Skip to content
آبنائے ہر مز: میرے انگنے میں تمہارا کیا کام ہے؟
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
اسلام آباد میں مذاکرات کی ناکامی کا جشن منانے والوں کے لیے بری خبر یہ ہے کہ امریکہ اور ایران ایک بار پھر اگلے ہفتے براہ راست مذاکرات پر غور کر رہے ہیں تاکہ جنگ بندی کے خاتمے سے پہلے کسی معاہدے تک پہنچا جا سکے۔ تہران اور واشنگٹن تومذاکرات کی تیاری کررہے ہیں لیکن اس سے قبل صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی بحریہ آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی کا شوشا چھوڑ کر ایک نیا تنازع کھڑاکردیا۔یہ ایسا ہی ہے جیسے وینزویلا کی چین یہ کہہ کر ناکہ بندی کردے کہ امریکہ نے اس کے صدر کو اغوا کرکے تیل کے وسائل پر قبضہ کر لیا اور وہ اسے چھڑانے کی خاطر فوج کشی کررہا ہے۔ ایسے میں وینزویلا کہے گا’میرے انگنے میں تمہارا کیا کام ہے؟‘ ہم امریکہ کے ساتھ خوش ہیں تم اپنا راستہ ناپو لیکن ٹرمپ کو کون سمجھائے جو اپنے بحریہ کی مدد سے آبنائے ہرمز میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے والے جہازوں کی ناکہ بندی پر تلا ہوا ہے۔ امریکہ دراصل اقتدار تبدیلی کے لیےایران آیا تھا لیکن وہ تو پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط ہوگئی۔ اس ناکامی کے بعد وہ ہرمز میں جاکر اس طرح پھنسا کہ گویا آسمان سے گرا تو کھجور میں ایسے اٹکا کے نکلنے کے لیے جتنا پھڑپھڑاتا ہے مزید دھنستا چلا جاتاہے ۔
امریکہ کا یہ موقف اس وقت آیا جبکہ ایران نے اسرائیل اور امریکی حملوں کے بعد فروری کے اواخر سے آبنائے ہرمز عملاً بند ہے۔ دنیا کے اس سمندری راستے سے وہی تیل اور قدرتی گیس کے ٹینکر گزرتے ہیں جن کو ایران گزرنے کی اجازت دیتا ہے۔ ان ممالک میں چین کے علاوہ ہندوستان اور فرانس بھی شامل ہیں۔ اس کے برعکس امریکی سینٹرل کمانڈ کا کہنا ہے اس کی ناکہ بندی ایرانی بندرگاہوں اور ساحلی علاقوں میں داخل ہونے یا وہاں سے نکلنے والے تمام ممالک کے جہازوں پر یکساں طور پر لاگو ہو گی ۔ امریکہ نے اپنی یہ دادا گیری میں خلیج عرب اور خلیج عمان کی تمام ایرانی بندرگاہوں کو شامل کرلیا ۔ یہ ناکہ بندی امریکی بحریہ کی 2022 والی رہنمائی کے مطابق ایک ’جنگی کارروائی ہے۔ اس کا مقصد دشمن ریاست کے قبضے یا کنٹرول میں تمام ممالک (دشمن اور غیر جانب دار) کے جہازوں یا طیاروں کو مخصوص بندرگاہوں، ہوائی اڈوں یا ساحلی علاقوں میں داخل ہونے یا نکلنے سے روکا جاسکتا ہے۔صدرٹرمپ کی یہ حرکت اسلام آباد مذاکرات میں اپنی شرائط منوانے میں ناکامی کے سبب پیدا ہونے والی جھنجھلاہٹ کا نتیجہ ہے۔ ویسےسینٹ کام نے یہ وضاحت بھی کہ امریکی افواج ان جہازوں کی آزادانہ آمدورفت میں رکاوٹ نہیں ڈالیں گی جو آبنائے ہرمز سے گزر کر غیر ایرانی بندرگاہوں تک جا رہے ہوں یا وہاں سے آ رہے ہوں۔
