Skip to content
پولیس حراست میں بے تحاشہ مظالم،جواب دہی طے کرنے کی ضرورت!
ازقلم: سرفرازاحمدقاسمی حیدرآباد
رابطہ: 8099695186
جاریہ ماہ کے پہلے ہفتے میں تامل ناڈو کے مدورائی کی ایک عدالت نے تاجر پی جے راج اور اس کے فرزند جے بینکس کی تحویل میں ہوئی موت کے کیس میں 9 پولیس ملازمین کو سزائے موت سنائی ہے۔جے راج اور اس کے فرزند جے بینکس کی موت تھوکوڈی ضلع میں چھ سال قبل ہوئی تھی جس کے بعد ملک بھر میں برہمی کی لہر پیدا ہو گئی تھی،جن 9 پولیس اہلکاروں کو سزائے موت سنائی گئی ہے ان میں انسپکٹر سریدھر،سب انسپکٹر ان بالا کرشن اور رگھوگنیش کے علاوہ دیگر پولیس اہلکار مروگن،سما دورائی،متھوراجہ،چھیلا دورائی،تھامس فرانسس اور ویلو موتھومو کی حیثیت سے شناخت کی گئی ہے۔عدالت نے واضح کیا کہ یہ اختیارات کے بے جا استعمال کا معاملہ ہے،تمل ناڈو میں ایسےکئی دیانت دار پولیس ملازمین موجود ہیں اور عدالت کی اس رولنگ سے پولیس ملازمین میں کسی طرح کے خوف کی لہر پیدا نہیں ہوگی۔عدالت نے کہا کہ اس کیس میں باپ اور بیٹے کو برہنہ کیا گیا تھا اور ان کی بے تحاشہ پٹائی کی گئی تھی،اس کے واضح اشارے دستیاب ہیں،سی بی آئی نے اس کیس کی تحقیقات کی تھی اور اس کیس کو انتہائی شاز و نادر پیش آنے والا واقعہ قراردیتے ہوئے ملزمین کو سزائے موت یا کسی ممکنہ پیرول کے بغیر سزائے عمر قید سنانے کی استدعا کی تھی،استغاثہ کی دلیل یہ تھی کہ اس جرم کی نوعیت انتہائی سنگین ہے اور اس کیس میں تین راست عینی شاہدین کے بیانات بھی لیے گئے ہیں،جس سے سماج کا ضمیر بے چین ہو اٹھا تھا،انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کو واضح کرتے ہوئے سی بی آئی کا کہنا تھا کہ متاثرین کو ہتھیاروں کے ساتھ بے رحمانہ مارپیٹ کی گئی تھی اور انتہائی شدت کی سزا دی گئی تھی،باپ اور بیٹے کی تحویل میں موت کا واقعہ 19 جون 2020 کو پیش آیا تھا،تفصیلات کے مطابق جےراج اور بینکس ایک موبائل شاپ چلاتے تھے،ان دونوں کو اس الزام میں گرفتار کیا گیا تھا کہ انہوں نے لاک ڈاؤن کے دوران مقررہ وقت سے زیادہ وقت تک دکان کھلی رکھی تھی،تاہم یہ الزام بعد میں جھوٹا ثابت ہوا تھا،ان دونوں کو ستنا کالم پولیس اسٹیشن منتقل کرکے بعد میں عدالتی تحویل میں دے دیا گیا تھا،اس کے چند دن کے بعد ہی دونوں کی موت واقع ہو گئی تھی،رشتہ داروں نے الزام عائد کیا تھا کہ ان دونوں کو پولیس اسٹیشن میں رات بھر شدید مارپیٹ کا نشانہ بنایا گیا تھا اور وہ شدید زخمی ہو گئے تھے،انہیں شدید جسمانی اذیتوں کے نشان بھی دستیاب ہوئے تھے،سی بی آئی نے اس کیس کی تحقیقات مدراس ہائی کورٹ کی ہدایت پر شروع کی تھی اور 10 پولیس اہلکاروں کو گرفتار کرکے ان تمام کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔تحقیقات کے دوران ایک خاتون کانسٹیبل نے بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ ان دونوں باپ،بیٹے کو رات بھر مار پیٹ کا نشانہ بنایا گیا تھا،جس کی وجہ سے ٹیبلوں اور لاٹھیوں پر خون کے نشان تھے،تحقیقات میں شواہد جمع کرنے میں سی بی آئی کو کافی مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑا تھا،اس کیس کی تحقیقات میں جملہ 100 عینی شاہدین کے بیانات لیے گئے تھے اور پانچ سال تک سماعت کے بعد گزشتہ دنوں ان پولیس اہل کاروں کو سزائے موت سنائی گئی تھی۔
