Skip to content
آسام : دوچار ہاتھ جبکہ لبِ بام رہ گئے
ازقلم: ڈاکٹر سلیم خان
آسا م کے اندرفی الحال بی جے پی برسرِ اقتدار ہے۔ انتخابی مہم کی ابتدا میں توقع تھی کہ وہ بہ آسانی الیکشن جیت جائے گی مگر زُبین گرگ کی مقبولیت و موت ، رنکی سرما کی بدعنوانی و رعونت اور رنجن گوگوئی کی قیادت و حسن انتظام نے کمل کا کھیل بگاڑ دیا۔وہاں پر زبین گرگ بھی نیپال کے وزیر اعظم بالیندر شاہ کی طرح مقبول ہیں ۔ نئی نسل یعنی جین زی کی وہ آنکھوں کا تارہ تھے ۔ وہ بھی سرکاری بدعنوانی کے خلاف اور اخوت و رواداری کے علمبردار تھے۔ یہ دونوں اقدار ہیمنتا بسوا سرما کے مزاج اور سیاست سے متصادم ہیں کیونکہ ان کا تو سارا کاروبار ہی نفرت اور لوٹ مار پر چلتا ہے ۔ایسے میں ملک سے باہر زُبین کی حادثاتی موت ہرسیاسی رنگ چڑھ گیا۔ بی جے پی کا اثرو رسوخ والے شمالی آسام میں لوگ باگ قیاس آرائی کرنے لگےکہ کہیں اسمبلی الیکشن میں ان سے لاحق ہونے والے خطرے یا چیلنج کے پیش نظر توانہیں راستے سے نہیں نکالا گیا؟ ہیمنتا بسوا سرما نے ابتدا میں تو بڑی گرمجوشی دکھائی مگر پھر سب کچھ ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا گیا۔ ان کی یادگار کو صاف ستھرا کرنے کا کام بھی زُبین کی اہلیہ گریما سائیکیا کو دیگر اہل خانہ کی مدد سے کرنا پڑا یعنی سرکار یا انتظامیہ نے اس میں دلچسپی نہیں لی۔
سرکاری بے اعتنائی کے باوجود عوام اور خاص طور پر نئی نسل یا پہلی بار ووٹ دینے والے نوجوانوں کے اندر زُبین گرگ کے تئیں عقیدت میں اضافہ ہوتا چلا گیا ۔ ان کی یادگار پر میلہ سا لگنے لگا ۔ ان کے اہل خانہ کی جانب سے انصاف کے مطالبے نے اس خیال کو تقویت دی کہ سرکار انہیں نظر انداز کررہی ہے۔ عین الیکشن کے دن جب زبین کی اہلیہ گریما اور بہن پالمی بورٹھاکر نے یہ ٹویٹ کرکے ووٹ ڈالنے سے پہلے اپنے چہیتے فنکار کو ایک بار یاد کرکے اپنی پسند کی سرکار منتخب کرنے کی اپیل کی تو سیاسی پارہ چڑھ گیا۔ گریما نے یہ بھی کہا کہ ہم انصاف کی لڑائی لڑ رہے ہیں اور امید ہے جلد ہی انصاف ملے گا۔ اس میں بی جے پی کے خلاف ایک نہایت جذباتی اورموثر پیغام تھا جس کی قیمت بی جے پی چکائے گی۔کانگریس نےزُبین گرگ کی موت کاسیاسی فائدہ اٹھانے کی بھرپور کوشش کی۔ یہ حسن اتفاق ہے کہ ایوانِ زیریں میں کانگریس کے ایک نہایت مقبول رہنما رنجن گوگوئی آسام سے آتے ہیں۔ آسام کی سیاست میں وہ پہلے ہی ہیمنتا بسوا سرما کے سامنے ایک طاقتور حریف کی حیثیت سے اپنا مقام بنا چکے ہیں۔
سچائی تو یہ ہے سرما کے کانگریس چھوڑنے کی ایک اہم وجہ رنجن گوگوئی ہی ہیں ۔ ان کے والد ترون گوگوئی آسام کے وزیر اعلیٰ ہوا کرتے تھے اور ان کی وزارت میں نہایت آرزو مند ہیمنتا بسوا سرما وزیر تھے ۔ اس دوران دو واقعات ہوئے پہلا تو یہ کہ سرما کو محسوس ہوا رنجن گوگوئی کے ہوتے وہ وزیر اعلیٰ نہیں بن سکتے دوسرے بی جے پی نے مرکز میں اقتدار سنبھالنے کے بعد ہیمنتا بسوا سرما کی دکھتی رگ بدعنوانی پر ہاتھ رکھ دیا ۔ ان پر جیسے ہی ای ڈی کا چھاپہ پڑا وہ سمجھ گئے کہ اب کانگریس بچانے نہیں آئے گی اور انہیں جیل کی ہوا کھانی پڑے گی ۔ ایسے میں مرتا کیا نہ کرتا کی مصداق وہ کانگریس سے یہ کہہ کر نکل گئے کہ انہوں نے اپنی زندگی کے ۲۲ سال وہاں برباد کردئیے۔ بی جے پی کی واشنگ مشین میں ناگپوری گنگا جل میں نہا کرسرما پوتر ہوگئے ۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ سرما کے کانگریس چھوڑنے کی ایک اہم وجہ رنجن گوگوئی ہی ہیں ۔ ان کے والد ترون گوگوئی آسام کے وزیر اعلیٰ ہوا کرتے تھے اور ان کی وزارت میں نہایت آرزو مند ہیمنتا بسوا سرما وزیر تھے ۔ اس دوران دو واقعات ہوئے پہلا تو یہ کہ سرما کو محسوس ہوا رنجن گوگوئی کے ہوتے وہ وزیر اعلیٰ نہیں بن سکتے دوسرے بی جے پی نے مرکز میں اقتدار سنبھالنے کے بعد ہیمنتا بسوا سرما کی دکھتی رگ بدعنوانی پر ہاتھ رکھ دیا ۔ ان پر جیسے ہی ای ڈی کا چھاپہ پڑا وہ سمجھ گئے کہ اب کانگریس بچانے نہیں آئے گی اور انہیں جیل کی ہوا کھانی پڑے گی ۔ ایسے میں مرتا کیا نہ کرتا کی مصداق وہ کانگریس سے یہ کہہ کر نکل گئے کہ انہوں نے اپنی زندگی کے ۲۲ سال وہاں برباد کردئیے۔ بی جے پی کی واشنگ مشین میں ناگپوری گنگا جل میں نہا کرسرما پوتر ہوگئے ۔ بی جے پی کے پاس نہ اس وقت اور نہ اب کوئی مقبول آسامی چہرا ہے۔ ایک زمانے میں وہ اے جے پی کے کندھوں پر سوار ہوکر کانگریس کے خلاف ہاتھ پیر مار تی تھی ۔ آسام گن پریشد کی پھینکی ہوئی روٹیوں پر پلنے والی بی جے پی میں دہلی جیتنے کے بعد جوش آگیا۔
ایک زمانے میں پارٹی کے صدر امیت شاہ کا کام اپنوں اور غیروں کے قلعوں میں سیندھ لگا کر اپنی طاقت بڑھانا تھا۔ اسی کوشش میں ہیمنتا بسوا سرما کی مانند اے جی پی کے سربانند سونوال کو وزارت اعلیٰ کی کرسی کا لالچ دے کر توڑاگیا۔ اس حکمت عملی کا فائدہ ملا ۔ اے جے پی سکڑ گئی اور بی جے پی شیر بن گئی ۔ انتخاب کے فوراً بعد ہیمنتا کو وزیر اعلیٰ بنانا کانگریس کے آگے اپنی لاچاری ظاہر کرنے کے مترادف تھا اس لیے سربانند سونوال کو وزیر اعلیٰ بنایا گیا مگر وہ شریف النفس نکل گئے اور بی جے پی کے نفرتی ماڈل میں فٹ نہیں ہوسکے۔ گائے کے گوشت کی بابت انہوں نے کھلے عام کہہ دیا کہ میں کھاتا ہوں جس کو جو کرنا ہے کرلے۔ اس طرح کی صاف گوئی کو برداشت کرنا بی جے پی کے بس میں نہیں تھا اس لیے انہیں مرکزی وزیر بناکر سرما کو وزیر اعلیٰ بنادیا گیا۔ اب سونوال کا وہاں سے بھی پتاّ کٹ گیااور وہ لاپتہ گنج روانہ کر دئیے گئے ۔ کانگریس نے ترون گوگوئی کو جب وزیر اعلیٰ کا امیدوار بناکر پیش کیا تو بی جے پی کے خیمے میں زلزلہ آگیا۔
رنجن گوگوئی نے جب یہ اعلان کیا کانگریس سرکار اقتدار میں آنے کے بعد ایک قلیل مدت کے اندر زُبین کو انصاف دلائے گی تو اس کا شمالی آسام میں رہنے والے پچاس حلقہ انتخاب میں بڑا اثر پڑا کیونکہ وہاں زُبین گرگ کے مداحوں کی بہت بڑی تعداد آباد ہے۔ آگے چل کر راہل گاندھی نے زُبین کے اہل خانہ سے ملاقات کرکے نوجوانوں کا دل جیت لیا۔ کانگریس پارٹی ان جذباتی مدعوں پر اپنی انتخابی مہم چلا رہی تھی اس بیچ اس کے ترجمان پون کھیڑا نے بدعنوانی کے ایسے انکشافات کیے کہ بی جے پی سمیت ہیمنتا کے ہوش اڑ گئے اور ان کا قلعہ اچانک ٹوٹ کا پاش پاش ہونے لگا۔ اس بدعنوانی میں نہ صرف قوم دشمنی کا پہلو تھا بلکہ ان کی مسلم دشمنی کا فریب بھی دم توڑ رہا تھا۔ ہیمنتا کی بدعنوانی نئی نہیں ہے مگر اس دوران ان کی اہلیہ رنکی سرما بالکل بے لگام ہوگئیں یا یہ کہنا پڑے گا ہیمنتا نے اپنی بیوی کے نام بدعنوانی کا طوفان برپا کردیا۔ غریب مسلمانوں سے در اندازی( اینکروچمنٹ ) کے نام پر زمین چھیننے والے ہیمنتا کا کریہہ چہرا تو اسی وقت بے نقاب ہوگیا تھا جب انہوں نے اڈانی کو ہزاروں ایکڑ سرکاری زمین تقریباً مفت میں دے دی۔
مذکورہ بالا بدعنوانی سے جو لوٹ کی رقم موصول ہوئی اس کو ٹھکانے لگانے کے لیے اینٹی گوا میں نامی امریکی ملک میں جعلی کمپنی بنائی گئی۔ اس کے اندر رنکی سرما نے باون ہزار کروڈ کی سرمایہ کاری کی ۔ یہ اگر حلال کی کمائی ہوتی تو ہیمنتا بسوا سرما اپنے حلف نامہ میں اس کا ذکر کرتے مگر انہوں نے اسے چھپایا اور اس کی تفصیل انٹر نیٹ پر موجود ہے۔ اس کے علاوہ برطانیہ میں بھی کمپنی کھولی گئی اور اس کے لیے ڈھاکہ تک کا پتہ دیا گیا۔ اس کا مطلب ہے وزیر اعلیٰ کی بیوی تو بنگلہ دیش کے پتہ پر کمپنی چلائیں اور ہیمنتا بسوا دراندازوں ( بنگلہ دیشی گھس پیٹھیا ) کے نام پر نفرت پھیلائیں ۔ ہیمنتا کا انسپکٹر بھائی اپنے بیٹے کو دبئی کے اس اسکول میں داخل کرے جہاں سالانہ فیس ۲۲ لاکھ ہے۔ یہ تو خیر لوٹ پاٹ کا معاملہ لیکن مسلمانوں کو مغلظات بکنے والے وزیر اعلیٰ کی اہلیہ مسلم ملک دبئی میں دو عدد مکان خریدیں مگر اس کو شرم نہ آئے ۔ وہاں کا گولڈن کارڈ لینے کے ساتھ ساتھ مصر کا بھی پاسپورٹ بنوا لیں۔ اس طرح ترون گوگوئی کی بیوی پر غیر ملکی ہونے کا الزام لگانے والے ہیمنتا کی بیوی کئی ممالک کی شہری نکل آئی۔ ان میں کوئی عیسائی یا بودھ ملک نہیں بلکہ سارے مسلم نکلے یہ تو کمال کی منافقت ہے۔
ان انکشافات نے ہیمنتا کے ہونٹ سے اقتدار کا جام چھیننے کی کوشش کی تو وہ بوکھلا کر گالی گلوچ پر اتر آئے ۔ ان کےاندر چھپا نارنگی درند ہ اچھل کر باہر آگیا اور انہیں سنگھ سمیت بی جے پی سرکار کی خاموش حمایت ملتی رہی ۔ ہیمنتا بسوا سرما نے نہ صرف پون گھیڑا کو گندی گالی دی بلکہ یہ بھی سوال کیا کہ راہل گاندھی اور ملک ارجن کھڑگے کون ہیں؟ اس دوران جب اخبار نویسوں نے ان سے سوال کیا تو وہ ان سے بھی لڑ بیٹھے ۔ للن ٹاپ کے بارے میں جہاں وہ خود انٹرویو دے چکے ہیں انہوں نے سوال کیا للن ٹاپ کون ہے اور اس کا کیا مطلب ہے؟ اپنے اوپر لگنے والے سنگین الزامات کے جواب میں انہوں نے پون کھیڑا کو وزارتِ خارجہ سے مشورہ کرنے کا مشورہ دیا مگر یہ بتانا بھول گئے کہ کیا انہوں نے رنجن گوگوئی کو پاکستان سے جوڑنے ے قبل جئے شنکر سے پوچھا تھا ۔پون کھیڑا کو گرفتار کرنے کی ان کی کوشش بھی ناکام رہی الٹا دلت رہنما کھڑگے کو رسوا کرنے کا الزام لگا کر کانگریس نے سیاسی فائدہ اٹھایا۔ اس طرح دیکھتے دیکھتے بی جے پی کے لیے آسام کی بازی پلٹ گئی اب دیکھنا یہ ہے کہ الیکشن کمشنر گیانیش کمار اس کو سیدھا کرنے میں کتنا کامیاب ہوتے ہیں لیکن فی الحال سرما پر یہ شعر صادق آتا ہے ؎
قسمت تو دیکھ ٹوٹی ہے جاکر کہاں کمند کچھ دوراپنے ہاتھ سے جب بام رہ گیا
Post Views: 50
Like this:
Like Loading...