Skip to content
جمعہ نامہ:
گل مراد ہے منزل میں خار راہ میں ہے
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ارشادِ ربانی ہے:’’ یہ بستیوں کی سرگزشتیں ہیں جو ہم تمہیں سنا رہے ہیں ۔ ان میں سے کچھ تو قائم ہیں اور کچھ مٹ مٹا گئیں ‘‘۔سورۂ ہود میں مختلف قوموں پر عذابِ الٰہی کا تذکرہ کرنے کے بعد یہ تبصرہ فرماکر دنیا کی غالب قوموں کو ان کے انجام بد سے خبردار کیا گیا۔ ان میں سے ایک قسم کو تو سرے ناپید کردیا گیا یا ان کانام و نشان مٹادیا گیا مثلاً سوویت یونین میں شامل ممالک تو موجود ہیں لیکن دنیاکے نقشے پر اب اس نام کا کوئی سُپر پاور نہیں ہے۔ ایک زمانےکی عظیم عالمی طاقتیں مثلاً اسپین، جرمنی یا برطانیہ بھی موجود تو ہیں مگر ان سے قوت وجبروت چھین لیا گیا۔ اس عذابِ دنیا کی وجہ یہ بتائی گئی کہ:’’ہم نے اُن پر ظلم نہیں کیا، انہوں نے آپ ہی اپنے اوپر ستم ڈھایا ‘‘۔ یعنی اپنی مظلومیت کے لیے خود ان کی سرکشی ذمہ دار ہے۔ آگے یہ بھی کہا گیا کہ :’’تو تمہارے پہلے والے زمانوں اور نسلوں میں ایسے صاحبان عقل کیوں نہیں پیدا ہوئے ہیں جو لوگوں کو زمین میں فساد پھیلانے سے روکتے علاوہ ان چند افراد کے جنہیں ہم نے نجات دے دی اور ظالم تو اپنے عیش ہی کے پیچھے پڑے رہے اور یہ سب کے سب مجرم تھے ‘‘۔ظالم قومیں اپنی تباہی سے قبل سبھی حلیفوں کو پکارتی ہیں مگر کوئی کام نہیں آتا۔
امریکہ نے آبنائے ہرمز کو کھلوانے کے بہانے اپنے دوستوں کونی صرف پکارا بلکہ دھمکایا بھی مگر کوئی نہیں آیا۔اس عالمِ تنہائی کو قرآن میں دیکھیں : ’’جب اللہ کا حکم آ گیا تو ان کے وہ معبود جنہیں وہ اللہ کو چھوڑ کر پکارا کرتے تھے ان کے کچھ کام نہ آ سکے اور انہوں نے ہلاکت و بربادی کے سوا انہیں کچھ فائدہ نہ دیا‘‘۔ ایک زمانے میں امریکی بحری بیڑہ دوسروں کی مدد کے لیے جاتا تھا اب ابراہم لنکن کو میدان جنگ سے دورلے جانا پڑا کیونکہ فرمانِ قرآنی ہے :’’ تیرا رب جب کسی ظالم بستی کو پکڑتا ہے تو پھر اس کی پکڑ ایسی ہی ہوا کرتی ہے، فی الواقع اس کی پکڑ بڑی سخت اور درد ناک ہوتی ہے ‘‘۔ایران کی جنگ اس آیت کی تفسیر ہے۔ یہ ایک معجزہ ہی ہے کہ ایران کو بدنام کرکے یکہ و تنہا کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگایا گیا مگر اس کے ساتھ چین، روس، فرانس اور اٹلی سمیت دنیا کے بیشتر ممالک کھڑے ہیں جبکہ امریکہ کا حامی اسرائیل و ہندوستان کے سوا کوئی نہیں۔ مذکورہ بالا آیات کے بعد قیامت کی منظر کشی کی گئی اور پھر اہل کتاب کی بابت فرمایا گیا :
’’اور ہم نے موسٰی ؑ کو کتاب دی تو اس میں بھی اختلاف پیدا کردیا گیا اور اگر تمہارے پروردگار کی طرف سے پہلے بات نہ ہوگئی ہوتی تو ان کے درمیان فیصلہ کردیا جاتا اور یہ لوگ اس عذاب کی طرف سے شک میں پڑے ہوئے ہیں‘‘ یعنی یہود و نصاریٰ کا صفحۂ ہستی سے نہ مٹنا ایک اذنِ خداوندی کے سبب ہے لیکن اس طرح وہ عذابِ آخرت سے نہیں بچ سکتے ۔ فرمانِ ربانی ہے:’’ اور یقیناتمہارا پروردگار سب کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے گا اور وہ ان سب کے اعمال سے خوب باخبر ہے‘‘۔ ایسے میں امتِ محمدیہؐ کو ہدایت دی گئی ہے کہ :’’ پس (اے رسولﷺ) جس طرح آپ کو حکم دیا گیا ہے آپ خود اور وہ لوگ بھی جنہوں نے توبہ کر لی ہے اور آپ کے ساتھ ہیں (راہِ راست پر) ثابت قدم رہیں اور حد سے نہ بڑھیں ‘‘۔ استقامت کےتقاضہ کی معنویت اس وقت بہت بڑھ جاتی ہے جبکہ طاغوت کا سرغنہ حملہ آور ہوجائے۔ ایسے میں جب اہل ایمان کو یہ بشارت دی جاتی ہے کہ :’’(یقین کرو کہ) تم جو کچھ کرتے ہو (اللہ) اسے دیکھ رہا ہے‘‘۔ تو عزم و حوصلہ میں بے شمار اضافہ ہوجاتا ہے اور ’مومن ہو تو بے تیغ بھی لڑتا ہے سپاہی‘ کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔
دشمنانِ اسلام کا دباو بہت زیادہ ہو تو تذبذب کا امکان بھی ہوتا ہے ۔ ایسے میں اہل ایمان کوخبردار کیا گیا کہ :’’ ظالموں کی طرف مائل نہ ہونا ورنہ (ان کی طرح) تمہیں بھی آتشِ دوزخ چھوئے گی اور اللہ کے سوا تمہارا کوئی سرپرست نہ ہوگا اور نہ ہی تمہاری کوئی مدد کی جائے گی‘‘۔ اس آیت میں کمزور اہل ایمان کے لیے تنبیہ تو ہے مگر ثابت قدم مجاہدین کے لیے یہ خوشخبری بھی ہے کہ باطل کے آگے سرنگوں نہ ہونا انہیں نہ صرف جہنم کی آگ سے محفوظ رکھے گی بلکہ اللہ تبارک و تعالیٰ کی مدد و نصرت کا حقدار بھی بنائے گی۔ آگے نبی کریم ؐ اور اہل ایمان کوحکم دیا گیا کہ :’’ دن کے دونوں کناروں اور رات کے کچھ حصوں میں نماز قائم کریں بے شک نیکیاں برائیوں کو دور کر دیتی ہیں یہ نصیحت ہے ان لوگوں کیلئے جو نصیحت حاصل کرتے ہیں‘‘۔پہلے والی جس آیت میں حد سے نہیں گزرنے کا جو حکم دیا گیا تھا تو یہاں بتایا گیا کہ نماز کے ذریعہ ضبط نفس میں استعانت کرو۔ آگے پھر تاکید کی گئی کہ :’’ اور آپ صبر کیجئے! بے شک اللہ نیکوکاروں کا اجر ضائع نہیں کرتا‘‘۔
سخت آزمائش کے دور میں صبر و استقامت کا دامن تھامے رہنا جتنا مشکل ہے اس کا انعام بھی اتنا ہی زیادہ ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ اس کی ضمانت دیتا ہے۔ رسول اکرم (ﷺ) نے فرمایا تھاکہ : ” مجھے سورة ہود نے بوڑھا کردیا۔ “۔ عام طورسے اسے سورہ میں بیان کردہ انبیاء ( علیہ السلام) کی قوموں پر عذاب کے واقعات سے جوڑا جاتا ہے مگر بعض اہل علم اس کو صراطِ مستقیم پر ثابت قدمی کی تاکید سے بھی جوڑ کر دیکھتے ہیں۔ قرطبی کے مطابق ’استقامت ‘ دائیں یا بائیں طرف جھکے بغیر سیدھے چلتے چلے جانا ہے۔ باطل کی افراط اور تفریط سے بچ کر درمیانی راہِ حق پر گامزن رہنا آسان نہیں ہے۔ ایک ایسے وقت میں جبکہ دنیا کی سب سے بڑی فوجی طاقت پنجے جھاڑ کر پیچھے پڑجائے تب تو اس پر قائم رہنا اور بھی مشکل ہوجاتا ہے لیکن جو اس راہ پر اللہ تبارک و تعالیٰ کے بھروسے جم جائے تو رب کائنات ٰ کی مدد و نصرت اس کے شامل ہوکر اسے کامیابی و کامرانی سے ہمکنار کردیتی ہے اور اس کا نظارہ فی الحال سر زمینِ ایران میں ہورہا ہے۔اللہ تبارک و تعالیٰ اس معرکۂ حق و باطل میں اسلام کو غالب فرمائے۔
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...