Skip to content
فلسطین کے بغیر کوئی معاہدہ نہیں، کوئی جنگ بندی نہیں، کوئی امن نہیں،
عالم انسانیت کے لئے ایک فیصلہ کن موقف،وقت کا تقاضہ
ازقلم:محمد عبدالحلیم اطہر سہروردی
صحافی و ادیب،،گلبرگہ
Cell: 8277465374
athar.gul@gmail.com
آج دنیا ایک بار پھر طاقت، سیاست اور مفادات کے تنازعات میں بری طرح الجھی ہوئی ہے۔ ایران اس وقت امریکہ اور اسرائیل کیخلاف نبرد آزما ہے اور دونوں ہی طرف تباہی کا بازار گرم ہے، جنگیں لڑی جا رہی ہیں، اتحاد بن رہے ہیں، شرائط طے ہو رہی ہیں،مگر ایک سوال ہے جو ہر ضمیر کو جھنجھوڑتا ہے،کیا فلسطین ان سب میں کہیں موجود بھی ہے؟اگر نہیں، تو پھر یہ ساری سیاست، یہ ساری جنگیں، یہ ساری حکمتِ عملیاںکس کے لیے ہیں؟شہر گلبرگہ کے سرفہرست اکابرین میں نمایاں میرے مربی و خیر خواہ حضرت مولاناشریف احمد مظہری صدر جمعیت العلماء ضلع گلبرگہ و نائب صدر جمعیت العلماء ریاست کرناٹک ،بانی و مہتمم مدرسہ اسلامیہ مظاہر العلوم گلبرگہ سے گذشتہ دنوں اس موضوع پر طویل تبادلہ خیال ہوا حضرت اس معاملہ پر بہت زیادہ فکر مند ہیں اور بڑے درد اور بے چینی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ جب تک فلسطین میں ظلم کو بند نہیں کیا جائیگا دنیا میں کہیں امن و سکون برقرار رہنا مشکل ہے۔فلسطین کا مسئلہ محض ایک سیاسی تنازع نہیں بلکہ انسانی تاریخ کے بڑے المیوں میں سے ایک بن چکا ہے۔ گزشتہ دو برسوں میں غزہ اور دیگر فلسطینی علاقوں میں جو کچھ ہوا، وہ صرف جنگ نہیں بلکہ ایک ایسی انسانی تباہی ہے جس نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑ دینا چاہیے تھا،مگر افسوس کہ دنیا کی بڑی طاقتیں اور بین الاقوامی ادارے اکثر بے بس یا خاموش دکھائی دیتے ہیں۔یہ سوال آج ہر باشعور انسان کے ذہن میں موجود ہے کہ آخر کیوں معصوم بچوں، خواتین اور نہتے شہریوں کے قتل عام پر مؤثر عالمی ردِعمل نظر نہیں آتا؟ اور کیا امتِ مسلمہ، خصوصاً ایران و عرب جیسے اثر و رسوخ رکھنے والے ممالک، اس مسئلے کو اپنی ترجیحات میں شامل کر کے کوئی تبدیلی لا سکتے ہیں؟اقوامِ متحدہ اور عالمی اداروں کی رپورٹس کے مطابق، 2023 کے بعد سے اب تک لاکھوںفلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد خواتین اور بچوں کی ہے،اقوام متحدہ کے مطابق تقریباً 70 فیصد ہلاک ہونے والوں میں خواتین اور بچے شامل ہیں،یونیسف کے مطابق 50ہزارسے زائد بچے یا تو شہید ہو چکے ہیں یا زخمی ہوئے ہیں،صرف خواتین اور بچیوں کی ہلاکتوں کی تعداد 28ہزارسے تجاوز کر چکی ہے،ایک رپورٹ کے مطابق ہر گھنٹے ایک بچہ قتل ہو رہا تھا،یہ اعداد و شمار کسی ایک واقعے کی نہیں بلکہ مسلسل جاری تباہی کی عکاسی کرتے ہیں۔مزید برآں،لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں قحط جیسے حالات پیدا ہو چکے ہیں اسپتال، اسکول اور بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے یہ صورتحال صرف جنگ نہیں بلکہ ایک مکمل انسانی بحران ہے۔جنگوں میں عام طور پر فوجی ہدف ہوتے ہیں، مگر غزہ میں صورتحال اس کے برعکس ہے۔متعدد فضائی حملوں میں صرف خواتین اور بچے ہی جاں بحق ہوئے،ہزاروں بچے یتیم ہو چکے ہیں اور ہزاروں خواتین بیوہ ہو چکی ہیں،یہ حقائق اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس تنازع میں سب سے زیادہ متاثر وہ طبقہ ہے جو سب سے زیادہ کمزور ہے۔