2021 میں کوچی میں قانون کے ایک طالب علم کی خودکشی کے بعد جہیز کے لیے ہراساں کرنے اور ایک پولیس افسر کے لا تعلق رویے کے بعد کیرالہ ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ اگر غلطی کرنے والے اہلکار کے خلاف فوری کاروائی ہوتی ہے تو پوری فورس لائن میں آجائے گی،جسٹس دیوان رام چندرن نے کولم میں ایک نوجوان کی طرف سے دائر کی گئی ایک درخواست کی سماعت کرتے ہوئے کیا تھا،جس میں پولیس نے شکایت کی وصولی کے لیے اسٹیشن پر ہراساں کرنے اور ہتھکڑیاں لگانے کا الزام لگایا تھا،عدالت نے پولیس کو ہراساں کرنے سے متعلق شکایات کی بڑھتی ہوئی تعداد پر سخت تشویش کا اظہار کیا تھا،کورٹ نے کہا تھا کہ جب تک پولیس عہدے دار یہ محسوس نہ کریں کہ وہ اپنے اعمال کے لیے جواب دہ ہیں،اس وقت تک ریاست میں کچھ نہیں بدلے گا،وہ سب جانتے ہیں کہ ان کے خلاف کوئی بھی کاروائی شروع ہونے میں برسوں لگیں گے،اس لیے پولیس والے اس طرح کا برتاؤ کرتے ہیں،عدالت نے ریاست کو یہ واضح کرنے کی ہدایت دی تھی کہ نوجوان کو ہتکڑیاں لگانے اور تھانے کے گیٹ پر رکھنے والے افسر کے خلاف فوجداری کاروائی کیوں نہیں شروع کی گئی؟ کورٹ نے یہ بھی کہا کہ پولیس اسٹیشن ایک عوامی دفتر ہے،دہشت گردی کا میدان نہیں،وہ عوام کے محافظ ہیں،انکو ستانے والے دشمن نہیں،کسی بھی مرد،عورت یا بچے کو کسی بھی وقت پولیس اسٹیشن جانے کے لیے آزاد اور پر اعتماد ہونا چاہیے،عوام اسکے لئے کسی طرح کے خوف میں ہرگز مبتلا نہ ہوں،اسکو یقینی بنایا جانا چاہئے،عدالت نے اس بات پر بھی تعجب کیا کہ پولیس کو کیسے اور کیوں یقین ہے کہ وہ جو چاہیں کرسکتے ہیں اور اس سے بچ سکتے ہیں،انکے خلاف کوئی کاروائی نہیں ہوگی،اگر ریاست کسی پولیس افسر کے خلاف فوری اور سخت کاروائی کرتی ہے تو صرف یہی کافی ہے،اسکے نتیجے میں پوری فورس اپنا رویہ بدل لے گی،جب تک ایسا نہیں کیا جائے گا،تب تک یہ سلسلہ جاری رہے گا،لوگوں کو زنجیروں میں جکڑدیا جائے گا،ماردیا جائے گا،یہاں تک کہ خودکشی پر مجبور کیا جائے گا،لیکن اس پر کوئی کاروائی نہیں ہوگی،کیرالہ ہائی کورٹ نے حکومت سے کہا کہ وہ اہلکار کے خلاف کی گئی کاروائی کی تفصیلات پیش کریں،یہ معاملہ ایک دلت نوجوان کے وی راجیو سے متعلق تھا،جس نے شکایت درج کی تھی کہ اسے دو ماہ قبل کولم کے تھینیمالہ پولیس اسٹیشن میں مبینہ طور پر ہتھکڑیاں لگائی گئی تھی اور اس نے شکایت کی رسید مانگنے کے بعد پولیس میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے ایک اور مقدمہ کردیاتھا،اس معاملے کے بعد وہاں احتجاج شروع ہوگیا تھا اور دو افسران کو معطل کردیا گیا تھا،ایرنا کولم ضلع میں الوا کے اسٹیشن ہاؤس آفیسر کو قانون کی ایک طالبہ کی خودکشی کے سلسلے میں معطل کردیا گیا تھا،جب اس کے والدین اور اپوزیشن جماعتوں نے الزام لگایا تھا کہ اس کی نااہلی سے ہینڈلنگ نامی دوشیزہ 22 سالہ کی موت کا باعث بنی،طالبہ نے اپنے پیچھے ایک خودکشی نوٹ چھوڑا تھا جس میں اس نے اپنے شوہر،سسرال اور پولیس افسر سی ایل سدھیر کو اپنی موت کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا،اس کے شوہر اور سسرال والوں کو گرفتار کرلیا گیا لیکن پولیس افسر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی،جس کی وجہ سے ریاست میں بڑا احتجاج ہوا تھا۔
