Skip to content
نوری فاؤنڈیشن علماء فیڈریشن کرناٹک کے زیرِ اہتمام مسجدِ خضر بنگلور میں 130 سے زائد عازمینِ حج نے مناسکِ حج کی عملی تربیت حاصل کی+
بنگلور 18اپریل(پریس ریلیز): الحمد للہ نوری فاؤنڈیشن علماء فیڈریشن کرناٹک (NFUF)کے اشتراک سے بروز ہفتہ، 18 اپریل 2026 کو شانتی نگر کی تاریخی مسجدِ خضر میں ایک روزہ ‘حج تربیتی کیمپ’ کا کامیاب انعقاد عمل میں آیا۔ صبح 10 بجے سے سہ پہر 3 بجے تک جاری رہنے والے اس پروگرام میں شہر کے مقتدر علماء کرام، دانشورانِ قوم اور 130 سے زائد عازمینِ حج کے ساتھ کثیر تعداد میں عوام الناس نے شرکت کی۔محفل کا باقاعدہ آغاز مولانا حافظ وقاری عاقب نوری آمری صاحب کی تلاوتِ کلام اللہ اور بارگاہِ رسالت ﷺ میں ہدیہ نعت سے ہوا۔ اس کے بعد مولانا سید ربانی ثقافی عبقری شاہ آمری صاحب نے اپنے ابتدائی خطاب میں حج کے ضروری مسائل اور اس کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔حج کی عملی تربیت اور ضروری مسائل کے لیے معلم الحجاج، حضرت علامہ مولانا مفتی اصغر علی رضوی صاحب نے حج کے ابتدائی مراحل سے لے کر انتہا تک کے تمام مسائل کو ‘عملی طور پر’ (Practical Training) سمجھایا۔ انہوں نے عازمین کو مناسکِ حج کی ادائیگی کا درست طریقہ بتایا اور حرمِ پاک کی فضیلت بیان کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کی ایک نیکی ایک لاکھ نیکیوں کے برابر ہے۔پروگرام کے دوران معلم الحجاج نے
فلسفہِ تقویٰ اور عشقِ رسول ﷺ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تقویٰ دراصل ‘خوفِ خدا’ اور ‘عشقِ رسول ﷺ’ کے مجموعے کا نام ہے۔ عشقِ رسول ﷺ کے حصول کے لیے کثرت سے درود و سلام اور گناہوں پر شرمندگی کے ساتھ سچی توبہ لازمی ہے۔ مزید برآں،نماز روزہ ہرنیک کام سے تقویٰ
حاصل کیا جاسکتا ہے ۔ ساتھ ہی ساتھ حج کو جانے سے پہلے قضا نمازوں اور روزوں کی ادائیگی کو بھی تقویٰ کے حصول کا اہم ذریعہ قرار دیا گیا۔حج کی عملی تربیت کے ساتھ سوال و جوابات کا سلسلہ بھی رہا معلم الحجاج نے حاضرین محفل کی جانب سے کئے جانے والے تمام سوالات کے جوابات بھی اطمنان بخش دئے ۔حضرت علامہ مولانا حافظ و قاری حسین اشرفی مصباحی صاحب نے نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے کہا کہ معلم الحجاج 40 سال سے زائد عرصہ سے حاجیوں کی صحیح رہنمائی فرمارہے ہیں آج ہماری خوش نصیبی ہے کہ ہم ایسے باصلاحیت جہاں دیدہ تجربہ کار معلم الحجاج سے حج کی تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔اور اس پروگرام کے اختتام پر عازمینِ حج کو تحائف پیش کیے گئے اور تمام شرکاء کے لیے ظہرانے کا بھی اہتمام رہا۔ الحاج سید سجاد احمد آمری فاؤنڈر نوری فاؤنڈیشن نے اپنے اختتامی کلمات میں کہاں کے اس حج تربیتی قیام میں شریک عازمین حج اور دیگر شرکاء کو دیکھ کر مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حج کو جانے سے پہلے ایسی کئی محافل ہونی چاہیے جس میں حج کے ضروری مسائل پرعملی طور پر بتائے جائیں انہوں نے تمام علمائے کرام، عازمینِ حج اور عمائدینِ شہر محفل میں موجود تمام مرد و خواتین کا شکریہ ادا کیا اور نوری فاؤنڈیشن کے اس عزم کو دہرایا کہ ملت کی رہنمائی کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔ محفل کا اختتام صلاۃ و سلام اور مہمان خصوصی معلم الحجاج علامہ مولانا مفتی اصغر علی رضوی صاحب کی دعائیہ کلمات پر ہوا،اس تربیتی کیمپ میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کی بھی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی، جن کے لیے علیحدہ اور بہترین پردے کا نظم کیا گیا تھا۔اس محفل میں بڑی تعداد میں شہر بنگلور کے علمائے اہل سنت حاضر رہے۔معلم الحجاج مفتی اصغر علی رضوی، مولانا مفتی مراد علی رضوی، مولانا سید ربانی ثقافی عبقری شاہ آمری ، مولانا عاقب نوری آمری، مولاناحافظ وقاری محمد توحید رضا علیمی، مولانا حافظ عبد الحفیظ رضوی، مولاناحافظ وقاری اعجاز مصباحی رضوی، حافظ نویدرضا، حافظ ذوالفقاررضوی، حافظ محمد شعیب رضارضوی، حافظ نعیم آمری اور مولانا مصور نوری حافظ تسلیم نوری سمیت دیگر علماء کرام موجود رہے۔
اور اور عمائد ینِ شہر میں نوری فاؤنڈیشن کے فاؤنڈر سید سجاد احمد آمری، الحاج محمدمزمل حبیب آمری (صدر مسجد غوث الورٰی)، الحاج محمد شبیر احمد آمری (سکریٹری نوری فاؤنڈیشن)، عالی جناب وسیم انجینئر صاحب، صبغت اللہ آمری اور نوری فاؤنڈیشن کے دیگر ذمہ داران نے پروگرام کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
Post Views: 35
Like this:
Like Loading...