امریکہ کو توقع ہے کہ اتحادی ممالک اس مہم میں شامل ہوں گے۔ ٹرمپ نے پہلے بھی ہر مز کے بہانے اپنے پیر پھیلانے کی کوشش میں ناٹو کو پکارا تھا ۔ اس نے دھتکار دیا تو آسٹریلیا، جاپان اور چین تک سب سے گہار لگائی لیکن کسی نے منہ نہیں لگایا۔ اس بار بھی کسی کے آنے کا امکان کم ہےتو سوال یہ ہے کہ کیا امریکہ اسے اکیلے نافذ کر سکتا ہے؟ یہ سوال مشکوک ہے۔ سینٹ کام کے سابق نائب کمانڈر باب ہاروڈ اس بابت بہت پر امید ہیں مگران کا دعویٰ کہ ’ہم یہ وینزویلا کے ساتھ بھی کر چکے ہیں، اس لیے یہ ممکن ہے، کیا جائے گا، اور کرنا چاہیے۔‘ بتاتا ہے کہ ایران کا موازنہ غلط ملک سے کیا جارہاہے ۔اس لیے امریکہ کو ایک اور جھٹکا لگنے والا ہے۔ ایران کے وزارت دفاع نے خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی جارحیت کافیصلہ کن جواب دینےمیں دیر نہیں کرے گا۔ اس کا دعویٰ ہے کہ ٹرمپ کی آبنائے ہرمز یا بحیرہ عمان میں فوجی مداخلت کی کوشش ناکام ہوگی اور نتیجہ امریکہ کو مزید شکست کی صورت میں نکلے گا۔ ایران نے ٹرمپ و نیتن یاہو کے ناکامیوں کے دلدل میں دھنس جانے کی پیشنگوئی ابھی سے کردی ہے۔
آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی کے قریب آنے والے جہاز فوری تباہ کر دیئے جائیں گے۔اس کے ساتھ وہ ایران کے 158 جہاز ڈبونے دعویٰ بھی کررہے ہیں مگر یہ نہیں بتاتے کہ ان کے اپنےکتنے جہا زڈوبے اور ابراہام لنکن کو کیوں میدان چھوڑ کر بھاگنا پڑانیز جیرالڈ فورڈ نامی بحرہ بیڑہ بھی راستے میں کہاں و کیوں غائب ہوگیا ؟ اس کے بارے میں بھی وہ بالکل خاموش ہیں اور کچھ نہیں بتاتے۔ اپنی شکست کی جانب سے دنیاکا دھیان بھٹکانے کے لیےوہ فرماتے ہیں کہ سمندر میں منشیات اسمگلنگ کیخلاف بھی سخت کارروائی جاری ہے۔ بحری راستوں سے امریکہ آنے والی 98فیصدمنشیات روک دی گئی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ وہ تو مستقل مسئلہ اس کے لیے جنگ کا انتظار کیوں کیا گیا؟امریکہ کی اس حماقت کا سب سے زیادہ اثر چین پر پڑے گا۔ اس لیے چین کے وزیر دفاع نے کہا ہے کہ بیجنگ تہران کے ساتھ اپنے تجارتی اور توانائی کے وعدوں کو پورا کرے گا۔ انہوں نے اپنے عزم کااظہار کیا کہ چینی بحری جہاز خطے میں اپنا آپریشن جاری رکھیں گے اور بیرونی مداخلت برداشت نہیں کریں گے۔
آبنائے ہرمز بیجنگ کے لیے بہت اہم ہے، کیونکہ یہ اپنے تیل کا تقریباً 40 فیصد اور ایل این جی کی کم از کم 30 فیصد ضروریات اسی راستے سے پوری کرتا ہے۔ اس لیے وزیر دفاع ایڈمرل ڈونگ جون نے خبردار کیا کہ ان کے جہازہرمز آبنائے کے پانیوں کو عبور کر رہے ہیں ۔ ایران کے ساتھ تجارتی اور توانائی کے معاہدوں کا احترام کیا جائے گا اور ان کو برقرار رکھاجائے گا۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ آبنائے ہرمز پر ایران کا کنٹرول ہے اور یہ چینی جہازوں کے لیے کھلا رہے گا۔بیجنگ کی جانب سے یہ انتباہ اس وقت آیا جب کم از کم دو تیل اور کیمیائی ٹینکروں کو آبنائے ہرمز سے واپس جانے پر مجبور کیاجا چکا تھا ۔ میرین ٹریفک کے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ بحری جہازوں میں سے ایک جو جہاز چین جا رہا تھا نے ناکہ بندی کے چند منٹوں بعد ہی اپنا راستہ بدلنے پر مجبور ہونا پڑا۔ چین کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی اس ناکہ بندی کے اثرات ہونے لگے ہیں ۔ ایشیا بھر میں کارخانے بند ہو رہے ہیں۔ ہندوستان کی معیشت بری طرح متاثر ہورہی ہے۔ یہاں تو عام لوگ بھی گیس سِلنڈر کے لیے مارے مارے پھرنے لگے ہیں ۔
