Skip to content
ایران و امریکہ: مذاکرات کے دوسرے دور کی آہٹ
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ایران اور امریکہ کے درمیان گفت و شنید کادوسرا دور20 تا22 ؍ اپریل کو متوقع ہے۔ ایسی توقع ہے کہ ان مذاکرات کی کامیابی پر صدر ٹرمپ خود دستخط کرنے کے لیے اسلام آباد آئیں اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان بھی تشریف لائیں ۔47؍سال کے بعد اگر ایرانی و امریکی سربراہان کے درمیان امن کا معاہدہ ہوجائے تو یہ دنیا کی تاریخ کا اہم موڑ ہوگا۔پچھلے ہفتے امریکی نائب صدر کی بغیر کسی معاہدے کے واپسی نے اسلام آباد میں ہونے والی گفتگو کو ناکام قرار دے دیا حالانکہ ایران اور امریکہ کا میدانِ جنگ سے نکل کر بات چیت کے لیے آمادہ ہوجانا بجائے خود ایک بہت بڑی کامیابی تھی۔ ان مذاکرات کو جو لوگ جادو کی ایسی چھڑی سمجھتے تھے کہ جس کے گھماتے ہی چہار جانب امن و امان کا بول بالا ہوجائے گا انہیں تو یقیناً مایوسی ہوئی لیکن حقیقت پسند لوگوں کا معاملہ مختلف ہے۔ ان کے نزدیک یہ گفت و شنید کی نشست آخری نہیں بلکہ پہلا مرحلہ تھا اور بات چیت کو جاری رکھنے کے لیے دونوں فریقین پرامید ہیں ۔ قیامِ امن کی بابت حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نیو یارک ٹائمز میں ڈیوڈ سینگر نے بجا طور پر لکھا کہ : ’یہ سوچنا شروع سے ہی مشکل تھا کہ نائب صدر وینس ایک ہی مذاکراتی نشست میں کسی معاہدے تک پہنچ جائیں گےکیونکہ 2015 میں ایران کے ساتھ معاہدہ طے پانے میں تقریباً دو سال کا عرصہ لگا تھا۔ ویسے جنگ و جدال کی دھمکی دینے والے امریکہ کو امن و سلامتی کی ضرورت کا احساس اپنے آپ میں کسی بڑی کامیابی سے کم نہیں ۔ اس بابت عندلیب شادانی کا شعر معمولی ترمیم کے ساتھ صادق آتا ہے؎
دیر لگی آنے میں ان کو شکر ہے پھر بھی آئے تو
آس نے دل کا ساتھ نہ چھوڑا امریکی گھبرائے تو
اس دوران ایران تو بالکل نہیں گھبرایا مگر اس کی خیر خواہوں میں تھوڑی بہت گھبراہٹ ضرور تھی کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ اب بھی خود کو واحد عالمی سُپر پاور کا کپتان سمجھتاہے ۔ اسے گمان ہےکہ اگروہ کسی پر حملہ کرے تومخالف فوراً پسپا ہوجائے اوراس کی شرائطِ امن پلک جھپکتے قبول کرلی جائیں لیکن ایران ان خوش فہمیوں کو دور کرنے کی سعی کررہا ہےجوامریکہ کے آگے جنگ کے میدان میں نہیں جھکا وہ امن کی میز پر واضح برتری حاصل کرلینے کے بعد کیونکر جھکےگا؟ ایران میں اقتدار کی تبدیلی کا خواب پوری طرح چکنا چور ہوچکا ہے۔ چالیس دن کی جنگ کےدوران اس نے نہ صرف مشرق وسطیٰ کے اندر امریکہ کے سارے فوجی اڈے تباہ وبرباد کردئیے بلکہ اسرائیل کی بھی اینٹ سے اینٹ بجادی ۔ آبنائے ہر مز کی جانب کسی نے کبھی توجہ ہی نہیں دی تھی اب عالمی معیشت کی شہ رگ بن کر ایران کے قبضۂ قدرت میں چلی گئی ہے۔ اس طرح فی الحال چاروں ترپ کے پتے تو ایران کے پاس ہیں ۔ اس کو جھکانے کا خواب دیکھنے والے احمقوں کی جنت میں جی رہے ہیں ۔ ان لوگوں کی شکست اور کمزوری کا احساس انہیں دھونس اور دھمکی سے امن مذاکرات تک تو لاچکا اب جستہ جستہ ایرانی شرائط کو قبول کرنے پر بھی مجبور کردےگا لیکن یہ سب ایک دم سے نہیں ہوگا کیونکہ بقول جلیل مانکپوری ؎
