Skip to content
مہاراشٹر میں تبدیلیٔ مذہب کا کالا قانون
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
مہاراشٹر کے ناسک میں اشوک کھرات نامی پاکھنڈی بابا کی جانب سے عوام کا دھیان ہٹانے کے لیے ۸؍ مسلمانوں پر ٹی سی ایس نامی مشہور کمپنی کے ملازمین کا مذہب تبدیل کروانے کا الزام لگا کر ۶؍ ملازمین کو گرفتار کرلیا گیا ۔ اس کے سبب میڈیا کے اندر ایک طوفان برپا ہے۔ ناسک کی اس مشہور آئی ٹی کمپنی میں چند نوجوان لڑکیوں کے جنسی استحصال کی چونکانے والی خبر کے ساتھ مذہب کی جبراً تبدیلی کو نتھی کرکے سنسنی پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اس معاملے میں اشوک کھرات کی مانند کوئی ویڈیو سامنے آئی؟ نہیں آئی مگر پھر بھی غیر قانونی گرفتاریاں شروع ہوگئیں ۔ مذہبی تبدیلی سے متاثرہ نوجوان کی تصاویر شائع کرکے الزام لگایا گیا کہ ان پر مخصوص لباس پہننے کیلئے دباؤ ڈالا گیا۔ موجودہ نسل کے نوجوان تو لباس کے معاملے میں اپنے والدین تک کی مرضی کو قبول نہیں کرتے ایسے میں دوسروں کی بات مان لینا ناقابلِ فہم ہے ۔ یہ الزام بھی لگایا گیا کہ ان کو مذہبی رسومات کی پیروی کے لیے مجبور کیا گیا۔ عصرِ حاضر میں کسی بالغ کو مذہبی رسومات کے لیے مجبور کرنا ممکن نہیں ہے۔ ہندو احیا پر ستوں کے سامنے تو مسلمان اپنی زندگی داوں پر لگا دیتے ہیں۔ اس لیے ہندو بلا تشدد ایسا کیسے کرسکتے ہیں ؟
مذکورہ بالا واقعہ نے ناسک میں بلکہ پورے صوبے میں ہلچل مچا رکھی ہے۔ ٹی آر پی چکر میں سوشیل میڈیا کے اندر اسے خوب اچھالا جارہا ہے ۔اس الزام میں کوئی دم نہیں ہے کہ ایک نوجوان کو مشتبہ ملزمین نے زبردستی مذہب تبدیل کروایا۔ جہاں تک نماز کے مجبور کرنے کا سوال ہے یہ کام تو مسلمانوں پر بھی نہیں ہوسکتا کجا کہ کسی ہندو کے ساتھ کیا جائے۔ اس کے علاوہ شکایت میں ہندو نوجوان کو گائے کا گوشت کھلایا جانے کا بھی ذکر ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہ گوشت کہاں سے آیا ؟ ریاست میں تو گئوکشی پر پابندی ہے۔سنگھ پریوار کو اس بات کا احساس ہے کہ اگر ملک کی عوام نے آزادانہ انداز میں سوچنا شروع کردیا تو ان میں سے ایک بڑی تعداد اسلام یا عیسائیت کی جانب راغب ہوسکتی ہے کیونکہ ان لوگوں کو اپنے دھرم سے دور کرنے کا کام اشوک کھرات جیسے پاکھنڈی بابا کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یوگی اور شنکراچاریہ کے درمیان چھڑے دھرم یُدھ سے بھی نئی نسل بیزار ہوکر دور نکل جاتی ہے۔ اس لیے یہ لوگ تبدیلیٔ مذہب کے خلاف سخت قوانین وضع کرتے رہتے ہیں۔
ملک کے ایک درجن ریاستوں میں پہلے ہی ایسے خطرناک قوانین نافذ ہیں۔ شاہو مہاراج، پھلے اور امبیڈکر کی روایات کے سبب مہاراشٹر کو ایک روشن خیال صوبہ سمجھا جاتا تھا۔ یہاں پر اس طرح کے قانون کا کوئی تصور نہیں تھا مگر بی جے پی اسے بھی نافذ کردیا ۔ تبلیغ مذہب پر قدغن لگانے والے اس قانون کو فریب دہی کی غرض سے ’’مہاراشٹر فریڈم آف ریلیجن ایکٹ 2026ء‘‘ کے خوشنما اور آئینی نام کے ساتھ منسوب کیا گیا۔ اس طرح ’’آزادی ٔ مذہب‘‘ کےشال میں لپیٹ کر ۱۷؍ مارچ کو مہاراشٹر اسمبلی میں اسے پیش کیاگیا اور اس تبدیلی ٔ مذہب مخالف قانون کو حسبِ توقع محض 2 دن بعد19؍ مارچ کو واضح اکثریت کے ساتھ صوتی ووٹوں سے منظور کرلیاگیا۔ یعنی ایوان میں بل کے خلاف اٹھنے والی آوازیں اتنی کم تھیں کہ اس پر ووٹنگ کی ضرورت بھی پیش نہیں آئی۔’آزادی ٔ مذہب‘ کے نام پر تبدیلی ٔ مذہب مخالف قانون بنانے والی مہاراشٹر ملک کی 13؍ ویں ریاست بن گئی ہے۔
اس طرح کے قانون کی ابتداء 1967ء میں اڈیشہ سے ہوئی تھی ۔اس کے بعد یہ مرض مدھیہ پردیش، چھتیس گڑھ، اروناچل پردیش، گجرات، ہماچل پردیش، جھارکھنڈ، اتراکھنڈ، اتر پردیش، کرناٹک اور ہریانہ تک پھیلتا چلا گیا۔ اس قانون کے معاملے میں اپوزیشن کی ’مہاوکاس اگھاڑی‘انتشار کا شکار ہوگئی ۔ شیوسینا (اُدھو) نے اس کی حمایت کردی جبکہ کانگریس نے اسے مزید غوروخوض اور اعتراضات کا جائزہ لینے کیلئے سلیکٹ کمیٹی کے حوالے کرنے کامطالبہ کیا۔ شردپوار کی این سی پی نے حکومت کی منشاء پر سوال کھڑے کرتے ہوئےکانگریس کا ساتھ دیامگر حکومت کے پاس بل کی حمایت میں واضح سے زیادہ اکثریت تھی اس لئے اسے پلک جھپکتے منظور کرالیاگیا۔ چند دنوں کے اندر مرکزی حکومت کے کٹھ پتلی گورنر نے اس دستخط کردئیے اوراس پر عمل در آمد کا پہلا مظاہرہ ناسک میں ہوا۔ اس قانون کے مطابق تبدیلی ٔ مذہب تو دور مذہب کی تبلیغ کو بھی جرم کے زمرے میں لاکھڑا کیا گیا ہے اس لیے بجا طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ مہاراشٹر میں منظور ہونےوالے قانون نے بقیہ تمام ریاستوں کے قوانین کو بہت پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
ناسک میں اس قانون کا اطلاق اس لیے ہوا کیونکہ اس قانون کے تحت تعلیم کے ذریعہ ذہن سازی کو بھی ’’غیر قانونی تبدیلی ٔ مذہب‘‘کے زمرے میں ڈال دیا گیا ہے۔ تبدیلی مذہب کیلئے جن امور کو لالچ کے زمرے میں شامل کیاگیا ان میں مذہبی اداروں کے ذریعہ اسکولوں اور کالجوں میں مفت تعلیم کو بھی شامل رکھا گیاہے۔ یہ شق نہ صرف یہ کہ مبہم ہے بلکہ اس کا دائرہ بہت وسیع ہے۔ اس میں موجود ابہام کی وجہ سے تعلیمی ادارے، اساتذہ، اور سماجی کارکنان بھی اس قانون کی زد میں آ سکتے ہیں اور زد میں آنے کی صورت میں مذکورہ اداروں کو اپنے رجسٹریشن سے ہاتھ بھی دھونا پڑ سکتاہے۔ کسی مذہب کے بارے میں مثبت اظہار یا تقابلی بحث کوبھی مجوزہ قانون میں جرم قرار دیاگیا ہے جو آزادیٔ اظہار اور علمی مباحثوں کو محدود کر دینے کی کوشش اور مذہب کی تبلیغ کے دروازے بند کردینے کے مصداق ہے۔ یہ اس حقیقت کا اعتراف ہے کہ اگردیگر مذاہب سے سناتن دھرم کا موازنہ کیا جائے گا تو یہ بونا ہوجائے گا۔ اس لیے بظاہرتو اس قانون کا مقصد جبری، دھوکہ دہی یا لالچ کے ذریعے ہونے والی تبدیلیٔ مذہب کو روکنا ہے، لیکن یہ قانون عملی طور پر مذہب تبدیل کرنے کے عمل کو ہی تقریباً ناممکن بنا دے گا۔
