Skip to content
قہقہوں اور آنسوؤں کے درمیان: کیوڑے کا بن اور سلیمان خطیب کی لازوال دنیا
ازقلم:محمد امین نواز
رکن کرناٹک اردو اکادمی

حیدرآباد دکن کی تہذیبی و ادبی روایت میں بعض شامیں ایسی بھی رقم ہو جاتی ہیں جو محض ایک تقریب نہیں بلکہ ایک مکمل عہد کی جھلک بن کر تاریخ کے صفحات میں محفوظ ہو جاتی ہیں۔ 12 اپریل2026 کی وہ اتوار کی شام بھی کچھ اسی نوعیت کی حامل تھی، جب رویندر بھارتی کا ہال اردو زبان کی عظمتِ رفتہ کی بازگشت سے گونج اٹھا۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے وقت نے پلٹا کھایا ہو اور دکنی تہذیب، اردو ادب اور کلاسیکی ذوق اپنی پوری رعنائی کے ساتھ دوبارہ زندہ ہو گئے ہوں۔ درپن تھیٹر اور سلیمان خطیب میموریل ایجوکیشنل اینڈ چیاریٹیبل ٹرسٹ گلبرگہ کے زیر اہتمام پیش کیا گیا موسیقی ریز ڈرامہ ” کیوڑے کا بن "محض ایک پروگرام نہیں بلکہ ایک ہمہ جہت ادبی و ثقافتی تجربہ تھا۔ اس نے نہ صرف سامعین و ناظرین کو محظوظ کیا بلکہ انہیں ایک ایسی فکری اور جذباتی دنیا میں لے گیا جہاں ہنسی اور آنسو، طنز اور حقیقت، روایت اور جدت ایک دوسرے میں اس طرح مدغم ہو گئے کہ ان کی سرحدیں مٹتی محسوس ہوئیں۔ یہ پیشکش اپنی نوعیت کے اعتبار سے نہایت منفرد تھی۔ دکنی طنز و مزاح کےبین الاقوامی شہرت یافتہ بے تاج بادشاہ سلیمان خطیب کی شاعری کو موسیقی اور ڈرامائی قالب میں ڈھال کر پیش کرنا ایک جرات مندانہ اور تخلیقی اقدام تھا۔ اس تجربے نے اس حقیقت کو ایک بار پھر ثابت کیا کہ اگر کلاسیکی ادب کو خلوص، فنی مہارت اور جدید تقاضوں کے ساتھ پیش کیا جائے تو وہ نہ صرف اپنی تازگی برقرار رکھتا ہے بلکہ نئی نسل کے دلوں میں بھی گھر کر لیتا ہے۔
رویندر بھارتی کا ہال سامعین سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ ہر نشست پر ادب کا کوئی نہ کوئی شیدائی جلوہ گر تھا۔ یہ منظر اس امر کا واضح ثبوت تھا کہ اردو زبان اور دکنی ادب کے چاہنے والے آج بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔پروگرام کے تمام ٹکٹس کا پہلے ہی فروخت ہو جانا اس کی بے مثال مقبولیت کا مظہر تھا۔ اس کامیابی کے پس منظر میں جہاں سلیمان خطیب کے فن کی کشش کارفرما تھی، وہیں ان کے اہلِ خانہ اور ٹرسٹ کے ذمہ داران کی انتھک محنت بھی شامل تھی۔ تحسین خطیب، خواجہ تمکین خطیب، ڈاکٹر شمیم ثریا اور قطب محی الدین کی کاوشوں نے اس پروگرام کو ایک یادگار ادبی تجربہ بنا دیا۔ ڈرامہ میں سلیمان خطیب کے کردار کو مرزا نعمت اللہ بیگ نے نہایت فطری اور جاندار انداز میں پیش کیا۔ ان کی اداکاری میں دکنی لہجے کی مٹھاس، برجستگی اور مزاح کی وہ جھلک نمایاں تھی جو سلیمان خطیب کی پہچان ہے۔ کیپٹن احمد نے “مسافر” کے کردار میں اپنی جاندار اداکاری سے ناظرین کے دل جیت لیے۔ دونوں فنکاروں نے نہ صرف تفریح فراہم کی بلکہ ناظرین کو غور و فکر پر بھی آمادہ کیا۔ جسپال سنگھ مونی کی موسیقی اس ڈرامہ کی جان بن کر ابھری۔ ہر منظر، ہر مکالمہ اور ہر شعر موسیقی کے ساتھ اس قدر ہم آہنگ تھا کہ اس کا اثر براہِ راست دلوں پر ہوتا محسوس ہوا۔ علی احمد کی ہدایت کاری میں فنی پختگی اور جذباتی گہرائی نمایاں تھی، جبکہ نعیم جاوید کی اسکرپٹ نے اس ڈرامہ میں روح پھونک دی۔
