Skip to content
امریکہ کی بالادستی اور برتری کا خاتمہ ، ایران کی فتح عظیم .
ٹرمپ کا سرِ پُر غرورچکنا چور، گھٹنے ٹیکنے پر مجبور
ازقلم: عبدالعزیز
’ غیرت ہے بڑی چیز جہانِ تگ و دو میں- پہنائی ہے درویش کو تاجِ سرِ دارا ‘
صدر امریکہ مسٹر ڈونالڈ ٹرمپ جو اپنی بدعقلی ، پاگل پن اور نالائقی کا دورانِ جنگ مسلسل مظاہرہ کر رہے تھے اور گھمنڈ اور غرور میں چور چور تھے، اللہ تعالیٰ نے ان کے غرور اور تکبر کو خاک میں ملا دیا۔ یوں تو وہ ایران پر جنگ مسلط کرنے کے بعد جنگ سے پیچھا چھڑانے کی بار بار کوشش کرتے رہے۔ کبھی دھمکیوں سے کام لیتے تھے، کبھی پانچ روز، کبھی دس روز اور کبھی پندرہ روز مہلت دینے کی باتیں بھی کرتے رہے لیکن جنگ بندی سے پہلے انھوں نے ایران کو دھمکی دی تھی کہ اگر 48گھنٹے میں وہ امریکہ سے ڈیل نہیں کیا تو اس کی تمام تہذیب و ثقافت کو ملیامیٹ کر دیںگے۔ اس دھمکی سے یہ اندازہ کیا جارہا تھا کہ شاید امریکہ ایران پر ایٹم بم گرانے کا فیصلہ کرسکتا ہے اور بھدی بھدی تہذیب سے گری ہوئی گالیاں دینے پربھی اُتارو ہوگئے، لیکن ڈیڈ لائن کے خاتمے سے دو گھنٹے پہلے پندرہ دنوں کے لئے عارضی جنگ بندی پر ڈونالڈ ٹرمپ نہ صرف راضی ہوگئے بلکہ ایران کی دس کی دس شرطوں کو منظور کرنے پر بھی مجبور ہوگئے۔ ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق دس شرطیں حسب ذیل ہیں:
(1 عراق، لبنان اور یمن میں جنگ کا مکمل خاتمہ۔ (2 ایران کے خلاف جنگ کا مکمل خاتمہ بغیر کسی وقت کی حد کے۔ (3 پورے خطے میں تمام تنازعات کا اختتام۔ (4 آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا۔ (5 آبنائے ہرمز میں محفوظ آزادانہ گزرگاہ کے لئے پروٹوکول اور شرائط کا قیام۔ (6 ایران کی تعمیر نو کے اخراجات کے لئے مکمل معاوضے کی ادائیگی۔ (7 ایران پر عائد تمام پابندیوں کا مکمل خاتمہ۔ (8 امریکہ کے پاس منجمد ایرانی اثاثوں اور فنڈز کی فوری رہائی۔(9 ایرانی کی جانب سے جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کی مکمل یقین دہانی۔ (10 مندرجہ بالا شرائط کی منظوری کے ساتھ تمام محاذوں پر فوری جنگ بندی۔
کہا جاتا ہے کہ ہر شر میں خیر کا بھی پہلو ہوتا ہے۔ اس جنگ میں اگرچہ شر ہی شر تھا۔ ایران کو بہت زیادہ نقصانات سے دوچار ہونا پڑا اور لگ بھگ 2000 جانوں کا نذرانہ پیش کرنا پڑا، لیکن خیر کا پہلو یہ ہوا کہ ایران اپنے عزم اور حوصلے اور اپنے بے پناہ جذبۂ شہادت کی بنا پر دنیا کے نقشے پر سپر پاور کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آیا، جبکہ امریکہ کی برتری اور فوقیت کا خاتمہ ہوگیا۔ امریکہ کی فوقیت اور برتری کو ختم کرنے میں ڈونالڈ ٹرمپ کا وہ پاگل پن تھا جس کی وجہ سے انھوں نے ایران پر جنگ مسلط کی تھی۔ دنیا کی تاریخ کے صفحات میں یہ چیز درج ہوگئی کہ کس طرح ایک سپر پاور کو جس کا دنیا میں طوطی بولتا تھا، غلبہ تھا، عالمی نظام قائم کرنا چاہتا تھا۔ جس ملک کو چاہتا تھا اور جب چاہتا تھا تہس نہس کرنے پر آمادہ ہوجاتا تھا۔ ایران کو اسلامی انقلاب کے بعد ہی سے نشانہ بنائے ہوئے تھا۔ مشکل سے کوئی موقع ہاتھ سے جانے دینا چاہتا تھا جب اسے ایران کو ستانے کا واسطہ بالواسطہ موقع مل جاتا۔ 28 فروری 2026ء کو حالیہ جنگ شروع ہوئی ۔ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو شہید کردیا گیا اور بہت سے دیگر ایرانی قیادتوں کو بھی شہادت کا جام نوش کرنا پڑا۔ ایران کبھی بھی اپنے عزم و استقلال میں متزلزل ہوا اور نہ اس کے حوصلے پست ہوئے۔ ایران کا بچہ بچہ نہ صرف شہادت کے لئے تیار تھا بلکہ اس کے ہاتھ میں ایسے اوزار بھی تھے کہ جب بھی اس کو موقع ملتا اسرائیلی اور امریکی سپاہیوں کو نشانہ بناتا۔ اس بات کی تصدیق امریکہ کے کمانڈر نے بھی کی ہے کہ ایران کے بچے بچے کے اندر شہادت کا جذبہ بے پناہ ہے۔
ڈونالڈ ٹرمپ کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے بہکاوے میں آگئے تھے۔ امریکہ کے عوام اور دانشور بھی اس حقیقت کا اظہار کرتے تھے کہ ڈونالڈ ٹرمپ امریکہ کے تحفظ کے لئے نہیں بلکہ اسرائیل کو بچانے کے لئے جنگ لڑ رہے ہیں۔ ’امریکہ فرسٹ‘ ہونے کے بجائے ’اسرائیل فرسٹ‘ ہے۔ اس جنگ سے امریکہ کو کوئی فائدہ حاصل ہونے والا نہیں ہے۔ امریکن یہ بھی کہتے تھے کہ سب سے مضحکہ خیز بات تو یہ ہے کہ فی الحال امریکہ کو ایران سے کوئی خطرہ درپیش نہیں ہے۔ پھر بھی امریکہ اس جنگ میں بلا وجہ اور بے سود کود پڑا ہے اور اپنے جانی و مالی نقصانات برداشت کر رہا ہے۔ ایران کے صدر نے بھی امریکی باشندوں کو ایک خط کے ذریعے بتانے کی کوشش کی تھی کہ امریکہ نے زبردستی ایران پر جنگ مسلط کی ہے۔ امریکہ کو اس جنگ سے کوئی فائدہ ہونے والا نہیں ہے۔ امریکہ کی سڑکوں پر ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں لوگ جنگ کے خلاف مظاہرے کر رہے تھے۔ ڈونالڈ ٹرمپ کی مقبولیت اس قدر گھٹ گئی تھی کہ امریکہ کے 95% لوگ جنگی جنون کے خلاف تھے اور وہ یہ بھی چاہتے تھے کہ ڈونالڈ ٹرمپ کو صدر کے عہدے سے ملک کو بچانے کے لئے ہٹایا جائے۔
امریکہ – ایران جنگ بند ہوگئی، اگر چہ عارضی طور پر بند ہوئی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان اسلام آباد میں جمعہ کے دن سے مذاکرات شروع ہونا بھی طے ہے لیکن بہتوں کو خدشہ یہ بھی ہے کہ امریکہ پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ایران بھی امریکہ پر کسی طرح بھی بھروسہ نہیں کرے گا۔ وہ چوکس اور چوکنّا رہے گا اور اپنی طاقت کو بڑھانے میں مصروف عمل رہے گا۔ میرے خیال سے امریکہ کو جس قدر نقصان ہوا ہے اس کی بھرپائی آسان نہیں ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ کی شخصیت جس قدر مجروح ہوئی ہے اس کی بھی تلافی آسان نہیں ہے۔ فوجی افسران کی ایک قابل لحاظ تعداد نہ صرف اس جنگ کے خلاف تھی بلکہ جنگ میں شامل ہونے سے انکار بھی کیا۔ عوام کی مخالفت، فوجیوں کا جنگ میں شامل ہونے سے انکار، امریکہ اور ڈونالڈ ٹرمہ کے خلاف دنیا بھر میں صدائے احتجاج بلند کرنا اور امریکہ کا اکیلا ہوجانا یہ سب ایسے حقائق ہیں جس کی بنا پر کہا جاسکتا ہے کہ امریکہ جنگ کا مزا چکھ چکا ہے ، وہ شاید ہی ایران کی طرف دوبارہ رخ کرنے پر آمادہ ہو۔ امریکہ کا ایک بھی مقصد اس جنگ سے پورا نہیں ہوا۔
