Skip to content
اساطیری غضب میں مبتلا چنگھاڑتا شیر دم دبا کر چھپ گیا
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے کا نام اساطیری غضب (Epic Fury) اور نیتن یاہو نے اسے چنگھاڑتا شیر(Roaring Lion) سے منسوب کیا ۔ فی الحال یہ غضبناک شیر چنگھاڑنے کے بجائے گڑ گڑا رہا ہے۔ عرصۂ دراز سے نیتن یاہو عوام میں تو دور ایوان پارلیمان کے اجلاس سے بھی غائب ہیں۔ وقتاً فوقتاً ان کو زندہ و صحتمند دکھانے والی ساری ویڈیوز جعلی ثابت ہوجاتی ہیں اس لیے گمان غالب تو یہی ہے کہ یہ چنگھاڑنے والا شیر فی الحال جہانِ فانی سے کوچ کرگیا ہے یا کوما کی حالت میں زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا ہے۔ اس دوران ٹرمپ نے اپنےغیض و غضب کاخوب اظہار کیا مگر ان کی ساری تدبیریں الٹی پڑیں ۔ ایران کی رجیم(اقتدار) بدلنے کا خواب دیکھنے والے کوہٹانےکی خاطر ایک کروڈ امریکی سڑکوں پر آگئے۔ خود انہوں نے فوج کے سربراہ سمیت درجن بھرعہدریداران کی چھٹی کرکے اپنی امریکی رجیم کو ہی اندر سے بدل دیالیکن فی الحال میڈیا میں آکر نزلہ اتارنے والے ٹرمپ نے اچانک چپیّ سادھ لی اور بدھ سے خاموش ہیں ۔ اس دوران ان کے اسپتال میں داخل ہونے کی خبر بھی آئی یعنی دماغی مرض جسم میں پھیل چکاہے ۔ 79سالہ امریکی صدر اگرایسٹر کےیہوار پر بھی دن رات کام کرے تو صحت کی خرابی فطری ہے۔
پچھلے موسم گرما میں صدر ٹرمپ کے سوجے ہوئے ہاتھوں اور ٹخنوں کی تصاویر نے ’کرونک وینس اِنسفی شینسی‘ (Venous Insufficiency) کی بیماری کی تصدیق کردی ۔ کبر سنی میں خون کی نالیوں کو متاثر کرنے والی یہ ایک عام بیماری ہے ۔ امریکہ کے اندر پچاس برس سے زائد عمر کا ہر چار میں سے ایک شخص، اس مرض میں مبتلا ہے۔یہ بیماری مریض کی رگوں کو کمزورکردیتی ہے اس لیے ٹانگوں میں خون کی روانی متاثر ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں بلند فشارِ خون(ہائی بلڈ پریشر)، سوجن اور بعض صورتوں میں زخم بھی ہو سکتے ہیں۔ 17 جولائی 2025 کو ایک پریس بریفنگ میں، امریکی پریس سیکریٹری کیرولائن لیویٹ نے صدر کے معالج ڈاکٹر شان باربیبیلا کے حوالےسے صدر ٹرمپ کو مذکورہ بالا مرض سے متاثر بتایا تھا۔ ٹرمپ کے لیے اس کے سبب سرخ، جامنی اور نیلی رگیں شرمندگی کا باعث ہیں ۔ اس لیے انہیں دائیں ہاتھ کی پشت پر میک اپ کرنا پڑتا ہے۔
اِپسٹین کے چہیتے ڈونلڈ ٹرمپ اس مرض کا شکار کیوں ہوئے یہ تو تفتیش کا موضوع ہے مگراس کے عوامل میں کم حرکت، فیملی ہسٹری، موٹاپا، حمل، سگریٹ نوشی، ڈیپ وین تھرومبوسس یعنی گہری رگ میں خون کا لوتھڑا بننا، اور کرسی پر بیٹھ کر سونا شامل ہیں۔ اس بیماری کے نتیجے میں ہونے والے درد، خارش اور سوجن کے سبب جلد خشک، نازک یا کھردرا بن جاتی ہے۔ شدید صورتوں میں ٹانگوں پر تکلیف دہ زخم بھی بن جاتے ہیں۔قصرِ ابیض کی پریس سیکریٹری کیرولائن لیوٹ نے جولائی میں تصدیق کی تھی کہ سوجن محسوس ہونے پر صدر کا طبی معائنہ کیا گیا۔