امریکی ناکہ بندی سے قبل فلپائن جیسی حکومتیں پہلے ہی قومی ایمرجنسی کا اعلان کر چکی ہیں اور جنوبی کوریا کے صدر لی جے میونگ نے عوامی سطح پر اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ وہ رات کو سو نہیں پا رہے، اس سب سے 28 فروری کو شروع ہونے والے واقعات کی سنگینی واضح ہونا شروع ہو گئی ہے۔ برطانوی وزیرِ اعظم سر کیئر سٹارمر نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ برطانیہ کا ردِ عمل ’ہماری ایک نسل کی پہچان بنے گا۔‘ وہ بولے معاشی جھٹکے غیر مساوی نقصان پہنچاتے ہیں۔ ان کا یہ مشاہدہ صد فیصد درست ہے کہ سب سے زیادہ غریب طبقہ ہی متاثر ہوتا ہے۔اسی طرح وہ معیشتیں بھی، جو عالمی سپلائی چینز اور پر منحصر ہیں بہت پریشان ہوں گی۔ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی اشیا پر بہت زیادہ انحصار کرنے والے یعنی مائع قدرتی گیس (ایل این جی) ہو، خام تیل، پیٹرولیم مصنوعات، کھاد یا ایلومینیم، توانائی کی قلت کے سبب کم زرعی پیداوارکا شکار ہوں گے۔ وہ بیچارے اس مشکل کے سامنے خود کو بےبس پا رہے ہیں جبکہ اس کا سال کے آغاز میں کسی نے نہ تصور کیا تھا اور ہی تیاری کی تھا۔امریکہ تیل، گیس یا کسی اور چیز کے لیے مشرقِ وسطیٰ پر انحصار نہیں کرتا اس لیے وہ براہِ راست تو متاثر نہیں ہوگا لیکن فی الحال پوری دنیا ایک گاوں بن چکی ہے جس میں ہر ملک ایک دوسرے پر منحصر ہے۔ اس لیےدنیا کی دو تہائی آبادی کو معاشی جھٹکوں کا شکار کردینا کمال خود غرضی ہے۔
عالمی جنگ میں کروڑوں جانیں ضائع ہوئی تھیں جس میں لاکھوں امریکی فوجی بھی شامل تھے ۔ اس کے بعدامریکی صدر ٹرومین نے قوم سے ایک یادگار خطاب میں کہا تھا کہ ’بھوکے بچوں کی پکار کو نظر انداز کرنا ناممکن ہے۔ ہم ان لاکھوں انسانوں سے منہ نہیں موڑیں گے جو صرف روٹی کے ایک ٹکڑے کے لیے بھیک مانگ رہے ہیں۔ انہوں نے آگے بڑھ کر یہ بھی کہا تھا کہ ہم امریکی نہیں ہوں گے اگر اپنی تقابلی فراوانی کو مصیبت زدہ لوگوں کے ساتھ بانٹنا نہ چاہیں ۔ اپنی عالمی ذمہ داری کی بابت انہوں نے کہا تھا کہ ’میں جب کہتا ہوں کہ امریکہ دنیا کی نصف آبادی کے قحط کو دور کرنے کے لیے اپنی طاقت میں سب کچھ کرنے کا عزم رکھتا ہے تو مجھے یقین ہے کہ میں ہر امریکی کی طرف سے بات کر رہا ہوں ۔‘ امریکہ کے معروف زمانہ صدر جے ایف کینیڈی نے کہا تھا کہ امریکہ دنیا کے ان لوگوں کے لیے ’بڑے پیمانے پر پھیلی ہوئی بدحالی کی زنجیریں توڑنے‘ میں مدد کرے گا جو خوراک یا امید سے محروم ہیں۔ایک زمانے تک امریکی رہنماؤں نے دنیا بھر میں امریکہ کا ایک ایسا تصور بنانے میں مدد کی جو پُرکشش، ہمدردانہ اور فیاضانہ تھا۔اسی لیے دنیا اس کے ساتھ آتی تھی اور احترام بھی کرتی ہے لیکن آبنائے ہر مز میں ہاتھ پیر مارنے والے ٹرمپ دنیا کو دوست بنانے کے بجائے دشمن بنارہے ہیں جو بالآخر امریکی تباہی کا سبب بنے گا ۔
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...