Skip to content
ایران و امریکہ:
پورے ہوئے جو وعدے کئے تھے حضور نے
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
پندرہویں صدی کا آغاز ایران کے اسلامی انقلاب سے ہوا۔ اس وقت اہل ایمان کے دلوں کی دھڑکن کہہ رہی تھی کہ ’یہ صدی اسلام کی صدی ہوگی‘ لیکن کوئی نہیں جانتا کہ یہ کیونکر ہوسکے گا کیونکہ بہت جلد ایران پر دنیا کی دونوں سُپر پاورس نے مل کر صدام حسین کے ذریعہ جنگ مسلط کردی اور افغانستان پر سوویت یونین نے اپنے خونی پنجے گاڑ دئیے لیکن اس کے بعد آنے والی ہر تبدیلی اسلام کے حق میں ہوتی چلی گئی ۔ دنیا عظیم طاقتوں کا اتحاد بھی ایران کے انقلاب کی بیخ کنی کرنے میں ناکام رہا۔ افغانستان کے اندر یکے بعد دیگرے دونوں سُپر پاورس کو شکست فاش سے دوچار ہونا پڑا اور اب اسرائیل اور امریکہ کو ایرانی حملوں نے تباہ تاراج کر رکھا ہے۔ اس دوران ترکیہ میں الحاد و لادینیت کے چنگل سے اسلام ا ٓزاد ہوگیا ۔ عرب بہار کی عارضی پسپا ئی پھر سے انگڑائی لے رہی ہے۔ عراق و شام میں اسلام پسندوں کی واپسی اور فلسطین میں حماس کا غالب ہوجانا۔ مشرق وسطیٰ میں ایران نوازحزب اللہ اور حوثیوں کی مزاحمت اور سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی فوجی معاہدہ ، یہاں تک کہ بنگلہ دیش میں جماعتِ اسلامی کا آمریت کو اکھاڑ پھینکنا اس صدی کے اسلامی غلبہ کی جانب پیش قدمی نہیں تو کیا ہے؟
اسلامی انقلاب کے فوراً بعد جب ایرانی انقلاب نو زائیدہ تھا اس وقت اسے کچلنے کے لیے وقت کی دو سُپر پاورس نے مشترکہ طور پر صدام حسین جیسے ہم سایہ ملک کو آلۂ کار بنایا تھا ۔ اس کے باوجود ایران نہیں جھکا اب تو خیر پچھلے سینتالیس سال کی تیاری کے بعد وہ بہت زیادہ طاقتور ہوچکا ہے۔ اس کے پڑوسی ممالک نے اس کے ساتھ غیر اعلانیہ اتحاد کرلیا ہے اور اس نے بیک وقت دو ایٹمی طاقتوں کو میدانِ جنگ میں شکست فاش سے دوچار کردیا ہے تو بھلا وہ امریکی شرائط کو کیونکر قبول کرسکتا ہے؟ یہ ناقابلِ عقل و عمل تجویز ہے جس کے قابلِ قبول ہونے کا کوئی امکان ہی نہیں ہے۔ امریکی نائب صدر نے امن مذاکرات سے جاتے جاتے کہا تھا کہ ’میں نے اپنی ریڈ لائنز واضح کر دی ہیں کہ ہم کن معاملات پر لچک دکھا سکتے ہیں اور کن باتوں پر نہیں۔ اور یہ چیز ہم نے بہت کھل کر ان کے سامنے رکھی ہے، انھوں نے ہماری شرائط تسلیم نہیں کیں۔‘ سوال یہ ہے کہ ایران نے جو دس نکاتی شرائط پیش کی تھیں اور جس کی بنیاد پر گفتگو شروع کی گئی تھی اس سے متعلق ان کا کیا موقف ہے؟
اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں ایرانی وفد کی سربراہی کرنے والے محمد باقر قالیباف نےمنافقانہ لاگ لپیٹ کے بجائے بیباکی کے ساتھ کہا کہ ’مذاکرات سے قبل میں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ مذاکرات کے لیے ضروری نیت اور ارادہ موجود ہے، لیکن گذشتہ دو جنگوں کے تجربات کے باعث ہمیں مخالف فریق پر بھروسہ نہیں۔