Skip to content
بھیگی بھیگی سی یادیں جب یاد آتی ہیں
ازقلم:سیما شکور (حیدرآباد)
ہماری زندگی میں اکثر اوقات ایسا وقت بھی آتا ہے جب ہم لاکھ چاہنے کے باوجود گزرے ہوئے تکلیف دہ لمحات کو بھلانے سے یکسر قاصر ہوتے ہیں ۔ وہ گزرے ہوئے کٹھن لمحات ہمیں رلاتے ہیں، تڑپاتے ہیں، ہمیں رہ رہ کر وقت کی وہ ستم ظریفی یاد آتی ہے ۔ ہماری زندگی میں یوں بھی ہوتا ہے کہ جب ہم ہجوم کے ساتھ ہوتے ہیں ، کہنے کوتو سب اپنے ہوتے ہیں لیکن ہم پھر بھی تنہا ہی ہوتے ہیں ۔ نہ ہماری سوچ کو سمجھنے والا کوئی ہوتاہے نہ ہی ہمارے جذبات و احساسات کسی دوسرے کے لیے کوئی معنی رکھتے ہیں او رنہ ہی کسی کو ہماری ذات سے کوئی دلچسپی ہوتی ہے …کیوں کہ ہم دوسروں کی نظر میں وقعت نہیں رکھتے لیکن بات جب ذاتی منفعت کی ہو تو پھر اہمیت دینا ہی پڑتی ہے ۔ یہ دنیا ہے اور ایسی دنیا ہر کسی کو موافق نہیں آتی، لوگ چہرے بدل بدل کر دوسروں کو دھوکا دیتے ہیں بلکہ یوں کہیے کہ سب ایک دوسرے کو دھوکا دے رہے ہوتے ہیں ۔
وہ باتیں ، وہ یادیں جو دکھ کے سمندر میں نہائی ہوئی ہوتی ہیں وہ یادیں انسان کبھی نہیں بھول سکتا ، دل میں کسک کی لہریں اٹھتی ہیں اور لہریں پھر ایک طوفان کی شکل اختیار کرلیتی ہیں ۔ آنسوؤں کے قطرے اس وقت سمندر بن جاتے ہیں لیکن چہرے پر دریا کا سا سکوت طاری رہتا ہے ۔ محفلیں سجتی ہیں لیکن محفل میں بھی ایسا انسان تنہا ہی رہتا ہے اس لیے کہ نہ ہی یہ دنیا اسے سمجھتی ہے اور نہ ہی وہ دنیا کے رنگ میں رنگ سکتا ہے ۔ وقت یوں ہی گزرتا رہتاہے اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ دنیا بھی بدل جاتی ہے لیکن ایسے انسان کبھی نہیں بدل سکتے جن کے اندر او رباہر یکسانیت ہوتی ہے ۔ وہ اس معاملے میں کسی بھی قسم کا سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے، دنیا انہیں احمق سمجھتی ہے اس لیے کہ دنیا یہ سمجھتی ہے کہ وقت کے ساتھ نہ بدلنے والے لوگ زندگی کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں ۔ شب تاریک کے پردے پر بھیگی بھیگی سی یادیں جب جلوہ گر ہوتی ہیں تو آنسوؤں کے دیپ جل اٹھتے ہیں کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اچانک ہی کسی کی یاد دل کو بوجھل کردیتی ہے ۔ کسی سے ملنے کی تڑپ اور کسی کو ہمیشہ کے لیے کھو دینے کا احساس دل میں آندھیاں برپا کردیتا ہے ۔ کچھ جانے والے ایسے ہوتے ہیں جو کبھی واپس نہیں آتے اور کچھ بچھڑنے والے ایسے ہوتے ہیں جو نظر کے سامنے ہوتے ہوئے بھی بچھڑ جانے والے ہی کی طرح ہوتے ہیں ۔ ان سے بات ہوتی ہے مگر پھر بھی بات کہاں ہوتی ہیں ؟ وقت کی آغوش میں گرم گرم آنسو گرتے رہتے ہیں لیکن وہ کسی کو بھی دکھائی نہیں دیتے…دل کسی تپتے ہوئے ریگستان کی طرح جلتا ہے جب اس ریگستان میں یادوں کی شبنم برستی ہے تو دل کا ریگستان کچھ اور بھی سلگنے لگتا ہے ۔ تکلیف دہ یادیں انسان کو ایک پل بھی قرار لینے نہیں دیتیں …یادوں کی خاردار پگڈنڈیوں پر چلتے چلتے انسان اپنا وجود بھی بھولنے لگتا ہے ۔ کبھی کبھی وقت کی جھیل میں بہتے ہوئے خوش کن یادوں کے کنول کچھ دیر کے لیے انسان کے چہرے پر مسکراہٹ بکھیر دیتے ہیں جیسے چند لمحوں کے لیے چودھویں کی رات ہو او رپھر وہی اماوس کی اندھیری رات ہوتی ہے ۔
کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ آنکھوں میں ٹھاٹھیں مارتا ہوا آنسوؤں کا سیلاب باہر نکلنے کو بے تاب ہوتا ہے لیکن ان کے راستے میں چندانا پرست آنسو دیوار کھڑی کردیتے ہیں ، وہ آنسو صرف آنکھوں کی دہلیز پر ہی آکر تھم جاتے ہیں ، بھیگی بھیگی پلکیں اور گیلی گیلی آنکھیں چند لمحوں کے لیے شیشوں کی طرح چمکتی ہیں اور پھر خشک ہوجاتی ہیں ۔ جس طرح سمندر کی شرارتی لہریں ساحل کے پاس آکر ذرا دیر کے لیے ٹھہر جائیں او رپھر ساحل کو چوم کر واپس چلی جائیں…
تکلیف دہ یادوں کا حصار جب انسان کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے تو انسان اپنے آپ کو بے بس اور لاچار محسوس کرتا ہے ۔ یوں لگتا ہے کہ جیسے آبگینے بکھر گئے ہوں اور روح لہو ہان ہوگئی ہو ۔کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے آسمان پر چاند بھی اداس ہوکر اس کی جانب ایک ٹک دیکھے جارہا ہو اور اس دکھی انسان کے دکھ پر نوحہ کناں ہو اور ستارے جھک جھک کر اسے دیکھ کر پلکیں جھپک جھپک کر آنسو بہارہے ہوں ۔ شاخوں پر جھولتے گلاب بھی اداس ہوں ، پوری کائنات اسے اپنے غم میں نوحہ کناں دکھائی دیتی ہے ۔ انسان پر جب بے خودی کی کیفیت طاری ہوتی ہے ، زخمی یادیں اس کا دل زخم زخم کردیتی ہیں تب ایسا لگتا ہے کہ جیسے باد صبا دھیرے سے اس کے کان میں آکر دلاسہ دے رہی ہو ، بہتی ہوئی ندیاں او رجھیلیں سب آپس میں سرگوشیاں کررہی ہوں ، سب اُداس ہوں ، جب شہر دل اداس ہو تو پھر ایسے میں سارا جہاں ہی اداس لگتا ہے ۔ جب دل میں مسرتوں کے گلاب کھلتے ہوں تو سارا جہاں گیت گاتا ہوا محسوس ہوتا ہے ۔ جب آنگن دل میں سارے پھول مرجھا جائیں تو پھر انسان کیوں کر خوش رہ سکتا ہے ؟ کہیں کوئی کونپل کھلتی ہوئی دکھائی نہ دے ، کہیں کوئی کلی کھلی ہوئی نہ ملے تو پھر انسان کے نصیب میں بس اداسیاں ہی اداسیاں رہ جاتی ہیں ۔ کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو اپنا دکھ کسی سے بھی بانٹنا نہیں چاہتے وہ اپنی ذات کے ارد گرد مضبوط فصیلیں کھڑی کردیتے ہیں جنہیں پار کرنا نا ممکن ہوتا ہے ۔ وہ اپنے دکھ اپنے دل ہی میں لیے اس فانی دنیا سے کوچ کرجاتے ہیں ۔ بظاہر مضبوط چٹان کی سی صورت دکھائی دینے والے لوگ جب تنہائی میں آنسو بہاتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے کوہساروں کے کندھوں سے دھیرے دھیرے برف کی چادریں پگھل رہی ہوں اور پھیلتے پھیلتے ہر سو پھیلتی چلی جائیں …کبھی یوں لگتا ہے کہ جیسے پھولوں کی گود میں پڑے شبنم کے نرم قطرے لبریز ہوکر ڈھلک رہے ہوں ، شام جب اپنا سرمئی آنچل اوڑھ لیتی ہے تب ہی شدت سے کوئی یاد آجاتا ہے ، شام کے آنچل میں کئی آنسو جذب ہوجاتے ہیں۔
اس دنیا کی رنگینیاں اور رعنائیاں ہر کسی کا مقدر نہیں ہوتیں، کچھ لوگ اس دنیا میں اس طرح آتے ہیں جیسے کوئی ادھ کھلی کلی کھلنے سے پہلے مرجھا جائے ۔ کچھ لوگ اپنے اصولوں کے زندانوں میں اسطرح قید ہوجاتے ہیں کہ وہ خود ٹوٹ جاتے ہیں فنا ہوجاتے ہیں لیکن اپنے اصول کبھی نہیں توڑ سکتے ۔ دنیا انہیں ناکام انسان کہہ کر مذاق اڑاتی ہے اور وہ زندگی کی جنگ ہار کر بھی جیت جاتے ہیں ، اس لیے کہ اپنے اصولوں سے انحراف ان کے لیے ان کی جسمانی نہیں روحانی موت ہوتی ہے ۔
کسی کے لہجے کا کڑوا اور روکھا پن اگر ہم چاہیں تو بھی بھول نہیں پاتے ہیں …لوگو ںکے برے سلوک اور بے نیازی ہمیں توڑ کر رکھ دیتی ہے ۔ وہ کٹھن لمحات تمام زندگی ناسور کی طرح ہمارے ساتھ رہتے ہیں ۔ وہ ایسے زخم بن جاتے ہیں جو ہمیشہ رستے رہتے ہیں ، انسانی رویوں کو پابند نہیں کیاجاسکتا ، نہ ہی کسی پر قدغن لگائی جاسکتی ہے ۔ ہر کسی کا اپنا مزاج ہوتا ہے ، فطرت ہوتی ہے ، پھولوں سے ہمیشہ خوشبو ہی مہکتی ہے او رکانٹوں سے ہاتھ زخمی ہوجاتے ہیں ۔ کچوکے لگانے والی یادوں کو بھول جانا اگرہمارے بس میں ہوتا تو شاید اس دنیا میں دکھوں کی اتنی کثرت نہ ہوتی لیکن یہ دنیا ہے اور یہاں خوشی اور غم دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں ۔ کچھ یادیں ایسی ہوتی ہیں جو دوستوں سے بانٹ لی جاتی ہیں اوردکھ کسی حد تک کم ہوجاتا ہے لیکن کچھ یادیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں کسی سے بھی بانٹا نہیں جاسکتا…وہ یادیں دل کے نہاں خانوں میں اکیلے ہی ماتم کرتی نظر آتی ہیں ۔ جب کوئی قریبی ساتھی اچانک ہی بدل جائے تو ایسا دکھ ہی ہمارے لیے بڑا روح فرسا ہوتا ہے اور ہم اتنی جلدی اسے بھول نہیں سکتے …اگر ہم کسی سے بھی زیادہ توقعات وابستہ کرلیتے ہیں تو ہمیں اتنا ہی زیادہ دکھ جھیلنا پڑتا ہے۔
٭٭٭
Post Views: 3
Like this:
Like Loading...