Skip to content
آبنائے ہرمز: عالمی اقتصادیات کا تزویراتی پاور ہاؤس
(توانائی کی سیاست اور ہرمز کی جیو پولیٹیکل اہمیت)
ازقلم: اسماء جبین فلک
آبنائے ہرمز محض ایک تنگ سمندری گزرگاہ نہیں بلکہ عصرِ حاضر میں یہ عالمی سیاست اور معیشت کے مابین ایک فیصلہ کن تزویراتی نقطہ بن چکی ہے۔ ایران اور عمان کے درمیان واقع یہ مقام، جو اپنی چوڑائی میں محض 29 سے 30 ناٹیکل میل کے لگ بھگ ہے، اپنی مخصوص جغرافیائی ساخت کی بنا پر دنیا کی اہم ترین اور حساس ترین آبی گزرگاہ تسلیم کی جاتی ہے۔ اس کی تزویراتی اہمیت کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہاں سے یومیہ تقریباً 20 ملین بیرل تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر مائع قدرتی گیس کی مجموعی تجارت کا 30 فیصد حصہ گزرتا ہے۔ یہ راستہ سعودی عرب، ایران، عراق، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات جیسے بڑے برآمد کنندگان کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی کا واحد موثر ذریعہ ہے، جبکہ دوسری جانب جاپان، جنوبی کوریا، چین اور بھارت جیسے بڑے صنعتی ممالک اپنی توانائی کی بقا کے لیے اسی راستے پر مکمل انحصار کرتے ہیں۔
اس حساسیت کے پیشِ نظر، اس خطے میں پیدا ہونے والی کوئی بھی معمولی عسکری کشیدگی یا سیاسی عدم استحکام فوری طور پر عالمی معیشت کو ایک بڑے بحران سے دوچار کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ "امریکی توانائی ادارے” کے اعداد و شمار کے مطابق، اس گزرگاہ سے سالانہ تقریباً 600 ارب ڈالر مالیت کی تجارتی اشیاء منتقل ہوتی ہیں۔ یہ حجم اس گزرگاہ کو ایک ایسی اقتصادی ڈھال فراہم کرتا ہے کہ اگر اسے طویل مدت کے لیے مسدود کر دیا جائے تو عالمی مالیاتی نظام کی بنیادیں ہل سکتی ہیں۔ محض مکمل بندش ہی نہیں، بلکہ جہاز رانی میں معمولی تاخیر یا بحری انشورنس کے اخراجات میں اضافہ بھی عالمی منڈیوں میں اضطراب پیدا کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جس کی بنیاد پر ایران اس گزرگاہ کو ایک طاقتور تزویراتی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
تاریخی تناظر میں دیکھا جائے تو ایران نے ہمیشہ اس گزرگاہ کو ایک بحری اور اقتصادی ڈھال کے طور پر تصور کیا ہے، جو اسے کسی بھی علاقائی تنازع کو عالمی سطح پر لے جانے کی غیر معمولی قوت فراہم کرتا ہے۔ 1980 کی دہائی میں ایران عراق جنگ کے دوران ہونے والی ٹینکر وار نے ثابت کر دیا تھا کہ کس طرح تجارتی جہازوں کو نشانہ بنا کر عالمی طاقتوں کو مداخلت پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔ حالیہ برسوں میں امریکہ اور ایران کے مابین بڑھتی ہوئی خلیج اور فضائی حملوں کے بعد ایرانی پارلیمان کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کی منظوری محض ایک عسکری دھمکی نہیں تھی، بلکہ یہ ایک سوچی سمجھی تزویراتی چال تھی۔ ایران کا یہ موقف رہا ہے کہ اگر اس پر معاشی پابندیوں کا گھیرا تنگ کیا گیا تو وہ اپنے سمندری اختیار کو استعمال کرتے ہوئے محصولات اور کنٹرول کا ایک ایسا نظام وضع کر سکتا ہے جو عالمی طاقتوں پر شدید معاشی دباؤ ڈالنے کا سبب بنے۔
امریکہ اور اس کے مغربی اتحادیوں کے لیے اس گزرگاہ کا تحفظ ان کی قومی سلامتی اور اقتصادی استحکام کا ناگزیر حصہ ہے۔ واشنگٹن اور یورپی یونین اسے عالمی توانائی کی شہ رگ قرار دیتے ہیں، کیونکہ اس کی بندش کا مطلب عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں کا بے قابو ہونا اور صنعتی پیداوار کا رک جانا ہے۔ چین اور دیگر ایشیائی طاقتیں بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھتی ہیں کیونکہ ان کی اقتصادی ترقی کا پہیہ براہِ راست اس آبی راستے کی روانی سے جڑا ہوا ہے۔ اس مشترکہ مفاد اور خوف کے باعث ایک چھوٹی سی جنگ یا محض ایک حادثاتی رکاوٹ کو بھی ایک بڑے عالمی تزویراتی بحران کے پیش خیمہ کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جس سے بچنے کے لیے عالمی طاقتیں ہمہ وقت سفارتی اور عسکری طور پر متحرک رہتی ہیں۔
2025 اور 2026 کے دوران امریکہ اور ایران کے درمیان پیدا ہونے والی تازہ ترین کشیدگی اور اس کے نتیجے میں ہونے والے حملوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اس تناظر میں اسلام آباد میں منعقد ہونے والے 21 گھنٹے طویل مذاکرات، جن میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی سپیکر محمد باقر قالیباف جیسی قد آور شخصیات نے شرکت کی، اس گزرگاہ کی عالمی اہمیت کا بین ثبوت ہیں۔ اگرچہ ان مذاکرات میں کوئی حتمی اور پائیدار معاہدہ طے نہیں پا سکا، لیکن ان کوششوں نے یہ واضح کر دیا کہ اس خطے میں ہونے والی کوئی بھی پیش رفت تزویراتی سطح پر کتنا گہرا اثر رکھتی ہے۔ یہ مذاکرات اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ کس طرح ایک محدود جغرافیائی تنازع عالمی معیشت کے لیے ایک بڑے خطرے کی صورت میں موجود ہے۔
آبنائے ہرمز کی موجودہ صورتحال نے پاکستان، بھارت، جاپان اور چین جیسی درآمدی معیشتوں کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔ ان ممالک کے لیے توانائی کی ترسیل میں کسی بھی قسم کا تعطل ان کی مقامی صنعتوں اور افراطِ زر کی شرح پر براہِ راست اثر انداز ہوتا ہے۔ تزویراتی ماہرین کے مطابق، ہرمز کی کشیدگی اب محض دو ممالک کا مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ ایک کثیر الجہتی معاشی ہتھیار بن چکا ہے۔ اس گزرگاہ کی اہمیت اور اس سے وابستہ خطرات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مستقبل قریب میں بھی یہ مقام عالمی سیاست کے شطرنج پر سب سے اہم مہرہ رہے گا، جہاں ایک چھوٹی سی غلطی بھی پوری دنیا کو ایک ناقابلِ تلافی اقتصادی بحران کی طرف دھکیل سکتی ہے۔
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...