‘ اس کی حمایت میں انہوں نے یہ دلیل پیش کی کہ’بات چیت کے دوران ایرانی وفد میں شامل میرے ساتھیوں نے مختلف تجاویز پیش کیں تاہم مخالف فریق مذاکرات کے اس دور میں ایرانی وفد کا اعتماد جیتنے میں ناکام رہا۔‘انہوں نے وینس کی مانند گیند کو امریکہ کے پالے میں اچھالتے ہوئے کہا کہ ’امریکہ کو ہماری منطق اور اصولوں کے متعلق اندازہ ہو گیا ہے، اب فیصلہ انہیں کرنا ہے کہ آیا وہ ہمارا اعتماد حاصل کر سکتے ہیں کہ نہیں۔‘ ایرانی وفد کے سربراہ نے نہایت مہذب انداز میں یہ دھمکی دے دی کہ’ وہ سفارتکاری کے ساتھ ساتھ فوجی جدوجہد پر بھی یقین رکھتے ہیں۔ چالیس دن کی جنگ کے دوران ایرانی قوم کے دفاع میں حاصل ہونے والی کامیابیوں سے ایک لمحے کے لیے بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے‘۔ یہ حوصلہ اور امنگ جذبۂ شہادت و شجاعت کا نتیجہ ہے۔
ایران اور امریکہ کی حالیہ جنگ کا سب سے بڑا فائدہ نہ تو جنگی اور نہ سفارتی ہے بلکہ فکری یا نظریاتی ماحصل ہے یعنی اصلی و جعلی، دوست و دشمن کی پہچان ہے۔ ایرانی انقلاب نے چونکہ ایک بادشاہت کا تختہ الٹ دیا تھا اس لیے مغرب نے اس سے مسلم دنیا کے حکمرانوں کو ڈرایا کہ اگر وہ دیگر ممالک کو برآمد ہوگیا تو ’بہت سارے تاج اچھالے جائیں گے اور کئی تخت گرائے جائیں گے‘۔ عوام کو ورغلانے کے لیے اسے شیعہ سنی اختلاف کے طور پر اچھالا گیا۔ اس کے بعد امریکہ نے ان ممالک میں اپنے اڈے قائم کیے جہاں بادشاہتیں تھیں اور جہاں فوجی عامر برسرِ اقتدار تھے وہاں سوویت یونین نے اپنے قدم جمائے لیکن اشتراکیت کی موت کے بعد شام کے سوا کہیں بھی روس کا اڈہ باقی نہیں بچا۔ ان فوجی اڈوں کو اقتدار کے تحفظ کا مضبوط ذریعہ سمجھا گیا۔ اس زمانے میں یہ بات ناقابلِ یقین تھی کہ عرب دنیا کے حکمراں اور ایرانی سربراہان مملکت کبھی ساتھ بیٹھ سکیں گے۔ اس میدان میں قطر نے فلسطین کے حوالے قریب آنے کی کوشش کی۔ اس کے بعد چین نے گزشتہ سال سعودی عرب اور ایران کے درمیان دوستی کروادی ۔ یہ پیش رفت ایک بہت بڑی تبدیلی تھی اور اس نے ایک دوسرے کے تئیں اندیشوں کا خاتمہ کردیا اور باہمی اعتماد کی ایک مثبت فضا قائم ہوئی۔
طوفان الاقصیٰ کے بعد جوشِ جنون میں مبتلا اسرائیل نے قطر کے اندرحماس پر حملہ کرکے اس بیانیہ پرپہلی ضرب لگائی اور فوجی اڈوں کے حاملین کو احساس ہوا کہ اسرائیل کے خلاف تحفظ کی گارنٹی نہیں ہے۔ اس جنگ نے یہ ثابت کردیا کہ ایران کو دشمن بناکر مسلم ممالک کی حفاظت کرنا سراب ہے۔ دنیا کو پتہ چل گیا کہ اول تو وہ مضبوط نہیں بلکہ کمزور ہے ۔ یہ بات بھی ظاہر ہوگئی کہ امریکہ کا کمزور سہارا اسرائیل کے تحفظ کی خاطر عالمِ وجود میں لایا گیا ہے ۔ یہ بات جگ ظاہر ہے کہ اس خطے میں امریکی وجود امن و سلامتی کی ضمانت نہیں بلکہ خطرہ ہے ایسے میں اس کوموجود ہی نہیں ہونا چاہیے۔ یہ انکشاف اور بداعتمادی امریکہ سب سے بڑا نقصان اور ملت اسلامیہ کو انتشار میں مبتلا کرکے اپنے مذموم مقاصد میں ناکامی امریکی بالا دستی کے خاتمے کی ابتدا ہے۔ اسلامی ممالک صبرو تحمل اور تعاون واشتراک ان کے عروج کا پیش خیمہ ہے۔پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ حربی اتحاد قائم ہوجانے کے بعد اگر ترکی اس میں شامل ہوجائے اور ایران کےمحورِ مزاحمت سے مفاہمت ہوجائے تو دنیا میں طاقت کا توازن بدل جائے گا۔
