Skip to content
’’سادگی میں حُسن ہے‘ ذرا سمجھو تو‘‘
ازقلم:سیما شکور، حیدر آباد
بناوٹ میں حسن کی تلاش بھی عجیب بات ہے …آج ہر کوئی مصنوعی خوبصورتی کے پیچھے بھاگ رہا ہے جبکہ سادگی میں خوبصورتی چھُپی ہے سادگی صرف لباس کی سادگی نہیں، سادگی ہمارے ہر انداز سے چھلکنی چاہئے ہمارے بات کرنے کے انداز میں بھی سادگی ہونی چاہئے۔ ہمارے زندگی گزارنے کا انداز بھی سادہ ہونا چاہئے۔ بناوٹ میں وہ بات کہاں جو سادگی میں ہے۔ سادگی سے زندگی گزارنے والے لوگ ہمیشہ مطمئن اور پُر سکون دکھائی دیتے ہیں جبکہ جو لوگ لامتناہی خواہشات کے خوگر ہوتے ہیں ان کی زندگیوں میں ایک بے چینی پائی جاتی ہے۔ بیجا خواہشات رکھنے والے لوگ کبھی بھی خوش نہیں رہ سکتے ان کی خواہشات کسی بھی طرح ختم ہونے کا نام نہیں لیتیں۔ ایسے لوگ خواہشات کے سرپٹ دوڑتے گھوڑے کے پیچھے بس دوڑتے ہی چلے جاتے ہیں وہ خواہشات کے غلام ہوتے ہیں، نمود و نمائش ایسے لوگوں کا خاصہ ہوتا ہے، ایسے لوگ سادگی سے زندگی گزارنے والے لوگوں کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
سادگی میں ایک ملاحت ایک نور دکھائی دیتا ہے۔ سادگی میں ایک انوکھی کشش پائی جاتی ہے۔ سادہ لوگ اپنی سادگی کی بدولت لوگوں کے دلوں پر حکمرانی کرتے ہیں۔ مزاج کی سادگی ہمیں لوگوں میں مقبول بنادیتی ہے لوگ ان کی صحبت خوشی محسوس کرتے ہیں۔ سادہ لوگ غرور و تکبر سے پاک ہوتے ہیں۔ ہم جتنا اپنی زندگی میں سادگی کو اوڑھنا اور بچھونا بنائیں گے اتنا ہی ہماری زندگیوں میں آسانیاں اور راحتیں پیدا ہوتی چلی جائیں گی سادگی کو نہ اپنا کر ہم نے اپنی زندگیوں کو مشکل ترین بنادیا ہے سادگی ایمان کا ایک اہم جُز ہے۔ جس انسان میں سادگی کے خوبصورت رنگ دکھائی دیتے ہیں وہ انسان غرور و تکبر اور ریاکاری سے دور ہوتا ہے۔ سادگی کو اپنانا اور دکھاوے سے دور رہنا اللہ تعالیٰ کو بہت پسند ہے۔ افسوس کہ آج ہم نمود و نمائش میں ایک دوسرے کو مات دینے کی تگ و دو میں اس قدر انسانیت کے درجے سے گرچکے ہیں کہ انسانیت شرمسار ہے۔
سادگی محض ایک اخلاقی صفت نہیں بلکہ ایک مکمل طرز حیات ہے ۔ ہماری چیزوں کی نمود و نمائش میں الجھے رہنے کی وجہ سے لوگوں کی سوچ و فکر سطحی چیزوں سے نہیں اٹھ پاتی ۔ جس کی وجہ سے لوگوں کا ذہنی ارتقاء رُک جایا کرتا ہے۔ ان کی ذہنی صلاحیتیں اسی فکر میں ضائع ہوجاتی ہیں کہ کس طرح لوگوں کو اپنی نمود و نمائش سے متاثر کیا جائے۔ سادگی سنجیدہ لوگوں کی پہچان ہے، سادگی عاجزی و انکساری رکھنے والے لوگوں میں ہی پائی جاتی ہے۔ سادگی با مقصد زندگی گزارنے والوں کا شیوہ ہے۔ جن لوگوں کی دنیاوی تمنائیں قلیل ہوتی ہیں وہ ایک مطمئن زندگی گزارتے ہیں۔ جو لوگ اعلیٰ اخلاق و کردار کے مالک ہوتے ہیں انہیں سادگی میں ہی راحت ملنے لگتی ہے۔ بناوٹی تعلقات ان کی نظروں میں کوئی اہمیت نہیں رکھتے ان کو بناوٹی تعلقات میں کوئی دلچسپی نہیں ہوتی نہ انہیں ان میں کوئی کشش نظر آتی ہے۔ سادگی ایک ایسی انسانی خوبی ہے جو آپ کے عزت و وقار میں اضافہ کرتی ہے۔
اسلام بھی ہمیں زندگی سادگی سے گزارنے کی ترغیب دیتا ہے۔ اگر انسان غیر ضروری چیزوں کو چھوڑ دیتا ہے اور سادگی سے زندگی بسر کرنے کو ترجیح دیتا ہے تو ہی وہ اپنے مقصد اعلیٰ کی طرف بڑھ سکتا ہے۔ اس طرح وقت کی بھی بچت ہوتی ہے۔ اگر انسان کا مزاج سادہ ہوگا تو اس کا ذہن فضولیات کی طرف نہیں جائے گا وہ کبھی یہ نہیں سوچے گا کہ دوسروں کو اپنی امارت سے کس طرح مرعوب کیا جائے، کس طرح خود کو بنانے اور سنوارنے کے لیے بناوٹی چیزوں کا سہارا لیا جائے ۔ سادہ مزاج لوگ ہمیشہ ایسی چیزوں سے دور رہتے ہیں ان کی سوچ اعلیٰ ہوتی ہے۔ وہ سطحی ذہنیت رکھنے والے لوگوں سے بالکل الگ ہوتے ہیں انہیں بناوٹ اور نمود و نمائش کے ماحول میں گھٹن محسوس ہوتی ہے وہ ہمیشہ ایسی محفلوں سے دور رہتے ہیں جہاں دکھاوا ہو۔
سادہ طرزِ زندگی میں ہی سکون و اطمینان چھُپا ہے۔ انسان جتنا زیادہ اپنی خواہشات کوبڑھاتا چلا جائے گا اتنا ہی وہ بے چین و مضطرب زندگی گزارے گا۔ سادہ لباس، سادہ اندازِ گفتگو ، سادہ طرزِ زندگی ایمان کی پختگی کو ظاہر کرتا ہے۔ سادہ مزاج لوگ ہمیشہ لوگوں کے دلوں پر راج کرتے ہیں وہ ہر کسی کا دل موہ لیتے ہیں لوگ ان کی صحبت میں حقیقی خوشی محسوس کرتے ہیں۔ تو کیوں نہ ہم سب سادگی کے حسین پھولوں کو چن لیں۔
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...