پروڈیوسر خواجہ تمکین خطیب نے اس میوزیکل ڈرامہ کی ٹیم کو قومی یکجہتی کے جذبہ کے تحت یکجا کرتے ہوئے ایک روشن مثال قائم کی۔ اس ٹیم میں جسپال سنگھ مونی اور جیتو گابا جیسے میوزک ڈائریکٹرز، طلعت عزیز، سادھنا سرگم، رچا شرما، جاوید علی، ڈاکٹر جسپیندر نرولا، جسویندر سنگھ بنٹی اور رئیس انیس صابری جیسے نامور گلوکار شامل تھے، جنہوں نے اپنی آوازوں کے ذریعے سلیمان خطیب کے کلام کو ایک نئی زندگی بخشی۔ ان کی ریکارڈ کردہ آوازوں نے ناظرین کو بے حد محظوظ کیا اور ڈرامہ کی فنی حیثیت کو مزید بلند کر دیا۔

” کیوڑے کا بن ” کی سب سے بڑی خوبی اس کا موضوعاتی تنوع تھا۔ اس میں طنز و مزاح، غزل، صوفیانہ کلام اورسماجی موضوعات کو اس خوبصورتی سے یکجا کیا گیا کہ کہیں بھی تسلسل میں خلل محسوس نہیں ہوا۔ ” چھورا چھوری "، ” ساس بہو کی بحث ” اور "پاؤ حکیم” جیسے مناظر نے جہاں قہقہوں کی گونج پیدا کی، وہیں معاشرتی سچائیوں کی عکاسی بھی کی۔سلیمان خطیب کی طنز نگاری کی اصل قوت یہی ہے کہ وہ ہنسی کے پردے میں ایک گہرا پیغام دے جاتے ہیں۔ ان کا اسلوب سادہ مگر نہایت اثر انگیز ہے، اور یہی ان کی مقبولیت کا راز ہے۔ غزلوں کی پیشکش نے محفل کو ایک سنجیدہ رنگ بھی عطا کیا، جہاں ” سن ری گوری ” جیسے کلام نے سامعین کو مسحور کر دیا۔اسی طرح ” یاد” اور "پڑوسن” دونوں نظمیں سلیمان خطیب کے فن کا دو مختلف مگر باہم مربوط پہلو پیش کرتی ہیں۔”یاد "میں جہاں داخلی کیفیت، جذباتی گہرائی اور علامتی اظہار ہے، وہیں "پڑوسن” میں سادگی، دیہی زندگی اور معصوم محبت کی جھلک اور ایک پیغام ملتا ہے۔یہ دونوں نظمیں مل کر اس بات کا ثبوت ہیں کہ سلیمان خطیب نہ صرف طنز و مزاح کے بادشاہ تھے بلکہ ایک حساس، باریک بین اور زندگی کے مختلف رنگوں کو سمجھنے والے عظیم شاعر بھی تھے۔پروگرام کا ایک نمایاں اور متاثر کن پہلو وطن پرستی اور روحانیت کا حسین امتزاج تھا۔ ” ہمالیہ” جیسے گیتوں نے سامعین کے دلوں میں قومی جذبہ بیدار کیا اور یہ احساس دلایا کہ ادب محض تفریح نہیں بلکہ شعور بیدار کرنے کا ایک مؤثر وسیلہ بھی ہے۔ پروگرام کی ابتداء صوفیانہ شاعری ” جہاں کل رات کو ہم تھے ” سے ہوئی، جس کے ساتھ پیش کیا گیا وجد آمیز رقص ایک روحانی فضا قائم کرنے میں کامیاب رہا۔ یہ منظر سامعین کو ایک ایسے عالم میں لے گیا جہاں روحانیت، جمالیات اور فن کا حسین امتزاج نظر آیا۔ حضرت خواجہ بندہ نواز کی شان میں پیش کی گئی قوالی نے اس روحانی کیفیت کو مزید گہرا کر دیا اور محفل پر ایک وجدانی کیفیت طاری ہو گئی۔ ڈرامہ میں سلیمان خطیب کے بچپن کو بھی نہایت دلکش انداز میں پیش کیا گیا، جس نے ان کی شخصیت کے ابتدائی نقوش کو اجاگر کیا۔ اس حصے نے سامعین کو یہ سمجھنے میں مدد دی کہ ایک عظیم شاعر کی تخلیق کن حالات، تجربات اور مشاہدات کے زیر اثر ہوتی ہے۔ “عید کا دن” کا منظر اس پروگرام کا سب سے زیادہ دل سوز اور اثر انگیز حصہ ثابت ہوا۔ ایک معصوم کم عمر بیٹا قبرستان میں اپنی ماں کی قبر پر فریاد کرتا دکھائی دیا۔ اس منظر کی پیشکش اس قدر حقیقت سے قریب اور جذبات سے لبریز تھی کہ تھیٹر میں موجود ہر آنکھ اشکبار ہو گئی۔ ایک لمحے کے لیے پورا ہال گہری خاموشی میں ڈوب گیا، اور یہی وہ لمحہ تھا جس نے اس ڈرامہ کی جذباتی گہرائی کو اپنے عروج پر پہنچا دیا۔ “راستہ” کے عنوان سے پیش کی گئی قصہ گوئی نے روایتی داستان گوئی کی یاد تازہ کر دی۔ اس حصے نے سامعین کو ماضی کی ان محفلوں میں لے گیا جہاں الفاظ کے ذریعے ایک مکمل دنیا تخلیق کی جاتی تھی، اور سننے والا خود کو اس دنیا کا حصہ محسوس کرتا تھا۔ یہ پروگرام نئی نسل کے لیے بھی ایک اہم پیغام لے کر آیا۔ اس نے نوجوانوں کو اپنی زبان، اپنی تہذیب اور اپنی ادبی وراثت سے جڑنے کی ترغیب دی۔ آج کے دور میں جب ثقافتی شناخت مختلف چیلنجز سے دوچار ہے، ایسے پروگرام ایک مضبوط پل کا کردار ادا کرتے ہیں جو ماضی کو حال سے جوڑتے ہیں۔تقریباً ساڑھے تین گھنٹوں تک جاری رہنے والے اس پروگرام میں سامعین کی دلچسپی دیدنی تھی۔ کسی نے اپنی نشست نہیں چھوڑی، ہر منظر کو بھرپور انہماک اور دلچسپی کے ساتھ دیکھا گیا۔ یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ معیاری اور بامقصد پیشکش ہمیشہ اپنی جگہ بناتی ہے۔ یہ ایک ایسی شام تھی جہاں قہقہے بھی گونجے، آنسو بھی بہے اور دلوں میں کئی نئے احساسات نے جنم لیا۔ ہنسی اور غم کے اس حسین امتزاج نے اس پروگرام کو ایک لازوال یاد میں تبدیل کر دیا۔ "کیوڑے کا بن” دراصل سلیمان خطیب کے فن کو ایک بھرپور خراجِ عقیدت تھا۔ اس نے یہ ثابت کیا کہ اصل ادب وقت کی قید سے آزاد ہوتا ہے۔ اگر اسے خلوص، مہارت اور محبت کے ساتھ پیش کیا جائے تو وہ ہر دور میں اپنی تازگی برقرار رکھتا ہے۔ مزید برآں، اس پروگرام نے یہ پیغام بھی دیا کہ زبان و ادب کی بقا صرف کتابوں تک محدود نہیں بلکہ اس کے لیے عملی اور تخلیقی کوششیں ناگزیر ہیں۔ جب تک ایسے اسٹیج پروگرام، موسیقی ریز ڈرامے اور ادبی تجربات جاری رہیں گے، اردو زبان نہ صرف زندہ رہے گی بلکہ ترقی کی نئی منازل بھی طے کرے گی۔ “کیوڑے کا بن” اسی سلسلے کی ایک روشن کڑی ہے، جس نے یہ ثابت کیا کہ ماضی کی ادبی وراثت کو جدید اسلوب میں ڈھال کر آنے والی نسلوں تک مؤثر انداز میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ اس نوعیت کے پروگرام نہ صرف تفریح فراہم کرتے ہیں بلکہ معاشرے میں فکری بیداری، تہذیبی شعور اور ادبی ذوق کو بھی فروغ دیتے ہیں۔ سلیمان خطیب جیسے عظیم فنکاروں کے کلام کو اس انداز میں پیش کرنا دراصل نئی نسل کو ان کے فکری ورثہ سے روشناس کرانے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ یہ شام ایک واضح اعلان تھی کہ اردو زبان زندہ ہے، دکنی ادب زندہ ہے، اور سلیمان خطیب کا فن ہمیشہ زندہ رہے گا۔ یہ محفل، یہ قہقہے، یہ آنسو سب مل کر ایک ایسی لازوال داستان بن گئے ہیں جو مدتوں دلوں میں زندہ رہے گی۔
Post Views: 72
Like this:
Like Loading...