Skip to content
جنگ ٹل گئی! صدر ٹرمپ کا دو ہفتوں کی جنگ بندی کا باقاعدہ اعلان۔ تمام محاذوں پر فوری طور پر فائر بندی نافذ العمل ہوگی۔
امریکہ،8اپریل(ایجنسیز)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر وہ ایران کے خلاف طے شدہ حملے کو دو ہفتوں کے لیے مؤخر کرنے پر آمادہ ہیں، بشرطیکہ ایران آبنائے ہرمز کو فوری، مکمل اور محفوظ طریقے سے کھول دے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اپنے تمام فوجی اہداف حاصل کر چکا ہے اور ایران کے ساتھ طویل المدتی امن معاہدے پر پیش رفت کافی حد تک ہو چکی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ایران کی جانب سے 10 نکاتی تجویز موصول ہوئی ہے جو مذاکرات کے لیے قابلِ عمل بنیاد فراہم کرتی ہے۔
ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق امریکہ جن نکات پر مذاکرات کر رہا ہے وہ ایران کے پیش کردہ 10 نکاتی منصوبے کا حصہ ہیں۔ ان نکات میں خطے میں جاری جنگوں کا خاتمہ اور ایران کے لیے اہم سیاسی و اقتصادی ضمانتیں شامل ہیں۔
ایران کے 10 نکاتی منصوبے کے اہم نکات:
عراق، لبنان اور یمن میں جنگ کا مکمل خاتمہ۔
ایران کے خلاف جنگ کا مکمل اور مستقل خاتمہ، بغیر کسی وقت کی حد کے۔
پورے خطے میں تمام تنازعات کا اختتام۔
آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا۔
آبنائے ہرمز میں محفوظ اور آزادانہ بحری گزرگاہ کے لیے پروٹوکول اور شرائط کا قیام۔
ایران کی تعمیرِ نو کے اخراجات کے لیے مکمل معاوضے کی ادائیگی۔
ایران پر عائد تمام پابندیوں کا مکمل خاتمہ۔
امریکہ کے پاس منجمد ایرانی اثاثوں اور فنڈز کا فوری اجرا۔
ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کی مکمل یقین دہانی۔
مندرجہ بالا شرائط کی منظوری کے ساتھ تمام محاذوں پر فوری جنگ بندی۔
یہ نکات اس فریم ورک کا حصہ ہیں جس پر ایران کا کہنا ہے کہ امریکہ مذاکرات کے لیے آمادہ ہے۔
امریکی صدر کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان زیادہ تر اختلافی نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، اور دو ہفتوں کی مہلت معاہدے کو حتمی شکل دینے میں مدد دے گی۔ انھوں نے کہا کہ بطور صدر، اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کی نمائندگی کرتے ہوئے، اس دیرینہ مسئلے کے حل کے قریب پہنچنا ان کے لیے باعثِ اعزاز ہے۔
ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کی تصدیق
ادھر ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز ایجنسی میں شائع ہونے والے ایک بیان کے مطابق، ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل نے پاکستان کی ثالثی سے طے پانے والے دو ہفتوں کے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کی ہے۔
وقت مطالعہ
3 منٹ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر وہ ایران کے خلاف طے شدہ حملے کو دو ہفتوں کے لیے مؤخر کرنے پر آمادہ ہیں، بشرطیکہ ایران آبنائے ہرمز کو فوری، مکمل اور محفوظ طریقے سے کھول دے۔
ان کے مطابق یہ ایک دو طرفہ جنگ بندی ہو گی۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اپنے تمام فوجی اہداف حاصل کر چکا ہے اور ایران کے ساتھ طویل المدتی امن معاہدے پر پیش رفت کافی حد تک ہو چکی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ایران کی جانب سے 10 نکاتی تجویز موصول ہوئی ہے جو مذاکرات کے لیے قابلِ عمل بنیاد فراہم کرتی ہے۔
ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق امریکہ جن نکات پر مذاکرات کر رہا ہے وہ ایران کے پیش کردہ 10 نکاتی منصوبے کا حصہ ہیں۔ ان نکات میں خطے میں جاری جنگوں کا خاتمہ اور ایران کے لیے اہم سیاسی و اقتصادی ضمانتیں شامل ہیں۔
ایران کے 10 نکاتی منصوبے کے اہم نکات:
عراق، لبنان اور یمن میں جنگ کا مکمل خاتمہ۔
ایران کے خلاف جنگ کا مکمل اور مستقل خاتمہ، بغیر کسی وقت کی حد کے۔
پورے خطے میں تمام تنازعات کا اختتام۔
آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا۔
آبنائے ہرمز میں محفوظ اور آزادانہ بحری گزرگاہ کے لیے پروٹوکول اور شرائط کا قیام۔
ایران کی تعمیرِ نو کے اخراجات کے لیے مکمل معاوضے کی ادائیگی۔
ایران پر عائد تمام پابندیوں کا مکمل خاتمہ۔
امریکہ کے پاس منجمد ایرانی اثاثوں اور فنڈز کا فوری اجرا۔
ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کی مکمل یقین دہانی۔
مندرجہ بالا شرائط کی منظوری کے ساتھ تمام محاذوں پر فوری جنگ بندی۔
یہ نکات اس فریم ورک کا حصہ ہیں جس پر ایران کا کہنا ہے کہ امریکہ مذاکرات کے لیے آمادہ ہے۔
امریکی صدر کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان زیادہ تر اختلافی نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، اور دو ہفتوں کی مہلت معاہدے کو حتمی شکل دینے میں مدد دے گی۔ انھوں نے کہا کہ بطور صدر، اور مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کی نمائندگی کرتے ہوئے، اس دیرینہ مسئلے کے حل کے قریب پہنچنا ان کے لیے باعثِ اعزاز ہے۔
ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کی تصدیق
ادھر ایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز ایجنسی میں شائع ہونے والے ایک بیان کے مطابق، ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل نے پاکستان کی ثالثی سے طے پانے والے دو ہفتوں کے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ جنگ بندی معاہدہ ایران کے نئے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی منظوری سے طے پایا۔
ایران کی اعلیٰ قومی سلامتی کونسل نے ردعمل میں کہا ہے کہ اس نے ’ایک بڑی فتح حاصل کی ہے، اور امریکہ نے ہماری دس نکات پر مشتمل تجویز کو قبول کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ جنگ کے خاتمے کے لیے آخری تفصیلات طے کرنے کی غرض سے اسلام آباد میں مذاکرات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔‘
Post Views: 8
Like this:
Like Loading...
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
محترم مولانا مقصود یمانی صاحب
میں یہ پیغام آپ کو امریکہ سے لکھ رہا ہوں۔ میں آپ کی ویب سائٹ الہلال میڈیا پر 2020 اور 2021 سے باقاعدگی سے مضامین اور خبریں پڑھ رہا ہوں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب کورونا ویکسین کے حوالے سے خبریں بہت وائرل ہو رہی تھیں اور مختلف چیزیں سامنے آ رہی تھیں۔
آپ کی تحریریں اور رہنمائی ہمارے لیے بہت معلوماتی اور فکر انگیز رہی ہے۔
میں آپ سے احترام کے ساتھ درخواست کرتا ہوں کہ اپنی ویب سائٹ کو مزید خوبصورت اور جدید انداز میں اپنی مرضی کے مطابق بنائیں تاکہ یہ پڑھنے میں مزید آسان اور دلکش بن جائے۔
میں پہلے کویت میں مقیم تھا اور اس وقت امریکہ میں ہوں، لیکن میں اب بھی آپ کی ویب سائٹ کو باقاعدگی سے فالو کر رہا ہوں۔
جزاکم اللہ خیر
اسے جاری رکھیں.. اردو زبان کی بہترین خدمت
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
محترم المقام
ویب سائٹ کی خبریں اور مضامین کی پسندیدگی پر بہت خوشی ہوئی، جدید طریقہ پر ڈیزائین کی جاسکتی ہے، بڑی عمر کے حضرات کے مطالعہ کے لئے فونٹ بڑا رکھنے کی کوشش کی گئی اسلئے جو تھیم ابھی ہے اسی پر اکتفاء کیاہوں، اور زیادہ کیٹیگیریز کی وجہ سے کھلنے میں دشواری نہ ہو اسی لئے ڈیزائین اور کیٹیگیری میں تھوڑا ہلکا رکھا ہوں،، زیادہ سے زیادہ معیاری مضامین کی اشاعت کی کوشش رہتی ہے۔۔ دعا فرمائیں خوب سے خوب تر کی تلاش جاری رہے۔۔جزاک اللہ خیرا