Skip to content
کل سہی
ازقلم:ڈاکٹر سراج انور، امراؤتی(مہاراشٹر)
موبائل : 08668323359
شہر نے ارمان کو قبول نہیں کیا تھا، بس کسی طرح برداشت کر لیا تھا۔
جس دن وہ آیا، آسمان پر بادل اس طرح چھائے تھے جیسے کسی نے سیاہی گھول کر اوپر سے انڈیل دی ہو۔ بارش بھی رک رک کر برس رہی تھی، جیسے خود بھی یقین نہ ہو کہ برسنا چاہیے یا نہیں۔ ارمان کا بیگ کندھے پر دھنسا جا رہا تھا۔ اپارٹمنٹ کی تنگ سیڑھیوں پر ہر قدم کے ساتھ دیوار سے پلستر کی باسی بو اٹھتی تھی۔ وہی پرانے گھروں کی بو جو اکثر یہ بتاتی ہے کہ یہاں پہلے بھی لوگ آئے، رہے اور پھر ہمیشہ کے لئے چلے گئے۔
فلیٹ نمبر بارہ کا تالہ پہلی بار میں نہیں کھلا۔ دوسری کوشش پر کھلا تو اندر ایک ایسا کمرہ تھا جو کسی کا نہیں لگتا تھا۔ نہ دیواروں میں رنگ تھا، نہ فضا میں کسی قسم کی گرمی۔ کھڑکی کے شیشوں پر بارش کی لمبی لکیریں رینگ رہی تھیں۔ فرش کے کونے میں ایک زنگ آلود کیل اٹکی تھی، جیسے کسی پچھلے کرایہ دار کی بھولی ہوئی یادگار۔
ارمان نے بیگ ایک طرف رکھا اور کھڑکی کی طرف بڑھا۔ پٹ کھلتے ہی باہر کی نمی اور تازگی اندر آ گئی، مگر اس کے ساتھ شہر کی ہلچل بھی کمرے میں گھس آئی۔ جیسے شور اور سکون ایک دوسرے میں گھل گئے ہوں۔
نیچے سڑک پر کافی لوگ تھے۔ کوئی تیز قدموں سے آگے بڑھ رہا تھا، کوئی موبائل میں مصروف، کوئی بس اپنی منزل تک پہنچنے کی جلدی میں۔ سب اپنی اپنی دھن میں، جیسے کسی کو کسی اور کی خبر ہی نہ ہو۔ ارمان نے کچھ لمحے انہیں دیکھا، پھر آہستہ سے کھڑکی بند کر دی۔ کمرے میں دوبارہ سکوت چھا گیا، اور وہ خاموشی آہستہ آہستہ اسے اپنے اندر سمیٹنے لگی۔
پہلی رات ارمان کے لیے بہت لمبی تھی۔ وہ بستر پر لیٹا چھت کو یوں ہی تکتا رہا۔ اچانک دائیں جانب کی دیوار کے اُس پار سے ایک ہلکی، تھکی ہوئی کھانسی کی آواز آئی۔ ایک بار، دو بار، پھر طویل خاموشی چھا گئی۔ مگر کچھ دیر بعد پھر وہی کھانسی، جیسے ہار نہ ماننے کی ضد پر اڑی تھی۔
ارمان نے بے چینی کے عالم میں کروٹ بدلی اور خود سے بڑ بڑاتے ہوئے کہنے لگا: "بھائی، صبر رکھو، یہ نئی جگہ ہے۔ وقت کے ساتھ تمہیں عادت ہو جائے گی۔”
دفتر کے دن ایک جیسے گزرتے رہے۔ وہی صبح سویرے اٹھنا، جلدی سے ناشتہ کرنا، اور بھاگتے ہوئے دفتر پہنچنا۔ پھر شام کو اتنی تھکن کہ کسی چیز کے بارے میں سوچنے کی بھی ہمت باقی نہ رہتی۔ لفٹ میں اگر کوئی نظر آتا تو بس ایک ہلکا سا سر ہلا دینا کافی ہوتا۔ نہ کسی سے نام پوچھنے کی ضرورت تھی، نہ کسی کو اپنا بتانے کی۔
دفتر جاتے وقت اکثر اس کی نظر فلیٹ نمبر تیرہ کے باہر پڑتی، جہاں ہر صبح وہی پرانے چمڑے کے جوتے رکھے ہوتے جن پر سلوٹیں پڑ چکی تھیں، مگر روزانہ پالش کیے ہونے کی وجہ سے ان میں اب بھی چمک باقی تھی۔
ایک دن لفٹ خراب تھی۔ ارمان فائلوں کا بوجھ سنبھالے سیڑھیاں چڑھ رہا تھا کہ فلیٹ نمبر تیرہ کا اچانک دروازہ کھلا۔
ایک بوڑھا شخص آہستہ آہستہ دروازے سے باہر نکلا۔ پیٹھ قدرے جھکی ہوئی تھی اور دائیں ہاتھ میں ایک پرانی لکڑی کی چھڑی تھی، جس کی لکڑی گھس کر ہموار ہو چکی تھی۔ مگر اس نے اسے یوں پکڑ رکھا تھا جیسے یہ کوئی سہارا نہیں، بلکہ اس کا اپنا حصہ ہو۔
اس کا سفید کرتا صاف ستھرا ہونے کے باوجود پرانے پن کی نشانی لیے ہوئے تھا۔ کئی دھلائیوں کے بعد اس میں ہلکا سا پیلاپن آ گیا تھا۔
