Skip to content
جمعہ نامہ: میدانِ جنگ سے مذاکراتِ امن تک
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ارشادِ ربانی ہے:’’اے ایمان والو! جب تم (میدانِ جنگ میں) کافروں سے مقابلہ ہو تو(خواہ وہ) لشکرِ گراں ہو پھر بھی انہیں پیٹھ مت دکھانا ‘‘۔ غزوۂ بدر پر اس قرآنی تبصرے میں فرمایاایسا نہ ہوکہ کوئی کمزور مل جائے تو اس پر چڑھ دوڑو اور دنیا کی سُپر پاور سامنے آئے تو دم دبا کر بیٹھ جاو۔ وطن عزیز میں پاکستان اور چین کے ساتھ سرکار ی رویہ کا فرق اس کی مثال ہےلیکن ایران نےتواپنے سےزیادہ طاقتور امریکہ سے لوہا لے لیا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ: ’’ جو شخص اس دن ان سے پیٹھ پھیرے گا، سوائے اس کے جو جنگ (ہی) کے لئے کوئی داؤ چل رہا ہو یا اپنے (ہی) کسی لشکر سے (تعاون کے لئے) ملنا چاہتا ہو، تو واقعتاً وہ اللہ کے غضب کے ساتھ پلٹا اور اس کا ٹھکانا دوزخ ہے، اور وہ (بہت ہی) برا ٹھکانا ہے ‘‘۔ ایران کے جانباز مجاہدین اور امریکہ و اسرائیل کے فوجیوں میں بنیادی فرق یہی تھا کہ ایک رضائے الٰہی اور جہنم سے نجات حاصل کرکے جنت کی طلب میں لڑ رہے تھے اور دوسرے اپنی ملازمت کا تقاضہ پورا کررہے تھے ۔ ایسے میں مجاہدین اسلام کو یہ بشارت دی گئی کہ :’’(اے سپاہیانِ لشکرِ اسلام!) ان کافروں کو تم نے قتل نہیں کیا بلکہ اللہ نے انہیں قتل کر دیا، اور (اے حبیبِ محتشم!) جب آپ نے (ان پر سنگ ریزے) مارے تھے (وہ) آپ نے نہیں مارے تھے بلکہ (وہ تو) اللہ نے مارے تھے، اور یہ (اس لئے) کہ وہ اہلِ ایمان کو اپنی طرف سے اچھے انعامات سے نوازے، بیشک اللہ خوب سننے والا جاننے والا ہے‘‘۔
میدان جنگ میں نصرت خداوندی کی کئی صورتیں ہیں مثلاً آگے فرمانِ قرآنی ہے:’’ یہ (تو ایک لطف و احسان) ہے اور (دوسرا) یہ کہ اللہ کافروں کے مکر و فریب کو کمزور کرنے والا ہے‘‘۔ غزوۂ بدر میں چونکہ سردارانِ قریش نے غلاف کعبہ سے لپٹ کر یہ دعا کی تھی کہ دونوں لشکروں میں جو حق پر ہو اسے فتح و کامرانی ملے تو انہیں یاد دلایا جارہا ہے :’’ اگر تم نے فیصلہ کن فتح مانگی تھی تو یقیناً تمہارے پاس (حق کی) فتح آچکی اور اگر تم (اب بھی) باز آجاؤ تو یہ تمہارے حق میں بہتر ہے، اور اگر تم پھر یہی (شرارت) کرو گے (تو) ہم (بھی) پھر یہی (سزا) دیں گے اور تمہارا لشکر تمہیں ہرگز کفایت نہ کرسکے گا اگرچہ کتنا ہی زیادہ ہو اور بیشک اللہ مومنوں کے ساتھ ہے‘‘۔ ابھی حال میں ٹرمپ نے یہ پوچھے جانے پر کہ کیا خدا اس جنگ میں امریکہ کے ساتھ ہے تو اس نے کہا تھا کہ خدااچھا ہے اور چاہتا ہے کہ لوگوں کا خیال رکھاجائے تو اس نے ایران کا خیال رکھا اور امریکہ کو ایران کے دس نکات کی بنیادپر کو امن مذاکرات کےلیے راضی ہونا پڑا۔ میدان جنگ کی کامیابی کےنتیجےمیں یہ بڑی سفارتی فتح حاصل ہوئی ۔
