Skip to content
ایران پر زمینی حملہ کیوں ناممکن؟
ترتیب: عبدالعزیز
مشرقِ وسطیٰ کی حالیہ کشیدگی نے ایک بار پھر اس سوال کو عالمی مباحث کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے کہ اگر ایران پر فضائی حملے اس شدت سے جاری ہیں تو پھر زمینی جنگ کیوں شروع نہیں کی جا رہی۔ پہلی نظر میں یہ صورتحال بظاہر متضاد دکھائی دیتی ہے۔ ایک طرف اسرائیل اور اس کے اتحادی ایران کے فوجی ڈھانچے کو فضائی حملوں کے ذریعے نشانہ بنا رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف زمینی حملے کے حوالے سے مکمل احتیاط برتی جا رہی ہے۔ فوجی حکمتِ عملی کے ماہرین کے نزدیک اس کی وجہ صرف سیاسی ہچکچاہٹ یا سفارتی مصلحت نہیں بلکہ اس کے پیچھے سخت عسکری اور جغرافیائی حقائق کارفرما ہیں جو ایران کے خلاف زمینی مہم کو غیر معمولی حد تک پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ ایران کا جغرافیہ اس پورے مسئلے کی بنیادی کلید ہے۔ تقریباً سولہ لاکھ مربع کلومیٹر پر مشتمل ایران رقبے کے لحاظ سے مشرقِ وسطیٰ کی بڑی ریاستوں میں شمار ہوتا ہے اور یہ اسرائیل سے لگ بھگ چوہتر گنا وسیع ہے۔ کسی بھی ملک پر زمینی قبضہ صرف جنگی فتح کا سوال نہیں بلکہ اس علاقے کو برقرار رکھنے اور اس میں امن و نظم قائم رکھنے کا مرحلہ بھی اس سے کہیں زیادہ دشوار ہوتا ہے۔ عسکری ڈاکٹرائن کے مطابق کسی بھی علاقے پر موثر کنٹرول کے لیے آبادی اور فوج کے درمیان ایک مخصوص تناسب ضروری سمجھا جاتا ہے۔ عمومی اصول یہ ہے کہ پچاس شہریوں کے لیے کم از کم ایک فوجی درکار ہوتا ہے تاکہ علاقے کو محفوظ رکھا جا سکے۔ اگر اسی پیمانے کو ایران کی تقریباً نو کروڑ آبادی پر لاگو کیا جائے تو کم از کم چھے لاکھ فوجیوں کی ضرورت پڑے گی۔ اس کے مقابلے میں اسرائیلی فوج کی کل فعال نفری تقریباً ایک لاکھ ستر ہزار کے قریب ہے، اور ان میں سے بڑی تعداد پہلے ہی مختلف محاذوں پر مصروف ہے۔ عملی طور پر ایران کے لیے جو قوت دستیاب ہو سکتی ہے وہ بمشکل ستر ہزار کے قریب بنتی ہے۔ اس طرح ستر ہزار اور چھے لاکھ کے درمیان جو خلا پیدا ہوتا ہے وہ محض ایک عددی فرق نہیں بلکہ ایک ایسی عسکری حقیقت ہے جو زمینی حملے کو تقریباً ناممکن بنا دیتی ہے۔
اس عسکری توازن کو مزید پیچیدہ بنانے والا عنصر اسرائیل کی موجودہ محاذ آرائیوں کی نوعیت ہے۔ غزہ میں جاری فوجی کارروائیاں، مغربی کنارے کی کشیدہ صورتحال اور لبنان کی سرحد پر حزب اللہ کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اسرائیلی فوجی صلاحیت کو پہلے ہی متعدد حصوں میں تقسیم کر چکی ہیں۔ جب ایک ریاست بیک وقت کئی محاذوں پر مصروف ہو تو اس کے لیے ایک وسیع اور دور دراز ملک میں نئی زمینی مہم کا آغاز نہایت خطرناک فیصلہ بن جاتا ہے۔ لبنان کے محاذ پر حزب اللہ کی موجودگی خاص طور پر ایک بڑا خطرہ سمجھی جاتی ہے کیونکہ اس تنظیم کے پاس ہزاروں راکٹ اور میزائل موجود ہیں جو اسرائیل کے اندرونی علاقوں کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس صورتحال میں ایران کے خلاف براہِ راست زمینی کارروائی کا مطلب یہ ہوگا کہ اسرائیل کو ایک ایسے جنگی دائرے میں داخل ہونا پڑے گا جس میں بیک وقت کئی ریاستی اور غیر ریاستی قوتیں شامل ہو سکتی ہیں۔ فوجی ماہرین کے نزدیک ایک اور اہم مسئلہ رسد اور سپلائی لائنز کا ہے۔ ایران تک کسی بھی زمینی فوجی مہم کو کامیابی سے جاری رکھنے کے لیے ہزاروں کلومیٹر طویل رسدی نظام قائم کرنا ہوگا۔ اندازوں کے مطابق اسرائیلی افواج کو ایران تک رسد پہنچانے کے لیے تقریباً سولہ سو کلومیٹر طویل سپلائی لائن برقرار رکھنا پڑے گی۔ جنگی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ طویل رسدی راستے اکثر بڑی طاقتوں کے لیے بھی کمزوری کا سبب بن جاتے ہیں۔ عراق اور افغانستان میں امریکی تجربات نے یہ واضح کر دیا تھا کہ جب فوجی قوت اپنے جغرافیائی مرکز سے بہت دور چلی جائے تو اس کی سپلائی لائنز دشمن کے لیے ایک آسان ہدف بن جاتی ہیں۔ ایران کے معاملے میں یہ چیلنج اس لیے بھی زیادہ ہے کیونکہ خطے کے کئی ممالک اپنی سرزمین کو جنگی راہداری کے طور پر استعمال سے گریزاں ہیں۔ عراق پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ وہ اپنی زمین کو کسی بھی حملے کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا، جس کے نتیجے میں زمینی راستے مزید محدود ہو جاتے ہیں۔