چہرے پر بے شمار گہری جھریاں تھیں، جو ایک دوسرے میں گھل مل رہی تھیں۔ سر کے سفید بال بکھرے ہوئے تھے، ہوا میں ہلکے ہلکے اڑ رہے تھے۔ مگر پرانی فیڈورا ٹوپی اب بھی سر پر قائم تھی۔ تھوڑی ترچھی، تھوڑی ڈھیلی، مگر اتاری نہیں گئی تھی۔
دروازہ بند کرتے ہوئے وہ ذرا سا رک گیا۔ جیسے کچھ کہنا چاہتا ہو، مگر بات لبوں پر آ کر رہ گئی۔ ارمان کی نظر بھی ایک لمحے کے لیے اس سے ٹکرا گئی۔ بس ایک لمحہ۔ اسے ایسا لگا جیسے اس کی آنکھوں میں کوئی پرانا سوال چھپا بیٹھا ہو—شاید کسی پہچان کی تلاش، گمشدہ عزت کا ہلکا سا سایہ، یا پھر برسوں سے کسی کے پوچھنے کا خاموش انتظار۔
ارمان نے نظریں چرائیں، قدم تیز کیے اور اپنے فلیٹ کا دروازہ بند کر دیا۔ مگر دل میں ایک خلش باقی رہ گئی۔ جیسے اس نے صرف دروازہ نہیں، بلکہ ایک تعلق، ایک کہانی اور ایک پرانی دنیا کا دروازہ بھی بند کر دیا ہو۔
رات کو جب وہ کھانا بناتے ہوئے ہانڈی میں چمچہ چلا رہا تھا، بوڑھے آدمی کی آنکھیں ذہن میں آ گئیں۔ اس نے گیس بند کی، دیوار کو دیکھا اور سوچا کہ اس سے کم از کم سلام تو ہو سکتا تھا۔ ایک لفظ۔ بس ایک لفظ۔
مگر وہ لمحہ جا چکا تھا اور لمحے واپس نہیں آتے۔
ہفتے گزرتے گئے اور کھانسی کی آواز اب ارمان کی راتوں کا حصہ بن چکی تھی۔ شروع میں وہ آواز اسے چونکا دیتی تھی۔ پھر آہستہ آہستہ مانوس ہو گئی۔ کبھی کبھی اس کے ساتھ ایک ہلکی سی آہ بھی سنائی دیتی۔ ارمان کو لگتا کہ دیوار کے اُس پار کوئی اپنی تنہائی سے لڑ رہا ہے، اور وہ لڑائی اب اس کی راتوں کا حصہ بن گئی ہے۔
ایک اتوار اس نے دل میں ٹھان لیا کہ آج وہ ضرور جائے گا۔ دستک دے گا اور بس اتنا کہے گا، "انکل، آپ ٹھیک تو ہیں؟”
اس نے چائے بنائی، پھر رکھ دی۔ منہ دھویا تو فون پر نوٹیفکیشن آ گیا۔ وقت نکل گیا اور یوں اتوار گزر گیا۔
فلیٹ نمبر تیرہ کے دروازے کے سامنے سے گزرتے ہوئے اس کے قدم رکے۔ اندر سے وہی مدھم کھانسی کی آواز آئی۔ ارمان نے دل ہی دل میں کہا: "آج بہت لیٹ ہو گیا ہے۔ کل سہی۔”
اور اسے اندازہ بھی نہ ہوا کہ "کل سہی” اب اس کی عادت بن چکی ہے۔
پھر ایک صبح ارمان نے دیکھا کہ جوتے اپنی جگہ نہیں تھے۔
ایک لمحے کو وہ رکا، پھر سیڑھیاں اتر گیا۔ دوسری صبح بھی جگہ خالی تھی۔ تیسری صبح اخبار دروازے کے نیچے پڑا تھا، ویسے کا ویسا، کنارے مڑ گئے تھے۔ ارمان کچھ دیر کھڑا رہا۔ سینے میں ایک انجانا سا احساس تھا، جس کا نام وہ نہیں جانتا تھا۔ پھر گھڑی دیکھی اور چل دیا۔
اس رات کھانسی کی آواز نہیں آئی۔
ارمان بستر پر لیٹا رہا۔ دائیں دیوار بالکل ساکت تھی۔ خاموشی آہستہ آہستہ اس پر اترتی گئی۔ وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔ اندھیرے میں وہ سب لمحے تیر رہے تھے جنہیں وہ ہمیشہ "کل” پر ٹالتا رہا تھا۔ وہ مختصر ملاقات، وہ آنکھیں، وہ ایک لفظ جو اس نے کبھی نہیں کہا۔
رات کے دو بج چکے تھے۔ وہ اٹھا، پانی پیا، مگر ایک گھونٹ حلق سے نہ اترا۔ پھر بے خیالی میں دروازہ کھولا۔
راہداری کی ٹیوب لائٹ ٹمٹما رہی تھی۔ فلیٹ نمبر تیرہ کا دروازہ بند تھا، بالکل چپ اور بے جان۔ اس کے سامنے وہ جگہ اب بھی خالی تھی جہاں کبھی پرانے چمڑے کے جوتے رکھے ہوتے تھے۔
نیچے اخبار پڑا تھا، کنارے اب پوری طرح مڑ چکے تھے۔ ارمان ننگے پاؤں راہداری میں آیا۔ ٹھنڈا فرش پاؤں کے نیچے چبھ رہا تھا۔ وہ اس دروازے کے سامنے رک گیا۔
اس کا ہاتھ آہستہ سے اٹھا۔ دروازے کا ہینڈل بالکل ٹھنڈا تھا۔
٭٭٭
Post Views: 6
Like this:
Like Loading...