Skip to content
اقلیت، شہریت اور ووٹ
مغربی بنگال کے انتخابات کا نیا بیانیہ
تحریر: محمد اعجاز الدین احمد عاجزؔ
رابطہ:9700389755
مغربی بنگال، برصغیر کی سیاسی روایت کا ایک زندہ استعارہ، ایک بار پھر انتخابی موسم کی دہلیز پر کھڑا ہے۔ ۲۳ اور ۲۹ اپریل کو منعقد ہونے والے دو مرحلوں کے انتخابات بظاہر جمہوریت کے تسلسل کی ایک مانوس کڑی ہیں، مگر اس بار فضا میں ایک غیر معمولی کیفیت رچی بسی ہےایک انجانا اضطراب، ایک دبیز بے یقینی، اور ایک ایسی خاموشی جس کے پسِ پردہ بے شمار سوالات سانس لے رہے ہیں۔ یہ انتخابات اب محض اقتدار کی منتقلی کا عمل نہیں رہے، بلکہ شناخت، شہریت اور جمہوری شرکت کے بنیادی معانی کی کسوٹی بن چکے ہیں۔۲۰۲۶ کے انتخابات ریاست کے جمہوری سفر میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ یہ نہ صرف سیاسی اتحادوں اور وفاداریوں کی مضبوطی کا امتحان ہیں بلکہ ان ادارہ جاتی ڈھانچوں کی پائیداری کا بھی، جو انتخابی جمہوریت کی اساس ہیں۔ مسلم رائے دہندے، جو کبھی ایک متحد اور قابلِ پیشگوئی قوت سمجھے جاتے تھے، اب بدلتے ہوئے سیاسی منظرنامے میں ایک زیادہ پیچیدہ اور متنوع حیثیت اختیار کر چکے ہیں۔
مسلم رائے دہندے: عددی قوت سے سیاسی پیچیدگی تک
جیسے جیسے ریاست اسمبلی انتخابات کی جانب بڑھ رہی ہے، مسلم ووٹروں کی سیاسی اہمیت اپنی جگہ برقرار ہے، مگر اس کی نوعیت پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو چکی ہے۔ تقریباً ۳۰ فیصد آبادی پر مشتمل یہ طبقہ مرشد آباد، مالدہ، اتر دیناج پور اور جنوبی بنگال کے متعدد اہم اضلاع میں مرکوز ہے، جہاں یہ انتخابی نتائج پر فیصلہ کن اثر ڈالتا رہا ہے۔
۲۰۲۱ء میں یہی آبادیاتی قوت ایک نسبتاً متحد اور حکمتِ عملی پر مبنی ووٹنگ پیٹرن میں ڈھل گئی تھی، جس کا واضح فائدہ ترنمول کانگریس کو ہوا اور اس نے بھارتیہ جنتا پارٹی کے مقابلے میں فیصلہ کن کامیابی حاصل کی۔ اس وقت مسلم رائے دہندے کا بنیادی مقصد بی جے پی کو اقتدار سے دور رکھنا تھا، جس کے نتیجے میں ووٹوں کی تقسیم کم سے کم رہی اور خاص طور پر مسلم اکثریتی حلقوں میں ٹی ایم سی کو بھرپور حمایت حاصل ہوئی۔اس دور کا سیاسی ماحول مذہبی پولرائزیشن اور قومی سطح کی پالیسی بحثوں سے متاثر تھا، جس نے اقلیتی رائے دہندوں میں ایک مشترکہ انتخابی ہدف کو مزید مستحکم کیا۔ یوں مسلم ووٹ نہ صرف فیصلہ کن بلکہ بڑی حد تک قابلِ پیشگوئی بھی رہے۔تاہم، اب صورتِ حال بدل رہی ہے۔ چھوٹی سیاسی جماعتوں کا ابھار اور ان کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں، جو براہِ راست مسلم رائے دہندے کو متوجہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، اس پہلے سے متحد ووٹ بینک میں تقسیم کا امکان پیدا کر رہی ہیں۔ اگرچہ یہ جماعتیں بڑی کامیابی حاصل نہ بھی کریں، تب بھی قریبی مقابلوں میں ووٹوں کی تقسیم انتخابی نتائج کو متاثر کر سکتی ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ بنگال کے رائے دہندے اس بار کس حد تک سیاسی بلوغت کا مظاہرہ کرتے ہیں یا ووٹوں کے انتشار کو جگہ دیتے ہیں۔
شہریت کا سوال اور جمہوری شرکت کا بحران
