جنگ بندی یا نئی عالمی بساط؟
✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
┄─═✧═✧═✧═✧═─
موجودہ عالمی منظرنامہ جس تیزی سے کروٹیں بدل رہا ہے، اس میں ہر بیان، ہر سفارتی اشارہ، اور ہر عسکری قدم اپنے اندر کئی تہوں پر مشتمل معنی رکھتا ہے۔ بظاہر جو کچھ دکھائی دیتا ہے، وہ اکثر اصل حقیقت کا محض ایک عکس ہوتا ہے؛ اصل کہانی پسِ پردہ قوتوں، مفادات اور دباؤ کے پیچیدہ تانے بانے میں پنہاں ہوتی ہے۔ یہ مضمون اس امر کا جائزہ لیتا ہے کہ حالیہ جنگ بندی محض عسکری توقف نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے مفادات کی نئی ترتیب کی علامت ہے۔
اسی زاویۂ نگاہ سے حالیہ جنگ بندی کو دیکھا جائے تو یہ محض ایک وقتی توقف نہیں بلکہ مختلف عالمی و داخلی قوتوں کے باہمی تصادم اور مفاہمت کا نتیجہ معلوم ہوتی ہے۔ اس وقفے کے دوران امریکہ کے اندر جنگ مخالف حلقے یقیناً متحرک ہوں گے۔ امریکی معاشرہ، جو طویل جنگوں کی تھکن سے گزر چکا ہے، اب مزید عسکری مہمات کے لیے یکسو نظر نہیں آتا۔ اس رجحان کی تائید مختلف تحقیقی اداروں کی رپورٹس سے بھی ہوتی ہے۔ Pew Research Center اور Gallup کے حالیہ سروے اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ 2021ء کے بعد امریکی عوام کی ایک قابلِ ذکر اکثریت طویل اور بیرونی جنگوں کے تسلسل کے خلاف رائے رکھتی ہے، جو ریاستی پالیسیوں پر بھی بتدریج اثر انداز ہو رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی سیاسی سطح پر وہ قوتیں بھی اپنا اثر دکھا رہی ہیں جو ریاستی پالیسیوں کو از سرِ نو ترتیب دینے کی خواہاں ہیں۔
دوسری جانب، صہیونی اثر و رسوخ کے بارے میں یہ تاثر کہ اسے مذاکراتی عمل میں پسِ پشت ڈال دیا گیا ہے، بذاتِ خود ایک قابلِ غور دعویٰ ہے۔ اس ضمن میں بین الاقوامی سیاست کے بعض ماہرین نے امریکی خارجہ پالیسی پر مخصوص لابیوں کے اثرات کا تفصیلی جائزہ پیش کیا ہے۔ مثال کے طور پر The Israel Lobby and U.S. Foreign Policy میں John Mearsheimer اور Stephen Walt یہ مؤقف پیش کرتے ہیں کہ امریکی پالیسی سازی کے بعض پہلوؤں پر اسرائیل نواز حلقوں کا اثر نمایاں رہا ہے۔ تاہم بین الاقوامی سیاست کی پیچیدگی کو مدِنظر رکھتے ہوئے یہ کہنا زیادہ قرینِ قیاس ہے کہ کسی بھی مرحلے پر اس اثر کو مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے وقتی طور پر اس کی شدّت میں کمی لائی جا سکتی ہے، خصوصاً جب داخلی سیاسی تقاضے اس کے متقاضی ہوں۔
اسی سلسلے میں امریکہ کے اندر ابھرنے والی نئی سیاسی سوچ، جسے بعض حلقے "MAGA” کے نام سے موسوم کرتے ہیں، بھی ایک اہم عامل کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔ اس فکر کی عملی جھلک Donald Trump کی پالیسیوں میں نمایاں طور پر دیکھی گئی، خصوصاً "America First” کے تصور میں، جس کے تحت امریکی مفادات کو عالمی ذمّہ داریوں پر ترجیح دینے کی کوشش کی گئی۔ اس رجحان نے امریکی خارجہ پالیسی میں ایک اہم بحث کو جنم دیا ہے، جسے ماہرین "neo-isolationism” اور "interventionism” کے مابین کشمکش سے تعبیر کرتے ہیں۔ یعنی ایک طرف عالمی معاملات میں محدود کردار ادا کرنے کا رجحان، اور دوسری طرف روایتی مداخلت پسند پالیسی کو برقرار رکھنے کی سوچ یہ دونوں زاویے آج بھی امریکی پالیسی سازی کے اندر باہم متصادم دکھائی دیتے ہیں۔