امریکہ یہ سمجھتا تھا کہ دو چار دنوں میں ایران سر تسلیم خم کرنے پر مجبور ہوگا اور وہاں رجیم چینج بھی ہوجائے گا۔ جو لوگ ایران میں ایرانی حکومت یا موجودہ نظام کے خلاف سڑکوں پر اترے تھے وہ دورانِ جنگ امریکہ کی ہمنوائی میں سڑکوں پر آجائیں گے لیکن امریکہ کا یہ خواب دھرا کا دھرارہ گیا ۔ نہ تو رجیم چینج ہوا اور نہ اس کی ہمنوائی میں لوگ سڑکوں پر آئے بلکہ ایران پہلے سے بھی کہیں زیادہ منظم اور مستحکم نظر آیا۔ ایرانی قیادت اور ایرانی فوج کی ہمنوائی میں لاکھوں لوگ امریکہ اور اسرائیل کے خلاف سڑکوں پر مظاہرہ کرتے ہوئے نظر آئے۔ در اصل یہ ایرانی قوم کا توکل علی اللہ، صبر و استقامت، مزاحمت، جذبۂ حریت، قومی یکجہتی اور قومی غیرت کا ایک ایسا مظاہرہ تھا جسے دیکھ کر دنیا دنگ رہ گئی۔ اسرائیل کے اندر جنگ کے دوران بھگدڑ مچی ہوئی تھی۔ نہ صرف لوگ زیر زمین پناہ لے رہے تھے بلکہ اپنے گھر بار چھوڑ کر دوسرے ملکوںکے لئے فرار ہورہے تھے۔ ایران میں بہادری، شجاعت مندی کا مظاہرہ تھا تو اسرائیل میں بزدلی اور پستی کا منظر دکھائی دے رہا تھا۔
دنیا نے اسرائیل اور ایران کا فرق تو دیکھا لیکن دنیا نے یہ بھی دیکھا کہ ایرانی قیادت اور امریکی قیادت میں کیا فرق ہے۔ ایرانی قیادت نے شہادت کے باوجود اپنا لوہا منوالیا کہ وہاں کی قیادت میں کتنی دانائی، بردباری اور حکمت پائی جاتی ہے۔ اس کے برعکس امریکہ کی قیادت میں کتنی بیوقوفی، نالائقی اور حماقت نظر آتی ہے۔ دنیا کے لوگ اس پر بھی حیرت کر رہے تھے کہ امریکہ جہاں پڑھے لکھے لوگوں کی اچھی خاصی تعداد ہے۔ دانشوروں کی کمی نہیں ہے، اس کے باوجود ڈونالڈ ٹرمپ جیسے ایک پاگل شخص کو کیسے امریکہ کی سربراہی کے لئے منتخب کیا گیا۔
مولانا جلال الدین رومیؒ فرماتے ہیں: ’’ایک ہزار قابل انسان کے مرجانے سے اتنا نقصان نہیں ہوتا جتنا ایک احمق اور لالچی انسان کے صاحب اختیار ہوجانے سے ہوتا ہے‘‘۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو خاص طور پر ہدایت کی ہے کہ ’’امانتوں کو اہل امانت کے سپرد کرو‘‘ یعنی عہدہ، ذمہ داری ایسے لوگوں کے سپرد کی جائے جو اہل ہوں۔ اگر وہ نا اہل ہوں گے تو اس سے نقصانات ہی نقصانات ہوں گے۔ ڈونالڈ ٹرمپ کی وجہ سے نہ صرف امریکہ میں پریشانیاں بڑھ گئی ہیں دنیا بھر میں پریشانیاں بڑھتی جارہی ہیں۔ حالیہ جنگ سے دنیا بھر میں جو مہنگائی بڑھی ہے اس کا تدارک چند دنوں یا چند مہینوں میں ممکن نہیں ہے۔ جنگ سے بے شمار لوگ متاثر ہوئے ہیں ۔ بہتوں کے کاروبار پر اثر پڑا ہے اور بہت سے لوگوں کو بے روزگار بھی ہونا پڑا ہے۔ جنگ سے کوئی مسئلہ نہ پہلے حل ہوا ہے ، نہ آج حل ہوگا۔ جنگ خود ہی ایک مسئلہ ہے، جنگ سے مسئلے بڑھتے ہیں گھٹتے نہیں۔
دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات شروع ہونے والے ہیں ۔ امید کی جاسکتی ہے کہ امریکہ پر دنیا بھر کے ملکوں کا دباؤ پڑے گا اور امریکہ کو اس دباؤ سے باہر نکلنا آسان نہیں ہوگا۔ اس لئے دنیا کو جو اس بندی سے راحت ملی ہے یہ راحت ختم نہ ہو ۔ اس کے لئے دنیا کی تمام طاقتوں کو متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر مسلم ملکوں کو اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب میں دفاعی معاہدہ ہوا ہے۔ اگر اس اتحاد اور معاہدے میں ایران، ترکی، مصر اور انڈونیشیا شامل ہوجاتے ہیں تو خلیجی ممالک کو امریکہ کی غلامی سے رہائی مل سکتی ہے۔ مسلم ممالک جو امریکہ کے سامنے سر تسلیم خم کرنے پر مجبور رہتے ہیں ان کی مجبوری بھی ختم ہوسکتی ہے اور شیعہ /سنی کا جھگڑا جو لوگ پیدا کرنا چاہتے ہیں ان کو بھی کوئی موقع ہاتھ نہیں آئے گا۔ ایران کے بارے میں جو بات کہی جاتی ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ چودھراہٹ چاہتا ہے، یہ بات بالکل غلط ہے۔
ایران کی قیادت اسلامی انقلاب کے روزِ اول سے یہ کوشش کرتی رہی کہ اسلامی بنیاد پر مسلمان اور مسلم ممالک متحد ہوجائیں۔ اس کے لئے ایرانی حکومت اور ایران کی اعلیٰ قیادت سب سے پہلے سعودی عرب کے بادشاہ کو سمجھانے اور اعتماد میں لینے کی کوشش کرتی رہی لیکن غلامی ایک ایسی چیز ہوتی ہے کہ عقل و دانش سے فرد کو محروم کردیتی ہے۔ سعودی حکمراں نہ عالم اسلام سے کوئی واسطہ رکھتے ہیں اور نہ اپنے عوام سے بلکہ اپنی بادشاہت کو بچانے کے لئے ہر وہ کام کرتے ہیں جو انسانیت، انصاف اور اسلام کے برخلاف ہوتا ہے۔ یہی حال کم و بیش دنیا کے دوسرے مسلم ممالک کا ہے۔ ایران کی طاقت اور عظمت بڑھی ہے۔ صرف یونہی نہیں بڑھی ہے بلکہ ایرانی قیادت کی صلح پسندی، صلح جوئی اور حوصلہ مندی کی وجہ سے بھی بڑھی ہے۔ اپنے ملک میں سنی علماء کے وفود کو بلاتے رہے اور ان کو اسلام کی حقیقت اور اپنے ملک کے انقلاب کو بخوبی سمجھاتے رہے۔ آج جس مقام پر ایران پہنچا ہے علامہ اقبالؒ کا ویژن سو سال پہلے یہی تھا کہ ایک دن ایران اعلیٰ مقام پر پہنچے گا ۔ یہی وجہ ہے کہ انھوںنے پیش گوئی کی تھی کہ ؎
طہران ہو اگر عالم مشرق کا جنیوا- شاید کرۂ ارض کی تقدیر بدل جائے!
یہ شعر علامہ اقبال کی نظم ’جمعیت اقوام مشرق‘ سے ماخوذ ہے۔ جس کا مطلب ہے کہ اگر تہران یعنی ایران مسلم دنیا کا مرکز یا ہیڈ کوارٹر بن جائے تو مغربی غلبہ ختم ہوجائے گا اس کے مقابلے میں مشرق کی وحدت کی آزادی کا خواب پورا ہوگا۔ کیا مسلم ممالک ایران کی رہنمائی تسلیم کریں گے یا امریکہ کی غلامی پر انحصار کریں گے؟
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068
Post Views: 1
Like this:
Like Loading...