کبھی یہی بنگال تھا جہاں انتخابی مباحث ترقی، حکمرانی ،روزگار اور معاشی امکانات کے گرد گھومتے تھے، مگر اس بار گفتگو کا محور یکسر بدل چکا ہے۔ اب سوال یہ نہیں کہ کون بہتر حکمرانی کرے گا، بلکہ یہ ہے کہ کون ووٹر ہی باقی رہے گا۔لاکھوں افراد اپنی شہریت اور حقِ رائے دہی کی حیثیت کے تعین میں الجھے ہوئے ہیںگویا جمہوریت کے دروازے پر دستک دینے والوں کو پہلے اپنی موجودگی ثابت کرنا پڑ رہی ہو۔ یہ صورتِ حال جمہوری اصولوں کے لیے ایک بنیادی چیلنج کی حیثیت رکھتی ہے۔
اسپیشل انٹینسیو ریویژن ۔تطہیر یا پیچیدگی؟
اس تمام منظرنامے کے پسِ پشت الیکشن کمیشن کی اسپیشل انٹینسیو ریویژن کارفرما ہےایک ایسا عمل جو بظاہر فہرست رائے دہندگان کی تطہیر کے لیے شروع کیا گیا، مگر رفتہ رفتہ ایک وسیع سیاسی و سماجی مباحثے میں تبدیل ہو گیا۔اعداد و شمار اس کی وسعت کو واضح کرتے ہیںتقریباً ۹۱ لاکھ رائے دہندوںکے نام حذف کیے گئے، جس کے نتیجے میں کل رائے دہندے کی تعداد ۷.۶۶ کروڑ سے کم ہو کر ۷.۰۴ کروڑ رہ گئی۔ ان میں سے بڑی تعداد کو وفات، نقل مکانی یا دہرانے کی بنیاد پر خارج کیا گیا، مگر ۲۷ لاکھ افراد ایسے بھی ہیں جو تفصیلی جانچ کے بعد نااہل قرار پائے، جب کہ لاکھوں افراد کو زیر سماعت کے مبہم زمرے میں رکھا گیاجہاں شناخت معلق اور حق غیر یقینی ہو جاتا ہے۔
اعداد کی کہانی: عدم توازن کی بازگشت
یہ حذف یکساں نہیں تھی بلکہ اس کے جغرافیے میں بھی ایک کہانی پوشیدہ ہے۔ مرشد آباد، جہاں مسلمانوں کا تناسب ۶۶ فیصد ہے، سب سے زیادہ متاثر ہوایہاں تقریباً ۴.۵۵ لاکھ رائے دہندے کے نام حذف ہوئے، اور ۲۲ اسمبلی حلقوں میں اوسطاً ۶۶،۸۲۰ رائے دہندے فی حلقہ کم ہو گئے۔ مالدہ میں یہ تعداد ۲.۴۹ لاکھ اور اتر دیناج پور میں ۱.۷۶ لاکھ رہی۔دوسری جانب، نارتھ ۲۴ پرگناس، جہاں متوا برادری کا تناسب تقریباً ۳۰ فیصد ہے، وہاں بھی ۳.۲۵ لاکھ رائے دہندے حذف کیے گئے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس عمل کے اثرات مختلف سماجی گروہوں پر مختلف شدت سے مرتب ہوئے ہیں۔
اعداد و شمار کے مزید باریک بین تجزیے سے ایک اور نہایت اہم پہلو سامنے آتا ہے اقلیتی رائے دہندوں بالخصوص مسلمان رائے دہندوں کی ایک بڑی تعداد میں ووٹرس کوزیرِ سماعت یا منطقی تضاد کی بنیاد پر نشان زد کیا گیا ہے۔ بظاہر یہ ایک تکنیکی عمل ہے، مگر اس کے اثرات بعض حلقوں میں خاصے نمایاں نظر آتے ہیں۔
ابتدائی طور پر بھوانی پور اور بالی گنج کے حلقوں میں یہ بات سامنے آئی کہ ایک مسلمان ووٹر کے زیرِ سماعت قرار دیے جانے کے امکانات ایک ہندو ووٹر کے مقابلے میں تین اعشاریہ ایک گنا زیادہ ہیں۔ اس کے بعد مزید چار حلقوں مانکچک، موتھاباری، سمسرگنج اور بہرام پور کا جائزہ لیا گیا، جس سے اس رجحان کی مزید تصویر واضح ہوئی۔