اس موقع پر تمام ہی فریقین نے پاکستان کی تعریف و توصیف کی ہے۔ جے ڈی وینس نے پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دونوں بہت بہترین میزبان تھے اور مذاکرات میں جو بھی کمی رہی وہ پاکستانیوں کی وجہ سے نہیں تھی ’جنھوں نے بہترین کام کیا اور واقعی کوشش کی کہ ایران اور ہمارے درمیان موجود خلا کو دور کریں اور کسی معاہدے تک پہنچنے میں کامیاب ہوں۔‘ایران نے بھی پاکستان کے تئیں ممنونیت کا اظہار کرتے ہوئے جنگ بندی کے حصول میں پاکستان کی کوششوں اور اس کے ثالثی کردار کو سراہا ۔ پاکستانی وزیر خارجہ نے بھی امید ظاہر کی کہ ’دونوں فریق خطے میں اور اس سے باہر پائیدار امن اور خوشحالی کے لیے مثبت جذبے کا مظاہرہ کرتے رہیں گے۔‘اسحاق ڈاربولے کہ: ’ تمام فریق جنگ بندی کا اپنے عزم کی پاسداری جاری رکھنا ضروری ہے۔‘ اس سے قبل یوکرین اور روس کی جنگ میں سعودی عرب کو ثالث بننے کا موقع ملا اور اب امریکہ و ایران کے درمیان پاکستان کا عالمی ثالث کے طور پر سامنے آنا ایک بڑی بات ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔
اہل ایمان نے پچھلی دو عیدیں غزہ کے سائے منائی اور امسال ایران کی جنگ کے شعلوں میں عید کی خوشیاں منائی گئیں ۔ تل ابیب کے اندر غزہ کے مناظر دیکھ کر دنیا بھر کے انصاف پسندوں کی آنکھیں ٹھنڈی ہو رہی ہیں ۔ تاریخ اپنے آپ کو دوہرا رہی ہے۔ مجوسیوں کی رومیوں پر فتح نے مکہ مکرمہ کے مشرکین کو خوش تو اہل ایمان کو غمزدہ کردیا تھا ۔ اس وقت ان سے قرآن حکیم میں وعدہ کیا گیا :’’ رومی قریب کی سرزمین میں مغلوب ہو گئے ہیں اور اپنی اِس مغلوبیت کے بعد چند سال کے اندر وہ غالب ہو جائیں گے‘‘۔ رب کائنات کا یہ وعدہ اسی سال پورا ہوا جب اہل ایمان نے 17؍رمضان کو غزۂ بدر میں فتحیاب ہوئے ۔یہ پیشنگوئی بھی کردی گئی تھی:’’ اللہ ہی کا اختیار ہے پہلے بھی اور بعد میں بھی اور وہ دن وہ ہو گا جبکہ اللہ کی بخشی ہوئی فتح پر مسلمان خوشیاں منائیں گے ‘‘ غزہ کی آزمائش کے بعد ایران کی کامیابیوں نے امسال رمضان کی خوشی کو دوبالا کردیا ۔ اہل ایمان نے اس سال باطل کی شکست کا مزہ چکھا اور عید منائی ۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ :’’اللہ نصرت عطا فرماتا ہے جسے چاہتا ہے، اور وہ زبردست اور رحیم ہے‘‘۔ غزہ کی بے مثال مزاحمت کے بعد ایران کی فتوحات ویسی ہی دلآویز ہیں جیسے دن بھر کے روزے کی عبادت کے بعد افطار کی خوشی یا ماہِ قرآن کے اختتام پر عیدِ سعید کی مسرت ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اسے دوام عطا فرمائے۔ایسے میں علامہ اقبال کا یہ شعر یاد آتا ہے؎
ہم پہ کرم کيا ہے خدائے غيور نے
پورے ہوئے جو وعدے کيے تھے حضور نے
Post Views: 63
Like this:
Like Loading...