ناسک کے حالیہ معاملے میں پولس کی جو زیادتی سامنے آئی ا س کا سبب پولیس کوملنے والا ’ازخود کارروائی‘ کا اختیار ہے۔پہلے تو یہ تھا کہ مذہب تبدیل کرنے والے فرد کو شکایت کا اختیار دیا گیا مگر یوپی اور راجستھان میں کسی غیر متعلق آدمی کو بھی شکایت کرنے کا اختیار دے دیاگیاہے۔ یعنی کوئی بھی شخص کسی کی بھی تبدیلی ٔمذہب پر شبہ کا اظہارکرتے ہوئےپولیس سے رجوع کر سکتا ہے مگر مہاراشٹر میں تو پولیس کوکسی شکایت کی مجبوری سے ہی بے نیاز کردیا گیا۔ اسے یہ اختیار ہے کہ تبدیلی ٔمذہب کے لیے دباؤ یا لالچ کو بنیاد بناکر ازخود کارروائی کرے اور ناسک ٹی سی ایس میں اسے استعمال کیا گیا۔ اس کارروائی کے لیے چونکہ ’سب انسپکٹر‘ کی سطح کے افسر ہونا کافی ہے ، اس کی وجہ سے اختیارات کا بے جا استعمال کا اندیشہ بڑھ گیا ہے۔ یہ انصاف کے بنیادی اصول کے ہی خلاف ہے۔ اس قانون میں یہ ہے کہ تبدیلیٔ مذہب سے متعلق دستاویزات پر دستخط کرنے، ان کی توثیق کرنے یا گواہی دینے والے افراد بھی’تبدیلی مذہب پر اُکسانے‘ کے الزام کے تحت ’ملزمین‘ کی فہرست میں شامل ہوسکتے ہیں ۔ اس سے اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کرنے والوں کیلئے بھی قانونی ضوابط کی تکمیل تقریباً ناممکن ہو جائے گی کیوں کہ پھنسنے کے ڈر سے دستاویزات کی تیاری میں کون ساتھ دے گا؟ یہ در اصل دعوت کی راہ میں قید و بند کی خوف و دہشت پھیلانے کے مترادف ہے۔
مذہب ایک ذاتی معاملہ ہےاور مذہب کی تبدیلی پر فرد کابنیادی حق ہے۔ آئین ہند اس بنیادی حق کو تسلیم کرتا ہے۔ اس لیے رازداری اور آزادیٔ انتخاب کو یقینی بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے لیکن نیا قانون تحت تبدیلیٔ مذہب کے خواہشمند افراد کیلئے 60؍ دن پہلے نوٹس کے ذریعہ حکام کو اپنی مذہبی تبدیلی کے کا ارادہ کے اظہار کا پابند کرتا ہے۔ نیا مذہب اختیار کرنے کے بعد 21؍ دن کے اندر اندر اسے مجسٹریٹ کے سامنے پیش ہوکر حلفیہ بیان درج کرانے پر مجبور کرتا ہے۔ تبدیلی مذہب کا نوٹس ملنے کے بعد مجسٹریٹ کا دفتر 30؍ دن کے اندر اندر مجوزہ تبدیلی مذہب سے متعلق تفصیلات اپنے دفتر کے نوٹس بورڈ پر، گاؤں کی پنچایت کے دفتر پر اور اس علاقے میں چسپاں کرےگا اورعوام الناس سے اعتراضات اور آراء طلب کی جائیں گی۔ اس قانون کے تحت کسی بھی شق کی خلاف ورزی ناقابل ضمانت جرم ہے جس میں دس سال تک کی جیل اور ۷؍ لاکھ روپے تک کا جرمانہکی گنجائش ہے۔
کل ملا کر اگر کوئی شہری حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ قانون رضاکارانہ تبدیلیٔ مذہب پر پابندی نہیں لگاتا، لیکن اس کے عملی تقاضے، رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ یہ قانون مذہبی آزادی، رازداری اور مساوات کی ضمانت جیسے بنیادی حقوق کو چیلنج کرتاہے۔ اس قانون کے تحت 60؍دن پہلے سرکاری اجازت نامہ کا نوٹس دراصل مذہبی آزادی کو ’حکومت کی منظوری‘ سے مشروط کر دیتا ہے۔ یعنی ریاستی حکومت کی اجازت کے بغیر کوئی شہری مذہب کے تعلق سے اپنا ذاتی فیصلہ نہیں کرسکتا ۔ یہ اقدام دراصل غیر اعلانیہ طور پر تبلیغ و قبول مذہب کے حق کی تردید ہے۔اس کا مظاہرہ ناسک میں ہوچکا ہے۔
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...