Skip to content
’’ایمان کی روشنی سے جگمگاتے ہوئے چہرے ‘‘
ازقلم:سیما شکور (حیدر آباد)
ایک ایسا انسان جو مسلمان گھرانے میں پیدا ہوا ہو اُس کی پرورش اسلامی طریقے سے ہوئی ہو اور پھر چند سال گزرنے کے بعد ایسا انسان اچانک ہی۔۔۔۔مرتد ہوجائے اور پھر وہ کمیونسٹ کہلوانے میں فخر محسوس کرے تو یہ انتہائی دکھ کی بات ہے اور ایک لمحہ فکریہ بھی ہے ہم سب کے لیئے۔ آخر کیوں ایسا ہورہا ہے؟ شیطانی وار کی ضرب آخر اتنی شدید کیوں ہے؟ کیا ایمان اس قدر کمزور ہوچکا ہے کہ لوگ مسلمان کہلوانے میں شرم محسوس کرتے کرتے اب کمیونسٹ کہلوانے میں اپنے آپ کو ترقی پسند سمجھ رہے ہیں انہیں نہیں پتہ کہ وہ تنزلی کی آخری حدوں کو پار کرچکے ہیں۔ اپنے آپ کو ترقی پسند سمجھنے والے لوگ جہالت اور گمراہی کی گہری کھائیوں میں گر چکے ہیں ، ظلمت کے سیاہ اندھیروں سے لپٹے ہوئے لوگ۔۔۔۔افسوس جہنم کےاُٹھتے بلند شعلوں کو آواز دے رہے ہیں، ہمارے اپنے لوگ جب جہالت کے گہرے اندھیروں میں گم ہوجاتے ہیں تو شدید تکلیف ہوتی ہے، بے انتہا دکھ ہوتا ہے، اتنی آسانی سے ’’تم‘‘ نے بھی تو کہہ دیا ہے کہ تم ’’اللہ‘‘ کو نہیں مانتیں یہ جملہ سن کر میں دکھوں کی اس وادی میں خود کو محسوس کررہی ہوں جہاں ہر طرف فکر و غم کےچُبھتے کانٹے ہیں اُن کانٹوں کی چُبھن میں اپنے دل پر محسوس کررہی ہوں۔۔۔۔ کاش میں وہ جملہ نہ سنتی کہ ہم اللہ کو نہیں مانتے۔ یہ جملہ میری سماعتوں پر بم بن کر ایسا پھٹا ہے کہ روح تک زخمی ہوچکی ہے کیا آج ہمارے گھروں کی تربیت ایسی ہوگئی ہے کہ لوگ اسلام کی روشنی میں آنکھ کھولنے کے باوجود ظلمتوں کے اندھیروں میں ڈوب چکے ہیں۔ تربیت پر سوال تو اُٹھے گا ہی۔ کیونکہ تربیت کی بہت اہمیت ہے۔ ایسے گمراہ لوگ کتنے بھی تعلیم یافتہ ہوجائیں لیکن وہ میری نظر میںجاہل ہی ہیں۔ ایسے لوگوں سے وہ لوگ بہتر ہیں جنہوں نے اَن پڑھ گھرانے میں آنکھ کھولی لیکن وہ اسلام کی پُر نور روشنی میں پرورش پاتے رہے ایسے لوگوں کے چہرے بہت روشن اور پُر رونق ہوتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر مکمل یقین رکھتے ہیں، اللہ تعالیٰ پر مکمل بھروسہ کرتے ہیں انہیں کوئی بھی طاقت ایمان سے دور نہیں کرسکتی اُن کے چہرے جگمگاتے ستاروں کی طرح روشن ہوتے ہیں وہ کبھی بھی کسی بھی کمزور لمحے کی زد میں آکر اپنا ایمان نہیں کھوتے۔ میری دوست کا یہ جملہ کہ وہ اللہ کو نہیں مانتیں مجھے یہ سوچنے پر مجبور کردیا ہے کہ گمراہی کے راستے پر لوگ یونہی نہیں چل پڑتے آہستہ آہستہ ہی وہ غلط راستے پر چلنا شروع کرتے ہیں ان کی سوچ آہستہ آہستہ بدلتی ہے وہ اسلام کے اصولوں سے منحرف ہوجاتے ہیںوہ دین کے ارکان کو ادا کرنا چھوڑ دیتے ہیں بہت غیر محسوس طور سے وہ ایک ایسے راستے کا انتخاب کرتے ہیں جو انہیں جہنم کے راستے کی طرف دھکیل دیتا ہے۔ ایسے لوگوں کا سکون ، چین سب ختم ہوجاتا ہے ایک نا معلوم سی بے چینی میں مبتلا ہوجاتے ہیں، انہیں کسی لمحے قرار نہیں رہتا کیونکہ جب وہ سجدوں سے منہ موڑ لیتے ہیں تو پھر سکون کس طرح پاسکتے ہیں سجدوں میں جو سکون اور اطمینان ہے وہ اُ س سے محروم ہوجاتے ہیں وہ گمراہیوں کی اتھاہ گہرائیوں میں اس طرح گرتے ہیں کہ اُن کے چہرے سیاہ ہونے لگتے ہیں اُن کے چہروں پر سختی دکھائی دینے لگتی ہے،اُن کے چہرے مسخ ہونے لگتے ہیں۔ ہمیں اپنے اپنے طور پر اپنا فرض ادا کرنا ہے اگر کوئی ہمارا اپنا دوزخ کے ایندھن کی طرف بڑھ رہا ہے تو ہمیں اُسے صراطِ مستقیم کی طرف لانے کی کوشش ضرور کرنی چاہئیے ورنہ ہم بھی گناہ گار ہوں گے۔ اس فتنہ پرور دور میں بہت سنبھل سنبھل کر قدم رکھنے کی ضرورت ہے کئی بار ہم نا سمجھی اور کم علمی میں شرک کی طرف اپنا قدم بڑھادیتے ہیں۔ بس اتنا سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اگر ہم کسی کو حاجت روا سمجھنے لگیں تو اس کا مطلب ہے کہ ہم سیدھے راستے سے بھٹک چکے ہیں۔ اللہ تعالیٰ پر مکمل بھروسہ اور ایمان ہمیں صراطِ مستقیم سے بھٹکنے نہیں دیتا۔ اسی طرح راستہ بھٹکتے بھٹکتے انسان ایک ایسے راستے کو چن لیتا ہے جو اللہ سے دور کردیتا ہے اور لوگ کمیونسٹ بن جاتے ہیں۔ گمراہ ہو کر اللہ تعالیٰ کےغضب کو دعوت دیتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دور ہو کر کوئی بھی انسان کبھی راحت نہیں پاسکتا۔
آپ نے اکثر مشاہدہ کیا ہوگا کہ کچھ چہروں پر اس قدر طمانیت اور اطمینان دکھائی دیتا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ انہیں کوئی بھی غم چھُو کر نہیں گزرا اور اُن کے چہروں پر غضب کی چمک اور نورانیت دکھائی دیتی ہے۔ وہ اس لیئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ بندے ہوتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے ہر حکم کو بجا لاتے ہیں، وہ مصائب اور تکالیف کو بھی صبر سے سہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا میں راضی رہتے ہیں۔ صبر ا ور شکر اُن کے چہروں کو جگمگاہٹ بخشتا ہے اور وہ بالکل عام سی شکل و صورت کے ہونے کے باوجود سب لوگوں سے منفرد کھائی دیتے ہیں، اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھنے والے لوگوں کی یہی نشانی ہوتی ہے۔ دولت اور شہرت انسان کو وہ خوشی نہیں دے سکتی جو خوشی انسان کو اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہو کر ملتی ہے ایسی خوشی جو اُسے دنیا کے دکھوں سے دور کردیتی ہے اپنے خالق کے آگے سجدہ ریز ہو کر وہ ہر خوشی کو پالیتا ہے دنیا کے دکھ اُس کو کبھی مایوس نہیں کرسکتے ۔ بدنصیب ہوتے ہیں ایسے لوگ جو اللہ تعالیٰ کو بھلادیتے ہیں۔ ایسے لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کیسے برس سکتی ہے، اللہ تعالیٰ کا کرم کیسے وہ پاسکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں ہمیشہ صراطِ مستقیم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور بھٹکتے ہوئے لوگوں کو ایمان کی دولت سے مالا مال کردے۔۔۔۔ اور بھٹکے ہوئے لوگوں کو ایمان کی دولت سے مالا مال کردے۔ آمین ثمہ آمین
Post Views: 36
Like this:
Like Loading...