ایران کی دفاعی حکمت ِ عملی بھی اس مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا دیتی ہے۔ ایران نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران اپنے میزائل پروگرام، ڈرون ٹیکنالوجی اور زیر زمین فوجی تنصیبات کو خاصی حد تک مضبوط بنایا ہے۔ اگرچہ حالیہ فضائی حملوں میں ایرانی فضائی دفاعی نظام کے بڑے حصے کو نقصان پہنچنے کی خبریں سامنے آئی ہیں اور کئی میزائل پروڈکشن مراکز تباہ ہونے کی اطلاعات بھی دی جا رہی ہیں، لیکن اس کے باوجود ایران کے پاس وہ صلاحیت موجود ہے جو کسی بھی زمینی حملے کو طویل اور مہنگی جنگ میں تبدیل کر سکتی ہے۔ مزید برآں ایران کے پاس افزودہ یورینیم کے قابل ِ ذکر ذخائر موجود ہیں۔ بعض عسکری تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اگر بیرونی افواج تہران کی طرف زمینی پیش قدمی شروع کریں تو ایرانی قیادت اس صورتحال کو وجودی خطرہ سمجھتے ہوئے جوہری ہتھیار بنانے کے فیصلے کی طرف بھی جا سکتی ہے۔ اس امکان نے بھی عالمی طاقتوں کو انتہائی محتاط بنا رکھا ہے۔
دوسری طرف خلیج فارس کا جغرافیہ اس جنگ کو عالمی معیشت کے ساتھ براہِ راست جوڑ دیتا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے اہم تیل بردار گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے روزانہ عالمی توانائی کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اگر ایران اس آبنائے کو بند کرنے یا اسے غیر محفوظ بنانے میں کامیاب ہو جائے تو اس کے اثرات نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ عالمی معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جنگ کے آغاز سے پہلے امریکی عسکری قیادت نے اپنے سیاسی رہنماؤں کو بارہا خبردار کیا تھا کہ ایران اس راستے کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ بارودی سرنگیں، میزائل حملے اور ڈرون کارروائیاں اس آبی راستے کو مفلوج کرنے کے ممکنہ طریقوں میں شامل سمجھے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود سیاسی قیادت نے یہ اندازہ لگایا کہ شدید فوجی دباؤ کے نتیجے میں ایران جلد پسپائی اختیار کر لے گا۔
تاہم جنگ کے ابتدائی ہفتوں کے بعد صورتحال توقعات سے مختلف دکھائی دے رہی ہے۔ ایرانی قیادت نے فوری طور پر ہتھیار ڈالنے یا پیچھے ہٹنے کے آثار ظاہر نہیں کیے اور آبنائے ہرمز خطے کی اسٹراٹیجک کشمکش کا مرکزی محور بنتی جا رہی ہے۔ اس دوران امریکی بحریہ کے طیارہ بردار جہازوں کی بڑی تعداد خطے میں موجود ہے اور فضائی طاقت کے غیر معمولی مظاہرے نے واضح کر دیا ہے کہ مغربی اتحاد فی الحال فضائی برتری کے ذریعے دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ دوسری جنگ ِ عظیم کے بعد شاید پہلی مرتبہ اس خطے میں فضائی قوت کا اتنا بڑا اجتماع دیکھا جا رہا ہے۔ ان تمام عوامل کو سامنے رکھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ صرف میدانِ جنگ کی حکمتِ عملی کا سوال نہیں بلکہ جغرافیہ، آبادی، رسد، علاقائی سیاست اور عالمی معیشت کے پیچیدہ توازن کا معاملہ ہے۔ فضائی حملے ایک حد تک دشمن کی عسکری صلاحیت کو کمزور کر سکتے ہیں، مگر زمینی قبضہ ایک بالکل مختلف مرحلہ ہوتا ہے جس کے لیے بے پناہ انسانی اور مالی وسائل درکار ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عسکری تجزیہ کاروں کے نزدیک ایران کے خلاف براہِ راست زمینی حملہ صرف ایک فوجی آپریشن نہیں بلکہ ایک ایسی جنگ کا آغاز ہو سکتا ہے جس کے اثرات پورے خطے بلکہ عالمی نظام تک پھیل سکتے ہیں۔ موجودہ حالات میں یہی حقیقت سب سے بڑی وجہ بن کر سامنے آ رہی ہے کہ فضائی جنگ جاری ہے مگر زمینی حملے کا دروازہ ابھی تک کھولا نہیں گیا۔محمد مطاہر خان
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068
Post Views: 1
Like this:
Like Loading...