Skip to content
ایس، آئی، آر میں حصہ لینا
ایک قومی اور مذہبی فریضہ
شمع فروزاں
17.04.2026
ازقلم:مولانا خالد سیف اللہ رحمانی
فلسفۂ شریعت کے ماہرین نے لکھا ہے کہ احکام شریعت کے بنیادی مقاصد پانچ ہیں، تمام احکام ان ہی کے گرد گردش کرتے ہیں، اور وہ ہیں: دین کی حفاظت، جان کی حفاظت، عقل کی حفاظت، نسل کی حفاظت اور مال کی حفاظت، امام غزالیؒ نے ان مقاصد کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا ہے کہ جو باتیں ان مقاصد پنجگانہ کی محافظ ہوں، وہ مصلحت ہیں، اور جو باتیں ان پانچوں مقاصد کو نقصان پہنچاتی ہوں ، وہ مفسدہ ہیں، یعنی وجہ فساد ہیں:
مقصود الشرع من الخلق خمسۃ وھو أن یحفظ علیھم دینھم، ونفسھم وعقلھم ونسلھم، وما لھم، فکل ما یتضمن حفظ ھذہ الأصول الخمسۃ فھو مصلحۃ، وکل ما یفوت ھذہ الأصول فھو مفسدۃ ودفعھا مصلحۃ (المستصفیٰ من الاصول: ۱؍ ۱۷۴)
مخلوق سے شریعت کے مقاصد پانچ ہیں اور وہ یہ ہیں کہ وہ اپنے دین کی حفاظت کریں، اپنی جان کی حفاظت کریں، اپنی عقل و نسل کی حفاظت کا سروسامان کریں اور اپنے مال وجائیداد کا تحفظ کریں، جو عمل ان پانچوں باتوں کی حفاظت میں مؤثر ہوں وہ مصلحت ہے، اور جن باتوں سے ان مقاصد کو نقصان پہنچے، وہ فساد ہے اور فساد کو دور کرنا ہی مصلحت ہے ۔
ان امور پنجگانہ کی حفاظت کس ذریعہ سے ہوگی؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے متعین نہیں فرمایا؛ البتہ آپ نے یہ ضرور ارشاد فرمایا کہ جان ومال کی حفاظت اتنا اہم عمل ہے کہ جیسے دین کی حفاظت کے لئے جان دینے والا شہید ہے، اور جیسے کوئی شخص اپنی جان بچانے میں مارا جائے تو وہ بھی شہید ہے، اسی طرح کوئی شخص اپنے مال کی حفاظت میں جان دے دے تو اس کے لئے بھی شہادت کا اجر ہے: من قتل دون مالہ فھو شھید (صحیح بخاری، حدیث نمبر: ۲۴۸۰)
حفاظت کی تدبیر کیا ہوگی؟ اس کی وضاحت نہیں فرمائی گئی، قدیم زمانہ میں جنگ وحرب ہی سے اپنا تحفظ کیا جاتا تھا؛ مگر امن کے دورمیں اور خاص کر جمہوری نظام میں حفاظت کے کچھ اور طریقے ہوتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی ایسے طریقوں کا استعمال فرمایا ہے جیسے :زمانۂ جاہلیت میں ایک طریقہ پناہ حاصل کرنے کا تھا؛ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکی زندگی میں بنو ہاشم کی پناہ میں تھے، جب حضرت ابو طالب کا انتقال ہوگیا اور اسلام کا بدترین دشمن ابو لہب بنو ہاشم کا سردار بنا، تب آپ نے مکہ سے مدینہ کی طرف ہجرت فرمائی، اسی طرح حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ابن دَغِینہ کی پناہ حاصل کی، مکی زندگی میں زیادہ تر مظالم غلاموں پر اور اُن لوگوں پر ہوئے، جن کا خاندان مکہ میں نہیں تھا، یا اُن کو کسی کی پناہ حاصل نہیں تھی، طائف بھی آپ اسی لئے تشریف لے گئے تھے کہ وہاں کے سرداروں کو خصوصی وجاہت اور اہمیت حاصل تھی؛ لیکن وہاں کے لوگوں کے لئے یہ سعادت مقدر نہیں تھی کہ وہ میزبان ِرسول بن جائیں، مدینہ منورہ ہجرت فرمانے سے پہلے اوس وخزرج کے نمائندوں نے آپ سے ملاقات کی، ان سے عہد لیا گیا کہ وہ ہجرت کرنے والوں کو پناہ دیں گے، یہاں تک کہ انھوں نے یقین دلایا کہ ہم اپنے بال بچوں سے بڑھ کر آپ کی حفاظت کریں گے، تب آپ نے مدینہ ہجرت فرمائی، اس سے معلوم ہوا کہ جان ومال اور عزت وآبرو کی حفاظت ایک اہم دینی فریضہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت مبارکہ ہے؛ اس لئے ہر دور میں اس کی حفاظت اور اس کا اہتمام ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔
موجودہ دور میں اپنے حقوق کی حفاظت کا ایک طریقہ ووٹ ہے، ووٹ کے ذریعہ حکومتیں بنائی جاتی ہیں، حکومتیں گرائی جاتی ہیں، ظالم حکمرانوں کو تخت سے اتارا جاتا ہے، سماج کے مظلوم، غریب اور ستائے ہوئے لوگوں کو اقتدار کی منزل تک پہنچایا جاتا ہے ، یہ ظالم سے ظلم کا بدلہ لینے کا ذریعہ ہے، جن لوگوں کی طبیعت میں جورو جفا ہے اگر وہ اقتدار کی کرسی پر بیٹھ بنائیں تو وہ عوام کے لئے مصیبت کا سامان بن جاتے ہیں، ایسے لوگوں کے ظلم سے عوام کو بچانا بھی ووٹ ہی کے ذریعہ ہو سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہمارا ملک جمہوری نظام پر قائم ہے، ملک کے دستور میں یہ بات تسلیم کی گئی ہے کہ ملک کے تمام شہریوں کو اپنے مذہب ومسلک میں آزادی رہے گی، سبھوں کو مساوی حقوق ملیں گے، تعلیم اور ملازمت میں برابر کا حق رہے گا، اسی اصول پر ملک کی تشکیل عمل میں آئی اورمسلمانوں نے اپنے انتخاب سے مادر وطن کو اپنا مسکن بنایا، پھر ان لوگوں نے زندگی کے تمام شعبوں میں ملک کی بیش بہا خدمات انجام دیں، ملک کے دفاع اور تحفظ میں ان کا بڑا حصہ ہے؛ لیکن افسوس کہ آزادی کے پہلے ہی اس ملک میں نفرت کے سوداگر پیدا ہوگئے اور انھوں نے فرقہ وارانہ بیج بونے شروع کر دئے، یہ تھے: آر ایس ایس کے بانیان گول والکر اور ساورکر وغیرہ، انھوں نے کھل کر کہا کہ ہندوؤں کے علاوہ ملک میں بسنے والے دوسرے لوگوں کو دوسرے درجہ کی شہریت حاصل ہونی چاہئے، ان کے اختیارات کم ہوں، اور وہ دوسرے درجہ کے شہری کہلائیں ، پھر ان حضرات کے نزدیک ہندوؤں سے مراد وہ لوگ ہیں، جن کو اونچی ذات کا ہندو تصور کیا جاتا ہے، جو نیچی ذات کے لوگ ہیں: خاص کر شودر، ان کا شمار ہندو قوم میں نہیں ہوتا؛ اس لئے ان کو بھی دوسرے درجہ ہی کا شہری ہونا چاہے، دوسرے درجہ کا شہری ہونے میں ایک بنیادی بات یہ تھی کہ ان کو ووٹ دینے کا حق حاصل نہ ہو اور انہیں حکومت کے اعلیٰ عہدے نہیں دئیے جائیں؛ اسی لئے آج تک آر ایس ایس اور بے جے پی ’’مسلم مُکت بھارت‘‘ کے نعرے لگاتی ہے۔
آزادی کے وقت ایسے قائدین موجود تھے، جنھوں نے اس ملک کو آزاد کرائے کے لئے قربانیاں دی تھیں اور اپنے لہو کے نذرانے پیش کئے تھے؛ اس لئے اس وقت تو ایسے مفسد لوگوں کے رویے پر روک لگانے میں تھوڑی بہت کامیابی حاصل ہوئی؛ لیکن آہستہ آہستہ یہ فتنہ بڑھتا چلا گیا اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہوئی کہ فرقہ پرست تنظیموں نے اپنی نفرت انگیز فکر کا خوب پرچار کیا، بچوں، نوجوانوں، عورتوں، تاجروں، سرکاری ملازموں اور سرکاری افسروں میں اس سوچ کی نشرواشاعت کے لئے الگ الگ تنظیمیں بنائیں اور پوری قوت سے اس زہر کو پھیلایا؛ لیکن جولوگ سیکولرزم کا نعرہ لگا رہے تھے اور اپنے آپ کو سیکولر کردار کا حامل کہتے تھے، ان کا حال یہ ہے کہ صرف اُس وقت اپنے راحت کدوں سے باہر آتے ہیں، جب الیکشن کا زمانہ ہوتا ہے اور عوام کے ووٹ کی ضرورت پڑتی ہے، اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ نفرت انگیز فرقہ واریت کو قوت حاصل ہوتی گئی اور سیکولر عناصر کمزور سے کمزور تر ہوتے گئے ، یہاں تک کہ اب تو ملک کے دستور اور اس کے قومی ترانہ کو بھی بدلنے کی بات ہو رہی ہے!