حالیہ جنگ کا نقشہ اس وقت بدل گیا جب ٹرمپ نے قدیم ایرانی تہذیب کو مٹا کر اس کی ساری اہم تنصیبات نیست ونابود کردینے کی دھمکی دے دی۔ اس وقت دنیا بھر کے ماہرین جنگ ایٹم بم کے استعمال کا اندیشہ ظاہر کرنے لگےاور توقع تھی ایرانی موت بچنے کے لیے اپنے بجلی گھروں سے دور بھاگ جائیں گے مگر انہوں نے تو اپنی قیادت کے اشارے پرجان کی بازی لگا کر کے حملے کے خلاف انسانی زنجیر بنالی ۔ دنیا اس معجزے سے حیران تھی مگر وہ توقرآن مجید اس ترغیب پر نکل آئے تھےکہ:’’اے ایمان والو! جب (بھی) رسول (ﷺ) تمہیں کسی کام کے لئے بلائیں جو تمہیں (جاودانی) زندگی عطا کرتا ہے تو اللہ اور رسول (ﷺ) کو فرمانبرداری کے ساتھ جواب دیتے ہوئے (فوراً) حاضر ہو جایا کرو، اور جان لو کہ اللہ آدمی اور اس کے قلب کے درمیان حائل ہوتا ہے اور یہ کہ تم سب (بالآخر) اسی کی طرف جمع کئے جاؤ گے۔اور (اے اہلِ حق!) تم ان (کفر و طاغوت کے سرغنوں) کے ساتھ (انقلابی) جنگ کرتے رہو، یہاں تک کہ (دین دشمنی کا) کوئی فتنہ (باقی) نہ رہ جائے اور سب دین (یعنی نظامِ بندگی و زندگی) اللہ ہی کا ہو جائے، ‘‘۔
اہل ایمان کے اس جذبۂ شہادت نے جنگ کا نقشہ بدل کرامن مذاکرات کاراستہ کھول دیا۔ایسےمیں قرآنی ہدایت ہے کہ:’’ پھر اگر وہ باز آجائیں تو بیشک اللہ اس (عمل) کو جو وہ انجام دے رہے ہیں، خوب دیکھ رہا ہے، اور اگر انہوں نے (اطاعتِ حق سے) روگردانی کی تو جان لو کہ بیشک اللہ ہی تمہارا مولیٰ ہے، (وہی) بہتر حمایتی اور مددگار ہے ‘‘۔مذاکرات امن جنگ کے بغیر نہیں ہوتے ۔ فلسطین میں اسرائیل کے مذاکرات محمود عباس کی الفتح کے ساتھ نہیں بلکہ حماس کے درمیان ہوئے کیونکہ مؤخر الذکر نے میدانِ جنگ میں اپنی طاقت کا لوہا منوا لیا تھا اور دیگر مسلم ممالک کے مقابلے ایران کے ساتھ بھی یہ بات چیت اس لیے ہورہی ہے کیونکہ حالیہ جنگ میں اس نے امریکہ و اسرائیل کو بتا دیا کہ وہ ناقابلِ تسخیر قوت ہے۔یہ اعزاز اس لیے حاصل ہوا کیونکہ بے شمار معاشی پابندیوں کے باوجود ایران نے مشکل تریں حالات میں بھی قرآن مجید کے اس تقاضے کو پورا کیا کہ :’’ تم لوگ، جہاں تک تمہارا بس چلے، زیادہ سے زیادہ طاقت اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے اُن کے مقابلہ کے لیے مہیا رکھو تاکہ اس کے ذریعہ سے اللہ کے اور اپنے دشمنوں کو اور ان دُوسرے اعداء کو خوف زدہ کرو جنہیں تم نہیں جانتے ۰۰۰‘‘۔
ایران کے ڈرونز اور میزائیلس نے حالیہ جنگ میں اپنی طاقت کا ایسا لوہا منوایا کہ ایک طرف اسرائیل کی نام نہاد آہنی گنبد چھلنی ہوگئی اور دوسری جانب نہ صرف ایک کے بعد امریکہ کے بہترین لڑاکا جہازوں کو گرایا بلکہ بدنامِ زمانہ بحری بیڑے ابراہم لنکن کو میدان جنگ سے فرار ہونے پر مجبور کردیا ۔ اس کامیابی کے بعد ہی قرآن حکیم کی اگلی آیت پر عمل کا موقع آیا جس میں فرمایا گیا:’’ اور اے نبیؐ، اگر دشمن صلح و سلامتی کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کے لیے آمادہ ہو جاؤ اور اللہ پر بھروسہ کرو، یقیناً وہی سننے اور جاننے والا ہے اور اگر وہ دھوکے کی نیت رکھتے ہوں تو تمہارے لیے اللہ کافی ہے‘‘۔عام طور صلح کی پیشکش شکست خوردہ فریق کرتا ہے اور موجودہ حالات میں یہ امریکہ کا اعتراف شکست ہے۔ایسے میں اندیشوں کی بنیاد پر پہلو تہی کرنے کے بجائے اللہ کے بھروسے مذاکرات میں شریک ہونا چاہیے ۔خداکرےیہ امن مذاکرات طاغوتی ظلم و جبر سے نجات کی راہ ہموارکرے۔
Post Views: 4
Like this:
Like Loading...
آمین ثم آمین یا رب العالمین