Skip to content
مشرقِ وسطیٰ 1901 تا 1917
سلطنتِ عثمانیہ کا زوال اور فلسطین کا المیہ
ازقلم:شیخ سلیم.ممبئی
بیسویں صدی کے آغاز میں جب دنیا صنعتی انقلاب کی وجہ سے تبدیلی کی دہلیز پر کھڑی تھی، مشرقِ وسطیٰ میں ایسے واقعات رونما ہوئے جن کے اثرات آج ایک صدی سے زیادہ گزرنے کے بعد بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔ فلسطین کا مسئلہ، عرب دنیا کی تقسیم، اور مشرقِ وسطیٰ میں مسلسل جنگ و جدال، یہ سب اچانک نہیں ہوا۔ ان سب کی جڑیں 1901 سے 1917 کے سترہ برسوں میں پیوست ہیں۔ یہ وہ دور ہے جب سلطنتِ عثمانیہ کا سورج غروب ہو رہا تھا، انگریزوں نے عربوں کے ساتھ وعدے کیے اور وعدے توڑے، بھولے بھالے عربوں نے انگریزوں پر بھروسہ کیا، اور شام، فلسطین، عراق میں مستقبل کے تمام تنازعات کی بنیاد خاموشی سے رکھ دی گئی۔
1901 میں فلسطین مکمل طور پر عثمانی سلطنت کے زیرِ نگین تھا۔ سلطنتِ عثمانیہ جو تقریباً چھ سو سال سے قائم تھی، جس نے آدھے یورپ اور شمالی افریقہ پر حکومت کی اور جس کا جھنڈا تین براعظموں پر لہراتا رہا تھا۔ لیکن اب یہ طاقت زوال پذیر تھی۔ داخلی طور پر سلطنت بدعنوانی اور ناقص انتظامیہ کے بوجھ تلے دبی ہوئی تھی۔ یورپ نے نئی ٹیکنالوجی حاصل کی تھی اور تعلیم کے میدان میں ترقی کی تھی۔ دور دراز صوبوں میں مرکزی حکومت کی گرفت ڈھیلی پڑ چکی تھی اور بغاوتوں کا خطرہ مسلسل منڈلا رہا تھا۔ مالی حالت ابتر تھی، سلطنت یورپی قرضوں پر زندہ تھی اور قرض دہندہ ملک اس کمزوری سے پورا فائدہ اٹھا رہے تھے۔ بیرونی محاذ پر اسلام دشمن برطانیہ، فرانس اور روس تینوں اس انتظار میں تھے کہ کب یہ سلطنت مزید کمزور ہو، مسلمانوں کی مرکزیت اور خلافت کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ختم کیا جا سکے اور وہ اپنے حصے کے ممالک آپس میں تقسیم کر سکیں۔ یورپی حلقوں میں عثمانی سلطنت کو "یورپ کا بیمار آدمی” کہا جاتا تھا یہ اسلام دشمنی اور ایک سازش تھی اور یہ محض طعنہ نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی حکمتِ عملی کا اظہار تھا۔
فلسطین عثمانیوں کے لیے صرف ایک صوبہ نہیں تھا بلکہ مذہبی اور اسٹریٹجک اہمیت کا حامل علاقہ تھا۔ عثمانی ہر قیمت پر فلسطین کی سرزمین کی حفاظت کرنا چاہتے تھے۔ اس وقت فلسطین میں مسلمان، مسیحی اور یہودی صدیوں سے نسبتاً امن کے ساتھ رہتے آئے تھے۔ لیکن یہ امن بھی ان طوفانوں اور سازشوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا جو یورپ کی سیاسی لیبارٹریوں میں تیار ہو رہے تھے۔
انیسویں صدی کے آخری دہائیوں میں یورپ میں یہودی آبادی شدید مظالم کا شکار تھی۔ روس اور مشرقی یورپ میں پوگروم یعنی منظم قتلِ عام کے واقعات نے یہودیوں کو نقل مکانی پر مجبور کیا۔ اسی پسِ منظر میں آسٹریا کے یہودی صحافی تھیوڈور ہرٹزل نے ایک نظریہ پیش کیا جسے صیہونیت کہا جاتا ہے۔ ہرٹزل کا استدلال سیدھا تھا کہ یہودیوں کو یورپ میں کبھی قبول نہیں کیا جائے گا اس لیے ان کا اپنا ایک آزاد وطن ہونا چاہیے۔ اس وطن کے لیے فلسطین کو منتخب کیا گیا کیونکہ یہودی مذہب میں اس سرزمین کی مرکزی اہمیت تھی۔ 1901 سے 1914 کے درمیانی برسوں میں یہودیوں کی فلسطین میں ہجرت منظم انداز سے شروع ہوئی، زمینیں خریدی گئیں، کالونیاں بنائی گئیں اور ایک متوازی معاشی اور سماجی ڈھانچہ تعمیر ہونے لگا۔ فلسطینی عرب آبادی نے اس سلسلے کو بے چینی سے دیکھا لیکن ابھی کھلا تصادم شروع نہیں ہوا تھا۔ تنازع کی آگ سلگ رہی تھی، بھڑکنے کا انتظار باقی تھا۔