مانکچک جیسے حلقے میں، جہاں ہندو اور مسلمان ووٹرز کی تعداد تقریباً برابر ہےزیر سماعت قرار دیے گئے ووٹرز میں ستانوے اعشاریہ چار فی صد مسلمان ہیں۔ اسی طرح موتھاباری میں، جہاں مسلمان ووٹرز کا تناسب انہتر اعشاریہ پانچ فی صد ہے، وہاں بھی زیرسماعت ووٹرز میں مسلمانوں کی شرح ستانوے اعشاریہ چار فی صد ہے۔سمسرگنج میں یہ فرق اور نمایاں ہو جاتا ہے۔ یہاں کل ووٹرز میں مسلمانوں کا تناسب بیاسی فی صد ہے، جبکہ زیر سماعت ووٹرز میں ان کی شرح اٹھانوے اعشاریہ آٹھ فی صد تک پہنچ جاتی ہے۔ مزید یہ کہ اس حلقے میں مسلمانوں کے پچپن اعشاریہ ایک فی صد ووٹرز کو زیرسماعت رکھا گیا ہے، جبکہ ہندو ووٹرز کے لیے یہ شرح دو اعشاریہ تین فی صد ہے۔بہرام پور کا معاملہ نسبتاً مختلف ہے۔ یہاں مسلمانوں کا تناسب چھبیس اعشاریہ نو فی صد ہے، جبکہ زیر سماعت ووٹرز میں ان کی شرح اکسٹھ اعشاریہ چھ فی صد ہے۔ اگرچہ یہاں بھی فرق موجود ہے، مگر دیگر حلقوں کے مقابلے میں اس کی شدت کم ہے۔ یہ فرق اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ مختلف حلقوں میں نتائج کی نوعیت یکساں نہیں رہی۔اگر تمام چھ حلقوں کے اعداد و شمار کو یکجا کیا جائے تو مجموعی تصویر مزید واضح ہوتی ہے۔ کل بارہ لاکھ اکیاسی ہزار سات سو چونسٹھ ووٹر ریکارڈز میں سے تین لاکھ دو ہزار پانچ سو تہتر ووٹرز کو زیر سماعت رکھا گیا، جن میں بیانوے اعشاریہ چھ فی صد مسلمان ہیں، جبکہ مجموعی رائے دہندے میں مسلمانوں کا تناسب اکاون اعشاریہ سات فی صد ہے۔ اس طرح مسلمانوں میں زیر سماعت قرار دیے جانے کی شرح بیالیس اعشاریہ دو فی صد بنتی ہے، جبکہ ہندوؤں میں یہ شرح تین اعشاریہ پانچ فی صد ہے۔ دونوں کے درمیان تناسب تقریباً بارہ کے مقابلے میں ایک ہے۔یہ زیرِ سماعت یا منطقی تضادکی کیٹیگری پہلی بار بنگال میں متعارف کرائی گئی، جس کے مطابق ووٹر ریکارڈ میں بعض تکنیکی اختلافات جیسے نام کی املا یا والد کے نام میں فرق کی بنیاد پر ایک سافٹ ویئر فلیگ لگایا جاتا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق یہ عمل سب پر یکساں طور پر لاگو کیا جاتا ہے، تاہم مختلف حلقوں کے اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اس کے نتائج ہر جگہ ایک جیسے نہیں رہے۔یہ معاملہ صرف اعداد و شمار تک محدود نہیں۔ کچھ ایسے واقعات بھی سامنے آئے ہیں جہاں معروف یا باقاعدہ دستاویزات رکھنے والے افراد کے نام بھی زیر سماعت قرار دیے گئے یا فہرست سے عارضی طور پر غائب ہو گئے۔ بعض دیہی علاقوں میں بھی لوگوں نے شکایات کی ہیں کہ خاندان کے کچھ افراد کے نام شامل ہیں جبکہ کچھ کے نہیں، جس سے الجھن اور تشویش پیدا ہوئی ہے۔یہ صورتِ حال اس بنیادی دعوے کو چیلنج کرتی ہے کہ یہ پورا عمل ایک غیر جانبدار، خودکار اور معروضی الگورتھم کے ذریعے انجام دیا گیا ہے۔ اگر واقعی ایسا ہے تو پھر یہ سوال نہایت اہم ہو جاتا ہے کہ ایک ہی معیار کے اطلاق کے باوجود مختلف علاقوں اور طبقات میں نتائج اتنے مختلف کیوں برآمد ہوئے؟ کیا اس کی وجہ ڈیٹا کی ساخت میں کوئی خامی ہے، یا خود الگورتھم کے ڈیزائن اور اطلاق میں کوئی نقص شامل ہو گیا ہے؟جن لوگوں کے نام حذف ہوئےاگرچہ ان کے لیے اپیل کا راستہ موجود ہے اور ٹریبونلز قائم کیے گئے ہیں، مگر انصاف کا یہ عمل بھی ادھورا محسوس ہوتا ہے۔ جو افراد اپنی اہلیت ثابت کر دیتے ہیں، وہ بھی جاری انتخابات میں ووٹ ڈالنے سے محروم رہتے ہیں کیونکہ فہرستیں منجمد ہو چکی ہوتی ہیں۔ یوں حق تو برقرار رہتا ہے، مگر اس کا استعمال مؤخر ہو جاتا ہے۔