آتے آتے آئے گا ان کو خیال
جاتے جاتے بے خیالی جائے گی
اسلام آباد سے واپسی کے وقت نائب صدر امریکہ جے ڈی وینس نے ایک مختصر پریس کانفرنس کرکے نہایت محتاط انداز میں اپنی بات رکھی ۔ انہوں نے برملا اعتراف کیا کہ ایران سے کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہو سکا۔ وطن عزیز میں پاکستان کے بدخواہ اس بیان کو سن کر جھوم اٹھے کیونکہ ہم سایہ ملک کے تئیں پائی جانے والے بغض و عناد کا یہی تقاضہ تھا تاہم غیر جانبدار عالمی تجزیہ کاروں نے اسلام آباد میں ہونے والی بات چیت کو ناصرف تاریخی قرار دے کر سراہا بلکہ اس کے جاری رہنے کا قوی امکان بھی ظاہر کیا ۔ امریکی نائب صدر نے پریس کانفرنس میں کہا کہ ایرانی وفد سے بات چیت ہوئی، ’یہ اچھی خبر ہے‘۔ اپنے حریفِ اول سے گفت و شنید کو اچھا کہنے میں ایک خیر کا پہلو ہے۔ اس کے بعد وہ بولے ’ بری خبر یہ ہے کہ ہم کسی معاہدے پر نہیں پہنچ سکے‘۔ بیان کے اس حصے میں افسوس کا اظہار موجود ہے اسی لیے وہ اسے بری خبر کہہ رہے ہیں۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جس طرح ان متحارب ممالک کےمذاکرات کی میز پر آنے میں دونوں کے لیے خیر وبرکت تھا اسی طرح معاہدے پرنہیں پہنچنا بھی دونوں کے لیے خسارے کا سودہ تھا ۔ اب یہ اندازہ کرنا باقی ہے کہ کس فریق کا زیادہ نقصان ہوا ؟
جی ڈی وینس نے اس سوال کا جواب یہ دیا کہ ان کے خیال میں ’’ امریکہ کے مقابلے ایران کے لیے یہ زیادہ بری خبر ہے۔‘ اس سے اختلاف ہوسکتا ہے۔ ایران والے یہ خیال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ ان کی بہ نسبت امریکہ نے اپنا بڑا گھاٹا کرلیا۔ اس مرحلے میں یہ سوال پیدا ہوتا کہ آخر پہلے ہی مرحلے میں یہ مذاکرات نتیجہ خیز کیوں نہیں ہوے؟ وینس نے اس کا بلواسطہ جواب یہ دیا کہ ’ہم ایسی جگہ نہیں پہنچ پائے جہاں ایران ہماری شرائط تسلیم کرتا۔‘ اس جملے کا آخری حصہ ان کی نیت اور ارادے کی نقاب کشائی کرتا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ ایران سے اپنی شرائط منوانے کی خاطر آئے تھے اور اس مقصد میں انہیں ناکامی ہوئی۔ جی ڈی وینس نے نہایت صاف گوئی سے کام لیتے وہ غرض و غایت بھی بیان کردی جو انہیں واشنگٹن سے اسلام آباد لے کر آئی۔ ایرانی جوہری پروگرام کے بارے میں جب سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ’ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا فوری اور دیرپا مرکزی مقصد ہے۔‘ سوال یہ ہے کہ امسال فروری کی ابتداء سے اسی موضوع پر دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کے دو دور ہوچکے تھے ۔ درمیان میں تیسرے مرحلے سے قبل امریکہ نے اسرائیل کی مدد سے ایران پر حملہ کردیا ۔ اس مسئلہ کو بات چیت سے ہی حل کرنا تھا تو بیچ میں جنگ کیوں چھیڑی گئی؟ اور اس لڑائی میں ایران کے ہاتھوں پسپائی کے بعد اپنی شرائط منوانے کا خواب دیکھنا کون سی دانشمندی ہے ؟ جوہری معاملات میں جنگ سے پہلے امریکہ کا اصرار اس کی نادانی تھی اور شکست کے بعد اسے دوہرانا مجبوری ہے بقول شاعر(مع ترمیم)؎