یہ حقیقی حقیقت ہیکہ آج فلسطین امت کا کھلا زخم بن گیا ہے ،فلسطین آج بھی جل رہا ہے۔وہاں آج بھی بچے ملبے تلے دبے ہیں،مائیں آج بھی اپنے لختِ جگر کو دفن کر رہی ہیں،اور دنیا آج بھی خاموش ہی ہے۔یہ محض ایک علاقائی تنازع نہیں،یہ امتِ مسلمہ کے ضمیر کا امتحان ہے۔زمین کبھی کبھی اپنے اوپر بہنے والے خون کی بھی گواہی دیتی ہے۔ آسمان کبھی کبھی چیخوں کو اپنے دامن میں سمیٹ کر خاموش ہو جاتا ہے۔ اور تاریخ۔۔،وہ کبھی معاف نہیں کرتی۔فلسطین آج صرف ایک خطہ نہیں، ایک دلخراش چیخ ہے،ایسی چیخ جو ماؤں کی گود سے اٹھتی ہے، یتیم بچوں کی آنکھوں سے ٹپکتی ہے، اور ملبے تلے دبے انسانوں کی آخری سانسوں میں گونجتی ہے۔ گزشتہ دو برسوں میں غزہ کی گلیاں خون سے رنگین ہو چکی ہیں۔ وہ گلیاں جہاں کبھی بچے کھیلتے تھے، آج وہاں کفن بچھے ہیں۔ وہ گھر جہاں کبھی مائیں لوریاں دیتی تھیں، آج وہاں صرف ماتم ہے۔یہ کیسی دنیا ہے…؟ جہاں ایک معصوم بچہ اپنی ماں کی لاش کو ہلاتا ہے اور پوچھتا ہے:”امی، آپ اٹھ کیوں نہیں رہیں؟”فلسطین میں مرنے والے صرف انساننہیں… وہ خواب تھے، مسکراہٹیں تھیں، امیدیں تھیں۔وہ بچے جو ڈاکٹر بننا چاہتے تھے…وہ بچیاں جو استادہ بننے کے خواب دیکھتی تھیں…وہ سب اب مٹی کے نیچے سو رہے ہیں۔کیا کسی نے سوچا ہے؟ایک بچہ جب بم کی آواز سنتا ہے تو اس کے دل پر کیا گزرتی ہے؟جب وہ اپنے باپ کو اپنے سامنے شہید ہوتا دیکھتا ہے تو اس کی روح کس طرح ٹوٹتی ہے؟یہ صرف جسموں کا قتل نہیں…یہ پوری نسلوں کا قتل ہے۔ایک ماں کے لیے اس سے بڑا دکھ کیا ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے ہی بچے کو دفن کرے؟فلسطین میں مائیں اپنے بچوں کو سفید کفن میں لپیٹ کر نہیں بلکہ اپنے آنسوؤں میں لپیٹ کر دفن کر رہی ہیں۔وہ مائیں جو کل تک اپنے بچوں کو سینے سے لگا کر سلاتی تھیں،آج وہی مائیں ملبے میں اپنے بچوں کے جسم تلاش کرتی پھرتی ہیں۔ اور دنیا…؟دنیا دیکھ رہی ہے۔خاموش تماشائی: یہ وہ وقت ہے جب انسانیت کو بولنا چاہیے تھا…مگر دنیا خاموش ہے۔عالمی ضمیر کہاں ہے؟انسانی حقوق کے دعوے کرنے والے ادارے خاموش ہیں۔امن کے نعرے لگانے والے ممالک خاموش ہیں۔جمہوریت کے علمبردار خاموش ہیں۔یہ خاموشی صرف خاموشی نہیں،یہ ایک جرم ہے۔کیونکہ جب ظلم ہو اور آپ خاموش رہیں،تو آپ بھی اس ظلم کا حصہ بن جاتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ مسلمان ایک جسم کی مانند ہیں،اگر ایک حصہ زخمی ہو تو پورا جسم تڑپتا ہے۔مگر آج فلسطین زخمی ہے ،اور باقی جسم خاموش ہے۔یہ کیسی بے حسی ہے؟یہ کیسی تقسیم ہے؟کیا ہماری غیرت سو چکی ہے؟کیا ہمارے دل پتھر ہو چکے ہیں؟