اس وقت بڑے پیمانے پر کوشش ہو رہی ہے کہ اقلیت کے ووٹ کو ختم نہیں کیا جا سکتا تو اس کو بے اثر کر دیا جائے، اسی مقصد کے تحت این آر سی کا شوشہ چھوڑا گیا تھا؛ لیکن چوں کہ ملک بھر میں بڑے پیمانے پر اس کی مخالفت ہوئی؛ اس لئے حکومت نے بظاہر اس سے اپنا قدم پیچھے ہٹا لیا؛ مگر اس کے لئے بالواسطہ دوسرے ہتھکنڈے استعمال کئے جا رہے ہیں، ان ہی میں سے ایک ایس آئی آر ہے، جس کو یوں تو ’’مردم شماری ‘‘کا نام دیا جا رہا ہے؛ لیکن اس کا مقصد بالواسطہ بی جے پی مخالف ووٹوں خاص کر مسلمانوں کے ووٹس کو زیادہ سے زیادہ حذف کر دینا ہے، یہ مردم شماری یکم اپریل ۲۰۲۶ء سے شروع ہو چکی ہے اور ۳۰؍ ستمبر ۲۰۲۶ء تک جاری رہنے والی ہے، ۱۱؍ مئی ۲۰۲۶ء سے تلنگانہ میں اور یکم مئی سے مہاراشٹر میں یہ عمل شروع ہونے والا ہے، اسی طرح مختلف ریاستوں میں الگ الگ تاریخوں میں اس کام کا آغاز ہوگا۔
اکثریتی طبقہ کے لئے تو حکومت نے CAA کا ایک امتیازی قانون بنا دیا ہے، جو ایک طرح کی استثنائی صورت ہے کہ اگر کوئی ہندو اپنی شہریت ثابت نہ کرسکے تب بھی حکومت اس کو شہریت دے سکتی ہے؛ لیکن مسلمان ایسی صورت میں شہریت سے محروم کر دئے جائیں گے، آج کل ان کے لئے ایک قبیح نام’’ گُھس پیٹھیا ‘‘ استعمال کیا جا رہا ہے، جو خود نہایت توہین آمیز تعبیر ہے، ایسی صورتِ حال میں ایس آئی آر میں حصہ لینا نہ صرف ایک ہندوستانی ہونے کی حیثیت سے ہمارا قومی فریضہ ہے؛ بلکہ ایک مسلمان ہونے کی حیثیت سے ہمارا مذہبی فریضہ بھی ہے؛ کیوں کہ یہ ہماری جان ومال کے تحفظ کا بھی ذریعہ ہے اور جان ومال کا تحفظ ایک مسلمان کا شرعی فریضہ ہے، اسی سے اس ملک میں اپنے دینی تشخص کا تحفظ بھی متعلق ہے، اگر مسلمانوں نے بے توجہی سے کام لیا تو اس کی پہلی زد مسلم پرسنل لا پر پڑے گی، اور خطرہ ہے کہ مسلمانوں کو ان کے مذہبی تشخص سے محروم کر دیا جائے؛ اس لئے ہمیں پوری سنجیدگی سے اس پر توجہ دینی چاہئے، جو لوگ اپنے گھر سے باہر ہیں، اگر ایس آئی آر میں اندراج کے لئے گھر آنے کی ضرورت پڑے تو وہ بھی کرنا چاہئے اور دوسرے مشاغل پر اسے ترجیح دینی چاہئے، اسی طرح ہمارے اداروں، تنظیموں اور ماہرین کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اس سلسلہ میں مسلمانوں کی بھر پور مدد کریں، اس میں ان شاء اللہ ظالم کو ظلم سے روکنے، مظلوم کی مدد کرنے اور بے سہارا لوگوں کے کام آنے کا ثواب ملے گا۔
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...