نادانی اور مجبوری میں یارو کچھ تو فرق کرو
اک بے بس ڈونلڈ کرے کیا جنگ میں منہ کی کھائے تو
ہندوستان اور دنیا بھر میں امریکہ بہادر کی درگت پر آنسو بہانے والوں کے لیے مذکورہ بالا شعر میں دل بستگی کا سامان ہے۔ فریق ِ مخالف کی مجبوری کا فائدہ اٹھانا ہی کامیاب سفارتکاری کی فن ہے اور ایران بڑی چالاکی سے یہ فنکاری کررہا ہے۔ اسلام آباد مذاکرات کی ناکامی پر نائب صدر جے ڈی وینس کے ایک دلچسپ انکشاف سے بھی روشنی پڑتی ہے۔ انہوں نے نہ جانے کیوں یہ راز افشا کردیا کہ اسلام آباد میں مذاکرات کے دوران ان کی تقریباً ایک درجن سے زیادہ مواقع پر ٹرمپ سے بات ہوئی۔ اس کا مطلب ہے کہ ان کو فیصلہ کرنے کا کوئی اختیار نہیں تھا۔ وہ ایک خود مختار سفارتکار کے طور پر نہیں بلکہ ٹرمپ کے روبوٹ کی مانند کام کررہے تھے اور مسلسل تذبذب کا شکار رہے۔ ایران کے وفد کی مانند خود اعتمادی ان میں نہیں تھی کہ جس نے ایک مرتبہ بھی تہران سے رابطہ نہیں کیا ۔ ایرانیوں کو پتہ تھا کہ انہیں کیا تجاویزپیشکش کرنی ہیں۔ وہ جانتے تھے امریکہ ردعمل کیا ہوگا؟ اس لیے وہ اپنے جواب کے ساتھ مستعد تھے۔ انہیں ایک بار بھی تہران میں فون کرکے ہدایت لینے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔
جے ڈی وینس نے جاتے جاتے دونوں وفود کے درمیان دوسرا فرق بھی واضح کردیا ۔ موصوف کا پس منظر تاجرانہ تو نہیں ہے مگر ٹرمپ کی صحبت نے انہیں بھی ایک کامیاب تاجر بنادیا ہے۔ ان کے اس جملے کو پڑھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے گویا کوئی مایوس دوکاندار اپنے گاہک سے اختتامی گفتگو فرما رہا ہے ۔ وینس بولے ’ہم ایک بہت سادہ تجویز چھوڑ کر جا رہے ہیں جو ہماری حتمی اور بہترین آفر ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آیا ایران اسے مانتا ہےیا نہیں ۔‘ سفارتکاری میں ایجاب و قبول دونوں فریقوں کی جانب سے ہوتا ہے یعنی وہ ایک دوسرے سے اپنے من کی بات کہتے ہیں اور فریق ثانی کو بھی سنتے ہیں۔ یعنی دونوں لوگ ایک دوسرے کی کچھ تجاویز قبول کرتے ہیں اور چند باتیں چھوڑ بھی دیتے ہیں لیکن یہاں ایسا محسوس ہوتا ہے گویا مال پڑا ہے اور ’جیسے تھے ‘ کی بنیاد پر بیچا جا رہا ہے۔ لب و لہجہ اس طرح ہے کہ گویا کہا جارہا ہے خریدنا ہو تو خریدو ورنہ راستہ ناپو۔ ویسے رجائیت پسند مبصرین تو اس جملے سے بھی یہ تاثر اخذ کرتے ہیں کہ امریکہ کی جانب سے ایران کو پیشکش کی گئی ہے اور اب اس پر جواب کا انتظار کیا جائے گا مگر انداز تحکمانہ ہے۔ ایران نے توقع کے مطابق اس کو مسترد کردیا مگر امریکہ کا پھر سے دوسرے دور کی مذاکرات کے لیے راضی ہوجانا ظاہر کرتا ہے کہ اس کے پاس جھک کر مفاہمت کرنے کے سوا کوئی چارۂ کار نہیں ہے۔
(۰۰۰۰۰جاری)
Post Views: 58
Like this:
Like Loading...