Skip to content
سمراٹ چودھری کی قیادت میں بہار!
ازقلم:(حافظ)افتخاراحمدقادری
iftikharahmadquadri@gmail.com
بہار کی سیاسی تاریخ مسلسل تغیر و تدبیر اور توازن کی جستجو کی آئینہ دار رہی ہے۔ اس سر زمین نے نہ صرف ہندوستانی سیاست کو فکری و نظریاتی رہنمائی فراہم کی بلکہ اقتدار کی نزاکتوں اور عوامی امنگوں کے درمیان ایک نازک ربط قائم رکھنے کی جد وجہد بھی کی ہے۔ ایسے میں تقریباً پچیس برس تک اقتدار کے ایوانوں میں مرکزی حیثیت رکھنے والے نتیش کمار کا منصبِ وزارتِ اعلیٰ سے مستعفی ہونا سیاسی تبدیلی نہیں بلکہ ایک عہد کے اختتام اور ایک نئے باب کے آغاز کی تمہید ہے۔ اس تبدیلی نے ریاست کی سیاست میں ایک ہلچل پیدا کر دی جس کے اثرات صرف اقتدار کے ایوانوں تک محدود نہیں بلکہ سماجی و معاشی اور نفسیاتی سطحوں تک محسوس کیے جا رہے ہیں۔ سمراٹ چودھری کا بطورِ قائد ابھرنا ایک ایسا واقعہ ہے جسے قیادت کی تبدیلی کے زاویے سے دیکھنا کافی نہیں ہوگا۔ یہ دراصل سیاسی قوتوں کے توازن، سماجی انجینئرنگ اور انتخابی حکمتِ عملیوں کے ایک طویل سلسلے کا منطقی نتیجہ ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب بہار کی سیاست میں ذات پات کا عنصر بدستور غالب ہے سمراٹ چودھری کا کوئری (کشواہا) برادری سے تعلق ایک اہم سیاسی پیغام رکھتا ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف ایک مخصوص طبقے کو سیاسی نمائندگی دینے کی کوشش ہے بلکہ وسیع تر او بی سی سیاست کو مستحکم کرنے کی حکمتِ عملی کا حصہ بھی معلوم ہوتا ہے۔
بہار کی سیاست کی پیچیدگی کو سمجھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ ہم اس کے تاریخی پس منظر پر بھی نظر ڈالیں۔ لالو پرساد یادو کے دور سے لے کر نتیش کمار کے طویل اقتدار تک ریاست نے مختلف سیاسی تجربات کا مشاہدہ کیا ہے۔ لالو دور کو جہاں سماجی انصاف کے بیانیے کے ساتھ جوڑا جاتا ہے وہیں نتیش کمار کے عہد کو ترقی، نظم و نسق اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے۔ تاہم ان دونوں ادوار کے باوجود بہار آج بھی معاشی اعتبار سے پسماندہ ریاستوں میں شمار ہوتا ہے جو اس امر کی نشان دہی کرتا ہے کہ ترقی کے دعوے اور زمینی حقائق کے درمیان ایک واضح خلا موجود ہے۔ سمراٹ چودھری کی قیادت میں نئی حکومت کے سامنے جو چیلنجز ہیں وہ نہایت ہمہ جہت اور کثیر الابعاد ہیں۔ سب سے پہلے تو معیشت کا مسئلہ ہے جو بہار کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ کے طور پر سامنے آتا ہے۔ بے روزگاری کی بلند شرح، صنعتی ڈھانچے کی کمزوری، زرعی شعبے کی زبوں حالی اور سرمایہ کاری کی قلت وہ عوامل ہیں جو ریاست کی ترقی کی رفتار کو سست کرتے ہیں۔ نئی حکومت کو نہ صرف ان مسائل کی تشخیص کرنی ہوگی بلکہ ان کے حل کے لیے ایسی پالیسیاں وضع کرنی ہوں گی جو دیرپا اور نتیجہ خیز ثابت ہوں۔ تعلیم اور صحت کے شعبے بھی ایسے ہیں جہاں اصلاحات کی اشد ضرورت ہے۔ اگرچہ نتیش کمار کے دور میں ان شعبوں میں کچھ پیش رفت ہوئی مگر معیار اور رسائی کے اعتبار سے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ دیہی علاقوں میں تعلیمی اداروں کی حالت زار اور طبی سہولیات کی کمی ایک سنگین مسئلہ ہے جس کے حل کے بغیر انسانی وسائل کی ترقی ممکن نہیں۔ سمراٹ حکومت کو چاہیے کہ وہ ان شعبوں میں جدید ٹیکنالوجی شفاف انتظامیہ اور مؤثر نگرانی کے ذریعے بہتری لانے کی سنجیدہ کوشش کرے۔
سیاسی سطح پر اتحاد کا استحکام بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ این ڈی اے کے اندر مختلف جماعتوں کے مفادات و ترجیحات میں ہم آہنگی پیدا کرنا ایک مشکل کام ہے۔ جے ڈی یو کی موجودگی اور اس کا سیاسی وزن اس اتحاد کو پیچیدہ بناتا ہے۔ نتیش کمار جیسے تجربہ کار رہنما کی غیر موجودگی میں اس توازن کو برقرار رکھنا سمراٹ چودھری کے لیے ایک کڑا امتحان ہوگا۔ اگر اس اتحاد میں معمولی سی دراڑ بھی پیدا ہوتی ہے تو اس کے اثرات حکومت کے استحکام پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ مزید برآں اپوزیشن کی سیاست بھی ایک اہم عنصر ہے۔ عظیم اتحاد جس میں آر جے ڈی اور کانگریس شامل ہیں نئی حکومت کو ہر محاذ پر چیلنج کرنے کے لیے تیار بیٹھا ہے۔ یہ جماعتیں نہ صرف حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کریں گی بلکہ عوامی سطح پر ایک متبادل بیانیہ بھی پیش کرنے کی کوشش کریں گی۔ ایسے میں سمراٹ حکومت کو نہایت حکمت و تحمل اور بصیرت کے ساتھ اپنی پالیسیوں کا دفاع کرنا ہوگا اور عوامی اعتماد کو برقرار رکھنا ہوگا۔ قانون و انتظام کی صورت حال بھی ایک ایسا مسئلہ ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بہار میں جرائم، فرقہ وارانہ کشیدگی اور ذات پات کی بنیاد پر ہونے والی کشمکش ایک مستقل چیلنج رہی ہے۔ نئی حکومت کو اس حوالے سے سخت اور مؤثر اقدامات کرنے ہوں گے تاکہ ریاست میں امن و امان کی فضا قائم ہوسکے۔ سمراٹ چودھری کا بطور سابق وزیر داخلہ تجربہ اس میدان میں ان کے لیے معاون ثابت ہو سکتا ہے بشرطیکہ وہ اس تجربے کو مؤثر حکمتِ عملی میں تبدیل کرنے میں کامیاب ہوں۔ سماجی ہم آہنگی کا تحفظ بھی ایک نہایت حساس اور اہم معاملہ ہے۔
بہار کی شناخت ایک کثیر الثقافتی اور کثیر المذاہب معاشرے کی ہے جہاں مختلف برادریاں صدیوں سے ایک ساتھ رہتی آئی ہیں۔ اس ہم آہنگی کو برقرار رکھنا نہ صرف حکومت کی ذمہ داری ہے بلکہ اس کی سیاسی کامیابی کا دار و مدار بھی اسی پر ہے۔ اگر حکومت اس میدان میں ناکام ہوتی ہے تو اس کے اثرات نہایت منفی اور دور رس ہو سکتے ہیں۔ شفافیت اور جوابدہی کا قیام بھی نئی حکومت کے لیے ایک بنیادی تقاضا ہے۔ کرپشن بیوروکریسی کی سست روی اور انتظامی بے ضابطگیاں وہ مسائل ہیں جو عوامی اعتماد کو مجروح کرتے ہیں۔ ڈیجیٹل گورننس مؤثر نگرانی اور سخت احتساب کے ذریعے ان مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ اگر سمراٹ حکومت اس میدان میں کامیاب ہوتی ہے تو یہ اس کی سب سے بڑی کامیابی تصور کی جائے گی۔ نتیش کمار کے طویل دورِ اقتدار کے بعد سمراٹ چودھری کی قیادت ایک نئے عہد کی علامت ہے مگر یہ عہد اپنے ساتھ بے شمار توقعات اور اندیشے بھی لیے ہوئے ہے۔ عوام کی نظریں اب اس نئی قیادت پر مرکوز ہیں جو نہ صرف ترقی کے وعدے پورے کرے بلکہ ریاست کو ایک مستحکم خوشحال اور ہم آہنگ معاشرے کی طرف لے جائے۔ اگر یہ حکومت اپنی پالیسیوں میں توازن، فیصلوں میں بصیرت اور اقدامات میں دیانت کو برقرار رکھتی ہے تو وہ بہار کی تاریخ میں ایک روشن باب رقم کر سکتی ہے۔
بصورتِ دیگر اگر یہ قیادت بھی ماضی کی طرح سیاسی مفادات، ذات پات کی کشمکش اور اقتدار کی کشاکش میں الجھ کر رہ گئی تو بہار کی ترقی کا خواب ایک بار پھر ادھورا رہ جائے گا۔ اس لیے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ سمراٹ چودھری کے لیے یہ منصب اقتدار کا نہیں بلکہ ایک عظیم ذمہ داری اور تاریخی امتحان کا درجہ رکھتا ہے جس میں کامیابی ہی ان کی اصل شناخت بنے گی۔ یہاں یہ سوال بھی ابھرتا ہے کہ بہار کے عوام کو سمراٹ چودھری سے کیا توقعات وابستہ کرنی چاہئیں اور آیا وہ واقعی اس ریاست کی سیاست میں کوئی مثبت اور دیرپا کردار ادا کر سکیں گے یا نہیں؟ یہ سوال ایک فرد کی صلاحیتوں تک محدود نہیں بلکہ اس کے ساتھ جڑی ہوئی جماعتی شناخت، نظریاتی وابستگی اور عملی حکمرانی کے اسلوب سے بھی گہرا تعلق رکھتا ہے۔ چونکہ سمراٹ چودھری بھارتیہ جنتا پارٹی سے تعلق رکھتے ہیں اس لیے ان کی قیادت کو ایک وسیع تر قومی سیاسی بیانیے کے تناظر میں بھی پرکھا جائے گا جس میں ترقی، قوم پرستی اور مرکزی پالیسیوں کی ترجیحات نمایاں حیثیت رکھتی ہیں۔ بہار کے عوام کی سب سے پہلی اور بنیادی توقع یہی ہونی چاہیے کہ نئی قیادت ریاست کو سیاسی تجربات کی آماجگاہ بنانے کے بجائے ایک سنجیدہ، مربوط اور نتیجہ خیز حکمرانی کا نمونہ پیش کرے۔
عوام اب نعروں، وعدوں اور وقتی بیانیوں سے آگے بڑھ چکے ہیں انہیں عملی اقدامات، شفاف نتائج اور روزمرہ زندگی میں محسوس ہونے والی بہتری درکار ہے۔ ایسے میں سمراٹ چودھری کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ اپنی جماعت کی قومی پالیسیوں کو بہار کے مخصوص سماجی و معاشی تناظر کے ساتھ ہم آہنگ کریں کیونکہ ہر ریاست کے مسائل یکساں نہیں ہوتے اور نہ ہی ان کے حل کے لیے یکساں نسخہ کارگر ہو سکتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ بی جے پی کی سیاست پر اکثر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ وہ بعض اوقات اکثریتی بیانیے کو فروغ دیتی ہے جس سے اقلیتوں میں بے چینی پیدا ہوتی ہے۔ ایسے میں سمراٹ چودھری کے لیے یہ ایک اہم امتحان ہوگا کہ وہ اس تاثر کو کس حد تک زائل کر پاتے ہیں۔ بہار جیسے کثیر المذاہب اور کثیر الثقافتی معاشرے میں کامیاب قیادت وہی ہو سکتی ہے جو تمام طبقات کو ساتھ لے کر چلے اور کسی بھی قسم کے امتیاز یا تفریق کے احساس کو جنم نہ لینے دے۔ عوام کو یہ امید رکھنی چاہیے کہ وہ ایک ایسے طرزِ حکمرانی کو فروغ دیں گے جو انصاف و مساوات اور ہم آہنگی پر مبنی ہو نہ کہ سیاسی مفادات کے گرد گھومتا ہو۔ اسی طرح نوجوان طبقہ جو بہار کی آبادی کا ایک بڑا حصہ ہے سمراٹ چودھری سے غیر معمولی توقعات وابستہ کیے ہوئے ہے۔
روزگار کے مواقع، معیاری تعلیم اور بہتر مستقبل کی ضمانت وہ عوامل ہیں جو کسی بھی حکومت کی کامیابی یا ناکامی کا تعین کرتے ہیں۔ اگر نئی قیادت اس سمت میں ٹھوس اقدامات کرنے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو نہ صرف اس کی سیاسی ساکھ مضبوط ہوگی بلکہ بہار کی تقدیر بھی بدل سکتی ہے۔ بصورتِ دیگر مایوسی اور بے چینی کا وہ سلسلہ جاری رہے گا جو گزشتہ کئی دہائیوں سے اس ریاست کا مقدر بنا ہوا ہے۔ جہاں تک یہ سوال ہے کہ آیا سمراٹ چودھری واقعی بہار کی سیاست میں مفید ثابت ہوں گے؟ تو اس کا جواب وقت ہی دے سکتا ہے مگر قرائن یہی بتاتے ہیں کہ ان کے پاس ایک موقع ضرور ہے کہ وہ خود کو ایک مؤثر، مدبر اور ہمہ گیر رہنما کے طور پر منوا سکیں۔ ان کی سیاسی تربیت، مختلف جماعتوں کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ اور موجودہ حالات کی نزاکتوں سے واقفیت انہیں ایک منفرد پوزیشن فراہم کرتی ہے مگر یہ سب اس وقت تک بے معنیٰ ہے جب تک اسے عملی کارکردگی میں نہ ڈھالا جائے۔ آخرکار یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ بہار ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں قیادت کی معمولی سی لغزش بھی بڑے بحران کو جنم دے سکتی ہے اور ایک درست فیصلہ ترقی کے نئے دروازے کھول سکتا ہے۔ سمراٹ چودھری کے لیے یہ وقت اقتدار سے لطف اندوز ہونے کا نہیں بلکہ تاریخ کے ایک سنجیدہ امتحان سے گزرنے کا ہے۔ اگر وہ اس امتحان میں سرخرو ہوتے ہیں تو بہار کی سیاست میں ایک مثبت اور تعمیری باب کا اضافہ ہوگا اور اگر ناکام رہتے ہیں تو یہ تبدیلی بھی ماضی کی طرح ایک عارضی تجربہ بن کر رہ جائے گی۔ چنانچہ عوام کو نہ صرف امید رکھنی چاہیے بلکہ ایک باشعور نگران کی حیثیت سے حکومت کی کارکردگی پر گہری نظر بھی رکھنی چاہیے کیونکہ بالآخر جمہوریت کی اصل قوت عوام ہی کے ہاتھ میں ہوتی ہے اور اسی قوت کے ذریعے کسی بھی قیادت کا اصل احتساب ممکن ہوتا ہے۔
*کریم گنج،پورن پور،پیلی بھیت،مغربی اترپردیش
(مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)
iftikharahmadquadri@gmail.com
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...