Skip to content
رحمت عالمﷺ : سیرت کا نورانی سفر
( پہلی قسط)
از قلم: محمد ریحان ورنگلی
نسب مطہر:
حضرت آدم علیہ الصلاۃ والسلام سے لے کر آپﷺ کے والد ماجد اور والدہ ماجدہ تک جس قدر آباء و اجداد اور امہات و جدات سلسلہ نسب میں واقع ہے وہ سب کے سب محسنین اور محسنات یعنی سب عفیف اور پاک دامن تھے کوئی فرد ان میں زنا کے ساتھ کبھی ملوث نہیں ہوا عباد مخلصین جن کو حق جل شانہ نے اپنی نبوت و رسالت کے لیے منتخب فرمایا ہو ان کا سلسلہ نسب ایسا ہی پاک اور مطہر ہوتا ہے اللہ ان کو ہمیشہ اصلاب طیبین سے ارحام طاہرات کی طرف پاک و صاف منتقل فرماتا رہا حق جل وعلی نے جس کو اپنا مصطفی اور مجتبی بنایا اس کے مصطفی بنانے سے پہلے اس کے نسب کو ضرور مصطفی اور مجتبی بنایا مصطفین الاخیار خدا کے برگزیدہ اور پسندیدہ بندوں کا جس چیز سے جس حد تک تعلق ہوتا ہے اسے حد تک اس میں بھی اصطفاء اور اجتباء برگزیدگی اور پسندیدگی سرایت کر جاتی ہیں جب منافقین نے ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگائی تو حضرت حق کا جل شانہ نے صدیقہ بنت الصدیق کی براءت میں سورہ نور کی دس آیتیں نازل فرمائی ان میں ایک آیت یہ بھی ہے ولولا اذا سمعتموه قلتم ما يكون لنا ان نتكلم بهذا سبحانك هذا بهتان عظيم (سنتے ہی کیوں نہ کہہ دیا کہ سبحان اللہ یہ بہتان عظیم ہے ہم اس میں لب کشائی نہیں کر سکتے)
یعنی مسلمانوں کو واقعہ افک سنتے ہی فورا یہ کہہ دینا لازمی تھا کہ سبحان اللہ یہ بہتان عظیم ہے معاذ اللہ پیغمبر کی بیوی کہیں فاجرہ ہو سکتی ہے؟ پیغمبر کی بیوی تو عفیفہ اور طاہرہ ہوگی۔
ابن منذر نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے ما بغت امراه نبي قط (کسی پیغمبر کی بیوی نے کبھی زنا نہیں کیا)
ابن جریج فرماتے ہیں کے منصب نبوت کے مناسب اور شایان شان نہیں کہ پیغمبر کی بیوی فجور میں مبتلا ہو
ابن عساکر نے اشرس خراسانی رضی اللہ عنہ سے مرفوعا روایت کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کسی پیغمبر کی بیوی نے کبھی زنا نہیں کیا
حافظ ابن کثیر اپنی تفسیر میں اثر ابن عباس رضی اللہ عنہما ما بغت امراه نبي قط کو نقل کر کے فرماتے ہیں ایسا ہی کریم اور سعید بن جبیر اور ضحاک وغیرہ سے منقول ہے۔
جب پیغمبروں کی ازواج کا فاجرہ ہونا منصب نبوت کے منافی ہے تو انبیاء و رسول کی امہات اور جدات کا غیر عفیف ہونا بدرجہ اولی منصب نبوت اور رسالت کے منافی اور مباین ہوگا اس لیے کہ مادری علاقہ علاقۂ زوجیت سے بہت زیادہ قوی ہوتا ہے یہ ناممکن ہے کہ معاذ اللہ پیغمبر کی تکوین و تخلیق اور اس کی تولید و تصویر ہی معاذ اللہ فسق و فجور (زنا) سے ہوں اسی وجہ سے حدیث میں ولد الزماں کو سر الثلاثہ فرمایا ہے اس لیے کہ اس کا نفس وجود ہی معصیت اور فسق و فجور سے ظہور پذیر ہوا ہے یہ قطعاً ناممکن اور محال ہے کہ خداوند ذوالجلال کا فرستادہ ابن الحلال نہ ہو
حضرت آدم علیہ الصلاۃ والسلام سے لے کر نبی کریم ﷺ تک جس قدر انبیاء و مرسلین گزرے کسی طاعن نے ان کے نسب مطہر میں کبھی کلام نہیں کیا صرف یہود نے حضرت عیسی علیہ الصلاۃ والسلام کی مادر عفیفہ مریم صدیقہ پر تہمت لگائی حق جل شانہ نے اپنی کتاب میں نہایت تفصیل کے ساتھ حضرت مریم کی برأت اور حضرت مسیح کی ولادت باسعادت کی کیفیت کو بیان فرمایا اور جا بجا یہود پر لعنت فرمائی جس سے صاف ظاہر ہے کہ اس غیور مطلق کی بے چون وچگون غیرت ایک لمحہ کے لیے یہ گوارا نہیں کر سکتی کہ کوئی خبیث اس کے بھیجے ہوئے پیغمبروں کے پاک نسب میں کسی قسم کا کوئی شک اور تردد کرے
روم نے جب ابو سفیان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نسب کے متعلق یہ سوال کیا كيف نسبه فيكم؟ ان کا نسب کیسا ہے؟ صحیح بخاری کے یہ لفظ ہیں کہ ابو سفیان نے یہ جواب دیا کہ هو فينا ذو نسب وہ ہم میں بڑے نسب والا ہیں
حافظ عسقلانی فرماتے ہیں کہ بزار کی روایت میں یہ الفاظ ہے هو في حسب ما لا يفضل عليه احد قال هذه آية یعنی حسب اور خاندانی شرف میں کوئی ان سے بڑھ کر نہیں قیصر روم نے کہا کہ یہ بھی ایک علامت ہے یعنی نبی ہونے کی ایک علامت یہ ہے کہ آپ کا خاندان سب سے اعلی اور اشرف ہے
صحیح بخاری کی روایت میں الفاظ ہیں کہ قصر روم نے ابو سفیان کا جواب سن کر یہ کہا وكذلك الرسل تبعث في احساب قومها پیغمبر ہمیشہ شریف خاندان ہی سے ہوتے ہیں ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا سلسلہ نسب جو عالم کے تمام سلاسل انساب سے اعلی اور برتر اور سب سے افضل اور بہتر ہے۔ (سیرت المصطفیٰ:٢٢/١)
جاری——————–
Post Views: 5
Like this:
Like Loading...