف تعلیمی ادارے میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں، اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ان کی والدہ کی شہریت یا حقِ رائے دہی پر سوال اٹھانا نہ صرف غیر مناسب ہے بلکہ ایک گہری انتظامی خرابی کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔
انفرادی سطح پر پیش آنے والے یہ واقعات اس وقت مزید اہمیت اختیار کر لیتے ہیں جب انہیں ایک وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے۔ معروف مصور ابھیجیت مترا کا معاملہ اسی سلسلے کی ایک اور کڑی ہے۔ ان کے دونوں بیٹوں کے نام رائے دہندے فہرست سے حذف کر دیے گئے، حالانکہ ان کا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہے جو صدیوں سے کولکاتا میں آباد ہے۔ مترا کے مطابق، ابتدائی طور پر ان کے خاندان کو زیرِ سماعت قرار دیا گیا اور بعد میں ایک تکنیکی یا الگورتھمک غلطی جسے حکام نے مصنوعی ذہانت سے جوڑاکی نشاندہی ہوئی۔ اگرچہ ان کا اپنا نام بعد میں درست کر دیا گیا، لیکن ان کے بیٹوں کے نام فہرست سے خارج ہی رہے۔یہ واقعہ اس امر کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی، خصوصاً مصنوعی ذہانت، اگرچہ انتظامی عمل کو تیز اور مؤثر بنانے کے لیے استعمال کی جا رہی ہے، لیکن اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی غلطیاں شہریوں کے بنیادی حقوق پر اثرانداز ہو سکتی ہیں۔ جب صدیوں پر محیط خاندانی وابستگی، مقامی شناخت، اور مستند دستاویزات بھی کسی شہری کی حیثیت کو ثابت کرنے کے لیے کافی نہ ہوں، تو یہ صورتحال یقیناً تشویش کا باعث بنتی ہے۔
اعداد و شمار اس بحران کو مزید واضح کرتے ہیں۔ مختلف حلقوں میں بڑی تعداد میں رائے دہندےز کے نام حذف کیے گئے ہیں، اور بعض مقامات پر یہ بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ متاثرہ افراد میں ایک خاص طبقہ نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ کئی افراد کے پاس درست پاسپورٹس اور دیگر قانونی دستاویزات ہونے کے باوجود ان کے نام فہرستوں سے غائب ہیں۔ مزید برآں، تقریباً ساٹھ لاکھ رائے دہندوںز کو زیرِ سماعت رکھا گیا تھا، جن میں سے اگرچہ ایک بڑی تعداد کے معاملات نمٹائے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے، لیکن شائع شدہ فہرستوں میں اس کا مکمل عکس نظر نہیں آتا۔
لاکھوں مقدمات کا زیرِ التوا ہونا اس بحران کا ایک اور اہم پہلو ہے۔ انتخابات کے قریب آتے ہی یہ سوال شدت اختیار کر جاتا ہے کہ کیا اتنی بڑی تعداد میں درخواستوں پر بروقت اور منصفانہ فیصلہ ممکن ہوگا؟ اپیل کے لیے قائم ٹریبونلز بلاشبہ ایک مثبت قدم ہیں، مگر ان کی استعداد، وسائل اور وقت کی قلت ایک بڑا چیلنج بن کر سامنے آتی ہے۔ فیصلہ میں تاخیر کسی نہ کسی شہری کو اس کے بنیادی حق سے محروم کر سکتی ہے۔اس پورے عمل میں خواتین کو درپیش مسائل ایک حساس مگر اہم پہلو ہیں۔ شادی کے بعد نام یا پتہ تبدیل ہونا ایک عام سماجی حقیقت ہے، مگر یہی تبدیلیاں دستاویزی نظام میں پیچیدگی پیدا کر دیتی ہیں۔ نتیجتاً خواتین کو اضافی دستاویزی بوجھ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو ان کی شمولیت کو متاثر کر سکتا ہے۔یہ صورت حال اس امر کی متقاضی ہے کہ انتظامی طریقہ کار کو سماجی حقائق سے ہم آہنگ کیا جائے تاکہ کسی بھی طبقے کے ساتھ غیر ارادی ناانصافی نہ ہو۔
مغربی بنگال میں فہرست رائے دہندگان کی نظرثانی محض انتظامی عمل نہیں بلکہ جمہوریت کے بنیادی اصولوں کا امتحان بن چکی ہے، جہاں شفافیت، رفتار اور انصاف کے درمیان توازن نہایت اہم ہے۔ ٹریبونلز کا قیام امید افزا ہے، مگر ان کی مؤثر کارکردگی خاص طور پر محدود وقت میں لاکھوں مقدمات کے منصفانہ فیصلےاہم سوال بنی ہوئی ہے۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ کیا ہر شہری کو مساوی طور پر اپنے حقِ رائے دہی کا موقع مل رہا ہے۔ اگر انتظامی پیچیدگیوں کے باعث کوئی فرد اس حق سے محروم ہو جائے تو یہ جمہوری نظام کے لیے بہتر نہیں ہے۔ مجموعی طور پر، اس عمل کی کامیابی اسی میں ہے کہ اسے زیادہ شفاف، منصفانہ اور جوابدہ بنایا جائے تاکہ عوام کا اعتماد بحال رہ سکے۔
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...