Skip to content
امتحان میں کامیابی: محنت، مشقت اور دیانت کا سنگم
(کامیابی کا نسخہ: رٹنے کی بجائے سمجھنے کا ہنر)
از قلم: ڈاکٹر صدیقی نسرین فرحت
اللہ رب العزت نے جب اپنے آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ پر پہلی وحی نازل فرمائی تو اس کا آغاز لفظِ "اقرا” یعنی "پڑھو” سے کیا (سورۃ العلق: 1)۔ یہ ایک لفظ پوری انسانیت کو یہ پیغام دیتا ہے کہ علم کا حصول ہی وہ بنیاد ہے جس پر ہر تہذیب اور ہر قوم کی عمارت استوار ہوتی ہے۔ رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے (ابنِ ماجہ)۔ اس حکمِ ربانی اور ارشادِ نبوی کی روشنی میں تعلیم محض دنیاوی ترقی کا ذریعہ نہیں، بلکہ یہ ایک مقدس فریضہ اور عبادت کا درجہ رکھتی ہے۔
تعلیم کا یہ سفر کئی منازل سے گزرتا ہے اور امتحان اس سفر کا ایک فیصلہ کن اور اہم مرحلہ ہے۔ امتحانات نہ صرف طلباء و طالبات کی علمی صلاحیتوں کی جانچ کرتے ہیں، بلکہ ان کے نظم و ضبط، استقامت، ذہنی پختگی اور کردار کا بھی آئینہ ہوتے ہیں۔ تعلیمی ماہر بینجمن بلوم کے نظریۂ مہارت کے مطابق ہر طالبِ علم کامیاب ہو سکتا ہے، بشرطیکہ اسے مناسب وقت، محنت اور صحیح رہنمائی میسر ہو، ذہانت کسی ایک طبقے یا چند افراد کی میراث نہیں، یہ مسلسل محنت سے پروان چڑھنے والی صلاحیت ہے۔ کیرول ڈویک کا "ترقی پسند ذہنیت” نظریہ بھی یہی سکھاتا ہے کہ جو طلباء اپنی کوتاہیوں کو موقع سمجھتے اور ان سے سیکھتے ہیں، وہ بالآخر کامیابی کی منزل پالیتے ہیں۔
اس پس منظر میں امتحانی کامیابی کے تین بنیادی ستونوں، محنت، مشقت اور ایمانداری کا جائزہ لینا نہایت ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں ارشاد فرمایا کہ انسان کو وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرے (النجم: 39)۔ یہ آیتِ مبارکہ اس حقیقت کو واشگاف کرتی ہے کہ محنت کے بغیر کامیابی کا تصور نہ صرف ناممکن ہے بلکہ یہ ایک خود فریبی ہے۔ جو طلباء و طالبات روزانہ باقاعدگی اور ترتیب کے ساتھ اپنے نصاب پر توجہ دیتے ہیں، قیمتی وقت کو ضائع ہونے سے بچاتے ہیں اور مضامین کو رٹنے کی بجائے سمجھ کر یاد کرتے ہیں، وہ امتحان کے دوران ذہنی سکون اور مکمل اعتماد کے ساتھ بہترین کارکردگی دکھاتے ہیں۔ محنت انسان کے اندر خود اعتمادی کا وہ چراغ روشن کرتی ہے جو امتحان گاہ کی ہر تاریکی کو دور کر دیتا ہے۔
محنت کے ساتھ ساتھ ذہنی مشقت بھی کامیابی کے لیے اتنی ہی ناگزیر ہے۔ یہ دونوں لفظ ہم معنی نہیں، محنت جہاں جسمانی کوشش کو ظاہر کرتی ہے، وہیں مشقت ایک گہری اور مسلسل ذہنی جدوجہد کا نام ہے۔ امامِ شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ جو شخص تھوڑی دیر کے لیے علم کی مشقت نہ اٹھائے، وہ جہالت کی ذلت میں ہمیشہ گرفتار رہتا ہے۔ مشکل سے مشکل مضامین کو بار بار دہرانا، اپنی علمی کمزوریوں کی نشاندہی کرنا اور انہیں دور کرنے کے لیے پیہم کوشش کرنا، یہی وہ ذہنی مشقت ہے جو طالبِ علم کو اندر سے مضبوط، باہمت اور باصلاحیت بناتی ہے۔ عصری سائنسی تحقیق نے بھی ثابت کیا ہے کہ وقفے لے کر پڑھنے کا طریقہ دماغ میں معلومات کو گہرائی سے نقش کرتا ہے اور امتحان کے دوران یادداشت کی کارکردگی کو قابلِ ذکر حد تک بہتر بناتا ہے۔ جو طلباء و طالبات مشکلات سے گھبرانے کی بجائے انہیں اپنے لیے ایک موقع تصور کرتے ہیں، وہی اصل کامیابی کے حق دار ٹھہرتے ہیں۔
