Skip to content
سوشل میڈیا کی چمک میں کھوئی ہوئی نئی نسل
خامہ بکف محمد عادل ارریاوی
_______
آج کے اس جدید دور میں اگر ہم اپنے اردگرد نظر ڈالیں تو ایک عجیب منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ جہاں بھی جائیں گلی ہو یا بازار گھر ہو یا اسکول ہر جگہ بچے اور بچیاں موبائل فون ہاتھ میں لیے نظر آتے ہیں۔ کوئی ویڈیو بنا رہا ہے، کوئی ریل (Reel) تیار کر رہا ہے، اور کوئی گھنٹوں بیٹھ کر دوسروں کی ریلز دیکھنے میں مصروف ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے یہ نئی نسل ایک الگ ہی دنیا میں کھو گئی ہے ایک ایسی دنیا جو حقیقت سے زیادہ اسکرین کے اندر بسی ہوئی ہے۔
ان ریلز میں ہر طرح کا مواد موجود ہوتا ہے کچھ چیزیں مفید بھی ہوتی ہیں، لیکن بہت سا ایسا مواد بھی ہوتا ہے جو اخلاقی طور پر درست نہیں ہوتا۔ بچے اور بچیاں، خاص طور پر کم عمر، ان چیزوں کو بغیر سمجھے دیکھتے رہتے ہیں۔ پھر آہستہ آہستہ وہی چیزیں ان کی سوچ کا حصہ بن جاتی ہیں۔ وہ جو کچھ دیکھتے ہیں، ویسا ہی بولنے، ویسا ہی لباس پہننے اور ویسا ہی عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یوں ان کی شخصیت اور کردار سوشل میڈیا کے اثر میں ڈھلنے لگتا ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ اس میں کہیں نہ کہیں والدین کی بھی کوتاہی شامل ہوتی ہے۔ آج کل اکثر والدین جب اپنے بچوں کو نیا موبائل خرید کر دیتے ہیں تو سب سے پہلے وہ انسٹاگرام، فیس بک یا اسنیپ چیٹ جیسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر اکاؤنٹس بناتے ہیں۔ وہ یہ سوچتے ہیں کہ بچے موبائل کے ذریعے تعلیم حاصل کریں گے، نئی چیزیں سیکھیں گے، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔ زیادہ تر بچے پڑھائی کے نام پر موبائل کا غلط استعمال کرتے ہیں اور اپنا قیمتی وقت ضائع کر دیتے ہیں۔
مزید یہ کہ سوشل میڈیا نے اجنبی لوگوں سے رابطہ بہت آسان بنا دیا ہے۔ یہی آسانی بعض اوقات خطرناک ثابت ہوتی ہے۔ بچیاں جذباتی طور پر جلد متاثر ہو جاتی ہیں، اور جب وہ کسی اجنبی سے بات چیت شروع کرتی ہیں تو آہستہ آہستہ اس میں دلچسپی لینے لگتی ہیں۔ بات چیت دوستی میں بدلتی ہے، اور بعض اوقات یہ دوستی ایک ایسے تعلق میں تبدیل ہو جاتی ہے جو ان کی زندگی کے لیے نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔
کچھ واقعات ایسے بھی سننے میں آئے ہیں جن میں ابتدا ایک سادہ سی آن لائن بات چیت سے ہوئی، لیکن انجام انتہائی افسوسناک نکلا۔ کہیں دھوکہ دیا گیا، کہیں استحصال ہوا، اور کہیں زندگی تک ضائع ہو گئی۔ یہ واقعات ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں اور ہماری نئی نسل کس سمت جا رہی ہے۔
تاہم یہ بات بھی سمجھنا ضروری ہے کہ ہر واقعہ ایک جیسا نہیں ہوتا اور ہر تعلق کو ایک ہی نظر سے دیکھنا درست نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ بغیر سوچے سمجھے، بغیر تحقیق کے، اور بغیر کسی رہنمائی کے تعلقات قائم کیے جا رہے ہیں، جو خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
اس سارے معاملے میں سب سے بڑی ذمہ داری والدین پر عائد ہوتی ہے۔ انہیں چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کو مکمل آزادی دینے کے بجائے ان کی رہنمائی کریں۔ بچوں کے موبائل استعمال پر نظر رکھیں، ان کے دوستوں کے بارے میں جانیں، اور ان کے ساتھ ایسا تعلق قائم کریں کہ وہ اپنے مسائل اور باتیں کھل کر شیئر کر سکیں۔ صرف ڈانٹ ڈپٹ سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، بلکہ محبت، سمجھداری اور تربیت سے بہتری آئے گی۔
ساتھ ہی بچوں اور بچیوں کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ سوشل میڈیا کی دنیا حقیقت نہیں ہوتی۔ وہاں جو کچھ دکھایا جاتا ہے، وہ اکثر ایک بناوٹی زندگی ہوتی ہے۔ ہر شخص اپنی بہترین تصویر دکھاتا ہے، لیکن اس کے پیچھے کی حقیقت مختلف ہو سکتی ہے۔ اس لیے اندھا اعتماد کرنا، خاص طور پر اجنبی لوگوں پر، انتہائی خطرناک ہو سکتا ہے۔
یہی کہا جا سکتا ہے کہ موبائل اور سوشل میڈیا خود برے نہیں ہیں، لیکن ان کا غلط استعمال یقیناً نقصان دہ ہے۔ اگر ہم انہیں صحیح طریقے سے استعمال کریں تو یہ علم، ترقی اور رابطے کا بہترین ذریعہ بن سکتے ہیں، لیکن اگر ہم ان کے غلط پہلوؤں میں کھو جائیں تو یہ ہماری نسلوں کو تباہ بھی کر سکتے ہیں۔
اللہ ہی بہتر ہدایت دینے والا ہے، لیکن ہمیں بھی اپنی ذمہ داری کو سمجھنا ہوگا اور اپنی آنے والی نسل کو محفوظ، بااخلاق اور باشعور بنانے کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے ہوں گے۔
اللہ ربّ العزت آپ ہم سب کو عقل سلیم عطافرماۓ دین کی صحیح سمجھ عطافرماۓ آمین ثم آمین یارب العالمین ۔
8235703061
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...