Skip to content
ممبئی میں مولانا خالد اشرف پر جان لیوا حملہ، شدید مذمت؛ پولیس کا منشیات مافیا کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن
ممبئی: جنوبی ممبئی کے علاقے ڈونگری میں دارالعلوم محمدیہ کے صدر اور معروف عالمِ دین مولانا خالد اشرف پر ہونے والے جان لیوا حملے نے شہر میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ اس واقعے کی مختلف مذہبی، سماجی اور سیاسی حلقوں کی جانب سے سخت الفاظ میں مذمت کی جا رہی ہے، جبکہ پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے منشیات مافیا کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کر دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق، ڈونگری پولیس اسٹیشن میں اس حملے کے خلاف باقاعدہ ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے۔ پولیس نے نشہ آور افراد کے ایک گروہ کو اس واردات میں ملوث قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف سخت قانونی دفعات کے تحت مقدمہ قائم کیا ہے۔ اس سلسلے میں چند ملزمان کو حراست میں لے لیا گیا ہے، جبکہ دیگر کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔
واقعے کے بعد پولیس نے علاقے میں سرگرم منشیات فروشوں کے خلاف بڑی کارروائی شروع کر دی ہے۔ مبینہ اڈوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور غیر قانونی سرگرمیوں کے خاتمے کے لیے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ پولیس ذرائع کے مطابق یہ کریک ڈاؤن آئندہ دنوں میں مزید تیز کیا جائے گا۔
مولانا خالد اشرف نے اس واقعے پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اس معاملے کو اللہ کے سپرد کر دیا ہے اور دعا کی ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے عناصر کو ہدایت عطا فرمائے۔ انہوں نے نوجوانوں کو منشیات سے دور رکھنے اور ایک صحت مند معاشرے کی تشکیل کے اپنے عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔
ممبئی کے مسلمانوں نے بلا تفریق مسلک اس حملے کی شدید مذمت کی ہے اور ملزمان کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ سماجوادی پارٹی کے صدر اور رکن اسمبلی ابو عاصم اعظمی نے اس واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک عالمِ دین پر حملہ انتہائی قابل مذمت ہے۔ انہوں نے ایف آئی آر درج کروانے میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی طرح سابق ایم ایل اے اور ایم آئی ایم لیڈر وارث پٹھان نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے پولیس سے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا اور ڈونگری پولیس اسٹیشن پہنچ کر اعلیٰ افسران سے ملاقات کی۔
دریں اثنا، سنی جمعیتہ علماء کے صدر مولانا معین میاں کی قیادت میں ایک وفد نے ممبئی پولیس کمشنر دیون بھارتی سے ملاقات کی۔ وفد میں مولانا خالد اشرف، نائب صدر، اور رضا اکیڈمی کے صدر سعید نوری سمیت دیگر علماء بھی شامل تھے۔ وفد نے ایک میمورنڈم پیش کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ حملے کی مکمل تحقیقات کی جائیں، ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے، اور علاقے میں منشیات کے خلاف سخت کارروائی کو یقینی بنایا جائے۔
میمورنڈم میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مولانا خالد اشرف نوجوانوں کو منشیات سے بچانے کے لیے سرگرم عمل ہیں، اور ان پر حملہ دراصل معاشرتی اصلاح کی کوششوں پر حملہ ہے۔ وفد نے مطالبہ کیا کہ منشیات کے خلاف کام کرنے والے افراد کو تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ وہ بلا خوف و خطر اپنی خدمات جاری رکھ سکیں۔
پولیس کی جانب سے جاری کریک ڈاؤن کو عوامی سطح پر سراہا جا رہا ہے، اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس سے نہ صرف ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا بلکہ علاقے سے منشیات کے ناسور کے خاتمے میں بھی مدد ملے گی۔
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...