1908 میں عثمانی سلطنت کے اندر ایک بےچینی پیدا ہوئی۔ نوجوان ترکوں کی تحریک نے سلطان کی مطلق العنان حکومت کو چیلنج کیا اور آئینی نظام قائم کیا۔ ابتداً عربوں نے اس تبدیلی کو خوش آمدید کہا اور سمجھا کہ شاید اب ان کے حقوق بھی محفوظ ہوں گے۔ لیکن نوجوان ترکوں کا اصل ایجنڈا کچھ اور تھا۔ انہوں نے ترک قوم پرستی کو فروغ دیا، ترکی زبان کو مسلط کیا اور عرب علاقوں میں خودمختاری کو مزید کم کر دیا۔ جس انقلاب سے آزادی کی امید تھی وہ کچھ اور نکلا۔ یہی وہ لمحہ تھا جب عرب قوم پرستی نے بیروت، لبنان اور دمشق میں جنم لیا۔
1910 سے 1914 کے درمیان تعلیم یافتہ عرب نوجوانوں میں سیاسی بیداری اور ساتھ ساتھ عرب قومیت تیزی سے بڑھی۔ دمشق، بیروت اور قاہرہ میں خفیہ تنظیمیں قائم ہوئیں۔ مطالبات سادہ تھے، اپنی زبان، اپنی ثقافت کا تحفظ اور مقامی سطح پر خودمختاری۔ لیکن عثمانی حکومت نے سختی برتی اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ عرب قومیت مزید مضبوط اور بغاوت کے قریب ہوتی چلی گئی۔
1914 میں پہلی جنگِ عظیم شروع ہوئی تو عثمانی سلطنت نے جرمنی کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔ مشرقِ وسطیٰ کی اہمیت اچانک کئی گنا بڑھ گئی کیونکہ یہاں نہرِ سویز تھی جو ہندوستان تک برطانوی راستے کی شہ رگ تھی اور یہاں تیل کے ذخائر بھی تھے جو جدید جنگ کا بنیادی ایندھن بن رہے تھے۔ برطانوی حکمتِ عملی یہ بنی کہ عثمانیوں کو باہر سے شکست دینے کی بجائے انہیں اندر سے توڑا جائے اور اس کے لیے عربوں کو استعمال کیا جا سکتا تھا۔ عربوں سے جھوٹے وعدوں کا بازار گرم ہوا۔
1915 اور 1916 کے دوران مکہ کے شریف حسین بن علی اور مصر میں برطانوی ہائی کمشنر ہنری مکماہن کے درمیان خطوط کا ایک سلسلہ چلا جو تاریخ میں مکماہن-حسین خط و کتابت کے نام سے معروف ہے۔ برطانوی وعدہ تھا کہ اگر عرب ترکوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں تو جنگ کے بعد ایک آزاد اور خودمختار عرب ریاست قائم کی جائے گی جس میں شام، عراق، فلسطین اور حجاز شامل ہوں گے۔ بیچارے عربوں نے یہ وعدہ سنجیدگی سے لیا اور اسے ایک قومی معاہدہ سمجھا جس کی بنیاد پر وہ اپنی صدیوں پرانی ترک حکمرانی کے خلاف بغاوت کریں گے۔ لیکن جو بات انہیں نہیں معلوم تھی وہ یہ کہ اسی وقت لندن اور پیرس کے دفتروں میں کچھ اور کہانی لکھی جا رہی تھی۔
1916 میں ہی برطانیہ کے مارک سائیکس اور فرانس کے فرانسوا ژورج-پیکو نے ایک خفیہ معاہدہ کیا جو تاریخ میں سائیکس-پیکو معاہدے کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ اس معاہدے میں عرب علاقوں کو صلیبی طاقتوں نےآپس میں بانٹ لیا ۔ فرانس کو شام اور لبنان ملا، برطانیہ کو عراق اور اردن، اور فلسطین کو بین الاقوامی کنٹرول میں رکھنے کی بات کی گئی۔ یہ معاہدہ اتنا متضاد تھا کہ اسے بیان کرنا ہی اس کی پوری برائی سامنے لے آتا ہے۔ ایک طرف عربوں سے آزادی کا وعدہ اور دوسری طرف خفیہ طریقے سے انہی عرب زمینوں کی یورپی طاقتوں میں تقسیم۔ جب یہ راز 1917 میں روسی انقلابیوں نے ظاہر کیا تو عرب دنیا میں صدمے کی لہر دوڑ گئی لیکن تب بہت دیر ہو چکی تھی۔