جنوری 2025 کے اخیر میں چندی گڑھ کی ایک خصوصی سی بی آئی عدالت نے ہماچل پردیش کے انسپکٹر جنرل پولیس ظہورحیدر زیدی اور دیگر سات پولیس ملازمین کو 2017 میں پولیس تحویل میں موت کے ایک کیس میں عمر قید کی سزا سنائی تھی، خصوصی سی بی آئی جج الکا ملک کی عدالت نے 18 جنوری کو زیدی اور دیگر کو ایک کیس میں مجرم قرار دیا تھا،یہ کیس ضلع شملہ کے کوٹ کھائی میں ایک نابالغ لڑکی کی اجتماعی عصمت ریزی اور قتل کے ملزم کی پولیس تحویل میں موت سے تعلق رکھتا ہے،اس کیس کے دیگر مجرموں میں اس وقت کے ڈپٹی سپرنڈنٹ آف پولیس منوج جوشی، اس وقت کے سب انسپکٹر راجیندر سنگھ اس وقت کے اسسٹنٹ ایس آئی دیپ چند شرما،اس وقت کے کانسٹیبل موہن لال،صورت سنگھ،رفیع محمد اور رنجیت ستیتا شامل ہیں،عدالت نے اس کیس میں اس وقت کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ڈی ڈبلیو نیگی کو بری کردیا تھا،سی بی آئی کے وکیل استغاثہ امیت جندل نے کہا تھا کہ عدالت نے اس کیس میں 8 مجرموں کو عمر قید کی سزا سنائی ہے،عدالت نے ہر مجرم پر ایک لاکھ روپے فی کس جرمانہ بھی عائد کیا تھا،زیدی اور دیگر سات افراد کو سورج نامی شخص کی پولیس حراست میں موت کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا،سورج 18 جولائی 2017 کو کوٹھ کائی پولیس اسٹیشن میں مردہ پایا گیا تھا۔ملزم پولیس عہدے داروں نے سورج کے قتل کے الزام میں ایک اور گرفتار شخص راجندر کے خلاف ایف آئی آر درج کی تھی۔
ستمبر 2025 میں سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ پولیس افسران کو دیوانی اور فوجداری مقدمات میں فرق کرنے کے لیے اپنی صوابدید کا استعمال کرنا چاہیے،عدالت عظمی نے کہا تھا کہ فوجداری قانون کا غلط استعمال نظام انصاف کے لیے سنگین خطرہ ہے،یہ کیس جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس این کوٹیشور سنگھ کی بینچ کے سامنے سماعت کے لیے آیا تھا،بینچ نے حالیہ رجحان کی مذمت کی،جہاں کیس کے فریقین اکثر دیوانی تنازعات کو فوجداری مقدمات میں بدل دیتے ہیں،عدالت عظمی نے اس سے قبل فریقین کی جانب سے دیوانی تنازعات میں فوجداری مقدمات دائر کرنے کے اس رجحان کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا تاکہ ان کی شکایات کے حل کوتیز کیا جاسکے،بینچ نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے کہا تھا کہ عدالتیں ریکوری ایجنٹ کے طور پر کام نہیں کرسکتی،اس نے یہ بھی نشاندہی کی کہ حال ہی میں فریقین خالصتا دیوانی تنازعات میں رقم کی وصولی کے لیے فوجداری مقدمات درج کر رہے ہیں بینچ نے کہا کہ بقایہ رقم کی وصولی کے لیے گرفتاری کی دھمکی کا استعمال نہیں کیا جاسکتا،اتر پردیش حکومت کی نمائندگی کرنے والے ایڈیشنل سالسٹر جنرل کے نٹراج نے بینچ کے سامنے دلیل دی کہ پولیس ایسے معاملات سے نبرد آزما ہوتی ہے اور بیچ میں پھنس جاتی ہے،اے ایس جی نے استدلال کیا کہ اگر پولیس کسی ایسے کیس کا اندراج کرنے میں ناکام ہوجاتی ہے جہاں قابل سزا جرم کا الزام لگایا گیا ہو تو انہیں عدالت کی طرف سے تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور مقدمے کے اندراج میں تعصب کے الزامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے،بینچ نے یہ مشاہدات اتر پردیش کے ایک مجرمانہ معاملے میں کہے،بینچ نے نوٹ کیا کہ رقم کی وصولی کے تنازع میں ایک شخص پر اغوا کا الزام تھا،لاآفیسر نے دلیل دی کہ ان شکایات میں عام طور پر رقم کی وصولی کے تنازع میں مجرمانہ جرم کا الزام شامل ہوتا ہے،بینچ نے کہا کہ پولیس کسی شخص کو گرفتار کرنے سے پہلے اس بات کا تعین کرے کہ مقدمہ دیوانی ہے یا فوجداری،بینچ نے زور دے کر کہا کہ فوجداری قانون کے اس طرح کے غلط استعمال سے نظام انصاف کو شدید خطرہ لاحق ہے،اس لیے پولیس فوجداری قانون کے غلط استعمال،دیوانی اور فوجداری تنازعات میں فرق کرنا سیکھے۔
اوپر کے ان واقعات سے اتنا تو صاف ہے کہ لااینڈ آرڈر کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری پولیس اور انتظامیہ کی ہے مگر یہی پولیس اور انتظامیہ اب رضاکارانہ طور پر تعصب اور جانبداری کا مظاہرہ کرنے لگی ہے،آر ایس ایس راشٹریہ سویم سیوک سنگھ اور اس کی ذیلی تنظیموں،اس کے ہمدردوں،حامیوں اور ساتھیوں کا کردار پورے جوش و خروش کے ساتھ ادا کررہے ہیں،جسکے شواہد ملک بھر کے کئی واقعات ہیں،پولیس اور انتظامیہ مسلمانوں اور عیسائیوں کو سر درد اور دوسرے درجے کا شہری مانتی ہے،جو یقینا اچھی خببر نہیں ہے اور یہ راستہ تباہی کی طرف جارہا ہے،انتظامیہ اور پولیس اب آر ایس ایس کے نظریات نافذ کرنے کے لیے اپنی طاقت کا استعمال کررہے ہیں،اس میں کوئی شک نہیں رہ گیا ہے کہ وہ امن و امان بنائے رکھنے کے بہانے اپنے اختیارات کا بے جا اور غلط استعمال کررہے ہیں،پولیس حراست میں بے تحاشہ مظالم کے بڑھتے واقعات انتہائی تشویشناک ہیں جسکے لئے محکمہ پولیس کو جواب دہ بنانا ضروری ہے اور جواب دہی کےلئے قانون سازی کی ضرورت ہے۔
دی کامن کاز اور لوک نیتی-سی ایس ڈی ایس کی ایک رپورٹ نے انکشاف کیا ہے کہ کس طرح ہندوستان میں مسلمانوں کو غیرمنصفانہ طور پر تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور حراست میں قتل کردیا جاتا ہے،لیکن پولیس کو جوابدہ نہیں ٹھہرایا جاتا۔دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلائے جانے والے ہندوستان میں مسلم اقلیت کو پولیس کے مظالم کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ایک تازہ،پریشان کن رپورٹ نے مسلمانوں کو درپیش پولیس کی وحشیانہ بربریت کو اجاگر کیا ہے جس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں میں مسلمانوں کے تئیں گہرے تعصبات کا انکشاف ہوتا ہے جو غیرمنصفانہ تشدد،حراستی اموات اور وسیع پیمانے پر امتیازی سلوک کا باعث بنتے ہیں۔دی کامن کاز اور لوک نیتی-سی ایس ڈی ایس کی "ہندوستان میں پولیسنگ کی صورتحال رپورٹ 2025 (ایس پی آئی آر) ایک پریشان کن حقیقت کو سامنے لاتی ہے کہ ملک میں پولیس کا تشدد ایک منظم شکل اختیار کر چکا ہے جس کا سب سے بڑا نشانہ مسلمان اور دیگر پسماندہ برادریاں ہیں،اس پر روک لگانا اور اسکا سدباب کرنا ضروری ہے۔
(مضمون نگار معروف صحافی،ادیب اور قومی و عالمی سیاسی امور پر گہری نگاہ رکھتے ہیں)
sarfarazahmedqasmi@gmail.com
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...