۲۰۲۶ ء کے انتخابات: غیر یقینی امکانات اور ممکنہ اثرات
۲۰۲۶ کے انتخابات پر اس تنازع کے اثرات گہرے ہو سکتے ہیں۔ ان حلقوں میں جہاں ۲۰۲۱ میں جیت کا فرق کم تھا، ووٹروں کی تعداد میں معمولی تبدیلی بھی فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر واقعی مسلم رائے دہندے کا کوئی حصہ خارج ہوا یا غیر یقینی صورتحال کا شکار رہا، تو اس سے ان کی انتخابی طاقت متاثر ہو سکتی ہے۔دوسری جانب، یہی بے چینی سیاسی متحرکیت کو بھی بڑھا سکتی ہے، جہاں مختلف جماعتیں متاثرہ رائے دہندے کو متحرک کرنے اور ان کی رجسٹریشن مکمل کروانے کی کوششیں تیز کریں گی۔ یوں ایک طرف ممکنہ محرومی اور دوسری طرف بڑھتی ہوئی سرگرمی دونوں مل کر انتخابات کو مزید غیر متوقع بنا رہے ہیں۔
۲۰۲۱ء کے برعکس، ۲۰۲۶ میں مسلم ووٹوں کی اہمیت ان کی مکمل یکجہتی کے بجائے ان کے پھیلاؤ اور تنوع میں زیادہ ہے۔ ان کا کردار اب بھی فیصلہ کن ہو سکتا ہے، مگر اس کی سمت اور تقسیم غیر یقینی ہے، جبکہ نے اس سیاسی حساب میں ایک نئی انتظامی پیچیدگی بھی شامل کر دی ہے۔
بالآخر، مغربی بنگال کے یہ انتخابات صرف نتائج کا تعین نہیں کریں گے بلکہ یہ بھی واضح کریں گے کہ یہ عمل جمہوری تطہیر تھا یا خاموشی کی ایک نئی صورت۔ یہ مرحلہ نہ صرف سیاسی اتحادوں اور ووٹر رویوں کا امتحان ہے بلکہ ان اداروں کی ساکھ کا بھی، جو جمہوریت کی بنیاد ہیں۔مسلم رائے دہندےجو کبھی ایک متحد اور قابلِ پیشگوئی قوت تھےاب ایک نئے دوراہے پر کھڑے ہیںاب بھی مرکزی کردار کے حامل، مگر ایسی غیر یقینی کیفیت کے ساتھ جو نہ صرف ان کے سیاسی مستقبل بلکہ مغربی بنگال کی جمہوری سمت کو بھی نئی شکل دے سکتی ہے۔
مذکورہ بالا تجزیہ کا حاصل یہ ہے کہ بنگال میں لاکھوں افراد کا حقِ رائے دہی سے ممکنہ محرومی کا اندیشہ ایک نہایت سنجیدہ اور فکرانگیز سوال تو ہےہی، متوقع انتخابات کے تناظر میں بعض حلقوں میں یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایک بڑی تعداد اپنے ووٹ کےحق کے استعمال سے عملاً محروم رہ سکتی ہے، بالخصوص اُن علاقوں میں جہاں اقلیتی طبقات کی نمایاں موجودگی ہے۔ رائے دہندگان کے ناموں کا حذف ہو جانا یا انہیں زیرِ سماعت قرار دیا جانا اس صورتِ حال کو مزید پیچیدہ اور مبہم بنا دیتا ہے۔مزید برآں، یہ پہلو بھی توجہ طلب ہے کہ محدود تعداد میں ججوں چاہے ان کی تعداد چند سو ہی کیوں نہ ہوکے لیے لاکھوں افراد کی بروقت اور مؤثر تصدیق ایک نہایت کٹھن مرحلہ ہے۔ اگر یہ عمل کسی حد تک مکمل بھی ہو جائے، تب بھی اس امر کا احتمال باقی رہتا ہے کہ بعض افراد عملی طور پر اپنے حقِ رائے دہی سے مستفید نہ ہو سکیں۔اسی پس منظر میں بعض سیاسی مبصرین نہایت محتاط اور اشارتی انداز میں یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ آیا یہ پیش رفت کسی مخصوص طبقے کے حقِ رائے دہی پر بتدریج قدغن کی تمہید تو نہیں۔ تاہم، اس نکتے پر مختلف فکری و سیاسی حلقوں میں سنجیدہ غور و خوض اور مباحث جاری ہیں۔
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...