ٹرمپ کے معالج ڈاکٹر باربیبیلا کے مطابق یہ ایک بے ضرر اور عام بیماری ہے لیکن عوام کی رائے ہے کوئی خاص آدمی اس مرض میں مبتلا ہوجائے تو وہ ٹرمپ کی مانند ساری دنیا کو مشکلات میں ڈال دیتاہے۔ ٹرمپ کو خارش ان کوبد زبان کردیتی ہے اور امریکہ سمیت پوری دنیا کی لوگ سر کھجانے پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔ ویسے تو یہ ایک لاعلاج مرض ہے مگر طرز زندگی میں تبدیلی اور علاج سے اس پر قابو پایا جا سکتا ہےمگر ٹرمپ میں ضبطِ نفس ہوتا تووہ اِپسٹین کے جال میں کیوں پھنستے؟
ڈونلڈ ٹرمپ کا دماغی مرض جسمانی بیماری سےزیادہ سنگین ہے۔ وہ خود کو’’ امن کا صدر‘‘ کے لقب سے نواز کر اپنے عہدے پر فائز ہوئے تھےمگر آتے ہی وزارتِ دفاع کو جنگ کی وزارت میں تبدیل کردیا ۔ اس سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے انہوں نے ابھی حال میں ریاستہائے متحدہ کی تاریخ کا سب سے بڑا جنگی بجٹ پیش فرمادیا۔ یہ ایران کا کمال ہے کیونکہ اگر وہ بھی وینزویلا کی مانند سرنگوں ہوجاتا تو ٹرمپ کو ایسا کرنے کی چنداں ضرورت پیش نہیں آتی۔ ٹرمپ نے دودن قبل جمعہ کو باضابطہ طور پر امریکی کانگریس سے درخواست کی کہ وہ مالی سال 2027 کے لیے دفاع کے مد میں حیران کن 1.5 ٹریلین ڈالر کی منظوری دے۔یہ غیر معمولی خطیر رقم اگر منظور ہو جائے توجدید تاریخ میں فوجی اخراجات کو بلند ترین سطح پر لے جائے گی۔ پچھلے مالی سال کے مقابلے میں یہ 40٪ کا زبردست اضافہ اس سے قبل ڈرف دوسری عالمی جنگ کے دوران دیکھا گیا تھا۔
ایران سے پنگا لے کر امریکہ نے ایک ایسی مصیبت میں مبتلا کرلیا ہے کہ اس سے نمٹنےکے لیے گزشتہ کئی دہائیوں سے واشنگٹن دفاع پر سات امیر ترین ممالک کے مجموعی اخراجات سے زیادہ خرچ کرتا رہا ہے لیکن اگر یہ نئی تجویز منظور ہوجائے تو سرِ فہرست 10 ممالک کے جملہ دفاعی اخراجات سے بھی آگے نکل جائےگا ۔ اس کا مطلب ہے کہ چین، روس، ہندوستان ، سعودی عرب اور برطانیہ جیسے سارے ممالک مل کر جتنا خرچ کریں گے اس سے زیادہ اکیلا امریکہ کا بجٹ ہوگا ۔اس دوران بیجنگ نے اپنی فوجی جدید کاری کو بہت تیز کیا ہے۔ 2026 میں چینی دفاعی خرچ کا تخمینہ تقریبا350ارب ڈالر بنتا ہے جو امریکہ کے 1.5 ٹریلین ڈالر کا صرف ایک تہائی ہے۔ ٹرمپ کی مانگی گئی اضافی رقم( 430 ارب ڈالر) جملہ چینی سالانہ فوجی بجٹ سے زیادہ ہے۔ ہندوستان کی بات کریں تو وہ فی الحال دنیا کا پانچواں یا چھٹا بڑا خرچ کرنے والا ملک ہےمگر پھر بھی تقریباً 85؍ ارب ڈالر کے بجٹ پر گزارہ کرلیتا ہے۔
صدر ٹرمپ ایک زمانے میں ’’امریکہ فرسٹ‘‘ کی پالیسی کے تحت اپنے ملک کو بیرونی تنازعات سے دور رکھنے کی بات کرتے تھے ۔ ان کا اصلی ہدف ’’پھر سے امریکہ کو عظیم ملک بنانا ‘‘ تھا۔ صدر ٹرمپ گزشتہ ایک سال سے بزعم خود اپنے آپ کو ’’امن کا صدر‘‘ قرار دیتے رہے ہیں اور نوبل امن انعام حاصل کرنے کے خواب سجاتے رہے۔ اس بجٹ کا نمایاں تضاد یہ ہے کہ جو شخص آپریشن سیندور کے دوران ہند و پاک جھڑپ رو کنے کاکریڈٹ لیتا رہا ۔ اس کے علاوہ کبھی سات، آٹھ بلکہ نو یا دس دیگر جنگوں کو رکوانے کا دعویٰ کرتا رہا وہ ایسا غیر معمولی دفاعی بجٹ پیش کررہا ہے۔