Skip to content
ریاست تلنگانہ میں قیامت خیز گرمی کے باوجود مردم شماری کے کام کا آغاز -اساتذہ سخت پریشان
ایر کنڈیشنڈس میں بیٹھ کر فیصلے کرنے والے عہدیدار زمینی حقائق سے ناواقف –
مردم شماری کا کام جون کے دوسرے ہفتے سے شروع کیا جائے- ٹی ایس ٹی یوقائدین کا بیان
حیدرآباد 19 اپریل (پریس نوٹ) تلنگانہ اسٹیٹ ٹیچرس یونین( ٹی ایس ٹی یو) کے قائدین صدر جناب محمد عبداللہ اورجنرل سکریٹری جناب راجی ریڈی نے تلنگانہ میں قیامت خیز گرمی اور اس ہولناک گرمی کے باعث ہونے والی اموات کی اطلاعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تمام حالات سے واقف ہونے کے باوجود ریاست تلنگانہ میں مردم شماری کے کام کے لیے سرکاری اساتذہ کی ٹریننگ کا آغاز کیاگیا ہے انہوں نے کہا کہ ریاست تلنگانہ میں گرمی کی شدت میں ریکارڈ اضافہ کے پیش نظر محکمہ صحت، ریاست بھر کے عوام کی حفاظت کے لیے وقفے وقفے سے ہدایات جاری کر رہا ہے اور لو لگنے کے متاثرین کی فوری طبی امداد کے لیے تمام دواخانوں کو رہنمایانہ ہدایات بھی جاری کی جا رہی ہیں اس کے باوجود ریاست تلنگانہ میں مردم شماری کے کام کے آغاز سے اساتذہ برادری بالخصوص معلمات کافی حد تک پریشان ہیں حد تو یہ ہے کہ 19 اپریل کو اتوار کی عام تعطیل کے باوجود بھی اساتذہ کو اس بنیادی حق سے محروم رکھا گیا ہے اور کئی مقامات پر اتوار 19 اپریل کو بھی مردم شماری کے کام کے آغاز کے سلسلے میں اساتذہ کو دن بھر ٹریننگ کے لیے طلب کیا گیا ہے جو انتہائی افسوسناک ہےخطرناک و خوفناک گرمی کی شدت کے باوجود ریاست کے سرکاری ملازمین بالخصوص اساتذہ کے لیے دھوپ کی شدت کے اس ماحول میں کام کرنا ایک سوالیہ نشان بن گیا ہے جناب محمد عبداللہ وجناب راجی ریڈی نے نے مزیدکہا کہ یہ کس قدر حیرت کی بات ہے کہ ہر روز گرمی سے محفوظ رہنے کے لیے ایک طرف تو عوام کو ہدایات جاری کی جا رہی ہیں لیکن دوسری طرف اساتذہ برادری جن میں خواتین کی بھی معقول تعداد شامل ہے انہیں مردم شماری کے لیے گھر گھر پہنچنے کے لیے کہا جا رہا ہے زمینی حقائق سے ناواقف ایر کنڈیشنڈس میں رہنے والے عہدیداروں کو اس بات کی پرواہ نہیں ہے کہ اس شدید دھوپ کے باوجود گھر گھر پہنچنا عوامی معلومات اکٹھا کرنا کتنا دشوار ترین کام ہے انہوں نے داران تعلیمات اور دیگر ارباب مجاز سے خواہش کی کہ وہ کم از کم ایک دو دن دو گھنٹوں تک اس دھوپ میں پیدل چلتے ہوئے مردم شماری کے لیےعوامی معلومات حاصل کرنے کا کام انجام دیں کیا وہ یہ کام کر سکتے ہیں؟ ایک طرف لوگوں سے یہ کہا جاتا ہے کہ وہ شدید ضرورت کے تحت ہی گھر سے نکلیں اور دوسری طرف مردم شماری کے کام کے لیے اساتذہ کو پریشان کیا جا رہا ہے جناب عبداللہ اور جناب راجی ریڈی نے کہا کہ مردم شماری کے کام میں بہت سارے ایسے اساتذہ بھی موجود ہیں جن کی عمر 58 برس سے تجاوز ہو چکی ہے ریاست تلنگانہ میں 58برس کی عمر کے بعد سرکاری ملازمین کو وظیفے پر سبکدوش کر دیا جاتا ہے لیکن حکومت نے اپنی معاشی مجبوری کے تحت اور بروقت بقایا جات کی رقم ادا نہ کرنے کی مشکلات کے سبب اساتذہ کی وظیفے کی حدعمر میں اضافہ کیا ہے یہ حکومت کی مجبوری ہے ہمارا مطالبہ یہ بھی ہے کہ ایسے اساتذہ جن کی عمر 58 برس ہو چکی ہے ان کو مردم شماری کی ٹریننگ اور کام سے مستثنی قرار دیا جائے اور مردم شماری کے کام کو ماہ جون میں شروع کیا جائے عہدہ داران تعلیمات اور حکومت کو یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ لاک ڈاؤن کے ماحول میں جبکہ موسم گرما کی سختی بھی نہیں تھی لیکن محض حفظان صحت کے خاطر عوام کو گھروں سے نکلنے نہیں دیا گیا بلکہ اس دوران میں ایس ایس سی کے منعقد ہونے والے سالانہ امتحانات کو منعقد نہ کرتے ہوئے تمام طلباء کو پاس کر دیا گیا جب اس طرح کا عمل ہو سکتا ہے تو پھر مردم شماری کے کام کو ماہ اپریل اور مئی سے آگے بڑھایا بھی جا سکتا ہے ماہ جون میں گرمی کی شدت میں بڑی حد تک کمی واقع ہوگی اور اساتذہ کے لیے یہ کام انجام دینا بھی آسان ہوگا جناب محمد عبداللہ نے مزید کہا کہ اس وقت اساتذہ نے دہم جماعت کے سالانہ امتحانات کے سلسلے میں بحیثیت انویجلیٹر اور پھر پرچوں کے جانچ کی ڈیوٹی پھر اس کے بعد ٹاس امتحانات کی بھی ڈیوٹی انجام دی ہے اور پھر اب مردم شماری کے کام کے لیے بھی ان پر زبردستی دباؤ ڈالا جا رہا ہے مردم شماری کا کام ہو یا دیگر کام جب بھی اس طرح کے کام انجام دینا ہو حکومت کو چاہیے کہ وہ اساتذہ کی انجمنوں سے پہلے رابطہ کرتے ہوئے قطعئ لائحہ عمل کو قعطیت دے انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین کوئی بندھوا مزدور نہیں ہیں حکومت کو یہ بات اچھی طرح ذہن نشین رکھنا چاہیے کہ سرکاری ملازمین کا حکومت کی تبدیلی میں کتنا اہم رول ہوتا ہے اگر حکومت سرکاری ملازمین بالخصوص اساتذہ کی راحت کا کوئی خیال نہیں رکھتی تو پھر اساتذہ کو بھی آئندہ انتخابات میں کس کو برسر اقتدار لانا ہے یہ غور کرنا ہوگا اور یہ ان کا جمہوری حق بھی ہے آخر میں ان قائدین نے پھر ایک بار کہا کہ مردم شماری کے کام کا آغاز ماہ جون کے دوسرے ہفتے سے کیا جائے اور ایسے اساتذہ جن کی عمر 58 برس مکمل ہو چکی ہے ان کو مردم کو شماری کے کام سے مستثنی قرار دیا جائے
Post Views: 43
Like this:
Like Loading...