Skip to content
ہر حال میں اللہ تعالی کو یاد کرنا شیطان کے حملوں سے محفوظ رہنے کا بہترین نسخہ
مسجد قبا میں مولانا حافظ طاہر قاسمی صاحب کا خطاب
شادنگر،4اپریل(پریس نوٹ)
مولانا حافظ طاہر قاسمی بانی و ناظم دارالعلوم سبیل الہدی و مدرسہ نسواں جامعۃ الہدی شاد نگر نے مسجد قبا میں نماز جمعہ کے موقع پر اپنے خطاب میں کہا: قرآن مجید میں اللّٰہ تعالی نے اپنے بندوں کو اس کی یاد میں مشغول رہنے کی تاکید فرمائی ہے، اللّٰہ تعالی کا ارشاد ہے: تم مجھے یاد کرو میں تمہیں یاد کروں گا، آج ہر کوئی دل کے سکون و اطمینان کے لیے پریشان ہے، مختلف تدبیریں کر رہا ہے ،کئی چیزیں آزماتا ہے، لیکن اللّٰہ تعالی کا فرمان ہے : خوب یاد رکھو دلوں کا سکون اللّٰہ تعالی کی یاد میں ہے، قرآن مجید میں عقلمندوں کی یہ صفات بیان کی گئی کہ وہ اللّٰہ تعالی کی پیدا کردہ کائنات کے نظام میں غور و فکر کرتے ہیں اور اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتےاور سوتے جاگتے ہر حال میں اور ہر وقت اللّٰہ تعالی کو یاد کرتے ہیں، نبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی اللّٰہ تعالی کا ذکر کرے اور جو آدمی اللّٰہ تعالی کا ذکر نہ کرے ،اس کی مثال زندہ آدمی اور مردہ آدمی کی طرح ہے، جو آدمی اللّٰہ تعالی کا ذکر کرنے والازندہ ہے اور ذکر نہ کرنے والا مردہ ہے ، ذکر کا مطلب صرف اوراد و وظائف کا معمول نہیں ہے، بل کہ اس معمول کے ساتھ دیگر عبادات بھی حقیقت میں اللّٰہ تعالی کا ذکر ہی ہے قرآن مجید کی تلاوت اللّٰہ تعالی کا ذکر ہے، حدیث میں اس کو سب سے افضل ذکر فرمایا گیا، نماز پڑھنا بھی اللّٰہ تعالی کا ذکر ہے، قرآن مجید میں اللّٰہ تعالی نے فرمایا: میری یاد کے لیے نماز قائم کرو مولانا نے کہا: کہ جس کا دل اللّٰہ تعالی کی یاد سے غافل ہوتا ہے وہ شیطان کے حملوں سے محفوظ نہیں رہتا، اس کو نماز پڑھنے بھی دل نہیں لگتا، نماز پڑھتا بھی ہے تو کاروبار اور دیگر مصروفیات اس کے دل و دماغ میں گھومتی رہتی ہیں، قرآن مجید میں شیطان کو ہمارا خدا دشمن بتایا گیا اور اسی کو اپنا دشمن بنانے کا حکم دیا گیا، لیکن آج ہم دوسروں کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں رشتہ داروں ،دوستوں اور پڑوسیوں سے ہماری دشمنی ہے لیکن شیطان کی دشمنی کی طرف ہمارا خیال نہیں جاتا، اس لیے ہم شیطانی حملوں اور اس کے وسوسوں سے بچنے کی کوشش نہیں کرتے، پھر جب شیطان ہم پر حملہ آور ہونے میں کامیاب ہو جاتا ہے ،تو وہ خوش گوار تعلقات کو بگاڑ دیتا ہے، شوہر اور بیوی کے درمیان نفرت پیدا کرتا ہے، والدین اور اولاد میں دوریاں پیدا کرتا ہے اور سب سے بڑی دشمنی یہ کہ ہمیں اللّٰہ تعالی کی ذات سے غافل کر دیتا ہے، اس غفلت کے نتیجہ میں ہم اس کی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتے، جب ہمارا کاروبار خوب چل رہا ہوتا تو الحمدللّٰہ کہہ کر اللّٰہ تعالی کے فضل و احسان کا اقرار نہیں کرتے، لیکن جیسے ہی تھوڑا بہت نقصان ہو جائے فوراً رونا دھونا اور شکوہ و شکایت شروع کر دیتے ہیں، ہم اپنے اندر ذکر الٰہی اور شکر خداوندی کا مزاج پیدا کریں صبح شام کی دعاؤں کا اہتمام کریں ،اٹھتے بیٹھتے اور چلتے پھرتے سبحان اللّٰہ ، الحمدللّٰہ ، استغفر اللّٰہ پڑھتے رہیں اس طرح ہمیشہ اللّٰہ تعالی کو یاد کرتے رہنے سے ہم شیطان کے حملوں سے محفوظ رہ سکتے ہیں ،اور ہماری زندگیوں میں بھی سکون و چین رہے گا، اللّٰہ تعالی ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے ۔
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...