Skip to content
بچوں کے ناموں کو بگاڑنا سے عزت نفس مجروح، خود اعتمادی اور قوت ارادی میں کمی کا سبب ہے!
✍️ ذوالقرنین احمد
ہماری معاشرے میں اکثر بچپن میں بچوں کو ان کی حالت، شکل و صورت اور ان کے رؤیہ کو دیکھ کر عرفی نام (Nickname) دے دیا جاتا ہے۔ والدین لاڈ پیار میں کچھ نام رکھ دیتے ہیں تو کبھی دادا دادی یا نانا نانی وغیرہ بچوں کے مختلف نام رکھ دیتے ہیں۔ جس کے اثرات بچوں پر مرتب ہوتے ہیں۔ اتنا ہی نہیں بلکہ بچوں کے نام خراب کرنے پر آگے چل کر وہ بچے اپنی عزت نفس کو بار بار مجروح ہوتا دیکھ کر خود اعتمادی کی کمی کا شکار ہوتے ہیں یہاں تک کے باغی ہوجاتے ہیں ان کے اندر انتقام کی آگ بھڑک اٹھتی ہے عزت نفس کو بار بار ٹھیس پہنچانے کے سبب ان کے اندر خودکشی جیسے خیالات جنم لیتے ہیں جو کہ ایک انتہائی اقدام ہے جسے اسلام میں حرام قرار دیا ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے بچوں کے اچھے نام رکھیں کسی بھی شخص کو اپنے بچے کا نام بگاڑنے کی اجازت ہرگز نہ دیں۔ اگر کوئی لاڑ پیار میں بھی بچے کو اس کے اصل نام کے علاوہ کسی اور نام سے پکارے تو اسے سختی سے روکے ورنہ یہ زندگی بھر کا روگ بن جاتا ہے۔ آج کل نئے نئے نام رکھنے کا رواج چل پڑا ہے جس کے نہ کوئی معنی ہوتے ہیں نا اس نام کی کوئی تاریخی حقیقت ہوتی ہے نہ لفظی معنی نکلتے ہیں۔ نہ بول چال میں اس کے صحیح تلفظ ادا ہوتے ہیں اس لیے ہم اس بات کا عہد کریں کہ کسی کے نام کو نہ بگاڑے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے
اے ایمان والو! مرد دوسرے مردوں کا مذاق نہ اڑائیں ممکن ہے کہ یہ ان سے بہتر ہوں اور نہ عورتیں عورتوں کا مذاق اڑائیں ممکن ہے کہ یہ ان سے بہتر ہوں اور آپس میں ایک دوسرے کو عیب نہ لگاؤ اور نہ کسی کو برے لقب دو ایمان کے بعد فسق برا نام ہے ، اور جو توبہ نہ کریں وہی ظالم لوگ ہیں ۔ (سورۃ الحجرات آیت 11)
اللہ کے نبیﷺ نے بچوں کے اچھے نام رکھنے کا حکم فرمایا ہے
آپ نے فرمایا :بے شک تم لوگ قیامت کے دن اپنے اور اپنے آبا و اجداد کے ناموں سے پکارے جاؤ گے،لہذا تم اچھے نام رکھو ۔ ایک جگہ ارشاد فرمایا تم انبیائے کرام علیہم السلام والے نام رکھا کروں۔
حضرت ہانی بن یزید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب وہ اپنی قوم کا وفد لے کر رسول اللہ ﷺ کے ہاں گئے تو رسول اللہ ﷺ نے ان لوگوں کو سنا وہ اسے ’’ ابوالحکم ‘‘ کی کنیت سے پکارتے ہیں ، تو رسول اللہ ﷺ نے اسے بلایا اور فرمایا :’’ حکم ‘‘ ( فیصلہ کرنے والا ) اللہ ہی ہے ( یہ اسی کا نام ہے ) اور تمام فیصلے اسی کی طرف ہیں ۔ تمہیں یہ کنیت ’’ ابوالحکم ‘‘ کیونکر دی گئی ہے ؟‘‘ اس نے عرض کیا : بیشک میری قوم والے جب کسی چیز میں اختلاف کرتے ہیں تو میرے پاس آ جاتے ہیں اور میں ان میں فیصلہ کر دیتا ہوں اور پھر دونوں راضی ہو جاتے ہیں ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ یہ تو بہت اچھی بات ہے ۔ تیرے بیٹے کون ہیں ؟‘‘ میں نے کہا : شریح ، مسلم اور عبداللہ ۔ آپ نے پوچھا :’’ ان میں بڑا کون ہے ؟‘‘ میں نے کہا : شریح ۔ آپ نے فرمایا :’’ تو تم ’’ ابوشریح ‘‘ ہو (ابو داؤد 4955)
Post Views: 25
Like this:
Like Loading...