اسی فکری پس منظر میں اس سوچ کے حامل حلقے نہ صرف خارجہ پالیسی پر نظرِ ثانی کے خواہاں ہیں بلکہ بعض اوقات ریاستی اداروں کے کردار پر بھی سوال اٹھاتے دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم یہ بات اپنی جگہ مسلم ہے کہ کسی بھی منظم ریاست میں عسکری اداروں کا براہِ راست سیاسی احکامات سے انحراف ایک نہایت پیچیدہ اور غیر معمولی امر ہوتا ہے، جس کے دور رس نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
پاکستان کی ثالثی کے حوالے سے بھی مختلف آراء سامنے آتی ہیں۔ کچھ مبصرین اسے ایک سنجیدہ سفارتی کاوش قرار دیتے ہیں، جب کہ بعض اسے محض ایک ‘باوقار پسپائی’ کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔ تاہم International Relations کے اصولوں کی روشنی میں دیکھا جائے تو ثالثی محض ایک وقتی سیاسی چال نہیں بلکہ ایک منظم سفارتی حکمتِ عملی بھی ہو سکتی ہے۔ اس ضمن میں ‘face-saving mechanism’ ایک اہم تصور کے طور پر سامنے آتا ہے، جس کے تحت فریقین کو اس انداز میں پیچھے ہٹنے کا موقع دیا جاتا ہے کہ ان کی داخلی ساکھ متاثر نہ ہو، جب کہ ‘third-party mediation theory’ یہ واضح کرتی ہے کہ کسی غیر جانب دار یا نسبتاً قابلِ قبول تیسرے فریق کی مداخلت کشیدہ حالات میں مفاہمت کی راہ ہموار کر سکتی ہے، خصوصاً جب براہِ راست مذاکرات تعطل کا شکار ہو جائیں۔
اسی حوالے سے بین الاقوامی تعلقات میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ممالک اپنے فیصلوں کو کسی تیسرے فریق کی درخواست یا مداخلت کے پردے میں پیش کرتے ہیں تاکہ داخلی سطح پر اپنی ساکھ برقرار رکھ سکیں۔ یوں یہ بیانیہ تشکیل پاتا ہے کہ جنگ بندی کسی کمزوری کا نہیں بلکہ ایک اخلاقی یا سفارتی اقدام کا نتیجہ ہے۔
ایران اور اس کے اتحادیوں کے حوالے سے صورتِ حال مزید پیچیدہ ہو جاتی ہے۔ بظاہر یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ نہ صرف ایران بلکہ اس کے حلیفوں پر بھی حملوں میں کمی یا توقف آیا ہے۔ تاہم یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آیا یہ ایک پائیدار امن کی بنیاد ہے یا محض ایک عارضی وقفہ، جس کے بعد حالات دوبارہ کشیدہ ہو سکتے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ کی تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ یہاں کی جنگ بندیاں اکثر مستقل حل کی بجائے وقتی مہلت ثابت ہوتی ہیں۔ چنانچہ Camp David Accords جیسے معاہدے اگرچہ ایک بڑی سفارتی پیش رفت تھے جنہوں نے مصر اور اسرائیل کے درمیان طویل دشمنی کو باضابطہ طور پر ختم کیا، تاہم وسیع تر علاقائی تنازعات کو مکمل طور پر حل نہ کر سکے۔ اسی طرح Iran-Iraq War ceasefire بھی ایک طویل اور خونریز جنگ کے خاتمے کا ذریعہ تو بنا، لیکن اس نے خطے میں پائیدار استحکام کی ضمانت فراہم نہیں کی۔
اس پورے منظرنامے کا ایک اہم پہلو وہ داخلی فکری کشمکش بھی ہے جو مسلم دنیا کے اندر پائی جاتی ہے۔ اس صورتِ حال کو Political Islam کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ مذہب اور سیاست کا باہمی تعلق محض نظریاتی نہیں بلکہ عملی اور جغرافیائی عوامل سے بھی گہرا طور پر وابستہ ہے۔ اسی ضمن میں ‘sectarian geopolitics’ کا تصور بھی اہمیت اختیار کر جاتا ہے، جس کے تحت مسلکی وابستگیاں محض عقیدے تک محدود نہیں رہتیں بلکہ علاقائی سیاست، اتحادوں اور تنازعات کی تشکیل میں بھی مؤثر کردار ادا کرتی ہیں۔ اسی سیاق و سباق میں عالمی سیاست کو فرقہ وارانہ زاویوں سے دیکھنے کا رجحان بعض اوقات حقیقت کے جامع ادراک میں رکاوٹ بن جاتا ہے۔ ایران کے ساتھ تعلقات کے سوال پر جو حلقے محض مسلکی بنیادوں پر فیصلے کرتے رہے، وہ آج ایک نئے مخمصے کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔
اسی طرح عرب دنیا کے حکمرانوں کے لیے بھی یہ ایک موقع ہے کہ وہ اپنی پالیسیوں پر نظرِ ثانی کریں۔ عالمی طاقتوں پر اندھا اعتماد اور علاقائی حقیقتوں سے چشم پوشی اب مزید قابلِ عمل حکمتِ عملی معلوم نہیں ہوتی۔ ممکن ہے کہ اس نئی صورتِ حال میں وہ اپنے سابقہ فیصلوں اور مشیروں کے کردار کا از سرِ نو جائزہ لیں۔
جہاں تک مغربی اتحاد اور اس کی عسکری حکمتِ عملی کا تعلق ہے، وہاں بھی ایک واضح تضاد نظر آتا ہے۔ NATO جیسے اتحاد ایک طرف اجتماعی دفاع اور مشترکہ حکمتِ عملی کا دعویٰ کرتے ہیں، لیکن عملی سطح پر ان کی پالیسیاں ہمیشہ یکساں نہیں رہتیں۔ عراق اور افغانستان میں طویل عسکری مداخلت کے تجربات، اور شام کے معاملے میں غیر یکساں اور محتاط طرزِ عمل، اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مغربی طاقتیں اکثر حالات کے مطابق اپنی ترجیحات بدلتی رہتی ہیں۔ اسی تناظر میں یہ تضاد مزید نمایاں ہو جاتا ہے کہ ایک جانب براہِ راست مداخلت اور عسکری کارروائیاں کی جاتی ہیں، جب کہ دوسری جانب بعض مواقع پر اتحادیوں کو تنہاء چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اس طرزِ عمل سے نہ صرف پالیسی کا ابہام بڑھتا ہے بلکہ اعتماد کی فضاء بھی متاثر ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں علاقائی اتحادی خود کو غیر یقینی صورتِ حال میں گھرا ہوا محسوس کرتے ہیں۔
ان تمام حالات کے باوجود امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا جا سکتا۔ تاریخ ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ شدید ترین کشیدگی کے بعد بھی مفاہمت کے دروازے کھل سکتے ہیں۔ تاہم موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ کسی بھی فریق کے لیے دوبارہ مکمل جنگ کی طرف جانا ایک نہایت مہنگا اور خطرناک فیصلہ ثابت ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر ایسے رہنماؤں کے لیے، جو پہلے ہی داخلی و خارجی دباؤ کا شکار ہوں، یہ قدم سیاسی خودکشی کے مترادف ہو سکتا ہے۔ یہ ساری صورتِ حال ہمیں اس حقیقت کی طرف متوجہ کرتی ہے کہ عالمی سیاست محض طاقت کا کھیل نہیں بلکہ حکمت، صبر، اور دور اندیشی کا امتحان بھی ہے۔ جو قومیں اور قیادتیں ان اوصاف سے محروم رہتی ہیں، وہ وقتی کامیابیوں کے باوجود تاریخ کے طویل سفر میں پیچھے رہ جاتی ہیں۔
ان تمام حالات کے تناظر میں مسلم دنیا کے لیے یہ ناگزیر ہو چکا ہے کہ وہ وقتی ردِ عمل سے آگے بڑھ کر ایک جامع اور دیرپا حکمتِ عملی اختیار کرے۔ سب سے پہلے، باہمی اختلافات سے بالاتر ہو کر ایک مشترکہ حکمتِ عملی کی تشکیل ضروری ہے، تاکہ عالمی سطح پر مؤثر اور متحد آواز کے ساتھ اپنے مفادات کا تحفّظ کیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ علاقائی خود انحصاری کو فروغ دینا بھی کلیدی اہمیت رکھتا ہے، تاکہ بیرونی طاقتوں پر ضرورت سے زیادہ انحصار کم ہو اور فیصلہ سازی میں خودمختاری برقرار رہے۔
سفارتی توازن کی حکمتِ عملی اپناتے ہوئے مختلف عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات کو اس انداز میں استوار کرنا ہوگا کہ کسی ایک محور پر مکمل انحصار سے گریز کیا جا سکے۔ آخر میں، فکری یکسوئی کا حصول بھی نہایت ضروری ہے، تاکہ داخلی سطح پر پائے جانے والے نظریاتی و مسلکی انتشار کو کم کر کے ایک واضح اور مشترکہ وژن تشکیل دیا جا سکے۔ یہی وہ عناصر ہیں جو مسلم دنیا کو موجودہ پیچیدہ عالمی منظرنامے میں ایک مضبوط، باوقار اور مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بنا سکتے ہیں۔
🗓 (07.04.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com
○○○○○○○○○