آج وقت ہے ایک واضح اعلان کا”فلسطین کے بغیر کوئی معاہدہ نہیں، کوئی جنگ بندی نہیں، کوئی امن نہیں”یہ وقت تاریخ لکھنے کا ہے۔یا تو ہم خاموش تماشائی بن کر رہ جائیں گے،یا ہم وہ نسل بنیں گے جس نے ظلم کے خلاف کھڑے ہونے کا فیصلہ کیا۔فلسطین آج ہمیں پکار رہا ہے۔سوال یہ نہیں کہ وہ کتنے مظلوم ہیں،سوال یہ ہے کہ ہم کتنے زندہ ہیں۔کیا ہم جواب دیں گے؟آج وقت ہے کہ صرف بیانات نہیں، فیصلے کیے جائیں۔ اگر واقعی کوئی طاقت خود کو مظلوموں کا حامی سمجھتی ہے،تو اسے فلسطین کو اپنی ترجیحات میں سب سے اوپر رکھنا ہوگا۔اگر ایران یا کوئی بھی مسلم ملک اپنے سیاسی یا جنگی فیصلوں میںفلسطین کے امن کو شرط بنا لے،تو شاید دنیا کو جھکنا پڑے۔شاید وہ آواز جو آج دبائی جا رہی ہے، کل گونج بن جائے۔ایران خطے میں ایک اہم طاقت ہے اور فلسطین کے معاملے پر اس کا مؤقف دیگر اسلامی ممالک سے زیادہ واضح رہا ہے۔اگر ایران،اپنی خارجہ پالیسی میں فلسطین کو مرکزی شرط بنائے جنگ یا مذاکرات میں فلسطین کے لیے امن کا مطالبہ کرے تو اس کے ممکنہ اثرات ہو سکتے ہیں،تاکہعالمی توجہ دوبارہ فلسطین کی طرف مبذول ہو دیگر اسلامی ممالک بھی اس مطالبے کی حمایت کریں،ایک مشترکہ اسلامی بلاک تشکیل پائے،اگر ایران یا دیگر مسلم ممالک اپنی شرائط میں فلسطین کے امن کو شامل کریں تو اس سے مثبت اثر پڑ سکتا ہے،اور اللہ کی مدد بھی آسکتی ہے ۔ بین الاقوامی سیاست میں جب کئی ممالک کسی ایک مسئلے پر متحد ہو کر دباؤ ڈالتے ہیں، تو اس سے عالمی توجہ بڑھتی ہے اور بعض اوقات عملی نتائج بھی نکلتے ہیں۔ اگر پوری اسلامی دنیا ایک واضح، مشترکہ اور مستقل مؤقف اختیار کرے، تو یقیناً فلسطین کے مسئلے کو نظر انداز کرنا مشکل ہو جائے گا۔اسلامی تعلیمات کے مطابق،ظلم کے خلاف کھڑا ہونا،اتحاد اور اخوت قائم کرنا،عدل اور انصاف پر قائم رہنا،اپنی کمزوریوں اور اختلافات کو دور کرنااورظلم کے خلاف کھڑا ہونا ایک دینی فریضہ ہے، اتحاد، عدل اور اخلاص کامیابی کی بنیاد ہیں،اگر امتِ مسلمہ:ظلم کے خلاف متحد ہو عملی اقدامات کرے اپنے اختلافات ختم کرے،تو یہ نہ صرف سیاسی بلکہ روحانی طور پر بھی مثبت نتائج لا سکتا ہے۔ہم اکثر کہتے ہیں: ”اللہ مدد کرے گا”مگر کیا ہم نے سوچا؟اللہ کی مدد کن کے ساتھ ہوتی ہے؟وہ جو مظلوم کے ساتھ کھڑے ہوں،وہ جو حق کے لیے آواز اٹھائیں،وہ جو متحد ہوں،اگر ہم خود خاموش رہیں،تو کیا ہم مدد کے مستحق ہیں؟یہ وقت ہے جاگنے کا،یہ وقت ہے کہ،ہم بولیں ہم لکھیں ہم کھڑے ہوں،یہ وقت ہے کہ ہم اپنے ضمیر کو جگائیں۔کیونکہ اگر آج ہم خاموش رہے،تو کل ہمارے اپنے بچے ہم سے پوچھیں گے:”جب فلسطین جل رہا تھا، آپ کیا کر رہے تھے؟” تاریخ ہمیں ایک اصول سکھاتی ہے:اللہ کی مدد ان کے ساتھ ہوتی ہے جو خود کھڑے ہوتے ہیں۔جو ظلم کے خلاف ڈٹ جائیں جو سچ کو ترجیح دیں،جو اپنے اختلافات کو پسِ پشت ڈال دیں اگر امتِ مسلمہ واقعی فلسطین کو اپنی ترجیح بنا لے،تو یہ صرف سیاسی نہیں بلکہ روحانی تبدیلی بھی ہوگی۔