امتحانی کامیابی کا تیسرا اور شاید سب سے اہم ستون ایمانداری ہے۔ یہ محض ایک اخلاقی قدر نہیں، یہ طالبِ علم کی پوری شخصیت اور کردار کی بنیاد ہے۔ امتحان میں نقل اور دھوکہ دہی وقتی طور پر کچھ فائدہ دے سکتے ہیں، مگر یہ عمل طالبِ علم کو علمی، اخلاقی اور پیشہ ورانہ ہر میدان میں تباہ کر دیتا ہے۔ ہدایہ جریدے کی تحقیق کے مطابق علم و فہم کی کمی، دیانت داری کی کمی اور خود اعتمادی کی کمی، یہ تمام کیفیات ایک انسان کو عملی زندگی میں ناکام بنانے کے لیے کافی ہیں۔ اس کے برعکس، جو طالبِ علم اپنی محنت اور علم پر بھروسہ کرتا ہے، اس کا قلب مطمئن، ذہن یکسو اور قدم مستحکم رہتے ہیں، یہی اطمینان اور یکسوئی امتحان گاہ میں اس کی سب سے بڑی طاقت ہوتی ہے۔ ایمانداری سے حاصل کردہ کامیابی انسان کو عزت، وقار اور دیرپا اعتماد عطا کرتی ہے اور اسے مستقبل میں ایک قابلِ اعتماد شہری، پیشہ ور اور سماجی رہنما بنا دیتی ہے۔
امتحان کی تیاری کا عمل صرف کتابیں پڑھنے تک محدود نہیں، بلکہ اس کے لیے ایک منظم اور متوازن حکمتِ عملی اپنانا ضروری ہے۔ امتحان سے بہت پہلے منصوبہ بندی شروع کرنا، ہر مضمون کے لیے وقت مختص کرنا اور ہر روز کا نصاب اسی روز مکمل کر لینا، یہ عادات ایک کامیاب طالبِ علم کی پہچان ہیں۔ امتحان گاہ میں پہنچ کر پہلے پورا سوالیہ پرچہ غور سے پڑھنا چاہیے، پھر آسان سوالات پہلے حل کرنے سے اعتماد بحال رہتا ہے اور گھبراہٹ نہیں ہوتی۔ جدید نفسیاتی تحقیق نے ثابت کیا ہے کہ امتحانی خوف دماغ میں ذہنی دباؤ کا ہارمون بڑھا دیتا ہے جو یادداشت کو متاثر کرتا ہے، اس لیے مثبت سوچ اپنانا اور خود پر یقین رکھنا نہ صرف نفسیاتی طور پر بلکہ سائنسی اعتبار سے بھی ضروری ہے۔
اس پورے سفر میں والدین اور اساتذہ کا کردار ایک روشن مینار کی مثل ہے۔ استاد وہ ہستی ہے جو علم کے ساتھ کردار بھی منتقل کرتی ہے، جس استاد کے قول و فعل میں اتحاد ہو، وہ طالبِ علم کے اندر امنگ اور جذبہ روشن کرتا ہے۔ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کے امتحانات کے دوران ان پر اعلیٰ نمبروں کا غیر ضروری بوجھ ڈالنے کی بجائے ان کی حوصلہ افزائی کریں اور ان کی ذہنی صحت کا خیال رکھیں ۔ تاہم، یہ حقیقت بھی اٹل ہے کہ اصل ذمہ داری طالبِ علم کی اپنی ہے، وہی امتحان گاہ میں بیٹھتا، قلم اٹھاتا اور اپنی محنت و کردار کا حساب دیتا ہے۔
آخر میں، محنت اور تیاری کے ساتھ ساتھ اللہ سے دعا کرنا ایک مؤمن طالبِ علم کی روح کی غذا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۃ طٰہٰ (آیت: 114) میں رسولِ اکرم ﷺ کو یہ دعا سکھائی کہ اے میرے رب! میرے علم میں اضافہ فرما۔ تاہم علمائے دین نے صراحت کی ہے کہ اسباب اختیار کیے بغیر محض دعا پر انحصار کرنا شریعت کے مزاج کے خلاف ہے، پہلے پوری محنت کرو، پھر اللہ سے مانگو، اور وہ ضرور عطا فرماتا ہے۔ جو طلباء و طالبات محنت، مشقت اور ایمانداری کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیتے ہیں اور اللہ کی توفیق پر یقین رکھتے ہیں، وہ نہ صرف امتحان بلکہ زندگی کے ہر میدان میں سرخرو ہوتے ہیں، کیونکہ کامیابی صرف ذہن کی نہیں، بلکہ مسلسل جدوجہد اور پاکیزہ کردار کی مرہونِ منت ہوتی ہے۔
Post Views: 1
Like this:
Like Loading...