Skip to content
خواتین ریزرویشن بل: مودی حکومت کی سبکی!
ازقلم:(حافظ)افتخاراحمدقادری
خواتین ریزرویشن بل جو بظاہر خواتین کو سیاسی نمائندگی میں مؤثر حصہ دینے کی ایک سنجیدہ اور دیرینہ کوشش کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے حالیہ دنوں میں ایک بار پھر قومی سیاست کے مرکز میں آکھڑا ہوا ہے۔ مگر اس مرتبہ یہ بل اپنی منظوری کے بجائے ایک غیر متوقع سیاسی موڑ اور پارلیمانی ناکامی کے سبب بحث و مباحثہ کا موضوع بن گیا۔ لوک سبھا میں اس بل کی ترمیمی شکل کا ایک اہم مرحلہ عبور نہ کر پانا نہ صرف حکومتی حکمت عملی پر سوالیہ نشان ہے بلکہ اس نے ملک کے سیاسی ماحول میں نئی گرما گرمی بھی پیدا کر دی ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت میں قائم مرکزی حکومت اور وزیر اعظم نریندر مودی کے لیے یہ لمحہ یقیناً غیر معمولی تھا جب جمعہ کی شام پارلیمان کے ایوانِ زیریں میں خواتین ریزرویشن سے متعلق 131 ویں آئینی ترمیمی بل مطلوبہ اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ اس بل کی منظوری کے لیے دو تہائی اکثریت درکار تھی لیکن ووٹنگ کے دوران حکومت اس حد کو چھو نہ سکی۔ 298 ارکان نے اس کے حق میں ووٹ دیا جبکہ 230 ارکان نے مخالفت کی جس کے نتیجے میں یہ بل آئینی تقاضوں کو پورا نہ کر سکا اور یوں ایک اہم قانون سازی کا عمل ادھورا رہ گیا۔ یہ صورت حال اس لیے بھی خاصی اہمیت رکھتی ہے کہ پارلیمنٹ میں خواتین کی نمائندگی اس وقت محض 14 فیصد کے قریب ہے جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے لیے ایک چیلنج کے طور پر دیکھا جاتا رہا ہے۔ خواتین کو 33 فیصد ریزرویشن دینے کا تصور کئی دہائیوں سے زیر بحث رہا ہے اور 2023 میں اس حوالے سے ایک قانون بھی منظور کیا جا چکا تھا جسے حکومت اپنی ایک بڑی کامیابی کے طور پر پیش کرتی رہی ہے۔ تاہم حالیہ ترمیمی بل نے اس کامیابی کو ایک نئی پیچیدگی میں مبتلا کر دیا۔ حکومت کا مؤقف یہ رہا کہ خواتین کے لیے ریزرویشن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ڈیلیمیٹیشن یعنی نئی حلقہ بندی ضروری ہے اور اسی بنیاد پر ترمیمی بل پیش کیا گیا۔ لیکن اپوزیشن جماعتوں نے اسی نکتے کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے سیاسی مفادات سے جوڑتے ہوئے مسترد کر دیا۔ ان کے مطابق یہ بل خواتین کے حقوق کے بجائے انتخابی نقشے کو بدلنے کی ایک حکمت عملی ہے جس کے ذریعے بعض طبقات کی نمائندگی کو محدود کیا جا سکتا ہے۔
پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے ایوان کے فیصلے کو قبول کرتے ہوئے بل کو واپس لینے کا اعلان کیا تاہم انہوں نے اپوزیشن پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک تاریخی موقع ضائع کر دیا گیا ہے اور عوام اس کا جواب ضرور طلب کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت خواتین کو با اختیار بنانے کے اپنے عزم پر قائم ہے اور مستقبل میں بھی اس سمت میں اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
دوسری جانب اپوزیشن کی جانب سے اس بل کو محض ایک سیاسی چال قرار دیا گیا۔ کانگریس کے رہنما راہول گاندھی نے پارلیمنٹ کے اندر اور باہر دونوں جگہ اس پر کھل کر اظہار خیال کیا۔ ان کے مطابق 2023 میں منظور ہونے والا خواتین ریزرویشن قانون پہلے ہی موجود ہے۔ لہٰذا! اس نئے ترمیمی بل کی ضرورت مشکوک ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ اقدام دراصل ملک کے انتخابی ڈھانچے میں تبدیلی لانے کی ایک کوشش ہے جس کا مقصد اقتدار کو مستحکم کرنا ہے، نہ کہ خواتین کو حقیقی معنوں میں بااختیار بنانا۔ راہول گاندھی نے مزید کہا کہ اس بل کے ذریعے نہ صرف پسماندہ طبقات بلکہ قبائلی برادریوں کے حقوق کو بھی متاثر کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ شمالی اور جنوبی بھارت کے درمیان نمائندگی کے توازن کو بھی بگاڑا جا سکتا ہے جو وفاقی ڈھانچے کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے بقول یہ بل خواتین کے نام پر ایک سیاسی ایجنڈا ہے جس کا اصل مقصد اقتدار کی سیاست کو نئی شکل دینا ہے۔ اس تمام صورتحال نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ آیا خواتین ریزرویشن واقعی ایک سنجیدہ اصلاحی قدم کے طور پر آگے بڑھ رہا ہے یا یہ سیاسی کشمکش کا شکار ہو کر اپنی اصل روح کھو بیٹھا ہے۔ جہاں ایک طرف خواتین کی سیاسی شمولیت کو بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے وہیں دوسری جانب اس عمل کو شفاف، غیر جانبدار اور تمام طبقات کے لیے قابل قبول بنانا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ خواتین کو پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں مناسب نمائندگی دینا صرف ایک آئینی تقاضا نہیں بلکہ ایک سماجی اور اخلاقی ذمہ داری بھی ہے۔ اگر اس مقصد کے حصول کے لیے پیش کیے جانے والے بل سیاسی اختلافات کی نذر ہو جائیں تو اس کا سب سے بڑا نقصان جمہوری اقدار کو پہنچتا ہے۔ لوک سبھا میں اس بل کی ناکامی نے جہاں حکومت کے لیے ایک وقتی سیاسی دھچکا پیدا کیا ہے وہیں اپوزیشن کے لیے بھی یہ ایک آزمائش ہے کہ وہ محض مخالفت کے بجائے کوئی متبادل اور قابل عمل راستہ پیش کرے۔ عوامی سطح پر بھی اس معاملے نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے کہ خواتین کی حقیقی نمائندگی کے لیے کون سا راستہ زیادہ مؤثر اور قابل اعتماد ہو سکتا ہے۔ مستقبل قریب میں یہ امکان موجود ہے کہ حکومت اس بل کو کسی نئی شکل میں دو بارہ پیش کرے یا پھر اپوزیشن کے ساتھ کسی اتفاق رائے کی کوشش کی جائے۔ لیکن فی الحال یہ واضح ہے کہ خواتین ریزرویشن جیسے حساس اور اہم مسئلے کو سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر حل کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ ملک کی نصف آبادی کو وہ مقام مل سکے جس کی وہ حق دار ہے۔
اس وقت حکومت کے لیے سب سے زیادہ دانشمندانہ تدبیر یہی ہو سکتی ہے کہ وہ عددی اکثریت کے زور پر قانون سازی کرنے کے بجائے وسیع تر سیاسی اتفاقِ رائے پیدا کرنے کی سنجیدہ کوشش کرے۔ خواتین ریزرویشن جیسا اہم اور دیرپا اثر رکھنے والا معاملہ کسی ایک جماعت یا حکومت کی کامیابی کا عنوان بننے کے بجائے قومی مفاد کے تحت تمام سیاسی قوتوں کی مشترکہ ذمہ داری کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ اگر حکومت واقعی خواتین کو با اختیار بنانے کے اپنے دعوے میں مخلص ہے تو اسے اپوزیشن کے خدشات کو سیاسی مخالفت سمجھ کر نظر انداز کرنے کے بجائے ان پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا خاص طور پر حلقہ بندی اور پسماندہ طبقات کی نمائندگی جیسے نکات پر شفاف وضاحت پیش کرنی ہوگی۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ پارلیمانی روایات کو مضبوط کرتے ہوئے ایک ایسی فضا قائم کرے جہاں اختلافِ رائے کو تصادم کے بجائے مکالمے کے ذریعے حل کیا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے آل پارٹی میٹنگ مشترکہ پارلیمانی کمیٹی یا دیگر مشاورتی فورمز کا سہارا لیا جا سکتا ہے تاکہ ایک ایسا متفقہ خاکہ تیار ہو جو نہ صرف آئینی تقاضوں کو پورا کرے بلکہ سماجی انصاف کے اصولوں سے بھی ہم آہنگ ہو۔ اس کے ساتھ ساتھ حکومت کو عوامی سطح پر بھی اس بل کی ضرورت، اس کے اثرات اور اس کے عملی نفاذ کے طریقہ کار کو واضح انداز میں پیش کرنا ہوگا تاکہ شکوک و شبہات کی گنجائش کم سے کم رہ جائے۔ یہ ضروری ہے کہ خواتین ریزرویشن کو محض انتخابی سیاست کے تناظر میں نہ دیکھا جائے بلکہ اسے سماجی تبدیلی کے ایک وسیع تر ایجنڈے کا حصہ بنایا جائے جہاں تعلیم، معاشی خود مختاری اور سیاسی تربیت جیسے عوامل کو بھی یکساں اہمیت حاصل ہو۔ اگر حکومت اس معاملے کو خلوص نیت، سیاسی بالغ نظری اور جامع حکمت عملی کے ساتھ آگے بڑھائے تو نہ صرف یہ تعطل ختم ہو سکتا ہے بلکہ ایک ایسا مضبوط اور قابل قبول قانون سامنے آ سکتا ہے جو واقعی ملک کی خواتین کو با اختیار بنانے میں مؤثر کردار ادا کرے۔
کریم گنج،پورن پور،پیلی بھیت،یو.پی
(مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)
iftikharahmadquadri@gmail.com
Post Views: 28
Like this:
Like Loading...