ٹرمپ انتظامیہ نے ریگن دور کے نعرہ ’’امن بذریعہ طاقت‘‘ کو پونر جنم دے دیا ہے۔ قصرِ ابیض کے عہدیدار اعتراف کرتے ہیں کہ موجودہ ایران جنگ یعنی آپریشن ایپک فیوری نے خلیج فارس میں مناسب ہتھیاروں کی شدید کمی کا احساس دلا دیا۔ اس نے امریکہ کی ’’کھوکھلی‘‘ صنعتی بنیاد کو بے نقاب کر دیا ہے۔ ان کے مطابق چین کے ساتھ کسی بڑے تنازع نبرد آزما ہونے کے لیےڈیڑھ ٹریلین ڈالر بجٹ کوئی توسیع نہیں بلکہ ایک لازمی ’’ سرمایہ کاری کا اعادہ ‘‘ہے۔
ٹرمپ کو ایران نے احساس دلا دیا کہ محض سفارتکاری کے بل بوتے پر امن قائم کرنا ممکن نہیں ہے اس لیے وہ امریکی فوج کواتنا بڑا بنا دینا چاہتے ہیں کہ اسے چیلنج نہیں کیا جا سکے۔ان کے نزدیک اب قیام امن کو یقینی بنانے کا یہی ایک متبادل ہے۔ ایسا کرنے سے عالمی امن یا امریکہ بہادر کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا بلکہ وہاں پر موجود اسلحہ سازی کی صنعت کے وارے نیارے ہوجائیں گے اور اس سے ٹرمپ کو اچھی خاصی دلالی بھی مل جائے گی لیکن ملک قرض کی ایسی کھائی میں جاگرے گا جس سے اس کا نکلنا ناممکن ہوجائے گا۔ سابق فوجی سربراہ اور صدر ڈوائٹ آئزن ہاور اس کی نشاندہی کرچکے ہیں ۔ اس احمقانہ تجویر سے ’’بگ فائیو‘‘ دفاعی ٹھیکیداروں یعنی لاک ہیڈ مارٹن، بوئنگ، آر ٹی ایکس (ریتھیون)، نارتھروپ گرومن، اور جنرل ڈائنامکس کے تو اچھے دن آجائیں گے مگر امریکہ کی کئی نسلیں اس کا قرض چکائیں گی اور پھر سے امریکہ کو عظیم بنانے کا خواب ہمیشہ کے لیے دم توڑ دے گا ۔ ٹرمپ امریکہ کی وہی حالت کرکے لوٹیں گے جو حال گوربا چیف نے سوویت یونین کیا تھا ۔ بعید نہیں پچاس ریاستوں پر محیط اس ملک کے حصے بخرے ہوجائیں ۔
صدر ٹرمپ نے ’’قومی سلامتی‘‘ کی آڑ میں 1.5 ٹریلین ڈالر کا یہ بجٹ پیش تو کردیا لیکن اسے کانگریس یعنی ایوان پارلیمان میں بھی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ الیگزینڈریا اوکاسیو-کورٹیز جیسے قانون سازوں اور دیگر ترقی پسند رہنماؤں نے اس بجٹ کو “فحش” قرار دیا ہے، اور نشاندہی کی ہے کہ دفاعی اخراجات میں 40٪ اضافے کو گھریلو صحت اور تعلیم میں مجوزہ کٹوتیوں سے پورا کیا جا رہا ہے یعنی عوامی فلاح وبہبود کو بالائے طاق رکھ دیا جائے گا۔ اس سے امریکہ ایک ایسی فوجی ریاست بن جائے گا جہاں سرمایہ ضروری خدمات کے بجائے قانون ساز اداروں کی نذر ہو گا۔ ٹرمپ کے حامی بھی مالیاتی خسارے سے پریشان ہیں یہ دفاعی بل، 2025 کی ٹیکس کٹوتیوں کے ساتھ مل کر، قومی قرض کو ’’مہلک دائرے‘‘ میں دھکیل دے گا۔ اس طرح ایران پر غیض و غضب کا شکار خود امریکہ کی حکومت اور اس کے عوام ہوجائیں گے۔ امریکہ کی بالا دستی ماضی کی اب ایک عبرتناک داستان بن کر رہ جائے گی۔ ایسا ہوجائے تو یہ ایران کے مشہور نعرہ ’’مرگ بر امریکہ‘‘ کی عملی تعبیر بن جائے گااور کسی میم میں ٹرمپ کو فلم گائیڈ کا یہ نغمہ گاتا نظر آئےگا؎
کیا سے کیا ہوگیا ، اسرائیل تیری جنگ میں
.چاہا کیا، کیا ملا بیوفا تیری جنگ میں
Post Views: 1
Like this:
Like Loading...