وقت کا تقاضہ ہے کہ،اسلامی ممالک متحد ہوں،مستقل اور عملی اقدامات کریں،عالمی سطح پر مؤثر سفارتکاری کریں،اور سب سے بڑھ کر، یہ کہ فلسطین کا مسئلہ وقتی نہیں بلکہ مستقل ترجیح بنایا جائے۔آج وقت ہے ایک واضح اعلان کا”فلسطین کے بغیر کوئی معاہدہ نہیں، کوئی جنگ بندی نہیں، کوئی امن نہیں”یہ جملہ اگر صرف ایران نہیں بلکہ تمام اسلامی ممالک کی مشترکہ آواز بن جائے،تو دنیا کی طاقت کا توازن بدل سکتا ہے۔ہمیں خود سے ایک اہم سوال پوچھنا ہوگا:کیا ہم واقعی فلسطین کے ساتھ ہیں، یا صرف الفاظ میں؟اکثرقراردادیں پاس ہو جاتی ہیں،مذمتی بیانات جاری ہو جاتے ہیں،مگر زمینی حقیقت نہیں بدلتی،یہ دوغلا پن اب مزید نہیں چل سکتا۔ آج اگر ایران یا کوئی بھی مسلم ملک واقعی اپنے آپ کو مظلوموں کا حامی سمجھتا ہے،تو اسے ایک جراتمند فیصلہ کرنا ہوگا،کوئی بھی جنگ، کوئی بھی مذاکرات، کوئی بھی معاہدہ،فلسطین کے بغیر نہیں ہوگا۔اگر جنگ بندی ہو تو فلسطین کے تحفظ کے ساتھ،اگر مذاکرات ہوں تو فلسطین کے حق کے ساتھ،اگر اتحاد بنیں تو فلسطین کی آزادی کے ساتھ،یہی وہ اصول ہے جو پوری دنیا کو ایک واضح پیغام دے سکتا ہے کہ امتِ مسلمہ اب بکھری ہوئی نہیں بلکہ ایک مظبوط مؤقف رکھتی ہے۔اگر تمام اسلامی ممالک ایک ہی مطالبہ کریں، تو عالمی طاقتوں کے لیے اسے نظر انداز کرنا مشکل ہو جائے گا۔لیکن یہاں ایک اہم حقیقت بھی ہے کہ صرف مطالبہ کرنا کافی نہیں ہوتا، بلکہ اس کے ساتھ عملی حکمتِ عملی، سفارتی مہارت، اور بین الاقوامی حمایت بھی ضروری ہوتی ہے۔اس وقت فلسطین وہ واحد مسئلہ ہے جو پوری امت کو ایک پلیٹ فارم پر لا سکتا ہے،اگر اسے سنجیدگی سے لیا جائے۔ عالمِ اسلام کی مجموعی آبادی اور وسائل کو دیکھتے ہوئے یہ توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ فلسطین کے مسئلے پر مضبوط اور متحد موقف اپنائے۔مگر حقیقت یہ ہے کہ،اکثر اسلامی ممالک صرف بیانات تک محدود ہیں،مشترکہ حکمت عملی کا فقدان ہے سیاسی اختلافات اتحاد میں رکاوٹ بنتے ہیں۔اگر تمام اسلامی ممالک متحد ہو کرسفارتی دباؤ بڑھائیں اقتصادی اقدامات کریں، عالمی فورمز پر مؤثر آواز اٹھائیںتو صورتحال بدل سکتی ہے۔فلسطین کا مسئلہ صرف فلسطینیوں کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا مسئلہ ہے۔آج ضرورت ہے کہ عالمی ضمیر جاگے میڈیا سچ کو اجاگر کرے اسلامی دنیا متحد ہو اور ہر سطح پر ظلم کے خلاف آواز اٹھائی جائے،اگر یہ سب نہ ہوا تو تاریخ یہ سوال ضرور پوچھے گی: جب خواتین و بچے اور نہتے شہری بے دریغ مارے جا رہے تھے، تب دنیا کہاں تھی؟آخری بات یہ ہیکہ کیا ہم صرف تماشائی بنے رہیں گے؟یا تاریخ بدلنے والوں میں شامل ہوں گے؟فیصلہ ہمارے ہاتھ میں ہے…اور وقت بہت کم ہے۔
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...