اسی سال 1916 میں شریف حسین نے برطانوی وعدوں پر اعتماد کرتے ہوئے بغاوت کا اعلان کیا۔ ان کے بیٹوں فیصل اور عبداللہ نے فوجی قیادت سنبھالی۔ برطانیہ نے اسلحہ، رقم اور فوجی مشیر دیے جن میں مشہور افسر ٹی ای لارنس بھی شامل تھا جو لارنس آف عریبیہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ باغی عربوں نے عثمانی مواصلاتی لائنیں کاٹیں، حجاز ریلوے کو نقصان پہنچایا اور کئی اہم شہروں پر قبضہ کیا۔ انہوں نے اپنا خون بہایا، اپنی جانیں دیں، اس یقین کے ساتھ کہ ان کی آزادی قریب ہے۔
نومبر 1917 میں برطانوی وزیرِ خارجہ آرتھر بالفور نے ایک خط کے ذریعے اعلان کیا کہ برطانیہ فلسطین میں یہودیوں کے لیے ایک قومی وطن قائم کرنے کی حمایت کرتا ہے۔ یہ اعلامیہ یورپی اور امریکی یہودیوں کی حمایت حاصل کرنے کی ایک سیاسی چال تھی اور ساتھ ہی فلسطین میں برطانوی اثر کو مستقل کرنے کا ذریعہ بھی۔ اب صورتِ حال یہ تھی کہ عربوں سے وعدہ تھا کہ فلسطین سمیت پورا عرب علاقہ آزاد ہوگا، فرانس سے معاہدہ تھا کہ یہ علاقے آپس میں تقسیم ہوں گے، اور یہودیوں سے اعلان تھا کہ فلسطین میں ان کا قومی وطن بنے گا۔ تین وعدے، تین متضاد راستے اور ان سب کو نبھانا ناممکن۔
دسمبر 1917 میں برطانوی جنرل ایڈمنڈ ایلنبی نے یروشلم فتح کیا۔ چھ صدیوں کا عثمانی دور ختم ہوا اور فلسطین برطانوی کنٹرول میں آ گیا۔ عربوں کو لگا کہ آزادی مل گئی مگر وہ نہیں جانتے تھے کہ ایک غلامی کا آغاز ہے۔
1917 تک تین بنیادی کام مکمل ہو چکے تھے۔ عثمانی سلطنت ختم ہو گئی اور اس کے ساتھ مسلم دنیا کے اتحاد کا وہ آخری رشتہ بھی ٹوٹ گیا جو چھ سو سال سے قائم تھا۔ عربوں کو آزادی نہیں ملی بلکہ ترکوں کی جگہ یورپی طاقتوں کا قبضہ ہو گیا۔ فلسطین برطانیہ کے ہاتھ آیا اور یہودی آبادکاری کو سرکاری سرپرستی ملی۔ یہی وہ بنیاد ہے جس پر آگے چل کر 1920 سے 1948 تک کا برطانوی مینڈیٹ قائم ہوا، انگریزوں نے بڑی تعداد میں یہودی آبادکاروں کو فلسطین میں لا کر آباد کیا۔ عربوں اور یہودیوں میں کشیدگی نے جنگ کی شکل اختیار کی اور 1948 میں اسرائیل کا قیام ہوا جو فلسطینیوں کی مصیبتوں کا آغاز تھا۔ لاکھوں فلسطینی فلسطین سے نکال دیے گئے اور انہیں اردن، شام اور لبنان میں جانا پڑا۔
آج جو فلسطین جل رہا ہے، جو مشرقِ وسطیٰ خون میں نہایا ہوا ہے، اس کی تاریخ ان سترہ برسوں میں لکھی گئی تھی۔ جھوٹے وعدوں کی سیاست، خفیہ معاہدوں کی روایت اور امت مسلمہ کو آپس میں لڑانے کی حکمتِ عملی اسی دور کی پیداوار ہے۔ اسے سمجھے بغیر نہ آج کے فلسطین کو سمجھا جا سکتا ہے، نہ عرب دنیا کے درد کو، اور نہ ہی اس سوال کا جواب دیا جا سکتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کیوں نہیں قائم ہو رہا ہے ۔
بیسویں صدی کے آغاز میں یہ عربوں کی ایک بڑی غلطی تھی۔ انہوں نے انگریزوں پر بھروسہ کیا، سلطنتِ عثمانیہ کے خلاف بغاوت کی، انگریزوں نے عربوں کو دھوکہ دیا اور عربوں کو کئی کمزور ممالک میں تقسیم کیا، شام، لبنان، اردن، عراق اور حجاز جو بعد میں سعودی عرب کہلایا۔ 1971 میں قطر اور متحدہ عرب امارات کو انگریزوں سے آزادی ملی۔ 1948 کی جنگ کے ذریعے اسرائیل کا وجود ہوا اور بعد میں 1967 کی جنگ کے بعد اسرائیل نے بیت المقدس پر قبضہ کر لیا۔ آج غزہ اور مغربی کنارے میں اسرائیل جو قتلِ عام کر رہا ہے اس کی تاریخ کے تانے بانے 1901 سے 1917 میں ہونے والے واقعات اور سلطنتِ عثمانیہ کے خلاف بغاوت اور انگریزوں کا ساتھ دینے سے ملتے ہیں۔
Post Views: 3
Like this:
Like Loading...